Home Blog Page 39

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، مصنوعی دودھ بنانے والا قومی سطح کا نیٹ ورک بے نقاب

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے مصنوعی، جعلی اور مضر صحت دودھ تیار کرنے والے ملک گیر نیٹ ورک کو بڑی کارروائی کے دوران بے نقاب کر دیا۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید کی براہِ راست نگرانی میں ڈائریکٹر آپریشنز یوسف اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبد الستار شاہ نے خصوصی فوڈ سیفٹی ٹیم کے ہمراہ رات گئے ضلع ہری پور کے حطار انڈسٹریل زون میں کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کے ضلع بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے مصنوعی دودھ میں ملوث گروہ کو فیکٹری کے اندر رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ڈی جی واصف سعید نے کاروائی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کے بعد یہ بدنام زمانہ گروہ خیبرپختونخوا منتقل ہوگیا تھا، جسے کے پی فوڈ اتھارٹی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑا۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ انٹیلیجنس بیسڈ معلومات کی بنیاد پر پہلے پنجاب میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور اب خیبرپختونخوا میں خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی نے اس مکروہ دھندے کو پکڑا۔ آپریشن کے تفصیلات بتاتے ہوئے واصف سعید نے کہا کہ چھاپے کے دوران فیکٹری سے مصنوعی دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والے بڑے پیمانے پر کیمیکلز، خام مال اور بھاری مشینری برآمد کی گئی۔ موقع سے مضر صحت دودھ سے بھرے ٹینکرز بھی پکڑے گئے۔جسے تلف کر دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ فیکٹری غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی اور مصنوعی اور مضر صحت دودھ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت مختلف بڑے شہروں کو سپلائی کیا جا رہا تھا۔ڈی جی واصف سعید نے بتایا کہ نیٹ ورک مبینہ طور پر روزانہ تقریباً ایک لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ مارکیٹ میں سپلائی کر رہا تھا، جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرناک ہے۔ کارروائی کے دوران فیکٹری سیل کرکے منیجر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تمام مشینری سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس معاملے میں غفلت برتنے پر ہری پور فوڈ اتھارٹی کی ضلعی ٹیم کو معطل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان دشمن عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور غذائی دھشتگردوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ڈی جی واصف سعید نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے وژن اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی ہدایات پر ایسے غذائی دہشت گردوں کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنائیں گے اور صوبہ بھر میں ایسے عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے ضلعی انتظامیہ ا ور پولیس کے بھرپور تعاون پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خیبر پختونخوا میں بچوں کو آنتوں (پیٹ) کے کیڑوں سے محفوظ بنانے سے متعلق سپیشل سیکرٹری صحت، خالد پرویز کی زیر صدارت ملٹی سیکٹورل سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا میں بچوں کو آنتوں (پیٹ) کے کیڑوں سے محفوظ بنانے سے متعلق سپیشل سیکرٹری صحت، خالد پرویز کی زیر صدارت ملٹی سیکٹورل سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈی وارمنگ پروگرام کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔بریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں بچوں کو آنتوں کے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری ڈی وارمنگ پروگرام کے تحت سال 2019 سے اب تک تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ بچوں کو مفت، محفوظ اور مؤثر ادویات فراہم کی جا چکی ہیں۔ اسی سلسلے کی آئندہ مہم 8 دسمبر سے 12 دسمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران صوبہ بھر میں مزید تقریباً 80 لاکھ بچوں کو پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لیے دوا پلائی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ اس مہم کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا کے 22 اضلاع میں 5 سے 14 سال کی عمر کے 80 لاکھ سے زائد بچوں کو آنتوں کے کیڑوں سے بچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ہدف میں تمام سرکاری و نجی سکولوں، پرائمری و مڈل تعلیمی اداروں اور مدارس کے بچے شامل ہوں گے، تاکہ کوئی بھی بچہ اس حفاظتی مہم سے محروم نہ رہ جائے۔مہم کی کامیابی کے لیے ہر سال 35 ہزار سے زائد اساتذہ، محکمہ صحت کا طبی عملہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر معاون عملہ کے لوگ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کو خصوصی تربیت دے کر تعلیمی اداروں میں بچوں کو دوا پلانے اور آگاہی فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ محکمہ صحت کا عملہ تکنیکی نگرانی، ادویات کی فراہمی اور مانیٹرنگ کو یقینی بناتا ہے۔حکام نے بتایا کہ آنتوں کے کیڑے بچوں کی صحت، جسمانی نشوونما، غذائیت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے یہ مہم نہایت مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ ڈی وارمنگ پروگرام کے نتیجے میں بچوں میں خون کی کمی (اینیمیا)، کمزوری اور دیگر بیماریوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔محکمہ صحت کے مطابق مہم کے دوران تمام حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور بچوں کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور مؤثر ادویات فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس میں والدین، اساتذہ، علماء کرام اور تمام طبقات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قومی فلاحی مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ صوبے کے بچے صحت مند اور محفوظ مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی کارروائی ، جعلی، مصنوعی اور مضر صحت دودھ بنانے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی کارروائی ، جعلی، مصنوعی اور مضر صحت دودھ بنانے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب

پشاور: خفیہ اطلاع ملنے پر ڈائریکٹر جنرل واصف سعید کی نگرانی میں خصوصی فوڈ سیفٹی ٹیم کا رات گئے حطار انڈسٹریل زون ضلع ہری پور میں بڑا آپریشن

پشاور: بہاولنگر، پنجاب سے تعلق رکھنے والا جعلی دودھ بنانے والا گروہ مصنوعی دودھ بناتے یونٹ رنگوں ہاتھ پکڑا گیا، ڈائریکٹر جنرل

پشاور: پنجاب میں کریک ڈاؤن کے بعد گروہ خیبرپختونخوا منتقل، کے پی فوڈ اتھارٹی کی بروقت کارروائی نے بدنام زمانہ گروہ کا ناجائز دھندہ ناکام بنا دیا، واصف سعید

پشاور: انٹیلیجنس بیسڈ معلومات کی نشان دہی پرپہلے پنجاب فوڈ اتھارٹی اور اب خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی نے اس مکروہ دھندے کو پکڑا، واصف سعید

کے مابین پر کاروائی کی گئی ، واصف سعید

پشاور: فیکٹری سے مصنوعی دودھ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور دیگر اشیاء کی بڑی مقدار برآمد، واصف سعید

پشاور: فیکٹری میں بڑے پیمانے پر بڑے مشینوں سے مصنوعی اور مضر صحت دودھ تیار کیا جا رہا تھا ، ڈی جی

پشاور: فیکٹری غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی ، واصف سعید

پشاور: مصنوعی اور مضر صحت دودھ کے بھرے ٹینکرز موقع پر پکڑے گئے، واصف سعید

پشاور: ایف آئی آر درج ،منیجر سمیت تین افراد گرفتار، ڈائریکٹر جنرل واصف سعید

پشاور: تمام استعمال ہونے والی مشینیں سرکاری تحویل میں لے لی گئیں ،ڈی جی

پشاور: مصنوعی دودھ اسلام آباد ، راولپنڈی سمیت دیگر بڑے شہروں کو سپلائی کیا جا رہا تھا، ڈائریکٹر جنرل

پشاور: نیٹ ورک مبینہ طور پر روزانہ تقریباً 1 لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ سپلائی کر رہا تھا، ڈی جی

پشاور: ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج، فیکٹری سیل، قانونی کاروائی کا آغاز، واصف سعید

پشاور: غفلت برتنے پر ہری پور فوڈ اتھارٹی ٹیم معطل کیا ہے، ڈی جی

پشاور: انسان دشمن عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، واصف سعید

پشاور: مصنوعی دودھ بنانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی، واصف سعید

وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے وژن اور پالیسی گائیڈ لائنز اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی ھدایتات کیمطابق صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کیخلاف کاروائیاں جاری ہے ، واصف سعید

Minister Excise Chairs Key Meeting on 132kV Budal Chagharzai Grid Station Project in Bunair

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, chaired an important meeting regarding the new 132kV Budal Chagharzai Grid Station project for PK-26 constituency,held at Deputy Commissioner office in Buner.
The meeting focused on the required measures and arrangements for the timely and effective implementation of the project,while, attended by Additional Deputy Commissioner General Muhammad Qaiser Kundi, Additional Deputy Commissioner Relief Muhammad Akram Shah, Project Director Grid System PESCO Peshawar Imran, PESCO Operations XEN Bunair, Assistant Director Finance Ikhlaq, WAPDA officials and other relevant department officers.
Speaking at the meeting, the Provincial Minister emphasized that the Budal Chagharzai Grid Station project, included in last year’s Annual Development Program with an estimated cost of PKR 300 million, is aimed at providing a sustainable solution to electricity supply issues in Bunair.
He further instructed that, if necessary, additional funds should be made available for the project.
The Minister directed that the PC-1 for the 132kV Budal Chagharzai Grid Station be finalized and submitted to the concerned authorities within the next three days to ensure timely project execution.
Following the Minister’s instructions, the Project Director PESCO Grid System and WAPDA officials visited the Budal site to review all technical and administrative aspects of the grid station’s establishment.

Advisor to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance, Mr. Muzzammil Aslam, has said that public procurement is a cornerstone of good governance, demanding transparency, accountability, and value for money

Advisor to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance, Mr. Muzzammil Aslam, has said that public procurement is a cornerstone of good governance, demanding transparency, accountability, and value for money. Efficient procurement, he added, ensures the effective execution of government projects, optimal use of public funds, and the delivery of quality goods and services to citizens.
He expressed these views while addressing the Advisory Group on Public Procurement Conference, organized by the Khyber Pakhtunkhwa Public Procurement Regulatory Authority (KPPRA). At the outset, Mr. Akbar Ali Khan welcomed the Chief Guest, the Managing Directors of the provincial procurement regulatory authorities and their respective teams from across the country.
Mr. Muzzammil Aslam described the Advisory Group on Public Procurement as a vital platform that fosters knowledge sharing, collaboration, and constructive dialogue aimed at improving procurement practices across Khyber Pakhtunkhwa and beyond.
Speaking on the occasion, he said the forum provides an opportunity to collectively address systemic challenges, exchange practical experiences, and chart a clear roadmap for strengthening the procurement framework in the province. “Your deliberations will play a critical role in enhancing governance, minimizing procedural gaps, and ensuring that public funds are managed with the highest level of integrity,” he remarked.

Highlighting recent reforms, the Advisor noted that Khyber Pakhtunkhwa has made significant strides in modernizing its procurement processes through the introduction of digital systems such as EPADS. These initiatives, he said, reflect the government’s commitment to transparency, efficiency, and alignment with international best practices. Despite this progress, he acknowledged that certain challenges persist, requiring targeted and professional interventions.

Concluding his address, Mr. Aslam expressed gratitude to all participants for their continued dedication to strengthening public procurement. He said he was confident that the outcomes of the conference would yield actionable recommendations and concrete steps to further enhance efficiency and accountability across the province’s procurement ecosystem.

