Home Blog Page 34

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے آج دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ بیسک ہیلتھ یونٹ (BHU) وزیر گڑھی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت نے بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ یہ یونٹ حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔

0

بی ایچ یو وزیر گڑھی میں نئے بلاک کی توسیع اور تعمیر کا منصوبہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ خیبر پختونخوا کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ جناب اکرام بھی موجود تھے۔ رکنِ صوبائی اسمبلی اشفاق خان اور رکنِ قومی اسمبلی ذوالفقار خان بھی صوبائی وزیرِ صحت کے ہمراہ تھے کیونکہ یہ علاقہ ان کے حلقہ انتخاب میں شامل ہے۔
توسیعی منصوبے اور نئی عمارت کی تعمیر سے نئے بلاکس اور یونٹس کے لیے اضافی جگہ میسر آئے گی جس سے صحت کی سہولیات میں نمایاں توسیع اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت کو منصوبے کے دائرہ کار اور علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق اس کے متوقع اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے بی ایچ یو کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ بھی کیا جہاں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے لیبارٹری، ایکس رے روم اور مائنر پروسیجر روم کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور مریض موجود تھے۔
صوبائی وزیرِ صحت نے میڈیکل آفیسر انچارج کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے صحت مراکز میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خلیق الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ نئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام بنیادی سطح کے صحت مراکز میں مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں ضروری طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت بنیادی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری اور بڑے اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اصلاحات سے اضلاع کی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات مضبوط ہوں گی، غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور ثانوی و ثالثی سطح کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ضرورت کے مطابق نئے بڑے ہسپتال قائم کرنے کے عمل میں بھی مصروف ہیں تاکہ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور رش کو کم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والی ہیلتھ پالیسی سے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری آئے گی اور صوبے کے عوام جلد مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے، ان شاء اللہ۔

خیبرپختونخواحکومت کاضلع سوات میں 22کلومیٹرنئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا فیصلہ

خیبرپختونخواحکومت نے اپنے وسائل سے جاری توانائی منصوبوں سے پیداہونے والی سستی پن بجلی کی ترسیل کے سلسلے میں نیپراکی ہدایات کی روشنی میں ضلع سوات میں ایک نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے منصوبے کا فیصلہ کیاہے۔ پشاورالیکٹر ک سپلائی کمپنی (پیسکو) اورپختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے درمیان ضلع سوات میں 22کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے سلسلے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ منصوبے پر آئندہ چند روز میں تعمیراتی کام کا بھی جلد آغازہوجائیگا۔جس سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت اورآمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق،ایڈیشنل سیکرٹری پاوراینڈایڈمن انورخان شیرانی،چیف انجینئرحبیب اللہ شاہ سمیت پیسکوکے ڈائریکٹرجنرل MIRADعاطف جواد،چیف انجینئرڈیویلپمنٹ حبیب الرحمان اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پیڈوکے سوات کوریڈورمیں جاری پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل اورمٹلتان سوات سے بحرین تک 40کلومیٹرٹرانسمیشن لائن کے جاری منصوبے اوراسکے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیڈوکے آئندہ 2سے 5سالوں کے دوران مکمل ہونے والے پن بجلی منصوبوں کی تکمیل کے بعد بجلی کی موثر ترسیل یقینی بنانے کے سلسلے میں ضلع سوات میں مدین گرڈ سٹیشن سے لے کرخوازہ خیلہ گرڈ سٹیشن تک 22کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کی تعمیرپر اتفاق کیا گیاہے جبکہ منصوبے کے تیکنیکی پہلوں کا جائزہ لینے کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدنے پیڈوکی ٹرانسمیش لائنوں کوبچھانے کے لئے آئندہ سالوں میں مکمل ہونے والے توانائی منصوبوں کے لئے گیم چینجرقراردیا جس سے صوبے کو اپناٹرانسمیشن نیٹ ورک دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کے لئے اہم سنگ میل قراردیا۔ انہوں نے پیسکواورپیڈوحکام کو منصوبے کی ریشنلائزیشن،ٹائم لائن اور لاگت کے عمل کو فوری طورپر مکمل کرنے پرزوردیا تاکہ عوامی فلاح کے منصوبے پر جلد کام کا آغاز کیا جاسکے۔واضح رہے کہ مذکورہ منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات نیپرا کے اوپن ایکسس ریگولیشن 2022 پروگرام کے تحت ادا کیے جائیں گے۔

