Home Blog Page 3

Sehat Insaf Card Is Providing Significant Benefits to the Public; Continuity of the Programme Must Be Ensured: Advisor on Health Nigar Johar

Advisor to the Governor of Khyber Pakhtunkhwa on Health, Lieutenant General (Retired) Nigar Johar, has stated that the Sehat Insaf Card is providing significant benefits to the public by facilitating access to healthcare services. She emphasized that the continuity of this important public welfare initiative must be maintained and its effectiveness further strengthened.

She expressed these views while chairing a meeting on the Sehat Insaf Card Programme, during which its administrative and financial affairs were reviewed.

The Advisor stated that the Sehat Insaf Card is an important means of helping people access medical treatment and healthcare facilities. She emphasized that the provision of services to beneficiaries should continue, while financial transparency and accountability must also be ensured at every level.

Lt. Gen. (Retd.) Nigar Johar directed that a comprehensive audit of the Sehat Insaf Card Programme be conducted to thoroughly examine its financial affairs and ensure that public funds are being utilized in accordance with the prescribed rules and regulations. She stressed that effective monitoring and transparent accountability are essential to prevent any financial irregularities or misappropriation as it’s the money of public.

She further stated that public funds are a trust and must be utilized responsibly, transparently, and with full accountability. To maintain the effectiveness of public welfare initiatives such as the Sehat Insaf Card, it is essential to strengthen financial oversight and keep the public interest at the forefront.

گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ معدنیات کے حوالے سے تعارفی و جائزہ اجلاس

گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ معدنیات ڈاکٹر سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ معدنیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مفاد عامہ کے لئے تمام امور بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جبکہ معدنیات سے متعلق تمام تر امور کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا ہے تاکہ معیشت کی پائیدار ترقی ممکن ہوسکے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اپنے دفتر میں محکمہ معدنیات کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری معدنیات عامر لطیف، ڈائریکٹر جنرل معدنیات آصف خان ودیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ہے۔ اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات کو محکمہ معدنیات کے امور، مائننگ کے حوالے سے جاری منصوبوں اور معدنیات سے متعلق نئے وسائل کی مائینگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح جنگلات کی حدود میں موجود معدنیات اور اس کی مائینگ کے حوالے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پرڈاکٹر سرفراز علی شاہ نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اس صوبے کے وسائل یہاں کی عوام کی امانت ہیں اور ہم نے ہر صورت ان وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود اور اس صوبے کی پائیدار ترقی کے لئے استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ معدنیات کے کام کو تیز تر کرنا ہے اور مائینگ کے طریقے کار کو جدید بین الاقوامی طرز پر لانا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ معدنیات کے تمام امور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں جبکہ معدنی وسائل کے تمام ترمنصوبوں کو صوبے کے وسیع تر مفاد کے لئے مقررہ وقت میں انجام دیا جائے گا۔۔ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ معدنیات صوبے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور صوبے کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ہم نے ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام تر امور پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ صوبے کے محاصل میں اضافہ ہوسکے اور صوبہ خیبر پختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

مشیر برائے قانون و پارلیمانی امور کو خاتون محتسب کے دفتر ، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ

گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے قانون و پارلیمانی امور عامر جاوید نے کہا ہے کہ پبلک سروس ڈیلیوری خدمتِ خلق اور عوامی اعتماد کے استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔ سرکاری افسران اپنے فرائض دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں خاتون محتسب کے دفتر کے ساتھ تعارفی اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون شاہد سہیل، خاتون محتسب رباب مہدی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ندا خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خاتون محتسب رباب مہدی نے ادارے کی کارکردگی، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔عامر جاوید نے خاتون محتسب سمیت متعلقہ اداروں کو وفاقی آئینی عدالت، عدالت عظمیٰ پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں اور احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری ادارہ جاتی ذمہ داری ہے اور اس سے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے تحفظ، شکایات کا بروقت ازالہ اور قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ خواتین کے جائیداد اور وراثت سے متعلق حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے، جبکہ متعلقہ ادارے شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی اور مؤثر داد رسی یقینی بنائیں۔مشیر قانون نے زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد، اداروں کے درمیان رابطے اور عوامی شکایات کا شفاف انداز میں ازالہ یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں، بالخصوص خواتین، کو انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ثمر ہارون بلور کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے ملاقات، ڈاکٹروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی، ثمر ہارون بلور

گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز صوبے کے نظامِ صحت میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کو یقین دلایا کہ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی ٹیم صوبے بھر میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے پُرعزم ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کابینہ کے ایک وفد نے ثمر ہارون بلور سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے انہیں ڈاکٹروں کو درپیش مختلف مسائل، ہسپتالوں میں سہولیات کی بہتری اور طبی عملے کے حقوق سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی ادویات کے معیار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور اس معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ ملاقات میں ترقیوں، تنخواہوں میں اضافے اور چیف میڈیکل آفیسرز (سی ایم اوز) اور انسٹی ٹیوشنل میڈیکل آفیسرز (آئی ایم اوز) کے لیے ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) الاؤنسز کی فراہمی سمیت دیگر امور بھی زیرِ بحث آئے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری اور ڈاکٹروں کو سازگار ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کا تجربہ اور رہنمائی سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل کے حل اور صوبے کے نظامِ صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جائے گا اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ڈاکٹروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی علاج کے مجموعی معیار میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متعلقہ حکام کے تعاون سے ڈاکٹروں کے جائز مسائل حل کرنے اور صوبے بھر کے ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔دریں اثنا، ثمر ہارون بلور کو محکمہ اطلاعات کی کارکردگی، جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے محکمے کی استعدادِ کار بڑھانے اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع 90 روزہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے بحرانی صورتِ حال کے دوران محکمہ اطلاعات کی کارکردگی کو سراہا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بروقت، درست اور مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک مضبوط بنانے اور اطلاع سیل کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات کو خیبر پختونخوا میں امن کے فروغ اور پائیدار استحکام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات تیز کرنے، ان کے مسائل حل کرنے، محکمے میں شفافیت بہتر بنانے، خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔بریفنگ میں سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات محمد انصار اللہ خیلجی اور محکمہ اطلاعات کے دیگر افسران نے شرکت کی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے وضاحت کی کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام بند کرنے سے متعلق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان سے منسوب بیان جعلی ہے۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی سے متعلق گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو بھی جعلی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ثمر ہارون بلور نے کہا، ’’ہم کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت اور شفاف کارکردگی ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ عوامی مفاد میں شروع کیے گئے منصوبے جاری رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی سامنے آنے پر بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ درست اور مستند معلومات کی فراہمی، سرکاری امور میں شفافیت برقرار رکھنا اور عوامی مفاد کا تحفظ بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے منگل کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ابتدائی تعارفی اجلاس کی صدارت کی

گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے منگل کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ابتدائی تعارفی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں مشیر تعلیم کو محکمہ کے بنیادی ڈھانچے، قواعد و ضوابط، محکمہ کے ملحقہ اداروں کی ذمہ داریوں، خدمات اور اصلاحاتی ایجنڈے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت اللہ وسیم کے علاوہ سپیشل سیکریٹری مسعود احمد،ایڈیشنل سیکریٹریز، چیف پلاننگ افیسر اور متعلقہ اداروں کے دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ کے صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں اور تدریسی عملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں جبکہ اس شعبے کے ترقیاتی عمل اور منصوبوں،فنڈز اور دیگر امور کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئیں۔گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر تعلیم نے ضم اضلاع میں قائم سکولوں کے عملے کی تنخواہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تنخواہوں کے گرانٹس ختم ہونے سے تین مہینے پہلے مناسب اقدامات اٹھانے چاہیے اور اس سلسلے میں ایک صیح طریقہ کاروضع ہونا چاہیے۔انھوں نے ہدایت کی کہ علاقائی ترقی میں ایمرجنسی کے تحت شامل ضم اضلاع سمیت منتخب 12 اضلاع کیلئے محکمہ کے مخصوص منصوبے فاسٹ ٹریک میں شامل کئے جائیں اور ہر نوعیت کے اقدامات میں یہ منصوبے شامل کئے جائیں جبکہ سکول سے باہر کے بچوں کیلئےخصوصی داخلہ مہم کیلئے بھی تیاری اور منصوبہ بندی ابھی سے کی جائے۔ انھوں نے اصلاحاتی اقدامات کے تحت وہ سکول جنھیں چلانے کیلئے نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں جبکہ اس حوالے سے سیکھنے کے نتائج کی تھرڈ پارٹی سے تجزیے کے بارے میں تفصیلات پر مبنی بریفنگ لینے کی ہدایت کی۔مشیر تعلیم نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کے حوالے سے مستقل سروے جاری رکھا جائے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی اداروں میں فرنیچر کی کمی اور اس حوالے سے سمال انڈسٹرز ڈویلپمنٹ بورڈ سے جڑے معاملات کے حل کیلئے مشیر صنعت کیساتھ معاملہ اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ مشاہراتی طور پر لیئے گئے اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے معقول طریقہ کار اپنانے کیلئے سمری مزید کارروائی کیلئے تیار کی جائے جبکہ غیر فعال سکولوں کے حوالے سے دستیاب ڈیٹا کو اپڈیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔مشیر تعلیم نے نصاب کے معاملات کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کیں اور قومی نصاب کے تحت مختلف تیار موضوعات(کنٹینٹس) کے بارے میں ایک اگاہی بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ بہتر طرز حکمرانی کے بنیادی اصول شراکت داری، جوابدہی، شفافیت اور اصلاحات ہوتے ہیں لہذا تعلیم کے شعبے کے ہر منصوبے کا ہر اقدام ان اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ مشیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی نظام میں بزم ادب کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اضلاعی سطح پر اس طرح کی اہم سرگرمیاں منعقد ہونی چاہیے۔انھوں نے ابتدائی اورثانوی تعلیم کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تمام تفصیلات ایک یوم میں انھیں فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نئے منصوبوں کی تفصیلات 2 دنوں میں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ خدمات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا اوردئیے گئے اہداف کے حوالے سے ٹھوس اور عملی نتائج فراہم کرنے ہوں گے۔

