وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بعض مسترد شدہ سیاسی ڈرامے باز بنوں واقعہ پر سیاست کی ناکام کوشش کر رہے ہیں تاہم انتشار کی سیاست کرنے والوں کے منفی عزائم سے عوام بخوبی باخبر ہیں، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور بنوں کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے فوری بعد وزیراعلیٰ نے تمام مصروفیات چھوڑکر بنوں کے معاملات پر توجہ دی ہوئی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ بنوں میں کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور سماجی عمائدین پر مشتمل کمیٹی کے مذاکرات چل رہے ہیں،: مذاکرات کا عمل شروع ہوتے ہی بنوں میں امن بحال ہوا،سماجی عمائدین اور انتظامیہ پر مشتمل کمیٹی علاقے میں دیر پا قیام امن کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ بنوں انتظامیہ مسلسل وزیر اعلیٰ کو حالات سے آگاہ کررہی ہے اور اس حوالے سے سماجی عمائدین پر مشتمل کمیٹی کی جلد وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر قائم کمیشن بہت جلد واقعہ کے حوالے سے انکوائری رپورٹ جمع کرے گا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی سے پہلے ہی کافی متاثر ہے اب اور کسی بھی بڑے سانحے کا متحمل نہیں ہو سکتا، عوام کی جان و مال کی حفاظت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، عوام شدت پسندی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بنوں واقعے پر عوامی مشران سے ملاقات، مسلح عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
زیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بنوں واقعے کے بعد انتظامیہ کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنے پر میں بنوں کے مشران، اپنی پارٹی کے ذمہ دران اور دیگر تمام لوگوں کا مشکور ہوں، آج علاقے کے مشران نے معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ کمیٹی کل مجھ سے مل کر معاملے پر بات کرے گی۔ بنوں واقعے کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے ویڈیو بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ہم عوامی لوگ ہیں، عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیں، ہمیشہ عوام کا ساتھ دیا ہے، آئیندہ بھی عوام کا ساتھ دیتے رہیں گے ہم اس معاملے پر عوام کے تحفظات کو دور کریں گے اور ان کی توقعات پر پورا اتریں گے اور بحیثیت حکومت یہ ہماری زمہ داری اور عوام کا حق ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ہماری حکومت بننے کے بعد پہلی ایپکس کمیٹی اجلاس میں، میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کچھ مسلح لوگ سرکاری اہلکار بن کر اور اپنے اپ کو کسی سرکاری ادارے سے منسلک کرکے گھوم رہے ہیں اور سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جس پر صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام کے شدید تحفظات ہیں اور میں نے نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی۔ آج میں یہ اعلان کرتا ہوں اور پولیس کو حکم دیتا ہوں کہ ایسے مسلح عناصر جہاں کہیں پر بھی پائے جائیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے، پولیس ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور جہاں بھی ان کے ٹھکانے ہیں وہ خالی کروائے۔ سردار علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی اس لئے صوبے کے عوام سے میری اپیل ہے کہ وہ بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کریں۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور میں دہشت گردی کے خلاف میں قربانیاں دینے والوں اور ان کے خاندان والوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فوج، پولیس اور عوام کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہم سب نے مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے اور اس صوبے میں امن قائم کرنا ہے۔
سی آربی سی کے پروٹیکشن ورک کے لیے 62 ملین روپے کی منظوری، چھوٹے ڈیمز کی جلد تکمیل کے احکامات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورکی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کا ایک اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا جس میں چشمہ رائٹ بینک کینال (سی آربی سی)کو واپڈا سے صوبائی حکومت کو حوالے کرنے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سی آر بی سی( مین کینال ) کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کے سلسلے میں قابل عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔علی امین گنڈا پور نے سی آر بی سی کو سیلابوں سے محفوظ بنانے کیلئے پروٹیکشن ورک کا ٹینڈر جلد ازجلد جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سی آر بی سی کا پروٹیکشن ورک انتہائی ضروری ہے ، بلا تاخیر اس پر کام شروع کیاجائے ،صوبائی حکومت پروٹیکشن ورک کیلئے 62 ملین روپے کی منظوری دے چکی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے سی آر بی سی مین کینال کی بحالی اور بھل صفائی کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے درکار تمام فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔ اجلاس کو تکمیل کے قریب سمال ڈیمز کے حوالے سے بھی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ضلع کرک کے لتمبر ڈیم پر سو فیصد جبکہ جڑوبہ ڈیم نوشہرہ پر 96 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے ،یہ دونوں ڈیم افتتاح کیلئے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ پیزو ڈیم لکی مروت پر 91 فیصد، کوہاٹ کے خٹک بانڈہ ڈیم پر 90 فیصد ، ضمیر گل ڈیم پر 91 فیصدکام مکمل ہے جبکہ مخ بانڈہ ڈیم کرک پر 88 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے تکمیل کے قریب ڈیموں کے منصوبوں کیلئے تمام درکار فنڈز فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جو منصوبے تکمیل کے قریب ہیں انہیں فوری طور پر مکمل کیا جائے ، حکومت اس مقصد کیلئے درکار تمام وسائل ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔ صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری آبپاشی طاہر اورکزئی کے علاو¿ہ محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان بذریعہ ویڈیولنک اجلاس میں شریک ہوئے ۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سے ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے ملاقات کی ہے جس میں خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے انسداد پولیو مہمات کو مزید مؤثر انداز میں چلانے سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں انسداد پولیو مہمات کو بہتر انداز میں چلانے اور ان کے اہداف کے سو فیصد حصول کے لیے آگے کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید، سیکرٹری صحت عدیل شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے سے پولیو وائرس کا خاتمہ موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور انسداد پولیو مہمات کی وہ بذات خود نگرانی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے ایک نئے عزم کے ساتھ اقدامات کررہی ہے، پولیو وائرس کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے، یہ سیاست اور دیگر تمام وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کا معاملہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ رواں سال اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی مشکل صورتحال کے باوجود انسداد پولیو مہمات کو بھر پور انداز میں جاری رکھنے کے لئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن علاقوں میں انسداد پولیو مہمات کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں ان پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ایسے علاقوں میں انسداد پولیو مہمات کو کامیاب بنانے کے لئے معمول کے طریقہ کار سے ہٹ کر کام کرنا ہوگا جبکہ مقامی مسائل کا مقامی حل سب سے بہترین طریقہ ہے اور اس
مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے نیشنل پولیو ٹاسک فورس کے اجلاس میں تجاویز دی ہیں ان پر عمل کیا جائے تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مسائل زدہ علاقوں میں انسداد پولیو مہمات چلانے کے لئے مقامی افراد اور کمیونٹی کی خدمات حاصل کی جائیں جبکہ انسداد پولیو مہمات کے بہتر نتائج کے لئے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔جن علاقوں میں امن و امان کے مسائل درپیش ہیں وہاں ڈویژن کی سطح پر الگ الگ انسداد پولیو مہمات چلائی جائیں، جو لوگ انسداد پولیو مہم کا بائیکاٹ کرتے ہیں وہ پولیو ویکسین کے مخالف نہیں بلکہ کچھ بنیادی مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے خصوصی اقدامات: 40 ہزار سکیورٹی عملہ تعینات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا جس میں سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کےلئے مرتب کردہ پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید،انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈاپور کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ صوبہ بھر کے ڈویژنل کمشنرز، ریجنل پولیس آفیسرز ، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کے چودہ اضلاع میں محرم الحرام کی مجالس اور جلوس منعقد ہونگے جن میں سے سکیورٹی کے تناظر میں آٹھ اضلاع حساس ترین جبکہ چھ حساس قرار دیئے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے لئے کل 40 ہزار سکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے گا جبکہ صوبے میں مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کےلئے ایف سی اور پاک فوج کے خصوصی دستے بھی تعینات کئے جائیں گے۔ مزید برآں، جلوسوں اور مجالس کی مو¿ثر انداز میں مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ میں سنٹرل کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جس میں تمام قانون نافذ کرنےوالے اور سکیورٹی اداروں کے نمائندے ہمہ وقت موجود ہونگے۔ اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ حساس اضلاع/ مقامات کی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، مجالس اور جلوسوں کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاو¿ہ اسلحہ کی نمائش ، ڈبل سواری، نفرت انگیز وال چاکنگ پر پابندی عائد ہوگی جبکہ منفی پروپیگنڈہ کی روک تھام کے سلسلے میں سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کےلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اسی طرح حساس علاقوں میں موبائل سروس معطل رکھی جائے گی جبکہ محرم الحرام کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے محکمہ صحت اور ریسکیو عملے کی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنا سب سے اہم ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حساس اضلاع/ مقامات کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے لئے تمام تر درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں۔محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور منتخب عوامی نمائندوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے شدید گرمی کے پیش نظر محرم الحرام کے جلوسوں کے راستوں میں مناسب مقامات پر ٹینٹس لگانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مجالس اور جلوس والے علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے پیسکو/ ٹیسکو حکام کو آن بورڈ کیا جائے، مجالس اور جلوس والے علاقوں میں بجلی کے اضافی ٹرانسفارمرز کا بندوبست کیا جائے تاکہ کسی بھی ٹرانسفارمر کے خراب ہونے پر اسے بروقت تبدیل کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے 8، 9 اور 10 محرم کو جلوس کے راستوں پر سبیلوں کا خصوصی انتظام کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو محرم الحرام کے دوران اضلاع، ڈویژن اور صوبے کی سطح پر تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کا مو¿ثر نظام وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محرم الحرام کو پر امن طریقے سے گزارنے کےلئے تمام محکمے اور ادارے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کریں۔ وزیر اعلیٰ نے علمائے کرام اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں۔
صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ، عوامی فلاحی منصوبوں کا افتتاح
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے جمعرات کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا جہاں ہسپتال انتظامیہ سمیت آئی ڈی ایف-ایچ ایم سی کے صدر ڈاکٹر نظیف اللہ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین، میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد اکبر اور ہاسپیٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر شیرزمان اور ڈاکٹر محمد شاہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کے ہارٹ لنکس میں غریب مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ڈرگ بینک کا افتتاح کیا۔ کارڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ چیئرمین ڈاکٹر شاہ سوار نے وزیر صحت کو اقدام بارے جائزہ پیش کیا۔ اس اقدام سے نادار مریضوں کو جان بچانے والی ادویات مفت فراہم ہونگی۔ وزیر صحت نے یہاں سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوامی فلاح کے ان اقدامات سے امراض قلب کے مریضوں کی دادرسی ہوگی۔ عام آدمی تک حکومتی خدمات کی مفت فراہمی تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹر شاہ سوار نے وزیر صحت کو ایگزیکٹو ہیلتھ کلینک کے بارے میں بھی بریف کیا جو کٹنگ ایج ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے تاکہ متخصص کارڈیک دیکھ بھال کے رسائی کو بڑھایا جا سکے۔وزیر صحت کو نئی ٹیلی میڈیسن سروسز کے بارے میں بریف کیا گیا اس سے دور دراز علاقوں کے مراکز صحت میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو علاج کی بھرپور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر پختون یار خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی نگرانی میں منظور کئے گئے
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر پختون یار خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی نگرانی میں منظور کئے گئے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے عوام کے حقوق پر کسی کوڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے موجودہ صوبائی حکومت عام عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے حالات زندگی بہتر بنانے کی بھی خاص توجہ دے رہی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت کو یہ اعزا ز حاصل ہے کہ یہ ایک عوام دوست اور ملازم دوست حکومت ہے جس نے ہمیشہ غریب طبقے کے لوگوں کے مسائل کے حل پر توجہ دی ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈ اپور سے اسلام آباد خیبر پختونخوا ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر کیا صوبائی وزیر پختون یار خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خیبر پختونخوا و باالخصوص بنوں ڈویژن میں جاری ترقیاتی کاموں اور دیگر عوامی مسائل سے آگاہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بہترین کارکردگی پر داد دیتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی، صوبائی وزیر پختون یار خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو یقین دلایا کہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے کسی بھی صورت عوام کے اعتماد کوٹھیس نہیں