Home Blog Page 299

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے دو روزہ ناران کاغان کا سرکاری دورہ

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے دو روزہ ناران کاغان کا سرکاری دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کلچر ٹورزم اتھارٹی برکت اللہ مروت اور ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی طارق خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نگران صوبائی وزیر کو کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے بریفنگ دی گئی۔
نگران صوبائی وزیر نے اپنے سرکاری دورے کے موقع پر رافٹنگ بھی کی اور سیاحوں سے بھی ملے، سیاحوں سے ان کے مسئلے دریافت کیے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ نگران صوبائی وزیر نے ناران کے سرکاری دورے کے موقع پر ناران میں صفائی مہم کا بھی اغاز کیا اور وہاں پر 2 لاکھ اشیائے خرد نوش کے بیگز بھی سیاحوں اور ہوٹلوں میں تقسیم کئے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دریائے کنہار میں 500 ٹراؤٹ کے بچے بھی پانی میں چھوڑے۔ ناران کے سرکاری دورے کے موقع پر نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے 150 بیٹھنے کے بنچز لگا کر انکا افتتاح کیا۔ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت جاری کی کہ پہلے سے موجود 8 پبلک ٹوائلٹس جو موجود ہیں ان کے علاوہ مزید اٹھ پبلک ٹوائلٹس بنائے جائیں جس سے سیاہ مستفید ہو سکیں، انہوں نے اس موقع پر 200 بنز بھی لگائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 1122 کے افس کا بھی دورہ کیا اور ان کے کام کو سراہا۔ کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے 20 ملازمین جو کہ خیموں میں رہ رہے تھے ان کی مستقل رہائش کا بندوبست کر کہ انہے وہاں رہائش پذیر کیا۔ نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کے لئے پانچ سال سے بند 18 ہٹس کو فعال بنا دیا گیا ہے اور اس سال مزید 40 ہٹس کو فال کر دیا جائے گا۔ نگران صوبائی وزیر نے ناران کاغان کے مختلف جگہوں کا دورہ کیا اور وہاں پہ سیاحوں سے ملے اور کلچر ٹورزم اتھارٹی اور کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ ناران میں پارکس بنائے جائیں، گرین بیلٹس بنائی جائیں تاکہ عوام اس سے مستفید ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین جن کی تنخواہیں ساتھ سال سے کم تھی اور نہیں بڑھائی جا رہی تھی انہیں قومی کم از کم اجرت 32 ہزار کے برار کر دی۔
بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے ہوٹل اسوسییشن کے وفد سے ان کے صدر سیٹ سمیع اللہ اور جنرل سیکرٹری ہارون یاسر کی سربراہی میں ملاقات کی اور انہیں سیاحوں کے ساتھ تعاون، ہوٹلوں اور اشیاء خرد نوش کی قیمتوں میں کمی کرنے کا بھی کہا۔
نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے جیپ اسوسییشن کے وفد سے بھی ان کے صدر عباسی کی سربراہی میں ملاقات کی، ان کے مسئلے سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس موقع پر نگران صوبائی وزیر نے جیپ ایسوسییشن کے لیے ایک جیپ اڈا کا بھی افتتاح کیا۔
برسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسو لیک سے سیف الملوک لیک جو کہ اٹھ کلومیٹر پیدل راستہ ہے، شوگران سے ملاکنڈی جو کہ سات کلومیٹر پیدل راستہ ہے، شعران سے ندی بنگلہ جو 11 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، بوجاں سے نیل گلی جو کہ 17 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، سیراں ویلی سے رتی گلی جو کہ نیلم ویلی کا 23 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، اس کی مرمت کی جائے اور اس پہ صفائی کا کام بھی کروائیں تاکہ عوام کو اس پہ چلنے میں دشواری اور مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نگران صوبائی وزیر نے ان ٹریکس کا جائزہ لینے کے بعد یہ احکامات جاری کئے۔ سرکاری دورے سے واپسی پر صوبائی نگران وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ شوگراں پی ٹی ڈی سی کا دورہ بھی کیا اس موقع پر سابقہ وفاقی وزیر سید قاسم شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر ثمین جان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر ثمین جان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ثمین جان کی صحافت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

