خیبرپختونخوا میں فضائی آلودگی کے تدارک اور اسموگ ایکشن پلان پر ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم کے ساتھ منعقد ہوا۔ صوبائی وفد کی قیادت سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان نے کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری طلحہ حسین فیصل، ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی اور اداری برائے تحفظ ماحولیات کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران عالمی بینک ٹیم کے رکن شفیق نے ایئرشیڈ بیسڈ اپروچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی انتظامی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ شہری مراکز سے باہر پیدا ہونے والا دھواں اور ذراتی آلودگی ہواؤں کے دوش پر دور دراز علاقوں تک پہنچ کر آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں اس لیے علاقائی تعاون اور سرحد پار آلودگی کے کنٹرول کے بغیر پائیدار نتائج ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بامعنی کامیابی صرف اسی صورت حاصل کی جا سکتی ہے جب ٹرانسپورٹ، توانائی، صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومتوں سمیت تمام شعبے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگی سے کام کریں، نہ کہ الگ الگ خانوں میں محدود رہیں۔شفیق نے مزید کہا کہ“35 بائے 35”یعنی سال 2035 تک ذراتی آلودگی میں 35 فیصد کمی کا ہدف نہ صرف حقیقت پسندانہ ہے بلکہ قابلِ حصول بھی ہے، بشرطیکہ مربوط پالیسی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور عوامی شمولیت یکجا ہو جائیں۔ ان کے مطابق یہ ہدف عوامی صحت، موسمیاتی مزاحمت اور معاشی استحکام کے لیے دور رس فوائد کا حامل ہوگا، خصوصاً شہری علاقوں کی کمزور آبادیوں کے لیے۔عالمی بینک ٹیم نے سیٹلائٹ پر مبنی مانیٹرنگ کے نتائج بھی پیش کیے، جو صوبے بھر میں پی ایم 2.5 کے پھیلاؤ کی جامع اور حقیقی وقت میں تصویر فراہم کرتے ہیں۔ ان مشاہدات کے مطابق خیبرپختونخوا میں وادی? پشاور فضائی آلودگی کے شدید دباؤ کا شکار اہم ایئر بیسنز میں شامل ہے، جہاں باریک ذرات کی بلند سطح انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔یہ مباحثہ پاکستان کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی (2025–2035) سے ہم آہنگ رہا، جس میں موسمیاتی مزاحمت، پائیدار شہری ترقی اور ماحولیاتی حکمرانی کو ترجیح دی گئی ہے۔ طے شدہ Outcome #4 کے تحت گریٹر پشاور–حیات آباد–فرنٹیئر (GP-HF) کوریڈور میں مشترکہ آلودگی کے ذرائع کے تدارک، بڑے اخراجی عوامل کی نشاندہی اور یکساں کنٹرول اقدامات نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں صاف ایندھن کا فروغ، گاڑیوں کے اخراجی معیارات،صنعتی ضابطہ بندی اور بہتر ویسٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق ہوا کہ فضائی معیار کے بہتر ضوابط کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تین اسٹریٹجک محاذوں پر کام کیا جائے گا: نفاذی نظام کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، اور جدید مانیٹرنگ انفراسٹرکچر کی تنصیب خیبرپختونخوا اسموگ ایکشن پلان کی معاونت کے لیے عالمی بینک پی ایم 2.5 کی سطح میں کمی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا، جس میں ریگولیٹری اصلاحات، شعبہ جاتی تدارکی اقدامات، ادارہ جاتی استعداد سازی، عوامی آگاہی مہمات اور اسٹریٹجک شراکت داری شامل ہیں۔ یہ اقدامات پانچ اسٹیک ہولڈر مشاورتی سیشنز اور ایک ابتدائی گیپ اینالیسس رپورٹ کی روشنی میں ترتیب دیے گئے ہیں، جن میں حکمرانی، ہم آہنگی اور تکنیکی صلاحیت سے متعلق بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔حکمرانی کے تناظر میں شفیق نے ادارہ جاتی رابطے کے فقدان، حقیقی وقت کی مانیٹرنگ کی محدود سہولتوں اور جامع ایمیشن انوینٹری کی عدم موجودگی جیسے چیلنجز کی نشاندہی کی، جو شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کی جدید کاری، صنعتی ضابطہ بندی اور شہری فضائی معیار کے اصلاحاتی اقدامات میں جاری پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم ان کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنید خان نے حکومتِ خیبرپختونخوا کے ماحولیاتی تحفظ اور صاف ہوا کے ایجنڈے سے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی بینک ٹیم کو مکمل ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے سپیشل سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ فوکل پرسن نامزد کیا تاکہ رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی سی ون کی تیاری شفافیت، تکنیکی معیار اور طویل المدتی پائیداری کے اصولوں کے تحت کی جائے گی، بالخصوص ضلع پشاور میں فضائی معیار کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ فضائی آلودگی صوبے کو درپیش سب سے بڑے ماحولیاتی اور عوامی صحت کے چیلنجز میں شامل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے ساتھ مل کر اس قومی ذمہ داری کی تکمیل کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کیونکہ صاف ہوا محض ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عہد کے ساتھ ہوا کہ پالیسی مکالمے کو عملی اقدام میں ڈھالا جائے گا — خاکوں کو سانس لینے کے قابل فضاؤں میں بدلتے ہوئے، خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ڈیڑھ کروڑ روپے میں“وزیر ون (Wazir-1)”نمبر پلیٹ خریدنے والے حاجی رحمان کی ڈی جی ایکسائز سے خصوصی ملاقات
