خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت ،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ سے بدھ کے روز انکے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں کینیڈا کی معدنی شعبے میں کام کرنے والی عالمی کمپنی “ٹائیٹن کاپر” کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ صوبے کےمعدنی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفد کی سربراہی کمپنی کے چئیر مین ڈیوڈ مائیکل تھامپسن کررہے تھے جبکہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری معدنی ترقی و کان کنی حمید اللہ شاہ،ڈائریکٹر ایکسپلوریشن محکمہ معدنیات محمد عامرودیگر متعلقہ افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات کے دوران معدنی شعبے میں کام کرنے والی کینیڈا کی کمپنی نے نگران وزیر کو معدنیات کے مختلف پہلووں میں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا اور انھیں یہاں پر خیبر پختونخوا کے معدنی شعبے خصوصی طور پر تانبے کے ذخائر میں سرمایہ لگانے کی خواہش کا اظہار کیا۔وفد نے نگران وزیر سے کہا کہ انکی کمپنی خیبر پختونخوا میں تانبے کے معدنی ذخائر کی تلاش، کان کنی اوران قیمتی قدرتی وسائل کو عالمی معیارات کے مطابق محفوظ طریقے سے نکالنے میں صوبے کیساتھ سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے اور یہاں پر صوبے کے متعدد مقامات پر انکی کمپنی اس معدن میں سرمایہ کاری کیلئے خواہشمند ہے۔وفد نے ملاقات کے دوران ماربل اور گرینائٹ میں بھی کمپنی کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دیا۔اس موقع پر نگران وزیر نے کینیڈا کے سرمایہ کار وفد کا صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انھیں یقین دلایا کہ یہاں پر سرمایہ لگانے میں کینیڈا کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔نگران وزیر نے وفد سے کہا کہ ان کو خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بطور سہولیاتی ادارہ ہر مرحلے میں مدد فراہم کرے گی ۔انھوں نے کہا کہ محکمہ صنعت صوبے کے مختلف معدنی ذخائر والے علاقوں میں سرمایہ کاروں کو مقامی سطح پر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ان معدنی وسائل سے متعلق صنعتی زونز بھی قائم کررہی ہے۔اس موقع پر وفد کو معدنیات کے حوالے سے سرمایہ کاری کے متعدد مقامات اور وہاں پر پائی جانے والی قیمتی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اور انکو وہاں پر دستیاب دھاتی اور دیگر قیمتی معدنیات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
نگران معاون خصوصی کی زیرصدارت ہاؤسنگ منصوبوں کا جائزہ؛ فوری ترقیاتی کاموں کی تیزی کی ہدایت۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی کی زیر صدارت محکمہ ہاؤسنگ کی صوبے میں مختلف سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی روشن محسود، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر ودیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی کو ہاؤسنگ کے مختلف جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈھیری زرداد، بنی گل سٹی بنوں، ورسک II, سول کوارٹر سمیت دیگر ہاؤسنگ سکیموں پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ ہاؤسنگ منصوبوں کی موجودہ حیثیت اور ان سکیموں پراب تک ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی نگران معاون خصوصی کو آگاہ کیا گیا اجلاس میں ہاؤسنگ منصوبوں میں حائل رکاوٹوں اور مسائل پر بھی بحث ہوئی اس موقع پر نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی نے ہاؤسنگ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کے بہتر مفاد میں شروع کئے گئے ہاوسنگ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلیے فوری اقدامات اٹھائیں اور منصوبوں کو پایہ تکیمل تک پہنچائیں انہوں نے ہاوسنگ سکیموں کی تکمیل میں حائل مشکلات اور انکو قانونی طریقے سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پختونخوا ریڈیو صوبائی نشریاتی رابطے پر نئی جدت کے ساتھ نیوز بلیٹن اور انفوٹینمنٹ پروگرام پیش کر گا۔
ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن خیبرپختونخوا محمد عمران نے کہا ہے کہ پختونخوا ریڈیو کے دس سٹیشنوں سے صوبائی نشریاتی رابطہ پر نئی جدت کے ساتھ نیوز بلیٹن کا آغاز بہت جلد ہوگا جو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں دیکھا اور سنا جا سکے گا جبکہ اسکی بدولت خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں کی انفوٹینمنٹ ضروریات کی تکمیل بھی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2 پشاور کے ہردلعزیز پشتو ادبی و علمی پروگرام “تول پارسنگ” کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ پروگرام کے میزبان پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی اور سید یاسر علی شاہ یاسر تھے جبکہ اس موقع پر پختونخوا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر غلام حسین غازی اور ریڈیو کی پوری ٹیم موجود تھی۔ ڈی جی انفارمیشن کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات اور میڈیا کی کارکردگی کے حوالے سے بالعموم پاکستان کے عوام کی نظریں پہلے پنجاب پر مرکوز رہتی تھیں مگر اب ہمارے صوبے کے ڈی جی آئی پی آر کا حوالہ دیا جاتا ہے اور قومی فورمز پر ہماری کارکردگی کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ اسی طرح صوبے کے لیول پر بھی اس کا ایک منفرد مقام ہے۔ محمد عمران نے کہا کہ پختونخوا ریڈیو کے پروگرام براہ راست نشر ہوتے ہیں تاہم موسیقی، ڈرامہ اور مشاعروں سمیت نئی تخلیقات کی ریکارڈنگ کیلئے بہت جلد آف ایئرز سٹوڈیو فنکشنل کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی انفارمیشن نے کہا کہ ہم پشتو اکیڈمی اور جرنلزم ڈیپارٹمنٹ اور جامعات کے ساتھ بھی ایم او یوز سائن کرینگے تاکہ میڈیا اور ادب و ثقافت کا شغف رکھنے والے طلباء و طالبات صوبائی حکومت کے اس نشریاتی نیٹ ورک سے استفادہ کر سکیں۔ پختونخوا ریڈیو کے پروگراموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پروگراموں کی وجہ سے ہمارے اسلاف کو زندہ رکھا گیا چونکہ اس حوالے سے ہمارے نوجوان باخبر نہیں۔ پختونخوا ریڈیو کی نشریات کے حوالے سے محمد عمران نے کہا کہ ہماری کامیابی ہمارے سامعین ہیں اگر یہ نہ ہوں تو ہماری کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ہر دور میں سامعین نے پختونخوا ریڈیو کے ساتھ محبت کی ہے اور ہر پروگرام کو سراہا۔ پختونخوا ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر نے اس موقع پر پروگرام منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں انفوٹینمنٹ پروگراموں میں مزید جدت لائی جا رہی ہے اور ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن کا بار بار ریڈیو آنا اس حقیقت کی غماز ہے. قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن نے پروگرام کے منتظمین اور عملے میں حسن کارکردگی کی اسناد بھی تقسیم کیں۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نوشہرہ کا دورہ
خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے عوام کو خدمات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سب جیل نوشہرہ کا دورہ کیا جبکہ کاکاصاحب میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں بھی شرکت کی.جیل دورے کے موقع پر نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بیرکوں،لنگر خانے اور ڈسپنسری کے معائنے کئے اور قیدیوں سے مشکلات بارے میں بھی دریافت کیا.جیل کے انچارج آفیسر بیت اللہ نے نگران وزیر اطلاعات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں 171 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ فی الوقت 527 قیدی جیل میں موجود ہیں۔نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ نوشہرہ سب جیل میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی بڑا مسلہ ہے جس کے حل کے لیے سب جیل میں توسیع یا نئے جیل کی تعمیر سمیت مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا. انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ کو بعض ذہنی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کے فوری علاج معالجے کا بندوبست کرنے کی بھی ہدایت کی. ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نوشہرہ کے دورے کے موقع پر انہوں نے ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹروں اور مریضوں کے تیمارداروں سے ملاقاتیں کی اور مریضوں کی عیادت کی۔