خیبر پختونخوا کے نگراں وزیر صنعت وتجارت،فنی تعلیم اور قبائلی امور سید عامر عبداللہ نے جلوزئی اکنامک زون میں بنک آف خیبر کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ازیمک جاوید اقبال خٹک،خیبر بنک کی انتظامیہ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ وزیر صنعت وتجارت اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلوزئی میں خیبر بنک کا قیا م بہت اہمیت کا حامل ہے،اس کے قیام سے اکنامک زون میں صنعت کاروں کو بنک سے متعلق سہولیات کیلئے دور نہیں جانا پڑے گا بلکہ ان کو یہ تمام سہولیات اکنامک زون میں ہی فراہم ہوں گی جس سے صنعت کاروں کو کافی مدد ملے گی۔ انہوں نے کے پی ازیمک کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اکنامک زون میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے علاوہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس کو استعمال میں لانے کے لئے مناسب بندوبست اور اقدامات اٹھائیں تاکہ پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوسکے۔بعدازاں وزیر صنعت وتجارت نے اکنامک زون میں شجرکاری کرکے پودا بھی لگایا۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس وقت تک آشوب چشم کے سولہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افراد دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، سن گلاسز کا استعمال کریں، آنکھوں کو پانی سے دھویا کریں اور اگر انفیکشن زیادہ ہو تو ماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ آشوب چشم سے حفاظتی اقدامات اٹھانے سے ہی اپنے آپ کو ممکنہ تکالیف سے بچایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں آشوب چشم کے علاج کے دوران مختلف انجیکشن کے استعمال سے کئی لوگوں کی بصارت چلی گئی ہے تاہم محکمہ صحت کے ڈی جی ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ خیبر پختونخوا میں پیش نہیں آیا اور ڈاکٹروں کو آشوب چشم کے علاج کا بخوبی اندازہ ہے اسی لئے جو بھی آشوب چشم کا شکار ہو اسے چاہئیے کہ وہ رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر یاماہر امراض چشم سے ہی رجوع کرے۔
اشوب چشم کے سولہ کیسز رپورٹ، محکمہ ہیلتھ نے ایڈوائزری جاری
اشوب چشم کے سولہ کیسز رپورٹ، محکمہ ہیلتھ نے ایڈوائزری جاری
پشاور، متاثرہ افراد دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، ڈاکٹر شوکت علی ڈی جی ہیلتھ سروسز
پشاور، سن گلاسز کا استعمال کریں، انکھوں کو پانی سے دھویا کریں، ڈاکٹر شوکت
پشاور، انفیکشن زیادہ ہو تو ماہر امراض چشم سے رجوع کریں، ڈاکٹر شوکت
نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا کا غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ صوابی کا دورہ
نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا کا غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ صوابی کا دورہ
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ صرف یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جدید تحقیق کو فروغ دینے اور نصاب کو جدید دور کے تقاضوں اور مارکیٹس کی ضروریا ت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں کے جمعرات کے روز غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی صوابی میں نئے داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لینے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند اور قابل اطمینان بات ہے کہ ہر سال اس ادارے میں طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خواتین ہماری کل آبادی کا 50 فیصد سے بھی زیادہ حصہ ہیں اور انہیں تمام شعبوں میں آگے آکر اپنا لوہا منوانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ ملک کا اثاثہ اور قابل فخر ادارہ ہے، یہ صرف ایک تعلیمی درسگاہ نہیں بلکہ تخلیقی اور تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز ہے، جی آئی کے انسٹیٹیوٹ انجینئرنگ ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائینسز، ڈیٹا سائینسز، منیجمنٹ سائینسز اور دیگر جدید علوم میں مہارت کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے جو پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے، اس ادارے کے قیام کے لئے سابق صدر غلام اسحاق خان مرحوم اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم سمیت دیگر لوگوں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معیار کے اس مادر علمی میں داخلہ لینا یقیناً نئے طلبہ کے لئے فخر کا مقام ہے،اس ادارے میں تعلیم و تربیت کے لئے جس قدر سازگار ماحول میسر ہے وہ بہت کم اداروں میں دستیاب ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ جان لیں کہ تعلیم صرف درسی کتابوں اور لیکچرز تک محدود عمل نہیں بلکہ تعلیم ایک مکمل شخصیت سازی اور کردار سازی کا عمل ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا اصل مقصد ایک اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بننا ہے اورمجھے یقین ہے کہ ادارے کے طلبہ اپنی عملی زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے اصول پر عمل پیرا رہیں گے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک طالب علم میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور ان صلاحیتوں کو معاشرے، ملک اور انسانیت کی فلاح کے لیے بھر پور استعمال میں لائیں،آپ اس ملک کا مستقبل ہیں اور آپ ہی نے اس قوم کی قیادت کرنی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے طلبہ کو تلقین کی ہے کہ زندگی میں دیانتداری، ایمانداری اور ہمدردی جیسے اعلیٰ اخلاق و اقدار پر سختی سے کاربند رہیں۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے کلاس رومز اور لیبارٹریز سمیت مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا۔
نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال کاکاخیل، سینیٹر سلیم سیف اللہ خان اور جی آئی کے کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خان اور دیگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
صوبے میں جعلی و ایکسپائرادویات کیخلاف کریک ڈاون
ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈرگز اینڈ فارمیسیز سروسز کا صوبے میں جعلی و ایکسپائرادویات کیخلاف کریک ڈاون
پشاور : ڈرگ کنٹرول پشاور نے خُفیہ اطلاع پر ڈیوو کارگو سے بھاری مقدار میں جعلی ادویات قبضے میں لے لیں : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : قبضے میں لی گئی ادویات میں 37 ہزار جعلی گولیاں اور سندھ حکومت کی خریدی ہوئی سرکاری ادویات شامل ہیں : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : جعلی اور غیر قانونی ادویات پشاور سپلائی کرنے والے فرد سے مزید تفتیش جاری ہے : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : اسی طرح نمک منڈی میں بھی مُختلف ڈرگ سپلائرز کے سٹورز کی چیکنگ ہوئی : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : چیکنگ کے دوران مُشتبیہ جعلی ادویات کے نمونے لیکر ڈرگ لیب کو تجزئے کیلئے ارسال کردئے گئے ہیں : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : ڈرگ کنٹرول کوہاٹ نے جعلی و ایکسپائر ادویات کی موجودگی پر دو میڈٰکل سٹورز کو سیل کردیا: ترجمان محکمہ صحت
پشاور : سوات اور باجوڑ میں بھی 14 انپسکشنز کے دوران 12 مُشتبیہ ادویات کے نمونے لئے گئے : ترجمان محکمہ صحت
پشاور : نمونے ڈرگ لیبارٹری میں تجزئے کیلئے بھیج دئے گئے ہیں : ترجمان محکمہ صحت
شمالی وزیرستان میں فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار فرمان ولد نواز خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی
شمالی وزیرستان میں فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار فرمان ولد نواز خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی اس موقع پر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے شہید کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی جنازے میں ڈپٹی کمشنر ریحان گل خٹک، ضلعی پولیس سربراہ روخانزیب خان سول حکام و دیگر پولیس افسران اور مقامی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر ریحان گل خٹک اور ڈی پی او روخانزیب خان نے قومی پرچم میں لپٹے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے اور مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی۔ واضح رہے کہ شہید پولیس کانسٹیبل آپریشن ڈیوٹی پر مامور تھا جو آج نا معلوم ملزمان کی فائرنگ سے شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوگئے۔ شہید پولیس اہلکار کے جسد خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی علاقے کو روانہ کر دیا گیا جہاں پر شہید کو پورے سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر روخانزیب خان نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس اہلکار فرمان جیسے جوان ہمارا فخر ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی و بقا کی خاطر اپنی جان قربان کردی، ہم ان جانبازوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اپنے ناپاک عزائم سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیں گے۔بعد ازاں ضلعی پولیس سربراہ نے جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا اور افسران کو ملزمان جلد از جلد ٹریس کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی۔
وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کی ڈینگی کے خلاف کام کو مثالی قرار دیتے ہوئے باقی صوبوں کو بھی ان کی طرز پر اقدامات اٹھانے کی ہدایات
وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کی ڈینگی کے خلاف کام کو مثالی قرار دیتے ہوئے باقی صوبوں کو بھی ان کی طرز پر اقدامات اٹھانے کی ہدایات دی ہیں۔ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر صحت نے ڈینگی پر قابو پانے کے لئے محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی قیادت کی موثر اور بروقت کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے صوبوں کو بھی خیبرپختونخوا کی طرز پر ڈینگی کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اجلاس میں تمام صوبائی وزرائے صحت، سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسزز اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام شریک تھے،خیبرپختونخوا سے مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور، سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شوکت علی اور محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں ڈینگی کے سب سے زیادہ 2627 کیسز رپورٹ ہوئے، اس کے بعد پنجاب میں 1961، سندھ میں 1014 اور خیبر پختونخوا میں سب سے کم 234 کیسز رپورٹ ہوئے۔ڈاکٹر ندیم جان نے اس سال ڈینگی کی روک تھام کے لیے خیبرپختونخوا کی غیر معمولی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم مثبت کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ملک بھر میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر ندیم جان نے قوم کو اس ممکنہ خطرناک بیماری سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ملاوٹ مافیا کیخلاف رات گئے پشاور میں بڑی کارروائی