چیف سیکرٹری کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ درانی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں نقل کا پلاٹ ناکام

چیف سیکرٹری کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ درانی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں نقل کا پلاٹ ناکام بنادیا، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایٹا امتیاز ایوب کے بروقت اقدامات سے نقل کیلئے بلیو ٹوتھ ڈیوائس استعمال کرنے والے درجنوں طلبہ رنگے ہاتھوں گرفتار،ان فئیر مینز میں ملوث درجنوں طلبہ گرفتار، ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت اولین ترجیح ہے، میڈیکل کالجوں میں داخلہ قابل اور ہونہار طلبہ کا حق ہے، میرٹ کی پامالی کرنے والوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی نے خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے منعقدہ انٹری ٹسٹ میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بلیو ٹوتھ ڈیوائسز کے ذریعے نقل کرنے والا گروہ بے نقاب کردیا۔ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی نے یہاں سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیف سیکرٹری کی جانب سے ہدایات ملیں کہ انٹری ٹیسٹ میں میرٹ کی دھجیاں اُڑانے کیلئے ایک گروہ سرگرم ہے جو کہ کانوں میں لگے خُفیہ بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحانی ہال سے پیپر آوٹ کرکے اسے حل کرینگے جس کیلئے سرگرم گروہ نے طلبہ سے لاکھوں روپے بٹور لئے ہیں۔اس حوالے سے ایٹا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز ایوب کیساتھ معلومات شئیر کی گئیں جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے امتحانی ہالوں میں انٹری کے دوران خصوصی چیکنگ کا اہتمام کیا جبکہ دوران امتحانی عملے نے اپنے موبائل فون پر بلیو ٹوتھ آن کرکے بلیو ٹوتھ ڈیوائسز کے ذریعے نقل کرنے والے طلبہ و طالبات کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز ایوب نے بتایا کہ کانوں میں خُفیہ طور پر لگائے گئے ان بلیوٹوتھ ڈیوائس کا مقصد صوبے کے مختلف ہالوں میں بیٹھے طلبہ کے ذریعے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ کرانا تھا جس کے بعد ان سوالوں کے جوابات طلبہ کو ان ہی بلیوٹوتھ ڈیوائسزکے ذریعے بتائے جاتے جس سے میرٹ کی پامالی ہوتی۔ایٹا ڈائریکٹر یاسر عمران کے مطابق اب تک صوبے کے 44 امتحانی ہالوں میں سے درجنوں طلبہ و طالبات کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر متعلقہ پولیس تھانوں کے حوالے کرکے ان کیخلاف ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق ان فئیر مینز کے تحت یہ طلبہ و طالبات مُستقبل میں ایٹا کے کسی بھی قسم کے ٹیسٹ میں بیٹھنے کے اہل نہیں جبکہ قانونی چارہ جوئی کیلئے متعلقہ پولیس سٹیشن اپنا راستہ اپنائیگی۔واضح رہے کہ اس انٹری ٹیسٹ میں صوبہ بھر سے 46 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے صوبے کیساتوں ڈویژن میں قائم 44 امتحانی ہالوں میں ٹیسٹ دیا۔