اس موقع پر انہوں نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور انکے معیار کا جائزہ لیا۔اس موقع پرڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ ڈاکٹر شعیب خان نے انھیں، مریضوں کو فراہم کی گئی سہولیات اور مسائل کے بارے میں بریفنگ دی. ہسپتال دورے کے موقع پر انہوں نے انتظامیہ کو عوامی شکایات پر توجہ دینے کی ہدایت کی اور دوائیوں اور علاج کے لئے دیگر سہولیات کی باہم فراہمی یقینی بنانے کے بھی احکامات جاری کئے. دریں اثناء نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کاکاصاحب میں ضلعی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں شرکت کی اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات سنیں. ڈپٹی کمشنر نوشہرہ خالد خٹک، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ایس ڈی او ضیاء الرحمن اور دیگر متعلقہ حکام اور علاقے کے عوام نے کھلی کچہری میں شرکت کی۔ کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے کاکاصاحب میں صاف پانی کی عدم فراہمی کا مسئلہ زیرِ بحث لایا گیا جس پر نگران وزیر اطلاعات نے پبلک ہیلتھ حکام کو مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی. انہوں نے کہا کہ ہر محلے کو ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور مزکورہ 11 ٹیوب ویلز میں آپریٹرز تعینات کیے جائیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پانی کے حوالے سے عوامی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور انھوں نے اس ضمن میں حکام کو پیشرفت رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
نگران وزیر نے صوبے کی منفرد پیداواری اشیاء کو تجارتی فروغ دینے کے منصوبے کا جائزہ لیا۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت منگل کے روز سول سیکریٹریٹ پشاور میں صوبے کے مقامی اور خصوصی نوعیت کی پیداواری اشیا ء کو تجارتی اعتبار سے فروغ دینے کیلئے “کاروباری و تجارتی حکمت عملی 2020” کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی منفرد خصوصی مصنوعات اورثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء کی برآمد کو فروغ دینے کیلئے مختلف تجاویز زیر غور لائی گئیں،اجلاس میں سیکریٹری صنعت وحرفت اور فنی تعلیم سید ذولفقار علی شاہ کے علاوہ ڈی جی صنعت وحرفت،بزنس منیجر خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ودیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نگران وزیر کو تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اپنائی گئی مذکورہ کامرس اینڈ ٹریڈ سٹریٹجی پر تفصیلی بریفننگ دی گئی اور انھیں اس کے مختلف پہلووں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر نگران وزیر نے ہدایت کی کہ مذکورہ حکمت عملی میں صوبے میں پائی جانے والی خصوصی نوعیت کی حامل زرعی اجناس،مقامی شہرت کی حامل اشیائے خوراک ومصنوعات کو خاص اہمیت دی جائے اور انھیں مارکیٹ میں اجاگر کیا جائے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ اضلاعی سطح پر دستیاب مصنوعات وپیداواری اشیا ء کا خاکہ(ریسورس میپنگ) کا عمل مکمل کرکے اس حوالے سے وسطی،شمالی اور جنوبی اضلاع پر مشتمل رپورٹ مرتب کرکے انھیں رپورٹ ارسال کی جائے۔ نگران وزیر نے اس موقع پر خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں مقامی تجارتی اور کاروباری مواقع کے فروغ کیلئے آسان کاروبار کے نام سے قائم ون ونڈو پورٹل کو فعال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مذکورہ پورٹل میں جن محکموں کو شامل کرنے کا عمل باقی ہے ان پر جلد از جلد کام کیا جائے۔انھوں نے اس سلسلے میں سیکریٹری صنعت کو متعلقہ محکموں سے رابطہ کرنے کا ٹاسک بھی سونپا۔ نگران وزیر نے صوبے میں مقامی سطح پر تجارتی و پیداواری اشیا کو متعارف کرنے کیلئے بڑے شہروں میں تجارتی وہنر میلہ جیسے فیسٹیولز کے انعقاد کی بھی ہیدایت کی۔انھوں نے اس موقع پر نظامت اعلیٰ صنعت وتجارت کو مختلف اضلاع میں غیر رجسٹرڈ ایوان ہائے صنعت وتجارت کی رجسٹریشن کیلئے اقدامات اٹھانے کیلئے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں رجسٹریشن سے محروم اضلاع کی نشاندھی کرکے بعد میں باقاعدہ ان کی رجسٹریشن کروائی جائے۔انھوں نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو پشاور لنڈی کوتل ریلوے ٹریک کی بحالی کے سلسلے میں وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی اور تجویز دی کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جلد از جلد بحال ہوسکے گا جو مقامی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔نگران وزیر نے جدید دور کی ضروریات سے ہم اہنگ ہونے کیلئے ٹیوٹا میں ڈیٹا مائننگ،زیتون کی پروسسنگ،پرائمراویرا اوربزنس انٹیلیجنس جیسی اہمیت کے حامل کورسس کو نصاب میں شامل کرنے کیلئے کیس نیوٹیک ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
