وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے چوتھی انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ چار روزہ انٹرنیشنل کانفرس 16 اپریل سے 19 اپریل تک خیبرمیڈیکل یونیورسٹی میں جاری ہے۔ سابق وفاقی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر ظفر مرزا کے علاوہ یونیورسٹی آف سنٹرل لینکاشائر، آغا خان یونیورسٹی، قطر یونیورسٹی، ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، بقائی یونیورسٹی، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی، ورلڈ بینک، عالمی ادارہ صحت و دیگر متعلقہ اداروں سے آئے ماہرین و سپیکرز نے انفیکشئیس ڈیزیز، غیر متعدی بیماریوں، موسمیاتی تغیر کے تحت صحت کو لاحق خطرات اور صحت کارڈ کے استحکام بارے لیکچرز دئے۔وزیر صحت نے پبلک ہیلتھ کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے تیس فیصد افراد زیابطیس میں مبتلا ہیں اور اٹھارہ سال کے جوانوں میں بلند فشار خون جیسی علامات موجوہیں۔ ہم نے ہیلتھ میں صرف تقریریں نہیں کرنی کام بھی کرنا ہے۔ اس مد میں ہم Live Well کے نام سے اقدام اُٹھانے جارہے ہیں۔ ہم بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے تو لگارہے ہیں لیکن ان بیماریوں کے سدباب پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ Live Well کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کو صحت مند زندگی گُزارنے کی تاکید دینے جارہے ہیں۔ طلبا و طالبات اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ وزیر صحت نے کانفرنس کے سپیکرز میں اعزای شیلڈز بھی تقسیم کیں۔ کانفرنس کے سپیکرز نے لیکچرز میں بتایا کہ خیبرپختونخوا میں پچاس فیصد اموات غیر متعدی بیماریوں سے ہوتی ہیں جن کا سدباب بالکل ممکن ہے۔ اگر ان بیماریوں کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ ہمار معاشرے میں اوسط زندگی 67 سال تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جو کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں 87 سال ہے۔ مقررین نے بتایا کہ زندگی کے طور طریقے بدلنے اور صحت افزا عادات اپنانے سے ہماری زندگی بیس سال تک مزید بڑھ سکتی ہے۔ متوازن غزا، ماقول نیند، سٹریس مینجمنٹ دوستانہ ماحول بہترین زندگی کے لئے بنیادی اُصول ہیں۔ اگر طرز زندگی کو بدلا جائے تو 10 میں سے 9 ٹائپ ٹو زیابطیس مریضوں کو مرض میں مبتلا ہونے سے روکا جاسکتا ہے جبکہ 60 فیصد کینسر مرض کا سدباب بھی طرز زندگی بدلنے سے ممکن ہے۔
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ہدایت پر سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی جانب سے صحت کارڈ کے تحت علاج مہیا کرنے والے ہسپتالوں کو صحت کارڈ سے متعلق شکایات کیلئے مخصوص ٹال فری نمبر پر مشتمل بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی ہدایت پر سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی جانب سے صحت کارڈ کے تحت علاج مہیا کرنے والے ہسپتالوں کو صحت کارڈ سے متعلق شکایات کیلئے مخصوص ٹال فری نمبر پر مشتمل بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے میں صحت کارڈ کے تحت علاج فراہم کرنے والے تمام متعلقہ ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صحت کارڈ سے متعلق شکایات کے اندراج کیلئے ہسپتال کی نمایاں جگہوں پر ٹال فری نمبر 080089898 پر مشتمل بینرز کو آویزاں کیا جائے جس پر تمام داخل مریضوں کی اطلاع کیلئے درج ہو کہ ہسپتال میں صحت کارڈ کے تحت داخل مریضوں کو ہسپتال فارمیسی سے مفت ادویات فراہم کی جائیں گی اور داخلہ سے متعلقہ تجویز کردہ ٹیسٹ بھی مفت کئے جائینگے۔ بینر پر یہ بھی لکھا ہو کہ ادوایات کی فراہمی ٹسٹ، ایکسرے وغیرہ میں کسی بھی دشواری سے متعلق شکایات کیلئے صحت کارڈ کاونٹر پر یا دیے گئے ٹال فری نمبر پر شکایت درج کریں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن نے پشاور کی نجی یونیورسٹی میں منشیات کے خلاف مہم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پہ سیکرٹری ایکسائز فیاض علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمن نے پشاور کی نجی یونیورسٹی میں منشیات کے خلاف مہم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پہ سیکرٹری ایکسائز فیاض علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر میاں خلیق الرحمن نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا ہوگا۔ منشیات سے پاک صوبہ ہی تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کرسکتا ہے، طلبہ و طلبات کو بھی چاہیے کہ نشے کی روک تھام میں حکومت کی مدد کریں اور خود اس نشے سے دور رہیں اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی منشیات سے بچنے کی تلقین کریں۔صوبائی وزیرنے کہا کہ ہر شہری کو منشیات کے خاتمے کیلئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انسداد منشیات کے خلاف جنگ صرف نارکوٹیکس فورس کا کام نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کو منشیات کے خاتمے کیخلاف مہم چلانی ہو گی۔طالبعلموں کو منشیات سے بچانا ہے تاکہ وہ نشہ سے دور رہ کر اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر یکسوئی سے توجہ دیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ منشیات ایک عالم گیر مسئلہ ہے اور ہمارے معاشرے میں بھی منشیات خصوصی طورپر آئس ناسور کی طرح پھیل رہے ہیں،جن کے خلاف صوبائی حکومت سر گرم ہے۔ محکمہ ایکسائز ہنگامی اور ترجیحی بنادوں پر بھر پور اقدامات اٹھا رہاہے اور منشیات فروشوں، ڈیلروں اور سہولت کاروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کاروائیاں جاری ہیں – منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے میں عوام کا تعاون ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ تمام طبقے محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا سے تعاون کریں اور اپنے آس پاس منشیات کی کسی بھی قسم سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ ایکسائز کو دیں۔سمینار کے اختتام پہ منشیات سے پاک خیبر پختونخوا واک کا احتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز،پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ان پر منشیات کے خلاف جہاد، ہمارا خواب منشیات سے پاک پاکستان، نشہ سے انکار زندگی سے پیار،نشہ کے نقصانات اور دیگرآگہی تحریریں درج تھیں۔
خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت ایف اے او کازرعی شعبے میں تعاون مثالی اور قابل قدر ہے۔ وزیر زراعت خیبر پختونخوا
صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے ایف اے او کے اقدامات کے حوالے سے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد برکوال کی صدارت میں اعلی سطح اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد برکوال کی صدارت پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری امتیاز حسین شاہ،سیکرٹری زراعت جاوید مروت، اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے کنٹری ریپریزنٹیٹو مس فلورنس رولے اور ایف اے او کے صوبائی سربرا ہ فرخ ٹائر وف نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوااور خاص کر ضم اضلا ع میں عالمی ادارہ خوراک کے تحت زمینداروں کی فلاح اور زراعت کی ترقی کے جاری اقدامات کو سراہا گیا۔ صوبائی وزیر نے عالمی ادارے ایف اے او کی زرعی ترقی میں کاوشوں کو مثالی اور قابل قدر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ باہمی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا
اجلاس میں گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا کے منصوبے کی تکمیل میں حائل مسائل کو حل کرنے،صوبے کے اندر موجودہ بارشوں اور سیلابوں کے باعث زمینداروں کے مالی نقصانات،طغیانیوں کے باعث زرعی اراضی کے کٹاؤ کی روک تھام، فصلوں اور سبزیوں کو پہنچنے والے نقصان پر تفصیلی غور وخوص کیا گیا اور اس حوالے سے شرکائے اجلاس کو سیکرٹری زراعت نے تفصیل بریفنگ دی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے میں مزید شفافیت لانے کے لیے ای پرو کیورمنٹ،ای بلنگ، ای ورک آرڈراور فائل ٹریکنگ کے نظام کو عملی جامہ پہنانے اورمتعارف کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائیں
خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے میں مزید شفافیت لانے کے لیے ای پرو کیورمنٹ،ای بلنگ، ای ورک آرڈراور فائل ٹریکنگ کے نظام کو عملی جامہ پہنانے اورمتعارف کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے خیبر پختو خوا ہائی ویز اتھارٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخواہائی ویزاتھارٹی اسد علی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں خیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی کی کار کردگی، مختلف منصوبوں اوران پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا اورصوبائی وزیر کو ادارے کے اہداف کے حصول کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں اتھارٹی کے زیر اہتمام آمد و رفت کے جاری اور نئے عوامی منصوبوں کو جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچانے اور فنڈز کی کمی کو پورا کرنے سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں ٹول پلازوں اور دیگر تمام روڈ ٹیکس کی وصولیوں کو موجودہ وقت کے ٹیکس ریٹ کے مطابق بنانے کے لئے ریٹس کے تعین کی خاطر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی متعلقہ کونسل رجوع کرے ۔کیونکہ موجودہ ٹیکس ریٹ بہت کم ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ اپنے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کرنے اور صوبے کی آمدن میں اضافہ کے لیے خصوصی طور پر اقدامات کرے جبکہ خیبر پختو خوا کی شاہراہوں اور سڑکوں پر مقررہ وزن سے زیادہ اوورلوڈ گاڑیوں کی روک تھام کے لئے ضروری حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ ان بھاری گاڑیوں کی آمدو رفت سے سڑکوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے جس کا اثر براۂ راست صوبے کی معیشت پر پڑتاہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی صوبے کا ایک مثالی ادارہ ہے جو کہ نہایت ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
پشاور: صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم میناخان کی زیر صدارت یونیورسٹی میں ایکٹ ترامیم کے حوالے سے اجلاس
پشاور: جامعات میں معیاری ریسرچ پر خصوصی توجہ دئیے بغیر یونیورسٹیزنہ مستحکم ہوسکتی ہیں اور نہ ہی ترقی کرسکتی ہیں میناخان آفریدی
پشاور: یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم لانے کا بنیادی مقصد جامعات کو مالی بحران سمیت دیگر مشکلات سے نکالنا ہے۔ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم
پشاور: کوالٹی ایشورنس سیل اور ریسرچ آفسز کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے میناخان آفریدی
پشاور: یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے مسئلے کو فوری طور حل کررہے ہیں صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم
پشاور: وائس چانسلر کا کردار یونیورسٹی میں ایک لیڈر کی طرح ہوتا ہے جو ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو میناخان
پشاور – صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سٹی نمبر ون پشاور کے امتحانی ہال کا دورہ۔
پشاور- وزیر تعلیم نے امتحانی نظام کا جائزہ لیا اور طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پشاور- صوبہ بھر میں شفاف امتحانات کو منعقد کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں، وزیر تعلیم
پشاور – صوبہ بھر کا امتحانی عملہ امتحانات کو کامیاب اور شفاف بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، وزیر تعلیم
پشاور- معماران قوم کا مستقبل اب آپ کے ہاتھ میں ہے کوشش کریں کہ میرٹ پر حقدار کو اس کا حق ملے وزیر تعلیم کی سپروائزری سٹاف کو ہدایت
پشاور- میں بطور وزیر تعلیم میری ٹیم اور سیکرٹیریٹ کی ٹیمیں صوبہ بھر کے امتحانی حالوں کا جائزہ لے رہی ہیں، وزیر تعلیم
پشاور -امتحانی نظام میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی ، وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی
پشاور – میٹرک میں عمومی طور پر چھوٹے بچے ہوتے ہیں ان کے ساتھ شفقت کا رویہ رکھیں وزیر تعلیم کی سپروائزری سٹاف کو ہدایت
پشاور- تمام تعلیمی بورڈز کی تیاریاں مکمل ہیں، والدین اور طلبہ مطمئن رہیں ان کو اپنی محنت کا صلہ ملے گا، وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی
پشاور- امید ہے ہمارے میرٹ کے نظام سے گزرنے والے بچے اگے جا کر ملک کی بہتر خدمت کریں گے، وزیر تعلیم
پشاور – تمام طلبہ کی امتحانات میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں ، وزیر تعلیم
پشاور – ضلع انتظامیہ ،پولیس، واپڈا اور دیگر اداروں کی بھرپور معاونت حاصل ہے ، وزیر تعلیم
پشاور- امسال صوبہ بھر سے 8 لاکھ 93ہزار 524 طلبہ و طالبات میٹرک کے امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں، وزیر تعلیم
پشاور- کلاس نام کے چار لاکھ 57 ہزار اور دہم کے چار لاکھ 35 ہزار طلبہ و طالبات امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں، وزیر تعلیم
پشاور- صوبہ بھر میں کل 3569 امتحانی ہال قائم کیے گئے ہیں، وزیر تعلیم