The construction work of Imran Khan Cricket Stadium Peshawar should be completed as soon as possible. — Taj Muhammad Turand

The Advisor to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Sports and Youth Affairs, Taj Muhammad Turand, has said that the construction work of Imran Khan Cricket Stadium Peshawar should be further accelerated and the stadium should be made ready for sports activities as soon as possible. He strictly instructed that the stadium must be built according to international standards, and no compromise on the quality of work will be tolerated.
He expressed these views during his visit to Imran Khan Cricket Stadium Peshawar while speaking to the concerned officials. On this occasion, Secretary Sports & Youth Affairs Khyber Pakhtunkhwa Saadat Hassan, Director General Sports Department Tashfeen Haider, Director Development Munir Abbas, Director Works Ahmad Ali, Director Imran Khan Cricket Stadium Jaffar Shah, and other relevant officers were also present.
During the visit, the Advisor reviewed in detail the quality and pace of the developmental work at the stadium. He said that the provincial government is utilizing all available resources to provide maximum sports facilities to the youth, and for this purpose, various projects are being launched at district and tehsil levels across the province to promote healthy activities.
He added that the construction project of Imran Khan Cricket Stadium Peshawar is of great importance, and it is the foremost desire of the present government to complete it soon in accordance with the expectations of sports enthusiasts. He instructed the concerned officers to immediately bring any issues hindering the project’s completion to his notice so that the project does not face further delays.

جمہوریت کی بالادستی کے لیے پرامن سیاسی و قانونی جدوجہد جاری رہے گی، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 26 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں اپنے آئینی، قانونی اور جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ایک پرامن سیاسی احتجاج کیا تاہم بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے نہتے اور پرامن کارکنوں پر سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد کارکن شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے حیات آباد پشاور میں 26 نومبر کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد ایک بیان میں کیا۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان اس تقریب میں اپنے حلقے کے کارکنوں اور لوگوں کے ہمراہ ایک بڑے قافلے کی شکل میں شریک ہوئے. تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بھی شریک تھے۔تقریب میں پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی قیادت اور کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب پر زبردستی مسلط نام نہاد جمہوری پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کا راستہ روکنے کے لئے آئین میں ترامیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پی ٹی آئی کے پرامن اور نہتے کارکنوں پر بدترین تشدد کیا گیا اور ان پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن سیاسی اور جمہوری جماعت ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے اور قانون کے احترام کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا واحد مطالبہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی ہے کیونکہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کو محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان پر قائم تمام مقدمات سیاسی اور بے بنیاد ہیں،معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی پرامن سیاسی و قانونی جدوجہد جاری رہے گی اور عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر قائدین و کارکنان کو رہائی دلائی جائے گی۔

خیبرپختونخوا ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی2026-30 کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے زیرِ اہتمام ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-30 پر سٹیک ہولڈرز کا ایک اہم مشاورتی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیراشمس، رکنِ صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد، سربراہ ذیلی دفتر خیبر پختونخوا یو این ویمن زینب قیصر خان سمیت محکمہ اطلاعات، نادرا، لیبر، بہبودآبادی اور دیگر مختلف محکموں، اداروں اور تنظیموں کے افسران اورنمائندگان نے شرکت کی۔مشاورتی اجلاس سے اپنے خطاب میں ڈاکٹرسمیراشمس نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی پچھلی ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اس لئے خامیوں کو دور کرتے ہوئے نئی پالیسی کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق، قانون سازی، عملدرآمد، اور مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت میں بہتری کے لئے عوامی نمائندوں اور تمام اداروں کی معاونت درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر پالیسی سازی کے لئے درست اور بروقت دستاویزی کام (ڈاکومنٹیشن) پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ محکمہ سماجی بہبود کی جینڈر سپیشلسٹ سیدہ ندرت نے ویمن ایمپاورمنٹ سے متعلق اہم پیش رفت اور مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض قوانین کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر اُن پر عملدرآمد میں تاخیر رہی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 64 تا 66 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی صرف 37 فیصد ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔ورکشاپ میں مختلف قوانین اور پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا، جن میں خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019، ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کی نظرثانی و تشکیل نو، خیبر پختونخوا کلائمٹ چینج پالیسی 2022 میں جینڈر انٹیگریشن، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی جینڈر اینالسز رپورٹس (2024)، ہراسگی کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ، چائلڈ میرج کے واقعات پر مؤثر اقدام، ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کے نفاذ کے لیے فنڈنگ و دیگر اقدامات. اجلاس میں سفارش کی گئی کہ وراثتی حقوق کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے. اسی طرح موجودہ قوانین پر عملدرآمد پر توجہ دینے، شادیوں میں جہیز کے رواج کے خاتمے اور بعض روایتی مالی اخراجات کو نصاب کا حصہ بنانے پر بھی غور کیا گیا. آخر میں کے۔پی۔سی۔ وومن کمیشن کی جانب سے پریزینٹیشن میں کہا گیا کہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-30 کا جامع عملدرآمد پلان جلد مکمل کر لیا جائے گا جس سے پالیسی کا نفاذ اور نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے صحت کا اجلاس — مالی امور و آڈٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ-

