Home Blog Page 319

تدریسی ہسپتال باچاخان میڈیکل کمپلیکس میں سال 2024میں 5 لاکھ 69 ہزار 372مریضوں کا علاج کیاگیا۔

تدریسی ہسپتال باچاخان میڈیکل کمپلیکس میں سال 2024میں 5 لاکھ 69 ہزار 372مریضوں کا علاج کیاگیا۔
3 لاکھ 36 ہزار 24 مریض او پی ڈی جبکہ 2 لاکھ 33 ہزار 413 مریضوں نے ایمرجنسی سے رجوع کیا، 7 ہزار 930 سرجریز کئے گئے
ہسپتال کی ایمرجنسی کو مزید مستحکم جبکہ عوام کی سہولت کے لئے متعدد نئے شعبے کھول دئے گئے، ہسپتال ڈائریکٹرڈاکٹرخالد مسود
تدریسی ہسپتال باچاخان میڈیکل کمپلیکس نے سال2024میں عوام کو دی جانے والی سہولیات پر مبنی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مجموعی طور پر 5لاکھ69ہزار372مریضوں کو علاج کی سہولت دی گئی جس میں 3لاکھ 36ہزار24مریضوں نے او پی ڈی جبکہ 2لاکھ 33ہزار372 مریضوں نے ایمرجنسی سے رجوع کیا، اسی طرح ہسپتال میں چھوٹے بڑے 7ہزار930پریشن کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف اقسام کے 6لاکھ 66ہزار796ٹیسٹ کئے گئے اسی طرح ہسپتال میں 72ہزار275ایکسرے، 5ہزار960سی ٹی اسکینز، 26ہزار286 الٹراساونڈ،36ہزار 186ای سی جیز، 956اینڈوسکوپیز کئے گئے۔سال 2024میں مجموعی طور پر 33ہزار229مریضوں کو داخل کرایا گیا، جس میں 20ہزار سے زائد داخلے صحت کار ڈ پر کئے گئے۔ سال 2024میں ہسپتال میں 11ہزار191بچوں کی پیدائش ہوئی۔اسی طرح ہسپتال میں 8ہزار554ڈائلاسز کئے گئے۔ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسود نے گزشتہ سال کی طرح رواں سال میں بھی عوام کو علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم کیا، ہسپتال انتظامیہ نے سب سے پہلے مریضوں کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے میں کمی کو یقینی بنایاگیا جس پر 90فیصد کامیابی حاصل کی جاچکی ہے۔ سال 2024میں صوابی میں بڑے حادثات اور دھماکہ کے تمام زخمیوں کو ہسپتال میں علاج کی سہولت دی گئی۔ جبکہ بستروں کی تعداد کو 350سے بڑھا کر 450تک پہنچایا گیا۔
ترجمان کے مطابق سال 2024میں ہسپتال میں عوام کو علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لئے متعدد چھوٹے بڑے منصوبے مکمل کئے گئے جس میں یونسیف کے تعاون سے عالمی معیار کے مطابق 46بستروں پر مشتمل این آئی سی یو کا قیام شامل ہے۔ جہاں انتہائی سیریس بچوں کی بہترین دیکھ بھال کی جاتی ہے۔عوام کی سہولت کے لئے ایچ آئی وی فیملی کئیر سینٹربنایا گیاجبکہ ٹی بی کی تشخیص اور مفت علاج کی سہولت بھی بلا تعطل فراہم کی جاتی رہی۔ ترجمان کے مطابق ادارہ جاتی پریکٹس میں بھی علاج کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے اپریشن کا سلسلہ جاری رہا اور مجموعی طور 2ہزار 989سرجریز کئے گئے۔ ہسپتال میں مریضوں کو مناسب قیمت پر اچھی کوالٹی کی ادویات کی فراہمی کے لئے فیئرپرائس فارمیسی قائم کی گئی جو نہ صرف او پی ڈی بلکہ ایمرجنسی مریضوں کو رعایتی قیمت پر ادویات فراہم کرتی ہیں۔انفیکشن کے شکار مریضوں کے لیے ہسپتال میں انفیکشس ڈیزیزاو پی ڈی کھول دی گئی ہے، جو صوبے کے چند ہی ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔ اسی طرح، ہزاروں کلچر ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جو پہلے پشاور یا اسلام آباد بھیجے جاتے تھے۔ہسپتال میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے رش کے پیش نظر نئے آپریشن رومز اور سرجیکل یونٹس تیار کیے گئے ہیں، جو جلد فعال کر دئیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا سردار علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر محکمہ سماجی بہبود نے عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے نشے سے پاک پشاور فیز 3 حیات آباد میں بحالی مراکز میں داخل مریضوں کے لیے علاج کے ساتھ ان کو معاشرے کا کار آمد شہری بنانے کے لیے کہ ڈاکٹریٹ آف سوشل ویلفیئر،خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور سمال انڈسٹریز ڈیویلپمنٹ بورڈ کے درمیان ایم او یو پر عمل درآمد شروع کر دیاہے جس کے تحت بحالی مراکز میں داخل مرد اور خواتین نشے کے عادی مریضوں کو ہنرمند بنانے کیلئے سکلز ٹریننگ دی جارہی ہے ان مریضوں کو تین ماہ پر مشتمل تربیت دی جائے گی جو ان کو معاشرے میں اپنا روزگار شروع کر نے میں مدد فراہم کرے گی۔