پشاور – امتحانات میں ہمیں صوبہ بھر سے تقریبا 24 ہزار سپروائزری عملے کی خدمات حاصل ہیں، وزیر تعلیم
پشاور- امتحانات کو کامیاب اور شفاف بنانے اور شکایات کی ازالے کے لیے محکمہ تعلیم میں انفارمیشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے ، وزیر تعلیم
پشاور – وزیر تعلیم نے سیکرٹیریٹ میں قائم مانیٹرنگ سیل کا بھی دورہ کیا اور صوبہ بھر کے امتحانی ہالز کا جائزہ لیا۔
خیبرپختونخوا محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کے بڑے اداروں ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین اور یوایس ایڈ سمیت متعدد نے شرکت کی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
خیبرپختونخوا محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کے بڑے اداروں ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین اور یوایس ایڈ سمیت متعدد نے شرکت کی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کا کل قرضہ 636 ارب روپے ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا ڈومیسٹیک قرضہ صفر ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا ڈونرز کانفرنس میں خطاب
پنجاب شاہ خرچیوں اور اعلانات میں مصروف ہے جبکہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری لانے کیلئے کوشاں ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبر پختو خوا تمام صوبوں پر سبقت لے گیا خیبرپختونخوا حکومت نے ڈونرز کانفرنس میں نہ صرف اپنے صوبے کے معاشی حالات دنیا کے سامنے پیش کر دیے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بھی آواز اٹھائی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ڈونرز کانفرنس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اعلانات اور شاہ خرچیوں میں مصروف ہے جبکہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری لانے کیلئے کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ضم شدہ علاقوں اور سرحدی اضلاع کی مستقبل میں سرمایہ کاری سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت اور اہم ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کی جانب سے منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس میں دنیا کے بڑے اداروں، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یورپی یونین اور یوایس ایڈ سمیت متعدد اداروں نے شرکت کی۔ پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس میں صوبائی وزراء، مشیران اور معاون خصوصی وزیراعلی کے علاؤہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ مختصر وقت میں ڈونرز کانفرنس کے انعقاد نے دوسروں صوبوں پر سبقت حاصل کرلی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو اے ڈی بی، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کی ضرورت ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا پیغام بھی کانفرنس کے شرکاء کو پہنچایا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا جی ڈی پی کا حجم تقریباً 30-35 بلین ڈالر ہے بمقابلہ پاکستان جی ڈی پی 350 بلین ڈالر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 31 فعال منصوبے ہیں جن کے لیے 459 ارب روپے پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ 919 ارب روپے مستقبل قریب میں تقسیم کیے جانے کے عمل میں ہیں اور 79 منصوبے مکمل ہیں جن پر 177 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی اور سوات موٹروے جیسے چند بڑے منصوبے پارٹنرز کے تعاون سے بنے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا صوبے کا کل قرضہ 636 ارب روپے ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا ڈومیسٹیک قرضہ صفر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ہمارا مسئلہ ترجیحی اخراجات کا انتظام، وسائل کو متحرک کرنا اور کے پی کی لامحدود صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان کے 30 بلین امریکی ڈالر کی ترسیلات زر میں خیبرپختونخوا کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا 6.600 میگاواٹ بجلی صرف 1.1 روپے میں پیدا کر رہاہے اور وفاقی حکومت نے 30 روپے فی یونٹ بجلی کی بنیادی قیمت مقرر کی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان آئل کا 42% پیدا کرتا ہے اور ضم شدہ علاقے مختلف قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، جن