ڈاکٹر سمیرہ شمس اور یونیسف خیبرپختونخوا کے چیف فیلڈ آفیسر رادوسلا رادک کے درمیان ملاقات

چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دے سٹیٹس آف وویمن ڈاکٹر سمیرہ شمس نے کمیشن کے دفتر میں یونیسف خیبرپختونخوا کے چیف فیلڈ آفیسر رادوسلا رادک سے ملاقات کی، جس میں بامعنی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بات چیت میں بچیوں کے حقوق کے تحفظ اور بااختیاری، موسمیاتی تبدیلی اور واش کے اقدامات میں خواتین کی بامعنی شرکت، اور وویمن کمیشن کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی مضبوطی، بالخصوص نگرانی و جائزے (مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن) کے نظام کو بہتر بنانے سمیت اہم ترجیحات کا احاطہ کیا گیا۔ملاقات میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ اسٹریٹجک شراکت داری، ادارہ جاتی ہم آہنگی خیبرپختونخوا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لیے پائیدار اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف صوبہ بھر میں آگاہی مہم کا آغاز

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان کی خصوصی ہدایات پربچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف صوبہ بھر میں آگاہی و شعور اجاگر کرنے کی مہم کی کا آغاز خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف پشاور کے کانفرنس ہال میں ہوا- جس میں سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود شریف حسین بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف چائلڈ پروٹیکشن آفیسر اعجاز محمد خان، ڈپٹی ڈائریکٹر زمونگ کورپشاورنورزلی خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن زمونگ کور سید عمر علی شاہ اور مذہبی سکالرمولانا غلام اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود اور دیگر مقررین نے کہا کہ بچوں کو جنسی بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور معاشرے کے تمام طبقات کو بچوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔مقررین نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بچوں کے تحفظ کے لیے جامع نظام موجود ہے، صوبے کے 21 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس فعال ہیں، جبکہ مانسہرہ، نوشہرہ، ملاکنڈ، شانگلہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مزید چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مہم کا مقصد بچوں کے خلاف جنسی بدسلوکی اور استحصال کی روک تھام، مشتبہ عمل کی بروقت نشاندہی و رپورٹنگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا ہے۔مقررین نے کہا کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی یا استحصال کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے معاشرے میں آگاہی اور احساس پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔والدین اور اساتذہ بچوں کے رویوں اور مشکلات پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی صورت میں اپنا کردار بھی ادا کریں اورمتعلقہ اداروں کو بھی اطلاع دیں، تاکہ بچوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔مہم کی افتتاحی تقریب میں بتایا گیا کہ کسی بھی بچے کو تحفظ کی ضرورت ہو تو خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن 1121 یا پولیس ہیلپ لائن 15 پر فوری اطلاع دی جائے۔اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین نے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف صوبہ بھر میں آگاہی مہم کاباقاعدہ افتتاح بھی کیا۔تقریب کے اختتام پر سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