پہچائیں گے بلاامتیاز ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ ہم نے زراعت میں ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں کیا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ ہم نے زراعت میں ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں کیا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ جس کیلیے محکمہ زراعت اور کسانوں کو یکجا ہو کر زراعت کی ترقی میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے ضم اضلاع کے کسانوں کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے دیہی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی معاونت کے منصوبے کے تحت زرعی مشینری، زمین کی ہمواری، اراضی کے تحفظ،پانی کے بچاو،مگس بانی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی کی فراہمی کیلیے ماڈل فارم سروسز سنٹر باڑہ خیبر منصوبے میں کسانوں کے انتخاب کیلیے قرعہ اندازی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر زراعت میجر(ر) سجاد بارکوال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی، اراکین صوبائی اسمبلی عبدالعنی آفریدی، سہیل آفریدی، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت محمد طاہر، ڈائریکٹر جنرل زراعت ضم اضلاع مراد علی، ڈائریکٹر سیڈ عقیل شاہ، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت ضلع خیبر ضیائالاسلام اور دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے قرعہ اندازی کے عمل کا افتتاح کیا۔انہوں نے فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے صوبے کو خوراک میں خود کفیل بنانے میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت۔کسانوں کو زرعی ماہرین کی ماہرانہ صلاحیتوں سے مستفید ہونے اور، ملکی اور گھریلو خوراکی ضروریات پورا کرنے کیلیے ان سے ہمہ وقت رابطہ میں رہنے پر زور دیا۔ میجر ریٹائرڈ سجاد نے کسانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بھر پور کوششیں کررہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری زراعت و پراجیکٹ ڈائریکٹر نے پراجیکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کا مقصد ضم اضلاع کے زمینداروں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ چونکہ ضم اضلاع میں زرعی پیداوار کے لحاظ سے کافی استعداد موجود ہے جس سے زمینداروں کی مالی حالت میں کافی بہتری لائی جاسکتی ہے۔
خاندان شریفیہ میں وزارت عظمی کی جنگ جاری ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
> نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں، مشیر اطلاعات
> پنجاب جیسا اہم صوبہ غیر سنجیدہ ٹک ٹاکر سہیلیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے
> مریم نواز کی ٹک ٹاک اور اداکاری شریف خاندان کی آخری کارکردگی ثابت ہوگی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کہتی ہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ اس لئے عوام کو بتایا جائے کہ وہ کون ہے جو آپ کو کام نہیں کرنے دے رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپ کے چچا اور ابا جی کی حکومت میں آخر یہ فریاد کیوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بہتے آنسو شریف خاندان میں اختلافات کا ثبوت ہیں۔ خاندان شریفیہ میں وزارت عظمی کی جنگ جاری ہے۔نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ نواز شریف گروپ بمقابلہ شہباز شریف گروپ آپس میں مشت و گریباں ہیں۔ شہباز شریف کی گردن اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ کے ذریعے دبائی گئی ہے۔ مریم کا ہدف بھی شہباز شریف اور اس کی حکومت ہے اور کرسی کی اس اندرونی لڑائی میں عوام رل رہی ہے۔ عوام کے مسائل کی خاندان شریفیہ کو پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم کی تمام توجہ پی ٹی ائی کی خواتین کارکنان اور عمران خان کے خلاف انتقامی کارراوئیوں پر مرکوز ہے۔ عنقریب مریم اڈیالہ جیل میں قید با مشقت کاٹ رہی ہوں گی۔ پنجاب جیسا اہم صوبہ غیر سنجیدہ ٹک ٹاکر سہیلیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مریم نواز کی ٹک ٹاک اور اداکاری شریف خاندان کی آخری کارکردگی ثابت ہوگی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے جمعرات کے روز
خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے جمعرات کے روز اپنے حجرہ مکان باغ میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور وفود کے مسائل انتہائی توجہ سے سنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کرائی اور اس ضمن میں مختلف محکموں کو ہدایات جاری کیں جبکہ بعض لوگوں کے مسائل موقع پر ہی حل کئے اس موقع پر فضل حکیم خان نے لوگوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت کیلئے ہر وقت حاضر ہوں عوام نے ہم پر جو اعتماد کا اظہار کیا ہے ہم اُن سے کئے گئے تمام وعدے نبھائیں گے عوامی خدمت میں کوئی کمی نہیں آنے دینگے عوام کی طرف سے ملنے والی بھرپور محبت کا صلہ خدمت کے عمل سے ادا کریں گے، اس موقع پر آئے ہوئے مختلف وفود نے بعض مسائل کے فوری حل اورذاتی دلچسپی لینے پر فضل حکیم خان کاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