میں دھاتی اور صنعتی معدنیات سے لے کر قیمتی پتھر اور کوئلہ شامل ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ انضمام شدہ سات اضلاع میں سے ہر ایک منفرد معدنی پروفائل کا حامل ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہائیڈل جنریشن، مائنز اینڈ منرلز اور آئل اینڈ گیس کی تلاش اور انرجی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کی تلاش میں ہے اسی طرح چھوٹے ڈیموں میں سرمایہ کاری کے پی کے انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تباہی سے بچا سکتی ہے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات کا احاطہ 26% تک پہنچ گیا ہے اور پائیدار لکڑی کی برآمدات کے حصول کے لیے سائنسی جنگلات کے انتظام میں شراکت داروں کی ضرورت ہے، جس کی سالانہ صلاحیت 200 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیاحت ایک اور شعبہ ہے جو کے پی میں خوشحالی لا سکتا ہے اور سری لنکا نے صرف پچھلی ایک سہ ماہی میں سیاحت میں ایک بلین ڈالر کمائے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ان شعبوں میں گرانٹس اور سرمایہ کاری کی تلاش ہے۔ مشیر خزانہ نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری امتیاز حسین شاہ کو خصوصی مبارکباد کی۔
پشاور: مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسیفزئی کا الیکٹرانک میڈیا پر نئی گاڑیوں کے خریداری کے حوالے سے چلنے والے خبروں پر ردعمل
پشاور: مشیر وزیراعلی کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سیکرٹری سوشل ویلفیئر ، خصوصی تعلیم نے سمری ارسال کی کہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر و حصوصی تعلیم کے پاس گاڑی نہیں ہیں۔ مشال اعظم یوسفزئی
پشاور: نئی گاڑی کی خریداری کےلئے اجازت دی جائے۔ اس سمری میں مشیر وزیراعلی کے لئے بھی نئی گاڑی خریدنے کا ذکر کیا گیا۔ مشال اعظم یوسفزئی
پشاور : میرے سامنے سمری پیش کی گئی جس پر میں نے سختی منع کیا اور کہا کہ اگر گاڑی کی ضرورت تھی تو نگران حکومت میں خریدنے کی اجازت لیتے۔مشال اعظم یوسفزئی
پشاور : اس حوالے سے واضح احکامات دئیے کہ گاڑی خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں ہیں اور کیس واپس کردیا : مشال اعظم یوسفزئی
صوبائی حکومت فری، سکلڈ، کوالٹی اورفنی تعلیم کو عام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔وزیر زراعت سجاد بارکوال
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کا مینڈیٹ ہے کہ پسماندہ علاقوں میں سٹینڈرڈ، کوالٹی، ووکیشنل اور فنی تعلیم کو عام کرنا ہے تاکہ پسماندہ اضلاع کے لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوں تاکہ وہاں کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف پیٹرولیم ٹیکنالوجی کرک پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں صوبائی وزیر کو مذکورہ منصوبہ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ انسٹیٹیوٹ آف پیٹرولیم ٹیکنالوجی کرک میں پی ایس ڈی پی پراجیکٹ ہے جو18-2017 میں شروع ہواتھا کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے 250 کنال اراضی دی تھی ادارے کی باؤنڈری وال مکمل ہے جبکہ پراجیکٹ کی عمارت پر تعمیراتی کام نظرثانی پی سی ون کی منظوری کے بعد تیز کیا جائے گا کیونکہ اب تک پراجیکٹ کے لیے جو رقم ریلیز ہوئی ہے وہ بہت کم ہے صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ مذکورہ ادارے نے تین سالہ ڈریلنگ ٹیکنالوجی ڈپلومہ شروع کی ہے جس میں جنوبی اضلاع اور دوسرے صوبوں سے 80 طلباء نے داخلہ لیا ہے طلباء میں اکثریت ضلع کرک سے ہے تاہم جب ادارے کی اپنی عمارت تعمیر ہو جائے تو پٹرولیم، الیکٹریکل، انسٹرومنٹیشن اور ٹیکنیکل ڈپلومہ کے کورسز بھی شروع کریں گے صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا کہ صوبائی حکومت فری، سکلڈ، کوالٹی اورفنی تعلیم کو عام کرنے پر یقین رکھتی ہے اس لیے صوبائی حکومت صوبے میں اس طرح کے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لیے کوشاں ہے تاکہ اس سے عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں انہوں نے کہا کو جو رقم مذکورہ پراجیکٹ کیلئے منظور ہوئی ہے اسکا صرف 5یا 6 فیصد حصہ ریلیز ہوا ہے جوکہ نہ ہونے کے برابر ہے اسلئے پراجیکٹ کی کل رقم کو نظرثانی پی سی ون میں منظوری دیکر جلدازجلد تکمیل کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے خصوصی ملاقات کرینگے۔