نگران صوبائی وزیر تعلیم کی سربراہی میں نان فارمل ایجوکیشن پالیسی سے متعلق اعلی سطح اجلاس منعقد
نگران صوبائی وزیر تعلیم کی سربراہی میں نان فارمل ایجوکیشن پالیسی سے متعلق اعلی سطح اجلاس منعقد کیا گیا،تفصیلات کے مطابق غیر رسمی تعلیم تک رسائی اور سرٹیفیکیشن کے طریقہ کار کے حوالے سے محکمہ تعلیم میں اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم سید معتصم باللہ شاہ، اسپیشل سیکرٹری شریف حسین، ایجوکیشن ایڈوائزر خالد محمود، کمیونیکیشن سپیشلسٹ شیخ فخر عالم، ڈائریکٹر اے ایل پی رفیق خٹک، ڈائریکٹر گوھر علی، جائکا اور یونیسیف کے اعلی عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نگران صوبائی وزیر تعلیم کو صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری نان فارمل ایجوکیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ ڈاکٹر محمد قاسم جان نگران صوبائی وزیر برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے آؤٹ آف سکول بچوں کو واپس تعلیمی نظام میں لانے کے لیے بھرپور محنت اور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ محکمہ تعلیم کے ترقیاتی شراکت داروں کے انتہائی مشکور ہیں جو محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر صوبہ بھر کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ ہم وفاق اور دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی نان فارمل ایجوکیشن کا موثر نظام لائیں گے جس کے لیے اعلی سطح وفد تشکیل دے دیا گیا ہے جو اگلے چند دنوں میں دوسرے صوبوں کے ساتھ اپنے تعلیمی نظام کا تقابلی جائزہ لے کرسفارشات مرتب کرے گا جو منظوری کے لیے نگران صوبائی وزیر تعلیم اور پھر صوبائی کابینہ کو پیش کی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا کا نوشہرہ میں ٹرانسپورٹ اڈوں، فروٹ و سبزی منڈی کا دورہ
نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی ہدایات کے تحت صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے ٹرانسپورٹ کرایوں اور سبزی و فروٹ منڈی میں اشیاء کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کا جائزہ لینے کے لئے ضلع نوشہرہ کا دورہ کیا. نگران صوبائی وزیر نے ٹرانسپورٹ اڈوں کے دورے کے موقع پر مسافروں سے سرکاری کرایہ نامے بارے میں دریافت کیا۔انہوں نے سرکاری کرایہ نامے سے زائد کرایے وصولی پر ٹرانسپورٹرز سے اضافی رقم لے کر مسافروں کو واپس کیں. اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام کو سرکاری کرایہ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے اڈوں اور روڈ سائٹ چیکنگ سخت کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پرانتظامی آفیسرز کو ہدایات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسافروں سے زائد کرایے وصول کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے، انہوں نے صوبائی اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو کرایوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی. نگران وزیر نے انتظامی افسران کوعوامی آگاہی کے لئے کرایہ ناموں کے فلیکس تیار کرکے ٹرانسپورٹ اڈوں پر نمایاں جگہ پر نصب کرنے کی بھی ہدایات دیں. دریں اثناء نگران وزیر نے فروٹ اور سبزی منڈی کا بھی دورہ کیا اور سرکاری نرخوں پر اشیاء کی دستیابی کا جائزہ لیا. خریدو فروخت کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے تاجروں اور عوام سے نئے نرخ ناموں اور کم قیمتوں پر اشیاء کی دستیابی بارے میں دریافت کیا. اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور نگران صوبائی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے. انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کے تحت عوامی فلاح کے اقدامات اور کرپشن کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نوشہرہ خالد خٹک، اسسٹنٹ کمشنر توصیف الرحمن و دیگر انتظامی, ٹرانسپورٹ و ٹریفک پولیس حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے، خیبر پختونخوا کے نگران وزیر