کفایت شعاری کی اعلیٰ مثال، نگران صوبائی وزیر آصف رفیق نے سرکاری مراعات واپس

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیوسٹاک اور جنگلات آصف رفیق نے کفایت شعاری کی اعلیٰ مثال قائم کر دی،نہ سرکاری گاڑی لی اور نہ ہی دیگر مراعات۔نگران صوبائی وزیر آصف رفیق نے اتوار کے روز اپنے آفس سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت ملک کئی قسم کے بحرانوں کی لپیٹ میں ہے جس سے نمٹنے کے لیے ذاتی حیثیت میں ہر شخص نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب سے نگران وزیر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا ہے تب سے کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں،نہ کوئی گاڑی لی ہے اور نہ ہی دیگر مراعات۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ذمہ داری دی ہے تو اس کو احسن طریقے سے نبھانا میرا فرض بنتا ہے،صوبائی وزیر آصف رفیق نے کہا کہ خود کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، اس سلسلے میں محکمے کے کسی بھی اہلکار کی کوئی شاہ خرچیاں برادشت نہیں کی جائیں گی اگر کسی آفیسر کے پاس الاٹ شدہ سہولت سے زیادہ سہولیات ہیں تو ان کو فوری طور پر سرنڈر کیا جائے تاکہ ان سہولیات کو محکمے کی ترقی اور کارکردگی میں اضافے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریاست بچانے کا وقت ہے جس میں تمام مکتبہ فکر کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا،خیبرپختونخوا و پاکستان میں ہی ہم نے جینا ہے اور یہاں ہی مرنا ہے تو پھر اس کی ترقی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کے بروقت کوششوں اور عوام کی بھرپور تعاون سے پچھلے سال کے نسبت اس سال ڈینگی کیسزز بہت کم رپورٹ

سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کے بروقت کوششوں اور عوام کی بھرپور تعاون سے پچھلے سال کے نسبت اس سال ڈینگی کیسزز بہت کم رپورٹ ہوئیں ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر ہم ڈینگی کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور اس کی روک تھام کے لیے مل کر بھرپور کوشش جاری رکھیں گے۔

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال ستمبر ،2022 تک پورے صوبے میں 6017 ڈینگی کے مثبت کیسزز رپورٹ ہوئی تھی، جبکہ اس سال ستمبر 2023 تک خیبرپختونخوا میں صرف 156 کیسزز رپورٹ ہوئی ہیں جو کہ محکمہ صحت کی بروقت حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ نے تفصیل سے بتایا کہ صوبے بھر میں میڈیکل اینٹومولوجسٹ ایک منظم طریقے سے ویکٹر بورن ڈیزیز خاص طور پر ڈینگی کنٹرول اور روک تھام میں تکنیکی کردار ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوری سے ستمبر تک ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 156 ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ نے محکمہ صحت کی ٹیموں کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ ایل ایچ ڈبلیوز کی جانب سے ایک ہفتے کے دوران صوبے بھر میں کل 312760 گھروں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ ان میں سے 710 گھروں میں ڈینگی لاروا مثبت پایا گیا جس کو فوری طور پر کیمیکل ٹریٹمنٹ اور مکینیکل صفائی کے ذریعے تلف کردیا گیا۔

اسی طرح محکمہ صحت کے ٹیموں نے مختلف علاقوں میں 54292 افراد کے ساتھ ڈینگی کنٹرول اور بچاؤ کے احتیاطی پیغامات کا اشتراک کیا اور 285237 خواتین کو لیڈی ہیلتھ ورکرز سے ڈینگی سے بچاؤ اور آگاہی کے پیغامات موصول ہوئے۔

جہاں ڈینگی پازیٹو مقامات اور ڈینگی کے مثبت کیسز کی نشاندہی ہوئی تھی ان علاقوں میں مختلف مقامات پر 63 سیمینارز اور واکس کا انعقاد کیا گیا جبکہ ڈینگی سیشن کے دوران ڈینگی انفیکشن سے متعلق 19533 بروشرز تقسیم کیے گئے۔

سیکرٹری ہیلتھ نے حصوصی طور پر ڈویژنل کمشنرز، ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنرز، علماء کرام اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے اپنے لیول پر ذمداری ادا کی اور ڈینگی سے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے محکمہ صحت کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے۔

علماء کرام نے جمعے کے دن خصوصی تقاریر میں صفائی ستھرائی کے افادیت پر بات کی۔ اسی طرح سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقات کی اور ان کو ڈینگی وائرس کے خطرات، اور لاروا تلف کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔

سیکرٹری ہیلتھ نے مذید کہا کہ یہ پورہ عمل عوام کے تعاون کے بغیر ناممکن تھا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کہ ہے کہ اس کار خیر میں محکمہ صحت کا ساتھ دیں، ان کے ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ ہمارہ یہ صوبہ ان خطرناک بیماریوں سے پاک ہوسکے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے کھیل اورسائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے کھیل اورسائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کھیلوں کے امورمیرٹ پر چلائے جائیں گے اور کھیلوں کے ذریعے ہم دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں عزم اور لگن کامیابی کا زینہ ثابت ہوتا ہے اور نوجوانوں کو سہولتوں کی فراہی کے لئے تمام ممکن اقدامات ٹھائے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا انہوں نے ایک پریس کانفرس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تاہم کھلاڑیوں کو مواقع اور سہولتیں فراہم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔انہوں نے سترہ سال سے خیبر پختونخوا میں کسی انٹر نیشنل گیم کا انعقاد نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہم پشاور اور میران شاہ میں نیشنل میچز کا انعقاد کررہے۔انہوں نے کہا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتا ہے جہاں سے بہترین کھلاڑی ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس اور ارباب نیاز سٹیڈیم کو لیز پر دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔انہو ں نے کہا کہ ڈومیسٹک لیول پر ہمارے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں جس کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم کے تعمیراتی کام کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے گا اور ایک انٹرنیشنل لیول کا بہترین سٹیڈیم تیار کرنے کے لئے ہماری کوشش جار ی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ اگر ہم ایک منظم منصوبے کے مطابق چلیں تو اس کے اچھے اور بہترنتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

سیکرٹری اعلی تعلیم انیلا محفوظ درانی کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت کیلئے اعلی اقدام، ان فئیر مینز میں ملوث درجنوں طلبہ گرفتار

0

سیکرٹری اعلی تعلیم انیلا محفوظ درانی کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت کیلئے اعلی اقدام، ان فئیر مینز میں ملوث درجنوں طلبہ گرفتار

پشاور : خفیہ بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے زریعے چیٹنگ کرنے والے طلبہ طالبات بروقت بے نقاب

پشاور : اطلاع ملی تھی کہ ایک گروہ خفیہ بلیو ٹوتھ ڈیوائسز کے زریعے طلبہ طالبات کو ٹیسٹ حل کرانے میں مدد کرے گا : انیلا محفوظ درانی

پشاور : یہ بلیوٹوٹتھ ڈیوائس صوبے کے مختلف ہالوں میں بیٹھے طلبہ نے خفیہ طور کانوں میں لگاکر پرچہ آوٹ کرانا تھا : انیلا محفوظ درانی

پشاور : بلیوٹوتھ ڈیوائس کے زریعے پرچہ آوٹ اور حل کرانے کے لاکھوں روپے طلبہ سے بٹھورے گئے : انیلا محفوظ درانی
پشاور : اطلاع ملتے ہی ایٹا کے اعلی حُکام کو اس بابت متنبیہ کیا : انیلا محفوظ دُرانی

پشاور : ہدایات ملتے ہی ایٹا سٹاف نے صوبے کے تمام ہالوں پر انٹری کے وقت خصوصی چیک بڑھادیا : انیلا محفوظ دُرانی

پشاور : خصوصی چیک کے دوران عملے نے اپنے فون کا بلیوٹوتھ آن کرکے بلیوٹوتھ ڈیوائسز کا سُراغ لگایا : انیلا محفوظ درانی

پشاور : اس دوران درجنوں طلبہ و طالبات کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے حوالہ پولیس کیا گیا : انیلا محفوظ درانی

پشاور : ملوث طلبہ و طالبات کیخلاف ان فئیر مینز کا پرچہ کاٹا گیا : انیلا محفوظ درانی