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور کے رحمان بابا کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ادریس خٹک نے کی، جبکہ کمیٹی کے ممبران انور خان، عبدالسلام آفریدی، مخدوم آفتاب، سیکرٹری صحت بمع متعلقہ عملہ، ڈائریکٹر آڈٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، لا ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں مالی سال 2018-19 کے دوران محکمہ صحت سے متعلق آڈٹ اعتراضات اور مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے محکمہ صحت سے متعلق آڈٹ پیراز کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے ضروری وضاحتیں طلب کیں۔ بعض اہم آڈٹ پیراز پر کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی نے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف محکمانہ انکوائریاں اور ریکوریز کے احکامات جاری کیے، جبکہ چند معمولی نوعیت کے پیراز کو پی اے سی فورم نے سیٹل کر دیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ ورکنگ پیپرز کے ساتھ ڈی ایس سی میٹنگز کے منٹس بھی لازمی منسلک کیے جائیں تاکہ ریکارڈ کی شفافیت اور تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔صوبائی اسمبلی کے سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت مالی نظم و ضبط کے استحکام اور شفافیت کے فروغ کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاسوں کو نہایت اہمیت دیتی ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پی اے سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے محکموں کی مالی کارکردگی میں بہتری، غلطیوں کی نشاندہی اور وسائل کے موثر استعمال کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، جو اچھی حکمرانی کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے بدھ کے روز پشاور کے علاقہ بڈھنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے نہر کے دونوں اطراف جاری ترقیاتی سرگرمیوں، حفاظتی بندوں، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے مجموعی انتظامات کا بغور جائزہ لیا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے بدھ کے روز پشاور کے علاقہ بڈھنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے نہر کے دونوں اطراف جاری ترقیاتی سرگرمیوں، حفاظتی بندوں، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے مجموعی انتظامات کا بغور جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز،چیف انجینئر اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ دورہ کے موقع پر متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر آبپاشی کو ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہدایت کی کہ بڈھنی نالہ اور اس سے ملحقہ نہری گزرگاہ کے اطراف حفاظتی پشتوں کی تعمیر و مضبوطی کے عمل کے کام کے رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال میں شہریوں کی زندگیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ریاض خان نے کہا کہ بڈھنی نالہ پشاور کے مصروف ترین علاقوں میں شامل ہے جہاں معمولی تاخیر بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا صفائی ستھرائی، ملبہ ہٹانے، نکاسی آب کی بہتری اور حفاظتی پشتوں کی بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اسی موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت شہریوں کی حفاظت، مؤثر نکاسی آب، سیلابی خطرات سے بچاؤ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ویژن کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنانا لازم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ تمام کام ترجیحی بنیادوں پر اور اعلیٰ معیار کے مطابق جلد مکمل کیے جائیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت عوامی ریلیف اور شہریوں کی سلامتی کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں تمام محکمے ایک جامع حکمت عملی کے تحت ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم کا ظاہر کیا کہ بڈھنی نالہ کے اطراف جاری منصوبے جلد مکمل کر کے عوام کو ایک محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کیا جائے گا۔