PROVISION OF ACADEMIC DOCUMENTS FOR THE RECRUITMENT OF OFFICE ASSISTANTS IN BOARD OF REVENUE, REVENUE & ESTATE DEPARTMENT KHYBER PAKHTUNKHWA

It has been informed to all the candidates who have qualified ETEA Test held on 31.12.2022 for the post of Office Assistant (BS-16) in Board of Revenue/Revenue and Estate Department, Khyber Pakhtunkhwa and have not yet submitted their academic documents so far are required to submit their academic documents for scrutiny to the Office of Assistant Secretary (Admn), Board of Revenue/Revenue and Estate Department, Block “C”, Civil Secretariat, Khyber Pakhtunkhwa within Fifteen (15) days from publication of this press release in order to proceed further with the recruitment process. Candidates who have already submitted their academic documents may ignore this press release and those candidates who fail and not submit their documents within stipulated time period, their request will not be entertained in the recruitment process.
It was announced here by the Assistant Secretary (Admn) Board of Revenue/Revenue and Estate Department, Khyber Pakhtunkhwa.

عوامی کی خدمات مشن ہے، سوات میں بڑے ترقیاتی منصوبے قابل تحسین ہیں، ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہا ہے کہ سوات میں عملی ترقی کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، عوامی کی خدمت مشن ہے، سوات میں میگا پراجیکٹس سے عوام مستفید ہو رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پبلک ڈے کے موقع کے موقع پر بریکوٹ سوات میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ جو لوگ ترقی پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہ آ کر سوات میں ترقی دیکھ لیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ علاقے میں چار بڑی یونیورسٹیز، پیڈز ہسپتال، پیراپلیجیک سنٹر، اسکاؤٹ سنٹر اور دیگر عوامی مقامات کے درجنوں منصوبے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ صوبائی حکومت صرف نعرے نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کام کے معیار اور مقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خود عوام تمام ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، جو قابل ستائش ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیرِ صحت  خلیق الرحمان نے آج دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ بیسک ہیلتھ یونٹ سپین خاک کا دورہ کیا

خیبرپختونخوا کے وزیرِ صحت  خلیق الرحمان نے آج دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ بیسک ہیلتھ یونٹ سپین خاک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت نے بی ای ایم او این سی (بنیادی ہنگامی زچگی و نوزائیدہ نگہداشت) یونٹ کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ یہ یونٹ حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے جان بچانے والی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
بی ایچ یو سپین خاک میں نئے بلاک کی توسیع اور تعمیر کا منصوبہ ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (HCIP) خیبر پختونخوا کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ اکرام  بھی موجود تھے۔  جبکہ رکنِ صوبائی اسمبلی  اشفاق خان اور رکنِ قومی اسمبلی  ذوالفقار خان بھی صوبائی وزیرِ صحت کے ہمراہ تھے کیونکہ یہ علاقہ ان کے حلقہ  انتخاب میں شامل ہے۔
توسیعی منصوبے اور نئی عمارت کی تعمیر سے نئے بلاکس اور یونٹس کے لیے اضافی جگہ میسر آئے گی جس سے صحت کی سہولیات میں نمایاں توسیع اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت کو منصوبے کے دائرہ کار اور علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق اس کے متوقع اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے بی ایچ یو کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ بھی کیا جہاں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے لیبارٹری، ایکس رے روم اور مائنر پروسیجر روم کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور مریض موجود تھے۔
صوبائی وزیرِ صحت نے میڈیکل آفیسر انچارج کو ہدایت کی کہ مریضوں کے لیے ادویات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے صحت مراکز میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
 خلیق الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ نئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام بنیادی سطح کے صحت مراکز میں مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں ضروری طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت بنیادی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری اور بڑے اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اصلاحات سے اضلاع کی سطح پر بنیادی صحت کی سہولیات مضبوط ہوں گی، غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا اور ثانوی و ثالثی سطح کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ضرورت کے مطابق نئے بڑے ہسپتال قائم کرنے کے عمل میں بھی مصروف ہیں تاکہ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور رش کو کم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والی ہیلتھ پالیسی سے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری آئے گی اور صوبے کے عوام جلد مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے، ان شاء اللہ۔