ویٹس پشاور نے ستمبر 2026 کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے دھند اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والے زہریلے دھوئیں کے تدارک کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ اسٹیشن (ویٹس) پشاور کی جانب سے گاڑیوں کی جانچ کے ساتھ ساتھ شہریوں اور گاڑی مالکان میں ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات اور گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال سے متعلق آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ویٹس پشاورکی ستمبر کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مہینے میں مجموعی طور پر 10 ہزار 489 گاڑیوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 8 ہزار 449 گاڑیاں مقررہ فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ میں کامیاب قرار پائیں، جبکہ 2 ہزار 50 گاڑیاں مطلوبہ ماحولیاتی و فنی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث ناکام قرار دی گئیں اور ان کے خلاف چالان کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے شہریوں اور گاڑی مالکان پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور صاف و محفوظ ماحول کے قیام کے لیے محکمہ کے ساتھ تعاون کریں، گاڑیوں کو مقررہ ماحولیاتی و فنی معیار کے مطابق رکھیں اور غیر ضروری دھوئیں کے اخراج کی صورت میں فوری طور پر گاڑی کی مرمت اور فٹنس ٹیسٹ یقینی بنائیں۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن کے ذریعے گاڑیوں کی جانچ کا عمل مزید مؤثر بنانے اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

60TH MEETING OF THE PROVINCIAL CABINET

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi has strongly condemned the meeting convened by the Governor of Khyber Pakhtunkhwa, describing it as deeply regrettable and unconstitutional. Addressing a meeting of the Provincial Cabinet, the Chief Minister said the province has a duly elected government with a two-thirds majority, while the Provincial Assembly, Cabinet and government are fully functional and firmly in place. He said the Governor’s summoning of the Chief Secretary and Inspector General of Police and convening of such a meeting was an assault on the Constitution and democratic order. “In the presence of a provincial government enjoying a two-thirds majority, convening such a meeting is unacceptable.” The Chief Minister said the Constitution provides a clear mechanism for removing a sitting Chief Minister through a vote of no-confidence. “If anyone has an issue with the Chief Minister, the constitutional procedure must be followed.” “The objective behind these unconstitutional activities is to provoke the Provincial Government and compel it to react in a manner that could further destabilise the situation,” he said. “We will remain peaceful and will speak only within the framework of the Constitution and the law.” He said that the Pakistan Peoples Party had played a wrong role in the past as well, and its current actions appeared to be an attempt to create circumstances similar to those that led to another East Pakistan. The party that raises the slogan of democracy had, in the past, separated Bangladesh from Pakistan for its personal interests, Chief Minister Sohail Afridi said. Prioritising personal interests over national interests has remained the PPP’s practice. We will not allow any conspiracy to break Pakistan to succeed. “We will not allow any conspiracy against the unity and integrity of Pakistan to succeed,” he said.

