Home Blog Page 349

یڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تیمرگرہ حضرت بلال اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کاشف احسان نے سدو تحصیل تیمرگرہ میں چینی گوداموں میں ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی پر کارروائی

0

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تیمرگرہ حضرت بلال اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کاشف احسان نے سدو تحصیل تیمرگرہ میں چینی گوداموں میں ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے چینی کے 02 گوداموں سے مجموعی طور پر 2950چینی کی بوریاں برامد کرکے دونوں گوداموں کوسیل کر دیا گیا۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ قوانین کے تحت گوداموں کے مالکان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا۔

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعات و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل کا کلچرل کمپلیکس, نشترہال پشاور کے افتتاح

 کئی سالوں سے فنکاروں کیلئے انڈونمنٹ فنڈز رولز اسی طرح پڑے تھے، ہم نے انہے کابینہ سے منظور کرایا، کچھ ماہ تک انہیں پیسے جاری کر دیے جائیں گے۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

ہماری کوشش ہے کہ سیاحوں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جائے،بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

کلچرل کمپلیکس نشترہال میں مختلف ثقافتی پروگرام تشکیل دئیے جائینگے،

 کلچرل کمپلیکس نشترہال فنکاروں اور مختلف ایونٹ کے منتظمین کو استعمال کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا، اس سے اتھارٹی کو آمدن حاصل ہوگی۔

کلچرل کمپلیکس،نشترہال مختلف سرگرمیوں اور ثقافت کے فروغ کیلئے پیش کیا جائےگا، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

 کلچرل کمپلیکس، نشترہال میں فنکاروں اور ہنر کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے۔بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

 یہاں قومی و بین الاقوامی سطح پر سرگرمیوں کا انعقاد کرینگے۔

 ہماری کوشش ہے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں۔

 ناران اور دیگر مقامات پر پی ٹی ڈی سی موٹلز کھولے ہیں، وزیر سیاحت۔

کوشش ہے لوگوں کو تفریح کے مختلف مواقع ملیں۔

 ہم چاہتے ہیں ہنڈی اور کرپشن ختم ہو، تاکہ ملک کو مالی فائیدہ ہو۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

 بجلی چوری اور کنڈوں کی وجہ سے جو شہری بجلی کا بل دیتے ہیں انہے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل

مُشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ، ورسک روڈ بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت

مُشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ، ورسک روڈ بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی، زخمیوں کو بہترین فوری ابتدائی طبی امداد کی سہولیات مہیا کی گئیں : مشیر صحت

مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور نے کہا ہے کہ ورسک روڈ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری بہترین علاج فراہم کی گئی ہے جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ پشاور کے بھر کے ہسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور طبی عملے کی چھُٹیاں کینسل کردی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ورسک روڈ دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ہاسپٹل ڈائریکٹر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

مشیر صحت کو بتایا گیا کہ ایف سی دھماکے کے 9 زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا جن کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد ایل آر ایچ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد دے کر متعلقہ یونٹس شفٹ کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ زخمیوں میں سے چھ ایف سی اہلکار جبکہ تین عام شہری شامل ہیں جن میں سے دو ایف سی اہلکار اور ایک سویلین کی حالت تشویشناک ہے جن کو آپریشن تھیٹر شفٹ کیا گیا ہے۔

مشیر صحت کو یہ بھی بتایا گیا کہ چار ایف سی اہلکاروں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے جن کی جان بچانے میں ایل آر ایچ نے اہم کردار ادا کیا، ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، دو زخمی اسوقت داخل ہیں ایک زیرنگرانی ہے جبکہ دو زخمیوں کو علاج کے بعد ڈسچارج بھی کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ریاض انور کو یہ بھی کہا گیا کہ اسوقت ایل آر ایچ میں کل تین زخمی زیر علاج ہیں جن میں دو ایف سی اہلکار اور ایک سویلین شامل ہے ۔اس موقع پر مشیر صحت کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری طرح تیار ہے ۔

مُشیر صحت ڈاکٹرریاض انور کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ

0

پشاور : مشیر صحت نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل ورسک روڈ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی

پشاور : ہاسپٹل ڈائریکٹر کے ہمراہ زخمیوں سے ان کا حال پوچھا

پشاور : دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین علاج کی سہولت مہیا کی گئی ہے : مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور

پشاور : پشاور بھر کے ہسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے : مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور

پشاور : محکمہ صحت کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے طرح تیار ہے : مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور

پشاور : زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دُعا گو ہیں : مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور

خیبر پختونخوا کے نگران مشیر آبنوشی، منصوبہ بندی و ترقیات اور مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ

خیبر پختونخوا کے نگران مشیر آبنوشی، منصوبہ بندی و ترقیات اور مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کہا ہے کہ انجینیئرز اور ٹیکنیکل ایکسپرٹس کو کسی بھی تعمیراتی منصوبے کو کم لاگت، بہترین ڈیزائن اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کرنا چاہیئے اور محدود وسائل کے اندر عوامی مفاد کے منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا وژن ہے کہ نو تعینات انجینیئرز کو تربیت کے مواقع پر فراہم کریں گے تاکہ ان کے کام میں مزید نکھار لایا جا سکیں۔ ان حیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اکیڈمی فار رورل ڈیویلپمنٹ (پارڈ) میں پانچ روزہ تربیت حاصل کرنے والے نوتعینات ایس ڈی اوز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مشیر آبنوشی نے تربیت میں حصہ لینے والے انجینیئرز کو ہدایت کی کہ عوام کے خادم بن کر ان کی خدمت کریں انہوں نے کہا کہ اپ لوگوں کا انتخاب میرٹ پر ہوا ہے اور مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپ کی عملی زندگی کا آغاز ہوا ہے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا لیں اور کوشش کریں کہ اپنی ڈیوٹی کے ساتھ انصاف کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبنوشی میں اپ لوگوں کی شمولیت ہماری ٹیم کو مزید مضبوط اور مستحکم کرے گی اور ہمیں امید ہے کہ ہم عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

پانچ روزہ تربیت میں ایس ڈی اوز کو ٹیکنیکل سینکشنز، پروکیورمنٹ رولز، جنرل فنانشل رولز، پراونشل رولز آف بزنس، آفس مینجمنٹ، افیشل حط و کتابت، سنٹرل پبلک اکاؤنٹس رولز اور محکمہ آبنوشی کے وژن، مشن اور منصوبوں بارے لیکچرز دیے جائیں گے۔

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے دو روزہ ناران کاغان کا سرکاری دورہ

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے دو روزہ ناران کاغان کا سرکاری دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کلچر ٹورزم اتھارٹی برکت اللہ مروت اور ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی طارق خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نگران صوبائی وزیر کو کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے بریفنگ دی گئی۔
نگران صوبائی وزیر نے اپنے سرکاری دورے کے موقع پر رافٹنگ بھی کی اور سیاحوں سے بھی ملے، سیاحوں سے ان کے مسئلے دریافت کیے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ نگران صوبائی وزیر نے ناران کے سرکاری دورے کے موقع پر ناران میں صفائی مہم کا بھی اغاز کیا اور وہاں پر 2 لاکھ اشیائے خرد نوش کے بیگز بھی سیاحوں اور ہوٹلوں میں تقسیم کئے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دریائے کنہار میں 500 ٹراؤٹ کے بچے بھی پانی میں چھوڑے۔ ناران کے سرکاری دورے کے موقع پر نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے 150 بیٹھنے کے بنچز لگا کر انکا افتتاح کیا۔ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت جاری کی کہ پہلے سے موجود 8 پبلک ٹوائلٹس جو موجود ہیں ان کے علاوہ مزید اٹھ پبلک ٹوائلٹس بنائے جائیں جس سے سیاہ مستفید ہو سکیں، انہوں نے اس موقع پر 200 بنز بھی لگائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 1122 کے افس کا بھی دورہ کیا اور ان کے کام کو سراہا۔ کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے 20 ملازمین جو کہ خیموں میں رہ رہے تھے ان کی مستقل رہائش کا بندوبست کر کہ انہے وہاں رہائش پذیر کیا۔ نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کے لئے پانچ سال سے بند 18 ہٹس کو فعال بنا دیا گیا ہے اور اس سال مزید 40 ہٹس کو فال کر دیا جائے گا۔ نگران صوبائی وزیر نے ناران کاغان کے مختلف جگہوں کا دورہ کیا اور وہاں پہ سیاحوں سے ملے اور کلچر ٹورزم اتھارٹی اور کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ ناران میں پارکس بنائے جائیں، گرین بیلٹس بنائی جائیں تاکہ عوام اس سے مستفید ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین جن کی تنخواہیں ساتھ سال سے کم تھی اور نہیں بڑھائی جا رہی تھی انہیں قومی کم از کم اجرت 32 ہزار کے برار کر دی۔
بیرسٹر فروز جمال شاہ کاکا خیل نے ہوٹل اسوسییشن کے وفد سے ان کے صدر سیٹ سمیع اللہ اور جنرل سیکرٹری ہارون یاسر کی سربراہی میں ملاقات کی اور انہیں سیاحوں کے ساتھ تعاون، ہوٹلوں اور اشیاء خرد نوش کی قیمتوں میں کمی کرنے کا بھی کہا۔
نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے جیپ اسوسییشن کے وفد سے بھی ان کے صدر عباسی کی سربراہی میں ملاقات کی، ان کے مسئلے سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس موقع پر نگران صوبائی وزیر نے جیپ ایسوسییشن کے لیے ایک جیپ اڈا کا بھی افتتاح کیا۔
برسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسو لیک سے سیف الملوک لیک جو کہ اٹھ کلومیٹر پیدل راستہ ہے، شوگران سے ملاکنڈی جو کہ سات کلومیٹر پیدل راستہ ہے، شعران سے ندی بنگلہ جو 11 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، بوجاں سے نیل گلی جو کہ 17 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، سیراں ویلی سے رتی گلی جو کہ نیلم ویلی کا 23 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، اس کی مرمت کی جائے اور اس پہ صفائی کا کام بھی کروائیں تاکہ عوام کو اس پہ چلنے میں دشواری اور مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نگران صوبائی وزیر نے ان ٹریکس کا جائزہ لینے کے بعد یہ احکامات جاری کئے۔ سرکاری دورے سے واپسی پر صوبائی نگران وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ شوگراں پی ٹی ڈی سی کا دورہ بھی کیا اس موقع پر سابقہ وفاقی وزیر سید قاسم شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر ثمین جان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