چار روزہ خصوصی دودھ چیکنگ مہم مکمل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے رمضان ہدایت نامے کی روشنی میں پری رمضان لائحہ عمل کے تحت صوبے بھر میں جاری خصوصی دودھ چیکنگ مہم مکمل کر لی۔ مہم کے دوران صوبے کے بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کر کے دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں کی سخت جانچ پڑتال کی گئی۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ چار روزہ خصوصی مہم کے دوران مجموعی طور پر 278 دودھ کی گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جبکہ 300 دودھ کے نمونے حاصل کر کے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے موقع پر ہی تجزیہ کیا گیا۔ جانچ کے نتائج کے مطابق 219 نمونے تسلی بخش جبکہ 81 نمونے ملاوٹی اور غیر معیاری پائے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ غیر معیاری ثابت ہونے پر تقریباً 2155 لیٹر دودھ موقع پر ہی تلف کر دیا گیا جبکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر ذمہ دار مالکان پر لاکھوں روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
مزید تفصیلات کے مطابق مردان ڈویژن سے 53، ہزارہ ڈویژن سے 136، ملاکنڈ ڈویژن سے 34، کوہاٹ سے 10، پشاور سے 7 جبکہ بنوں اور ڈی آئی خان ڈویژن سے 30،30 دودھ کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب مہم پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ رمضان لائحہ عمل کے مطابق دودھ، گوشت، بیکری آئٹمز، مشروبات، مصالحہ جات، ائل اینڈ گھی اور رمضان المبارک میں زیادہ استعمال ہونے والی دیگر خوردونوش اشیاء کی خصوصی انسپکشن کا سلسلہ جاری ہے تاکہ بازاروں میں عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
کاشف اقبال جیلانی کا کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائیاں ہوں گی۔ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کی نشاندہی کے لیے فوڈ اتھارٹی کو فوری طور پر مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو اہم مسائل سے متعلق خطوط ارسال کئے تھے تاہم دونوں حضرات نے جوابات دینے مناسب نہیں سمجھے اور نہ ہی خطوط پر عمل درآمد کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو بیجھے گئے خطوط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وزیر تجارت اور گورنر اسٹیٹ بینک کو خطوط ارسال کئے تھے تاہم دونوں حضرات نے جوابات دینے مناسب نہیں سمجھے اور نہ ہی خطوط پر عمل درآمد کی۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ یقین دہانی کے لیے ریکارڈ درست کرنا چاہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وزیرِ تجارت جام کمال اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خطوط ارسال کئے تھے۔ وزیر تجارت جام کمال کو لکھے گئے خط میں خیبرپختونخوا کی افغانستان کے ساتھ تجارت سے متعلق اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی اسی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کو خیبرپختونخوا اور چھوٹے صوبوں کے اہم مسئلہ بارے خط لکھا گیا تھا کہ خط خیبرپختونخوا آبادی کی مالی شمولیت اور صوبے میں جمع ہونے والے ڈپازٹس کے مقابلے میں زیادہ مقامی قرضہ جات فراہم کرنے کے حوالے سے تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ میرے دفتر نے بارہا وزیرِ تجارت کے دفتر سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور وفاقی وزارت کی جانب سے ملکی برآمدی صلاحیت میں عدم دلچسپی کے باعث برآمدات مسلسل کم ہو رہی ہیں اسی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کا رویہ چھوٹے صوبوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گورنر کا صوبائی حکومتوں سے شاذ و نادر ہی کوئی رابطہ ہوتا ہے یہ سب مسائل وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیرِ خزانہ کے سامنے اٹھائیں گے پاکستان کو اہم عہدوں پر بہتر لوگوں کی ضرورت ہے۔

CM’s aide Shafi Jan Condemns suicide Blast in Tarlai Islamabad

Special Assistant to the Chief Minister KP on Information and Public Relations, Shafi Jan, has strongly condemned the suicide bomb blast at Imambargah Khadija-tul-Kubra in the Tarlai area of Islamabad, expressing profound sorrow and grief over the tragic incident.