مشیر صحت احتشام علی کے رات گئے ہسپتالوں کے دوروں کا سلسلہ جاری

مشیر صحت احتشام علی کے رات گئے ہسپتالوں کے دوروں کا سلسلہ جاری، نحقی سٹیلائٹ ہسپتال میں بد انتظامی، غیر حاضری، ایکسپائرڈ ادویات کی موجودگی پر ایم ایس اور ویمن میڈیکل آفیسر معطل، ڈیپارٹمنٹل انکوائری کا آغاز، غیر حاضر لیب اور ایکسرے ٹیکنیشن کے خلاف کار روائی کے بھی احکامات جاری

رات کو یہ ہسپتال ویران رہتے ہیں اس لئے بڑے ہسپتالوں پر ریفرل کا بوجھ بڑھ رہا ہے: مشیر صحت احتشام علی

مشیر صحت ا حتشام علی نے بغیر پروٹوکول کے رات کے 2 بجے چارسدہ روڈ پر واقع نحقی سٹیلائیٹ ہسپتال کا دورہ کیا۔مشیر صحت نے ڈیوٹی روسٹر، حاضری رجسٹر اورادویات کے معائنے کئے اور مریضوں کی دادرسی کی مذکورہ ہسپتال میں ایم ایس کو معطل کرکے ان کیخلاف محکمانہ کاروائی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ہسپتال میں گائنی مریض کی موجودگی کے باوجود گائنی ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر ویمن میڈیکل آفیسر کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ مشیر صحت احتشام علی نے عملے کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ رات کو ان کے دورے کے موقع پر کوئی ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر سمیت لیبارٹری اور ایکسرے ٹیکنیشن بھی موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر ہسپتال کی ایمرجنسی الماری میں ایکسپائر ادویات پائی گئیں۔مشیر صحت نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال ہے تو ہم عطائیوں اور نجی کلینکس کا قبلہ کیسے درست کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو کوئی ڈیوٹی نہیں کرتا اس لئے سب مریض پشاور کے بڑے ہسپتالوں کو ریفر کئے جاتے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی اللہ کا بندہ ہسپتال آجائے تو اسے ریفر ٹو ایل آر ایچ کے علاوہ کیا ملے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پشاور میں تمام ہسپتال خبردارہیں اگلی باری کسی کی بھی ہوسکتی ہے۔ بہت ہوگیا سمجھانا بُجھانا، اب سزا جزا کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ کام کریں یا گھر جائیں، ہم کسی کو گھر پر تنخواہ نہیں دے سکتے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر کے تمام اضلاع کے ریسکیو کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں اضلاع کی سطح پر ریسکیو کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ہر ضلع کی ریسکیو 1122 کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ معاون خصوصی نے ریسکیو اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہیں اور اپنی خدمات میں کوئی کمی نہ چھوڑیں۔اجلاس کے دوران ریسکیو کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل کو جلد حل کیا جائے گا اور ریسکیو کو جدید آلات اور وسائل سے لیس کرکے ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ریسکیو 1122 کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔

صوبائی حکومت جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے دیر لوئر میں آئل ٹینکر اور سوزوکی بولان کے ذریعے دیودار کی قیمتی لکڑیوں کی اسمگلنگ ناکام بنانے پر ڈی ایف او دیر لوئر اور پوری ٹیم کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت جنگلات کی کٹائی اور قیمتی لکڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، یہ کامیاب کارروائی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کی واضح مثال ہے۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے میں جنگلات و ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے،انھوں نے محکمہ جنگلات کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دلوائیں، پیر مصور خان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں تاریخی شجرکاری کی گئی ہے جسکا تحفظ حکومت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے واضح رہے کہ ڈی ایف او لوئر دیر اور ان کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران ایک آئل ٹینکر اور سوزوکی بولان سے مزاحمت کے بعد دیودار کی قیمتی لکڑیوں کی اسمگلنگ ناکام بنادی تھی اور لکڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے ان پر 20 لاکھ روپے کا بھاری جرمانے عائد کیا گیا جبکہ آئل ٹینکر اور سوزوکی بولان کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔

رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے محاصل جمع کرنے میں خیبرپختونخوا نے پنجاب اور وفاق کو پیچھے چھوڑ دیا

چھ ماہ میں خیبرپختونخوا نے 45 فیصد جبکہ پنجاب نے 10.8 فیصداور ایف بی آر نے 26 فیصد اضافی محاصل جمع کئے: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا،پنجاب اور وفاقی حکومت کے محاصل کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال 2024-25 کے پہلے چھ ماہ کے محاصل جمع کرنے میں خیبرپختونخوا نے پنجاب اور وفاق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ چھ ماہ میں خیبرپختونخوا نے 45 فیصد جبکہ پنجاب نے صرف 10.8 فیصد اضافی محاصل جمع کئے اسی طرح ایف بی آر صرف 26 فیصد اضافی محاصل کر سکا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد اضافے کے ساتھ 24.22 ارب روپے محاصل جمع کئے جبکہ جولائی تا دسمبر کے دوران پنجاب کی وصولی 10.8 فیصد اضافے سے 118 ارب روپے رہی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایف بی آر کی وصولی 26 فیصد اضافہ کے ساتھ 5.6 ٹریلین ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ فارم 45 اور فارم 47 کی حکومتوں میں یہی فرق ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس

قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس رکن صوبائی اسمبلی و چئیرمن قائمہ کمیٹی عبدالسلام آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے کانفرنس روم میں منعقدہ ہوا اجلاس میں اراکین اسمبلی علی شاہ ایڈوکیٹ، محمد نثار، اکرام اللہ سمیت کمیٹی ممبران، محکمہ قانون، محکمہ زراعت کے سمیت متعلقہ محکموں نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء کو زرعی یونیورسٹی پشاور، زرعی انجینئرنگ، کراپ رپورٹنگ کے جملہِ امور، کارکردگی، جاری منصوبوں اور ذمہ داریوں پر بریف کیا گیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے اجلاس میں بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام میں محکمہ زراعت محکمہ قانون کے ساتھ ملکر اپنا کردار ادا کرے۔ زرعی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس شعبے کے بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جاسکے۔ بڑھتی ہوئی آبادی سے ایک طرف خوراک کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف زرعی زمینوں میں کمی آرہی ہیں۔ اس کمی پر قابو پانے کے لیے بنجر زمینوں کو کاشت کاری کے قابل بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی پشاور کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی تعلیم کے فروغ میں یونیورسٹی کا نمایاں کردار ہے۔ اجلاس کے دوران چئیرمن قائمہ کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا زرعی و زرخیز خطہ ہے یہاں زراعت کے شعبے کو ترقی دے کر صوبے کو زرعی اجناس میں خودکفیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے اپنے دفتر