نگران صوبائی وزیر برائے اطلاعت اور سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل نے دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر ثمین جان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ثمین جان کی صحافت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

چیف سیکرٹری کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ درانی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں نقل کا پلاٹ ناکام

چیف سیکرٹری کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ درانی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں نقل کا پلاٹ ناکام بنادیا، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایٹا امتیاز ایوب کے بروقت اقدامات سے نقل کیلئے بلیو ٹوتھ ڈیوائس استعمال کرنے والے درجنوں طلبہ رنگے ہاتھوں گرفتار،ان فئیر مینز میں ملوث درجنوں طلبہ گرفتار، ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت اولین ترجیح ہے، میڈیکل کالجوں میں داخلہ قابل اور ہونہار طلبہ کا حق ہے، میرٹ کی پامالی کرنے والوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایت پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی نے خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے منعقدہ انٹری ٹسٹ میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بلیو ٹوتھ ڈیوائسز کے ذریعے نقل کرنے والا گروہ بے نقاب کردیا۔ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم انیلا محفوظ دُرانی نے یہاں سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیف سیکرٹری کی جانب سے ہدایات ملیں کہ انٹری ٹیسٹ میں میرٹ کی دھجیاں اُڑانے کیلئے ایک گروہ سرگرم ہے جو کہ کانوں میں لگے خُفیہ بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحانی ہال سے پیپر آوٹ کرکے اسے حل کرینگے جس کیلئے سرگرم گروہ نے طلبہ سے لاکھوں روپے بٹور لئے ہیں۔اس حوالے سے ایٹا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز ایوب کیساتھ معلومات شئیر کی گئیں جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے امتحانی ہالوں میں انٹری کے دوران خصوصی چیکنگ کا اہتمام کیا جبکہ دوران امتحانی عملے نے اپنے موبائل فون پر بلیو ٹوتھ آن کرکے بلیو ٹوتھ ڈیوائسز کے ذریعے نقل کرنے والے طلبہ و طالبات کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز ایوب نے بتایا کہ کانوں میں خُفیہ طور پر لگائے گئے ان بلیوٹوتھ ڈیوائس کا مقصد صوبے کے مختلف ہالوں میں بیٹھے طلبہ کے ذریعے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ کرانا تھا جس کے بعد ان سوالوں کے جوابات طلبہ کو ان ہی بلیوٹوتھ ڈیوائسزکے ذریعے بتائے جاتے جس سے میرٹ کی پامالی ہوتی۔ایٹا ڈائریکٹر یاسر عمران کے مطابق اب تک صوبے کے 44 امتحانی ہالوں میں سے درجنوں طلبہ و طالبات کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر متعلقہ پولیس تھانوں کے حوالے کرکے ان کیخلاف ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق ان فئیر مینز کے تحت یہ طلبہ و طالبات مُستقبل میں ایٹا کے کسی بھی قسم کے ٹیسٹ میں بیٹھنے کے اہل نہیں جبکہ قانونی چارہ جوئی کیلئے متعلقہ پولیس سٹیشن اپنا راستہ اپنائیگی۔واضح رہے کہ اس انٹری ٹیسٹ میں صوبہ بھر سے 46 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے صوبے کیساتوں ڈویژن میں قائم 44 امتحانی ہالوں میں ٹیسٹ دیا۔