The Chief Minister said the security situation in Khyber Pakhtunkhwa had continued to deteriorate following the re-settling of terrorists in the province by the federal government. “Fourteen thousand intelligence-based operations and 22 major military operations over 22 years have not delivered sustainable peace,” he said. “After the loss of 80,000 precious lives, the continued absence of lasting peace is a failure of state policy.” He said the federal government must reconsider its counter-terrorism approach if it was genuinely committed to restoring sustainable peace. “The argument that Khyber Pakhtunkhwa is not cooperating is not acceptable. Balochistan is also cooperating with the federal government, yet peace has not been achieved there either. The current federal policy is therefore proving ineffective in both provinces.” The Chief Minister said a policy developed in consultation with the stakeholders of Khyber Pakhtunkhwa could establish peace within 100 days. “We have to fight terrorism, but we also have to address the consequences of policies that have contributed to instability in the province,” he said. He said the provincial government had continued to strengthen the police, Counter Terrorism Department and Special Branch since he assumed office on October 15, 2025. “Khyber Pakhtunkhwa Police, unlike any other in the country, has modern weapons and equipment, while substantial investment is being made to strengthen the CTD’s infrastructure and the Special Branch,” he said. The Chief Minister said the federal government had consistently treated Khyber Pakhtunkhwa unfairly. “The tribal districts were merged with Khyber Pakhtunkhwa in 2018, but their financial integration remains incomplete,” he said. “The financial rights committed at the time of the merger have still not been fully provided.” He said that the federal government had repeatedly imposed military operations on Khyber Pakhtunkhwa. “People displaced as a result of federal policies have been left on the streets, while full compensation remains outstanding,” he said, adding that approximately Rs100 billion in compensation for affected families in the merged districts remained unpaid. The Chief Minister said families whose homes were destroyed, whose livelihoods were disrupted and whose mosques were demolished were still struggling to receive compensation. “For families that made sacrifices for Pakistan, compensation of only Rs400,000 per household was fixed, and even this amount has not been paid,” he said. Referring to the situation at Baka Khel camp, he said a commitment had been made to provide between Rs370 million and Rs380 million per month to internally displaced persons from North Waziristan, but the promised amount was still not being provided. “The Provincial Government has a responsibility to stand with people displaced by policies beyond their control,” he said. “Since assuming office, we have provided Rs21 billion for displaced persons.” The Chief Minister said the Provincial Government was also required to bear the financial burden arising from the consequences of military operations and drone strikes, despite these matters being linked to decisions taken at the federal level. “Those making decisions in Islamabad do not experience the hardships those decisions impose on the people of Khyber Pakhtunkhwa,” he said. “If the federal government is genuinely committed to Khyber Pakhtunkhwa, it should revise the province’s NFC share and clear outstanding dues owed to a province that has sacrificed 80,000 lives in the fight against terrorism,” he said. The Chief Minister said the Provincial Government and Khyber Pakhtunkhwa Police remained fully committed to maintaining law and order. “Using the police as personal servants and deploying them for purposes unrelated to public security is unacceptable,” he said. He said the police and civil administration had made enormous sacrifices in the fight against terrorism and had played a critical role in moving the province away from years of bombings, armed violence and insecurity towards peace and stability. The Chief Minister said that Provincial Minister Fazal Shakoor Khan had been picked up despite being a member of the Provincial Cabinet, while PTI workers had been injured in Waziristan. He said that Shakeel Khan was fired upon directly, and when Gunda was injured in the retaliatory firing, he was declared to be “their own man. These actions are intended to provoke the Provincial Government and compel it to make statements that could further deteriorate the situation,” he said. The Chief Minister clarified that he is a soldier of Imran Khan, and he has taught us throughout our political journey never to engage in unconstitutional or unlawful conduct,” the Chief Minister said. He directed the Inspector General of Police and Chief Secretary not to comply with any order that was unconstitutional or unlawful. He also ordered an immediate inquiry into allegations against the Station House Officer of Lachi. “The Lachi SHO was behaving not as a police officer but as a strongman,” he said, directing that allegations of extorting money from citizens at gunpoint be investigated and that the officer be removed from his post pending due process. The Chief Minister reiterated that the people, police and administration of Khyber Pakhtunkhwa had made unparalleled sacrifices for Pakistan and that the Provincial Government would continue to uphold the Constitution, the rule of law, democratic institutions and the legitimate rights of the people of the province.

Briefing the media on important decisions taken by the Khyber Pakhtunkhwa Cabinet, Minister for Information & Public Relations, Science, Technology and Information Technology, Shafi Jan, said that the Cabinet had taken a wide range of decisions aimed at strengthening counter-terrorism infrastructure, improving public services, supporting healthcare and social welfare initiatives, and addressing development needs across the province.

The Minister said the Cabinet approved additional funding of Rs. 5,333.50 million for the development scheme titled “Establishment of District Setup of Counter Terrorism Department in Khyber Pakhtunkhwa, including Construction of Peshawar Regional CTD Headquarters” through inter-sectoral re-appropriation, by relaxing the prescribed timelines under the release policy for the current financial year 2026-27.

Shafi Jan said the initiative was aimed at further strengthening the Counter Terrorism Department’s counter-terrorism operations, intelligence capabilities and specialised facilities across the province. He added that the provincial government had already approved the establishment of district-level CTD setups across Khyber Pakhtunkhwa, including the construction of the Peshawar Regional CTD Headquarters, at a total estimated cost of Rs. 6,591.640 million.

Regarding sanitation and cleanliness initiatives, the Information Minister said that, in view of the progress of the programme and its wide acknowledgement by local communities, coupled with strong public demand for its continuation, the Cabinet approved the extension of the Rural Areas (Village Councils) Cleanliness Programme at a cost of Rs. 7,660.590 million.