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف ضلعوں سے آئے ہوئے وفود سے ملاقاتیں کی، اس موقع پر مختلف وفود نے فضل حکیم خان یوسفزئی کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل سے آگاہ کیا جن کے حل کے لئے صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کواحکامات جاری کئے۔ اس موقع پر فضل حکیم خان یوسفزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت عام آدمی کی حالت زندگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نعروں پرنہیں عمل پر یقین رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خدمت خلق کا جو موقع عطا کیا ہے اسے عبادت سمجھ کر نبھارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتے ہیں، عوام کے مسائل کا حل موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے فیملی پلاننگ پر عملدرآمد کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ملک میں وسائل اور ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ایک جامع طویل المدتی پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی ملک کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمرات کو ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ نیشنل ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پالیسی 2035-25 کے نام سے صوبائی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیائالحق،محکمہ صحت کے چیف ایچ ایس آر یو ڈاکٹر خلیل اختر،نیشنل ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پالیسی کے کنسلٹنٹ ثمین صدیقی ڈی جی پاپولیشن عائشہ احسان اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔اجلاس میں حکام نے معاون خصوصی کو صوبہ کے دور دراز علاقوں میں پرائمری ہیلتھ کیئر اور دیگر بنیادی مراکز صحت اور ان میں موجود سہولیات و چیلنجز سے آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ فیملی پلاننگ پر عملدرآمد کرنا ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے اور اس حوالے سے محکمہ صحت سمیت تمام صوبائی محکمے ملکر ایک مربوط پالیسی بنائیں جو کہ عوام کیلئے فائدہ مند ہو۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی مراکز صحت و ہیلتھ کیئر سہولیات دینے کیلئے صوبائی حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جامع دیر پا طویل المدتی فیمیلی پلاننگ پالیسی کے ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت چترال کے تعلیمی مسائل کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ اپر اور لوئر چترال کے تعلیمی مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ جہاں پر سکول قائم کرنے کی ضرورت ہوگی وہاں پر رینٹڈ بلڈنگ پروگرام میں نئے سکول کھولے جائیں گے۔ جہاں پہ سکولز اپگریڈیشن کی ضرورت ہے وہاں سیکنڈ شفٹ میں اسی مقامی سکول کو مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری لیول تک اپگریڈ کر دیا جائے گا۔ پیرنٹس ٹیچرز کونسل، یونیسیف اور دوسرے پراجیکٹس کے تحت عارضی اساتذہ کی تعیناتی کر کے تمام سکولوں کو اساتذہ فراہم کرینگے۔ جبکہ جاری پروگرامز کے تحت آئی ٹی لیبز کے قیام، امتحانی ہالوں کی تعمیر، واٹر سپلائی سکیمیں، باؤنڈری والز، واش رومز اور دیگر تمام سہولیات فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو جدید تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کیلاش کے علاقے کے منتخب 22 سکولوں کو آئی ٹی سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ چترال کے جاری منصوبوں کے لیے بجٹ ریلیز اور نئے منصوبوں کی منظوری کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں شرح خواندگی بہترین ہے اور وہاں کے عوام حکومت کے ہر پروگرام اور خصوصاً تعلیمی منصوبوں کو کامیاب کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں اور چترال سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے بورڈ پوزیشنز کے علاوہ مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی اہم کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت کی کہ اگلے سال کے لیے انٹر ڈسٹرکٹ سپورٹس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے بروقت تیاری کرتے ہوئے پولو کے کھیل کو بھی ان ٹورنامنٹس میں شامل کیا جائے کیونکہ چترال میں پولو کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور ان کو ہم نے مواقع دینے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال کے تعلیمی مسائل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈپٹی سپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی ثریا بی بی، ممبر صوبائی اسمبلی فاتح الملک علی ناصر، چترال سے اقلیتی رہنماوزیر زادہ، سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم ایڈیشنل سیکرٹریز فیاض عالم، مقبول حسین اور محمد شعیب کے علاوہ ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف اور اپر ولوئر چترال کے میل و فیمیل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر چترال اپر اور لوئر اضلاع کے میل و فیمیل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز نے صوبائی وزیر کو اپنے اضلاع کی تعلیمی صورتحال، کارکردگی، مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت دی کہ ترجیحاتی ایجنڈا فوری طور پر محکمہ تعلیم کو بھیجا جائے تاکہ متعلقہ فورمز سے ان کی منظوری لی جا سکے۔ وزیر تعلیم نے چترال میں سکولز کی سولرائزیشن کے حوالے سے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے اور عنقریب چترال کے سکولوں کی سولرائزیشن کا کام مکمل کریں گے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم پلاننگ سیکشن کو ہدایت دی کہ تکمیل کے قریب منصوبوں کے لئے فنڈز کے ریلیز کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ طلبہ و طالبات کے بہتر مفاد میں شروع کردہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی دوبارہ آبادی وبحالی کے لئے ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت ٹینڈر کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت دی کہ خصوصاً چترال اور باقی اضلاع کے لئے ایٹا سکالرشپ پروگرام کے لیے منعقدہ ٹسٹ کو ڈویژنز کی جگہ ان کے متعلقہ اضلاع میں امتحانی ہالز قائم کئے جائیں۔ تاکہ بچوں کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو اور اپنے ہی اضلاع میں ٹسٹ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے اضلاع میں سبجیکٹ سپیشلسٹ اساتذہ اور سائنس کے اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہتر اقدامات کی بدولت اب تمام امتحانی نظام ایس ایل او بیسڈ ہو گیا ہے جس سے رٹہ اور نقل کلچر ختم ہو رہا ہے اور اس کے بہترین نتائج آرہے ہیں انہوں نے چترال کے ڈبل شفٹ سکول پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے نتائج چترال میں بہت بہترین ہیں اور ان کو فنڈز کے اجراء کے ساتھ ساتھ اس پروگرام کو چترال کے مزید تحصیلوں اور خصوصاً دور افتادہ پہاڑی علاقوں تک توسیع دی جائے گی تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے عظیم نعمت سے محروم نہ رہے۔