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر کھیل امور نوجوانان سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ خان مروت نے کہا ہے کہ سائنس مضامین کے اساتذہ روایات سے ہٹ کر ٹیکنیکل اور تجرباتی تعلیم پر توجہ دیں تاکہ طلباء سائنس و ٹیکنالوجی میں ملک وقوم کا نام روشن کریں، تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی محنت کے بغیر طلباء کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، دور حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر طلباء کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنااورٹیکنالوجی کی موجودہ دوڑ میں سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے، ملک کے معاشی استحکام اور ترقی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ نگران صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار روٹس میلینیم سکول پشاور میں سائنس مضامین کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور لیکچرز کی دو روزہ استعداد کار بڑھانے کی تربیتی ورکشاپ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری سائنس انفارمیشن ٹیکنالوجی زکاء اللہ خٹک، ڈائریکٹر جنرل سجاد حسین شاہ سمیت سکول پرنسپل تہمینہ خالد،ورکشاپ کے شرکاء، اساتذہ اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر ڈاکٹر نجیب اللہ خان مروت نے کہا کہ درس و تدریس بہت عظیم اور اہم شعبہ ہے جو کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے لیکن اگر اساتذہ اپنے طلباء کو حقیقی اور صحیح معنوں میں تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ کر سکیں اور درس و تدریس میں مقصد کا جذبہ نہ ہو تو طلباء معاشرے کے کارآمد رکن نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس مضامین پڑھانے والے اساتذہ کہ ذمہ داری دوسرے اساتذہ کی نسبت زیادہ بنتی ہے اسلئے وہ اپنے مضامین طلبہ کو صحیح طریقے سے پڑھانے میں اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل پر خصوصی توجہ دینا نہایت اہم ہے۔ نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر نجیب اللہ مروت کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹوریٹ آف سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا بہت جلد آئی ٹی سکلز، انٹرپرینیورشپ اور دیگر کئی اہم تربیتی پروگرام شروع کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اساتذہ کو ٹیکنیکل ٹریننگ دے رہی ہے جس سے اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ طلباء کو بھی اس کے ثمرات ضرور ملیں گے۔ انہوں نے تربیتی ورکشاپ مکمل کرنے والے اساتذہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ میں سکلز سیکھنے کے بعد اپنے تعلیمی اداروں میں طلباء کو اس کے فوائد ضرور پہنچائیں تاکہ طلباء اساتذہ کے تجربات سے مستفید ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پر نگران وزیر ڈاکٹر نجیب اللہ نے تربیتی ورکشاپ مکمل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفیکیٹس اور اسناد تقسیم کیے۔اس موقع پر سکول کے پرنسپل نے نگران صوبائی وزیر کوسکول کی طرف سے یادگاری شیلڈ اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔
نگران صوبائی وزیر مذہبی و اقلیتی امور کی علماء کرام و اقلیتی برادری کے رہنماؤں کے ساتھ الگ ملاقاتیں