چرگانو چوک مرچ منڈی میں مصالحہ جات فیکٹری پر چھاپہ، مصالحہ جات کی تیاری میں استعمال ہونے والی غیر معیاری اور مضر صحت ہزاروں کلوگرام اشیاء برآمد، دو سو کلوگرام مضر صحت مصالحہ بھی برآمد، مالکان گرفتار، قانونی کارروائی شروع
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیاکیخلاف پشاور میں کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور میں کامیاب کاروائی کی اور کارخانہ سے مصالحہ جات کی تیاری میں استعمال ہونے والی چار ہزار کلوگرام غیر معیاری اشیاء اور دو سو کلو گرام مضر صحت مصالحہ جات برآمد کئے اور مالکان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی اس حوالے فوڈ اتھارٹی حکام نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پشاور کی فوڈ سیفٹی ٹیم ٹاؤن۔4 نے خفیہ اطلاع ملنے پر رات گئے مرچ منڈی چرگانو چوک میں مصالحہ جات بنانے والی فیکٹری پر اچانک چھاپہ مارا اور انسپکشن کے دوران مصالحہ جات کی تیاری میں غیر معیاری اور مضر صحت 4 ہزار کلوگرام سے زائد میٹیریل برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا۔تفصیلات بتاتے ہوئے فوڈ حکام نے بتایا کہ کارخانے سے غیر معیاری اور مضر صحت 2 سو کلوگرام مصالحہ جات بھی پکڑی گئی اور فیکٹری میں استعمال ہونے والی مشینری کو بھی حکام نے سرکاری تحویل میں لے لیا فوڈ حکام نے مزید کہا کہ مالکان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا گیا اور انکے خلاف مزید فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیاگیا، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی شاہ رخ علی خان نے فوڈ سیفٹی ٹیم کی کامیاب کاروائی کو سراہا اور کہا کہ ملاوٹ مافیا کسی رعایت کی مستحق نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملاوٹ کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے فوڈ سیفٹی ٹیمیں دن رات صوبہ بھر میں چھاپے مار رہی ہیں۔
صوبائی نگران وزیر برائے سائنس،ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا
صوبائی نگران وزیر برائے سائنس،ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ مقابلوں کے انعقاد سے نوجوان سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا زمانہ ہے، طلبا و طالبات مُستقبل کے آئی ٹی چیلنجوں کیلئے کمربستہ رہیں، محکمہ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نوجوان سائنس دانوں کو مواقع فراہم کرتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالام روبو ٹیک2023 مُقابلوں کی اختتامی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سات ماہ پہلے میں اس یونیورسٹی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تھا، آج وزیر ہوں، اگر میں لکی مروت کے ایک گاؤں سے اُٹھ کے منسٹر بن سکتاہوں تو نوجوانو آپ ہمت کرو آپ وزیراعظم بن سکتے ہو۔
واضح رہے کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایپلائیڈ سائنسز سوات کے سمر کیمپس کالام میں جاری تین روزہ روبوٹک مُقابلے اختتام پزیر ہوگئے ہیں، ان مقابلوں میں پاکستان بھر سے21 تعلیمی اداروں کے 400 سے زائد طلباء و طالبات نے حصہ لیا،مقابلوں میں طلبہ نے اپنے پروجیکٹس کی نُمائش کی، طلبہ کے بنائے گئے روبوٹس کے درمیان مُقابلے بھی ہوئے جن کا انعقاد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات اور ڈائریکٹوریٹ جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے باہمی تعاون سے کیا گیا تھا۔
اس موقع پر محکمہ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری ذکااللہ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار حُسین، ڈائریکٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر تازہ گل خان، یونیورسٹی آف سوات کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر قاسم جان اور رجسٹرار انجینئر عبدالصبور بھی موجود تھے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر نجیب اللہ نے روبو ٹک مُقابلے جیتنے والی ٹیموں میں نقد انعامات تقسیم کئے اور پاکستان کے بڑے روبو ٹک مُقابلوں کے کامیاب انعقاد پر مُنتظمین کو داد دی۔
سیکرٹری ایس ٹی آئی ٹی ذکاء اللہ نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ روبوٹیک کالام مقابلوں کا انعقاد سوات یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایپلائیڈ سائنسز، ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،سوسائٹئی آف میکا ٹرانکس انجینئرز، نیشنل سنٹر آف روبوٹیکس اینڈ آٹومیشن اور خیبرپختونخوا سائنس ایجنڈا کی مشترکہ کاوش ہے۔ ان مقابلوں میں قبائلی اضلاع سمیت دور دراز علاقوں کے طلباء و طالبات کیلئے روبوٹکس پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ طلباء کے بنائے گئے روبوٹس سومو ریسلنگ، روبو فُٹسل، روبوٹیک آرمز، آف روڈ ریس، فلائنگ راکٹ، منی روبو وار اور پیپر پلان کے مُقابلوں میں حصہ لیا۔
سوات انجینئرنگ اینڈ ایپلائیڈ یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر قاسم جان نے اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی کا کبل کیمپس جلد فعال ہوجائے گا.
وائس چانسلر سوات یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر افتخار حُسین نے اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ پورے پاکستان کی جامعات، سکول، کالجز اور مدارس سے طلباء و طالبات نے ان مقابلوں میں شرکت کی۔ طلباء و طالبات ایسے موقعوں پر نہ صرف سیکھتے ہیں بلکہ زندگی میں آگے بڑھنے کی جُستجو بھی پاتے ہیں۔