In his statement, Shafi Jan said that targeting innocent worshippers inside a place of worship is a deeply tragic, inhumane, and cowardly act that deserves the strongest condemnation.

He stated that such acts are a blatant violation of human values as well as religious teachings.

He stated that Islam, like all religions of the world, strictly forbids the killing of innocent people and attacks on places of worship. He further asserted that anti-state and anti-humanity elements will never succeed in their nefarious objectives. the entire nation stands united against terrorism.

He added that the provincial government stands shoulder to shoulder with the affected families during this difficult time and fully shares in their grief.

The Special Assistant also offered prayers for the elevation of ranks of those martyred in the blast, patience and strength for the bereaved families, and the speedy and complete recovery of the injured.

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Mr. Khaliq-ur-Rehman, chaired a high-level meeting of all Medical Teaching Institution (MTI) Hospital Directors (HDs) at the Health Department today.

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Mr. Khaliq-ur-Rehman, chaired a high-level meeting of all Medical Teaching Institution (MTI) Hospital Directors (HDs) at the Health Department today. The meeting was also attended by the Secretary Health, Mr. Shahid Ullah Khan, along with senior officials of the Health Department.

During the meeting, the Health Minister was given a comprehensive briefing through detailed presentations on the overall performance and operational status of each MTI across the province. The briefing covered key areas including human resource strength, availability of medical equipment and essential medicines, total bed capacity with special focus on Intensive Care Units (ICUs), as well as administrative and management-related challenges.

The Minister was informed about the increasing influx of patients at tertiary care hospitals. Acknowledging this challenge, Mr. Khaliq-ur-Rehman emphasized the urgent need to strengthen primary and secondary healthcare facilities in order to minimize unnecessary referrals to tertiary care hospitals and to ensure optimal utilization of healthcare resources.

Addressing the participants, the Health Minister reiterated that, in view of the prevailing financial and service delivery challenges, MTIs must gradually move towards a sustainable financial and operational model. He stated that this approach would help share the economic burden with the provincial government while ensuring continuity and quality of healthcare services.

The Minister directed the Hospital Directors to ensure uninterrupted availability of essential medicines and strictly maintain quality standards. He stressed that only medicines approved under the MCC-approved list must be procured and dispensed at MTIs.

The meeting was also briefed on the performance of MTIs under the Sehat Sahulat Programme, under which millions of patients are receiving free and quality healthcare services. The Health Minister appreciated the efforts of MTIs and stated that Khyber Pakhtunkhwa continues to lead among all provinces in the effective implementation of universal health coverage initiatives.

Mr. Khaliq-ur-Rehman assured the Hospital Directors of full support and cooperation from the Health Department. He further informed that the provincial government has devised a comprehensive plan to increase the number of ICU beds across the province in line with current healthcare needs.

The Health Minister emphasized the need for strong coordination among all MTIs and informed the meeting that a centralized mechanism is being developed to introduce uniform policies, standard operating procedures, and improved governance across MTIs.

To further strengthen transparency and accountability, the Minister informed that a third-party audit of all MTIs is currently under way, aimed at improving institutional performance, financial discipline, and public confidence in the healthcare system.

The meeting concluded with a reaffirmation of the government’s commitment to strengthening healthcare institutions and improving service delivery across Khyber Pakhtunkhwa.

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے لکی مروت کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی طارق سعید نے لکی مروت میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے جاری و مجوزہ سکیموں کے حوالے سے ملاقات کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے لکی مروت کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی طارق سعید نے لکی مروت میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے جاری و مجوزہ سکیموں کے حوالے سے ملاقات کی اس موقع پر ایکسین لکی مروت بھی موجود تھے۔رکن صوبائی اسمبلی نے وزیر موصوف کو اپنے حلقہ نیابت لکی مروت میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن صوبائی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ضلع لکی مروت میں جاری تمام سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیاری کام اور معیاری میٹریل کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ساکھ اور امیج کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے تمام افسران کو ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کرنا ہوگا اور عوامی مفاد کو ہر صورت ترجیح دی جائے۔