کفایت شعاری کی اعلیٰ مثال، نگران صوبائی وزیر آصف رفیق نے سرکاری مراعات واپس

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیوسٹاک اور جنگلات آصف رفیق نے کفایت شعاری کی اعلیٰ مثال قائم کر دی،نہ سرکاری گاڑی لی اور نہ ہی دیگر مراعات۔نگران صوبائی وزیر آصف رفیق نے اتوار کے روز اپنے آفس سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت ملک کئی قسم کے بحرانوں کی لپیٹ میں ہے جس سے نمٹنے کے لیے ذاتی حیثیت میں ہر شخص نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب سے نگران وزیر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا ہے تب سے کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں،نہ کوئی گاڑی لی ہے اور نہ ہی دیگر مراعات۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ذمہ داری دی ہے تو اس کو احسن طریقے سے نبھانا میرا فرض بنتا ہے،صوبائی وزیر آصف رفیق نے کہا کہ خود کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، اس سلسلے میں محکمے کے کسی بھی اہلکار کی کوئی شاہ خرچیاں برادشت نہیں کی جائیں گی اگر کسی آفیسر کے پاس الاٹ شدہ سہولت سے زیادہ سہولیات ہیں تو ان کو فوری طور پر سرنڈر کیا جائے تاکہ ان سہولیات کو محکمے کی ترقی اور کارکردگی میں اضافے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریاست بچانے کا وقت ہے جس میں تمام مکتبہ فکر کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا،خیبرپختونخوا و پاکستان میں ہی ہم نے جینا ہے اور یہاں ہی مرنا ہے تو پھر اس کی ترقی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کے بروقت کوششوں اور عوام کی بھرپور تعاون سے پچھلے سال کے نسبت اس سال ڈینگی کیسزز بہت کم رپورٹ

سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کے بروقت کوششوں اور عوام کی بھرپور تعاون سے پچھلے سال کے نسبت اس سال ڈینگی کیسزز بہت کم رپورٹ ہوئیں ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر ہم ڈینگی کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور اس کی روک تھام کے لیے مل کر بھرپور کوشش جاری رکھیں گے۔

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال ستمبر ،2022 تک پورے صوبے میں 6017 ڈینگی کے مثبت کیسزز رپورٹ ہوئی تھی، جبکہ اس سال ستمبر 2023 تک خیبرپختونخوا میں صرف 156 کیسزز رپورٹ ہوئی ہیں جو کہ محکمہ صحت کی بروقت حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ نے تفصیل سے بتایا کہ صوبے بھر میں میڈیکل اینٹومولوجسٹ ایک منظم طریقے سے ویکٹر بورن ڈیزیز خاص طور پر ڈینگی کنٹرول اور روک تھام میں تکنیکی کردار ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوری سے ستمبر تک ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 156 ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ نے محکمہ صحت کی ٹیموں کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ ایل ایچ ڈبلیوز کی جانب سے ایک ہفتے کے دوران صوبے بھر میں کل 312760 گھروں کا معائنہ کیا گیا، جبکہ ان میں سے 710 گھروں میں ڈینگی لاروا مثبت پایا گیا جس کو فوری طور پر کیمیکل ٹریٹمنٹ اور مکینیکل صفائی کے ذریعے تلف کردیا گیا۔

اسی طرح محکمہ صحت کے ٹیموں نے مختلف علاقوں میں 54292 افراد کے ساتھ ڈینگی کنٹرول اور بچاؤ کے احتیاطی پیغامات کا اشتراک کیا اور 285237 خواتین کو لیڈی ہیلتھ ورکرز سے ڈینگی سے بچاؤ اور آگاہی کے پیغامات موصول ہوئے۔

جہاں ڈینگی پازیٹو مقامات اور ڈینگی کے مثبت کیسز کی نشاندہی ہوئی تھی ان علاقوں میں مختلف مقامات پر 63 سیمینارز اور واکس کا انعقاد کیا گیا جبکہ ڈینگی سیشن کے دوران ڈینگی انفیکشن سے متعلق 19533 بروشرز تقسیم کیے گئے۔

سیکرٹری ہیلتھ نے حصوصی طور پر ڈویژنل کمشنرز، ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنرز، علماء کرام اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے اپنے لیول پر ذمداری ادا کی اور ڈینگی سے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے محکمہ صحت کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے۔

علماء کرام نے جمعے کے دن خصوصی تقاریر میں صفائی ستھرائی کے افادیت پر بات کی۔ اسی طرح سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقات کی اور ان کو ڈینگی وائرس کے خطرات، اور لاروا تلف کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔

سیکرٹری ہیلتھ نے مذید کہا کہ یہ پورہ عمل عوام کے تعاون کے بغیر ناممکن تھا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کہ ہے کہ اس کار خیر میں محکمہ صحت کا ساتھ دیں، ان کے ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ ہمارہ یہ صوبہ ان خطرناک بیماریوں سے پاک ہوسکے۔