خیبرپختونخوا کے نگران صوبائی وزیر حج، اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ نگران حکومت معاشرے میں بھائی چارے کو فروع دے کر ملک اور صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں گی۔سماجی برائیوں کی روک تھام کیلئے مساجد و علماء کے تعاون سے بھرپور مہم چلائے جائے گی۔ دشمن ممالک پاکستان کے تشحص کو خراب کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف عمل ہیں جن کو ہم نے ملکر ناکام بنا سکتے ہیں۔امن عامہ کیلئے علماء اور اقلیتی برادری کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار علماء کرام اور اقلیتی مشاورتی کمیٹی کے اراکین سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران سیکرٹری حج، اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور ڈاکٹر اسد علی خان اور محکمے کے دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کرنے والے علماء کرام میں محمد طیب قریشی چیف حطیب خیبرپختونخوا، ڈاکٹر عبدالناصر لطیف، ڈاکٹر عطاء الرحمن،مولانا عابد شاکری، مفتی ظفرزمان سمیت تمام مکتب فکر کے علماء کرام شامل تھے۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر اسد علی خان نے صوبائی وزیر کو علماء کرام و اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود اور مدارس کے طلباء کیلئے جاری تربیتی ورکشاپس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔علماء کرام نے درپیش مسائل و چینلچزز سے نگران صوبائی وزیر اور دیگر اعلی حکام کو آگاہ کرتے ہوئے مدارس کے طلباء کیلئے تربیتی ورکشاپس کے پروگرام کو سراہا۔نیز انہوں نے قرآن بورڈ کی فعالی و بہتری کیلئے تجاویز بھی پیش کیں۔علماء کرام نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ صوبائی وزیر جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام و اقلیتی برادری کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مسائل سے باخبر رہنا اور انکا حل تلاش کرنا ہے۔معاشرے میں بھائی چارے کے فروع میں علماء کا اہم کردار ہیں۔ بعد ازیں انہوں نے اقلیتی مشاورتی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اقلیتی برادری کے جاری منصوبوں اور درپیش مسائل کے حوالے تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔مالی مشکلات کی وجہ سے کچھ منصوبے التواء کا شکار ہیں۔ جن پر جلد کام شروع ہوجائے گا۔مشکل دن ختم ہونے والے جلد خوشحالی آئی گی۔دشمن ممالک پاکستان کے تشحص کو خراب کرنے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں جس کو ہم نے ملکر ناکام بنانا ہے۔ علماء کرام و اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے صوبائی وزیر حج، اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور و سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر اسد علی خان کی کاوشوں کو سراہا۔
امریکی قونصل جنرل کا پیڈوہاؤس کا دورہ،توانائی منصوبوں پراظہاراطمینان
پشاورمیں تعینات امریکی قونصل جنرل شانتے مور نے صوبے میں حکومتی سطح پر بجلی کی پیداوارکے لئے کام کرنے والے ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) کے ہیڈ آفس پشاور کا دورہ کیا اورصوبے میں آبی وشمسی توانائی کے دستیاب قدرتی وسائل سے جاری توانائی منصوبوں پراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال کی بہتری اورماہرافرادی قوت کی فراہمی کو ناگزیرقراردیاہے۔پیڈوآفس کے دورے کے موقع پر انکے ہمراہ پولیٹیکل اینڈ اکنامک چیف ڈوسٹن ڈیگرینڈی اوراکنامک سپیشلسٹ شاہد اسلام تھے۔ چیف ایگزیکٹیو پیڈوانجینئرنعیم خان نے امریکی قونصلیٹ کے عہدیداروں کو صوبے میں پیڈوکے جاری منصوبوں کے بارے میں جامع بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیڈوصوبے میں 2ہزارمیگاواٹ بجلی کی پیداوارکے متعدد منصوبوں پر کام کررہا ہے جن میں حکومتی سطح پر771میگاواٹ،نجی شعبے کے تعاون سے800میگاواٹ اورپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت467میگاواٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ان منصوبوں میں پن بجلی اور شمسی توانائی سمیت عوام کی سماجی ترقی کے متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں توانائی کے جاری بحران پر قابوپانے اورعوام کو سستی بجلی کی فراہمی کے لئے پیڈونے آئندہ 10سالوں کے لئے بزنس اینڈ فنانشل پلان ترتیب دیاہے۔جس کے لئے ملکی وبیرونی سرمایہ کاری اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پیڈوکے بعض توانائی منصوبوں میں امریکی مالی تعاون کے لئے بعض تجاویز بھی پیش کیں جن میں نئی ٹرانسمشن لائنوں کی تعمیر،ریسورس سنٹروموبائل ورکشاپس کا قیام،پیڈوکی سولرائزیشن سمیت توانائی کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے فنانسنگ شامل تھی۔ آخرمیں امریکی قونصل جنرل کو پیڈوچیف نے ادارے کی جانب سے اعزازی شیلڈ بھی دی۔