He said the Cabinet also approved forwarding to the Federal Government Joint Resolution No. 283, adopted by the Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa. Shafi Jan said the resolution strongly condemned, in the strongest possible terms, the extremely unfortunate, condemnable and alarming incident involving Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa and Leader of the House, Muhammad Sohail Khan Afridi, during which the Chief Minister was allegedly forcibly taken away by Punjab Police in a police vehicle, separated from his security personnel and subsequently dropped on the roadside without security during visit in Punjab.

The Minister said the Cabinet approved the distribution policy for reserved seats in medical and dental colleges for candidates from the Merged Districts in various institutions across the country for the academic session 2026-27. He said the Cabinet also approved the equitable division of the 42 reserved seats for South Waziristan, with 21 seats each allocated to Upper and Lower South Waziristan. Shafi Jan added that the Chief Minister had further directed that 10 seats each for Upper and Lower South Waziristan be reserved in private medical and dental colleges, with the expenses to be borne by the provincial government until these seats are formally created by the quarters concerned.

The Cabinet, he said, also approved financial assistance for the medical treatment of 81 needy patients suffering from prolonged illnesses or complicated medical conditions.

Shafi Jan said that, in order to strengthen rehabilitation and social welfare services, the Cabinet approved the transfer of 4 Kanal and 17 Marlas of land from the Auqaf Department to the Zakat, Ushr, Social Welfare, Special Education and Women Empowerment Department for construction of a Rehabilitation and Detoxification Centre for Drug Addicts at Tehsil Razzar, District Swabi.

Similarly, he said, the Cabinet approved the transfer of 25 Kanal of land from the Livestock, Fisheries and Cooperative Department to the Zakat, Ushr, Social Welfare, Special Education and Women Empowerment Department for establishment of the proposed Child Protection Unit and Social Welfare Complex at D.I. Khan.

Regarding sugar availability and pricing, the Minister said the Cabinet approved that the Federal Government should consider and allow the export of sugar only after commencement of the new crushing season, expected in mid-November, particularly when fresh production becomes available and sugar prices stabilise.

Shafi Jan further said that the Cabinet gave its concurrence for obtaining US$250 million financing from the World Bank (IDA) for the READY-KP Project, under the applicable World Bank financing terms.

عوامی آگاہی، مسائل کے حل اور نیٹ ورکنگ کی شاندار مثال, پختونخوا ریڈیو پر کمشنر رائٹ ٹو پبلک سروسز کی کامیاب نشریات

تحریر: انجینئر اطہر سوری

جدید تکنیکی دور میں بھی عوام تک معلومات کی فوری اور مؤثر ترسیل کے لیے ریڈیو کی اہمیت و افادیت مسلّمہ ہے۔ اس کا بہترین ثبوت حال ہی میں پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2 پشاور، ایف ایم 92.4 کوہاٹ اور پختونخوا ریڈیو کرم پر ایک ساتھ (یک وقت) نشر ہونے والا خصوصی پروگرام ہے۔
اس اہم نشریات کے مہمانِ خصوصی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے کمشنر شوکت علی یوسفزئی تھے۔ انہوں نے پروگرام کے دوران کمیشن کی کارکردگی، کمیشن کے فرائض،عوام کو بنیادی خدمات کی شفاف ترسیل اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

پروگرام کے دوران پشاور، کوہاٹ، کرم اور ملحقہ علاقوں کے سامعین نے کثیر تعداد میں براہِ راست ٹیلی فون کالز کے ذریعے شرکت کی۔ متعدد سامعین نے اپنے علاقائی مسائل اور شکایات کمشنر کے سامنے پیش کیں، جنہیں انہوں نے انتہائی غور سے سنا اور موقع پر ہی ان کے بر وقت ازالے کی یقین دہانی کرائی۔

اس کامیاب تجربے سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ پختونخوا ریڈیو پشاور کو ایک مرکزی مرکز (مرکزی محور) کے طور پر کام میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے پختونخوا ریڈیو کے شعبہ نشریات سے منسلک تمام اسٹیشنوں پر ایک ہی وقت میں اہم ترین پروگرام براہِ راست نشر کیے جا سکتے ہیں۔

عوام اور سامعین نے پختونخوا ریڈیو اور رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے اس مشترکہ آگاہی اقدام کو بے حد سراہا۔ یہ نشریات اس بات کی نوید ہے کہ صحیح تکنیکی منصوبہ بندی کے ساتھ ریڈیو آج بھی عوام کو بااختیار بنانے اور ان کی آواز ایوانوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