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور، انسانی حقوق اور محکمہ اوقاف جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور، انسانی حقوق اور محکمہ اوقاف جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ اوقاف کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں میں مثبت اقدامات ٹھائیں جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشت روز محکمہ اوقاف کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر اسد علی خان، ایڈمنسٹریٹر اوقاف حامد علی گگیانی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتاگیا گیا ک ہ 20200کینال اراضی محکمہ کے زیر تسلط ہے جبکہ 42716کینال زمین غیر قانونی طور پر غیر متعلقہ افراد کے قبضے میں ہے اسی طرح محکمہ نے اب تک 1451کینال زمین اور 105دکانیں قابضین سے واگزار کرائی ہیں جبکہ اراضی کے740 مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ صوبائی وزیر کو مزید بتایاگ یا کہ محکمہ کے اثاثاجات سے محکمہ کو سالانہ تقریبا 270ملین روپے آمدن ہو رہی ہے اور صوبہ بھر کے 16888آئمہ مساجد کو 10ہزار روپے ماہانہ بطور اعزازیہ دیا گیا ہے اسی طرح 173اقلیتی پیشواؤں کو بھی اعزازیہ دیا گیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس میں فنڈز کی فراہمی اور غیر قانونی طور پر قبضہ میں لی گئی زمین کو بھی واگزار کرایا جائے گا اسی طرح ریکارڈ کی ڈیجٹیلائزیشن بھی مکمل کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کی نگران وزیر برا ئے سماجی بہبود،زکواۃ عشر،،ریلیف،بحالی،آبادکاری،اور جیل خانہ جات جسٹس(ر)ارشاد قیصر نے کہا ہے

خیبر پختونخوا کی نگران وزیر برا ئے سماجی بہبود،زکواۃ عشر،،ریلیف،بحالی،آبادکاری،اور جیل خانہ جات جسٹس(ر)ارشاد قیصر نے کہا ہے کہ موسمیاتی تغیر کے خطرناک اثرات خیبر پختونخوا کے لیے چیلنج ہیں،انھوں نے محکمہ ریلیف،بحالی اور آبادکاری کو ہدایت دی کہ آفات و سانحات سے متاثرہ افراد کی آبادکاری کے ساتھ انکی نفسیاتی بحالی پر بھی زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے محکمہ ریلیف،بحالی اور آبادکاری کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں نگران صوبائی وزیر کو محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں محکمے کے سیکرٹری عبدالباسط،ڈی جی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی،ڈی جی ریسکیو 1122 اور دیگر حکام نے شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ ریلیف اور اسکے ذیلی ادارے کسی بھی قدرتی آفت اور انسانی حادثات کے نتیجے میں رونما ہونیوالے حالات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں،موسمیاتی تغیر کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں مون سون کنٹن جنسی پلان،موسم سرما پلان جبکہ گرمی میں ہیٹ ویو کنٹن جنسی پلان تیار کیے جاتے ہیں تاکہ تمام اضلاع کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس ہوں، مختلف آفات کی صورت میں لوگوں کی مدد و رہنمائی کے لیے نہ صرف مرکزی کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہتا ہے بلکہ متعلقہ اضلاع کے ڈی سی آفس میں بھی کنٹرول روم قائم ہوتے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے لیے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کی تیاری پر کام ہو رہا ہے۔اس موقع پر نگران صوبائی وزیر جسٹس(ر)ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ چینج کیوجہ سے صوبے میں قدرتی آفات کا چیلنج ہمہ وقت درپیش ہے،محکمہ ریلیف،بحالی،آبادکاری اور اسکے ذیلی اداروں پر ان خطرات سے ہونیوالے نقصانات کو کم سے کم رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری خصوصا ریسکیو1122 کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ اپنے مشکل فرائض احسن طریقے سے ادا کررہا ہے،ریسکیو 1122 ورکرز نے مختلف مواقع پر اپنی افادیت کو ثابت کیا ہے۔جسٹس(ر)ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات اور سانحات میں خواتین،بچے اورمعذور افراد زیادہ توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں، انہون نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ متاثرین کی نفسیاتی بحالی اور سانحات کے اثرات سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیئے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات، آبنوشی اور مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے محکمہ منصوبہ بندی کے حکام کو ہدایات جاری

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات، آبنوشی اور مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے محکمہ منصوبہ بندی کے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پراجیکٹس کی منظوری سے پہلے فزیبلٹی، سائیٹ کی شناخت، مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بجٹ ڈیمانڈ اور تکمیل میں مناسب معیاد کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان عوامل پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوامی مفاد کے منصوبے مقررہ وقت اور مطلوبہ بجٹ کے اندر مکمل ہو سکیں اور تمام محکموں کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کریں۔ انہوں نے یہ ہدایات محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے کمیٹی روم میں مختلف منصوبوں کے بارے بریفنگ لیتے وقت جاری کیں۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری حبیب وزیر، اسسٹنٹ چیف ایجوکیشن گل رخ، چیف ایگریکلچر ہدایت وزیر چیف ہیلتھ بحر اللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر منصوبہ بندی و ترقیات کو ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، محکمہ صحت، پاپولیشن، ایگریکلچر، محکمہ خوراک، ماحولیات، جنگلات، قانون، ایکسائز اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے جاری منصوبوں اور ریلیز شدہ بجٹ اور اخراجات بشمول مختلف مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم میں کل 107 منصوبے ہیں اور ریلیز شدہ بجٹ کے 87 فیصد اخراجات ابھی تک ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں میں سائنس اور ائی ٹی لیبز کے قیام پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کی تعمیر و آپ گریڈیشن، ضم اور بندوبستی اضلاع میں امتحانی ہالوں کی تعمیر اور ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن سینٹرز کے قیام شامل ہیں۔ جبکہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ذہین و ضرورت مند بچوں کے سکالرشپس پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح ہائر ایجوکیشن میں کل 84 منصوبے شامل ہیں اور ریلیز شدہ بجٹ کا 33 فیصد ابھی تک استعمال ہو چکا ہے ان منصوبوں میں یونیورسٹیوں کے منصوبے، کالجز کے منصوبے، کامرس اور منجمنٹ سائنس کالجز اور ارکائیوز ولائبریریز کے منصوبے شامل ہیں۔ محکمہ صحت بارے بریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا کہ کل 2608 ہیلتھ مراکز ہیں اور ضم اضلاع کے 2590 بستروں، بندوبستی اضلاع کے 22015 بستروں بشمول 24605 بستروں کی سہولیات مریضوں کیلئے موجود ہیں۔ جبکہ میڈیکل افیسرز بشمول کل 52143 سٹاف ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سہولیات میں کل 2609، سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں 134 جبکہ ٹریژری ہیلتھ کیئر میں 10 ایم ٹی آئی ہسپتال شامل ہیں۔ اور اس سیکٹر میں 4 فارن فنڈڈ اور 101 جاری اور 31 نئے منصوبوں بشمول کل 132 منصوبے ہیں۔ اسی طرح محکمہ پاپولیشن میں 6 منصوبے شامل ہیں اور ریلیز شدہ بجٹ سے 87 فیصد مختلف منصوبوں پر اخراجات ہو چکے ہیں۔ ایگریکلچر سیکٹر کے بارے میں صوبائی مشکیر کو بتایا گیا کہ اس سیکٹر میں کل 52 منصوبے ہیں اور 87 فیصد بجٹ خرچ ہو چکا ہے لاؤ سٹاک میں 41 منصوبے فوڈ سیکٹر میں 10 منصوبے محکمہ جنگلات کے 54 منصوبے ہیں۔ اسی طرح ہوم ڈیپارٹمنٹ کے 77 وزارت قانون کی 38 بورڈ اف ریوینیو کے 38 محکمہ خزانہ کے 4، ایکسائز کے 12 اور مکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے 7 منصوبے شامل ہیں۔