محکمہ ایکسائزو ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے 27 جنوری 2026 کو منعقدہ“من پسند نمبر پلیٹس”کی نیلامی میں ریکارڈ ساز قیمت ڈیڑھ کروڑ (1.5کروڑ) روپے میں منفرد نمبر پلیٹ“وزیر۔ ون (Wazir-1)”خریدنے والے شہری حاجی رحمان وزیر نے پشاور کا دورہ کرکے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔واضح رہے کہ حاجی رحمان کا تعلق بنوں (ڈومیل، احمدزئی) کے علاقے سے ہیں جو دبئی کے ایک معروف بزنس مین ہیں اور وہاں پر متعدد کاروباری اداروں کے مالک ہیں۔ ملاقات کے موقع پر ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے حاجی رحمان وزیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ“وزیر۔ ون”نمبر پلیٹ کا اس قدر بڑی مالیت میں حصول اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محکمہ ایکسائز کے شفاف، قواعد و ضوابط کے مطابق اور ڈیجیٹل نیلامی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ شہریوں کو من پسند نمبر پلیٹس کے حصول کے لیے ایسا نظام فراہم کیا جائے جو مکمل طور پر شفاف، آسان اور قابلِ اعتماد ہو۔انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات ہیں کہ عوام کی خدمت میں کوئی کثر باقی نہ رہے اور انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ کی یہ ریکارڈ نیلامی شہریوں کے اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ڈی جی ایکسائز نے مزید کہا کہ یہ نیلامیاں نہ صرف خزانے میں ریونیو اضافہ کا مؤثر ذریعہ ہیں بلکہ گاڑیوں کے شوقین افراد کو قانونی، باقاعدہ اور محفوظ طریقے سے اپنی پسند کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے‘من پسند نمبر پلیٹس’کی نیلامی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رہے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور شفافیت کا یہ نظام مزید مضبوط ہو۔اس موقع پر حاجی رحمان نے“وزیر ون”نمبر کے حصول پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئیوزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس سید فخرجہان کی ایکسائز کے شعبے کی ترقی اور اس کے ذریعے صوبے کے عوام کیلئے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا اور محکمہ محکمہ ایکسائز کے تعاون، نیلامی کے منظم طریقہ کار اور عملے کے پروفیشنل رویے کو بھی احسن قرار دیا۔حاجی رحمان وزیر نے کہا کہ من پسند نمبر پلیٹس نیلامی کے پورے عمل میں شفافیت اور محکمہ کا تعاون قابلِ تعریف ہے۔ملاقات کے اختتام پر ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے حاجی رحمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ شہری اسی طرح محکمہ کے قانونی و شفاف نظام میں بھرپور حصہ لیتے رہیں گے۔
صوبائی وزیرِ صحت نے سال 2026 کی پہلی انسدادپولیو مہم کا افتتاح کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے جمعہ کے روزپولیس سروسز ہسپتال پشاور میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر سال 2026 کی پہلی چار روزہ انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ مہم کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں 65 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں 35 ہزار سے زائد پولیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو مہم کو مؤثر، مضبوط اور کامیاب بنانے کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 20 کیسز کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ سال 2026 میں اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور حکومت کا حتمی ہدف زیرو پولیو کیسز کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں سخت موسم، برف باری اور امن و امان کی صورتحال جیسے چیلنجز درپیش ہیں، تاہم محکمہ صحت نے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایک جامع حکمتِ عملی اور فریم ورک ترتیب دیا ہے تاکہ دور دراز اور مشکل علاقوں تک رسائی حاصل کر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کاوشیں اور جدید طریقہ کار ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کے تحفظ اور مہم کی کامیابی کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ معاشرے کے مختلف طبقات میں آگاہی مہمات شروع کی گئی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں نوجوانوں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ علماء کرام، اساتذہ اور معززینِ علاقہ کو اعتماد میں لے کر عوام میں پولیو سے متعلق مثبت پیغام عام کیا جا رہا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور منفی سماجی رویّوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی تعاون اور مسلسل کوششوں سے پاکستان اور خیبر پختونخوا کو جلد پولیو فری بنایا جائے گا اور آنے والی نسلوں کو اس عمر بھر کے مرض سے محفوظ کیا جائے گا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے جمعہ کے روز پشاور میں یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر پشاور اور ماہر تعلیم سید فواد علی شاہ نے ملاقات کی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے جمعہ کے روز پشاور میں یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر پشاور اور ماہر تعلیم سید فواد علی شاہ نے ملاقات کی۔ دو رکنی وفد نے صوبائی وزیر کو شعبہ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے یونیسف کی جانب سے مکمل تعاون کی یقینی دہانی کرائی اور کہا کہ نئی داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے آؤٹ آف سکول چلڈرن کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی خاطر موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس کے لئے صوبے میں آؤٹ آف سکول چلڈرن کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے ساتھ بچوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی تاکہ بچے حصول تعلیم سے محروم نہ رہیں۔وفد نے یونیسف کی جانب سے سکولوں کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم د لانے میں بھی تعاون کی یقینی دہانی کرائی اور صوبے کے سکولوں کو سولر ائزیشن پر منتقل کرنے اور عمارات کی مرمت سمیت ان میں بہتر انفراسٹرکچر مہیا کرنے پر رضامندی کا بھی اظہار کیا۔وفد سے بات چیت کے دوران صوبائی وزیر نے یونیسف کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں میں تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا شعبہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے میں تعلیم کی ترقی کے بہتر فروغ میں حصہ لینے والی تمام تنظیموں کو حکومت قدر کی نگا ہ سے دیکھتی ہے۔
Federal and Punjab Government Misled Nation on Imran Khan’s Health; Truth Now Exposed :CM’s aide Shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that the provincial government and Pakistan Tehreek-e-Insaf have consistently expressed serious concerns regarding the health of the party’s founding chairman, Imran Khan. However, he said, the “fake federal government” continued to issue false statements about his health in an attempt to mislead the public.
In a statement issued here, Shafi Jan said the federal government secretly shifted the founding chairman, Imran Khan, to PIMS Hospital, adding that the recent admission by Federal Minister Atta Tarar is, in fact, a charge sheet against the federal government itself, exposing all its lies.
He said that despite serious concerns about Imran Khan’s health, access to his personal physician is being denied, which is a blatant violation of fundamental human rights. He added that although the founding chairman was moved to a hospital, his family members and lawyers were deliberately kept uninformed, which is evidence of criminal negligence on the part of the federal and Punjab governments and the jail administration, and is strongly condemned.
The Special Assistant made it clear that if the “fake federal government” does not immediately allow access to Imran Khan’s personal physician, Pakistan Tehreek-e-Insaf will decide a tough course of action. He said the federal government has trampled the Constitution and the law, while clear court orders regarding meetings with Imran Khan have also been blatantly ignored.
Shafi Jan said that the insensitivity shown by the federal government in the matter of a former prime minister and a popular national leader is extremely unfortunate. He added that the corrupt clique forcibly imposed at the federal and Punjab levels should not be blinded by political revenge.
He further stated that Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, came to Adiala Jail on Thursday to meet the founding chairman, Imran Khan, but was not allowed to do so. He said that illegal restrictions have been imposed on meetings with Imran Khan, which constitute a clear violation of court orders, the Constitution, democratic values, and fundamental human rights.
Shafi Jan added that this is the fear of Imran Khan and CM Sohail Afridi ,that whenever they come to Adiala, a curfew-like situation is imposed.
He said they will not leave until Imran Khan is allowed to meet his personal physician, and that Chief Minister Sohail Afridi, along with members of the National and Provincial Assemblies and senators of the party, will remain peacefully present outside Adiala Jail.
He further stated that despite keeping Imran Khan imprisoned in false cases, the corrupt clique remains fearful of his public popularity. He added that Imran Khan’s politics revolves around public welfare, strengthening democracy, and economic sovereignty, whereas the current federal government is entirely focused on political revenge instead of providing relief to the people.
Criticising the Punjab government, Shafi Jan said the health sector in Punjab has reached the brink of collapse, and that the report of the Chief Minister’s Inspection Team itself stands as a clear charge sheet against the Punjab government.
خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی مؤثر اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے
خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی مؤثر اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے جس کے تحت وویمن کمیشن نے صوبے کے 26 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کمیٹیز آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے نوٹیفکیشن جاری کر دئے ہیں، جو خواتین کی قیادت اور نمائندگی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وومن کمیشن کا قانون 2010 میں منظور ہوا تھا اور طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ ضلعی سطح پر اس پر عملدرآمد ممکن بنانے کے لئے ضلعی سطح پر اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کمیٹیوں کے قیام سے خواتین کے مسائل کی نگرانی، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت حل کے لیے ایک ضلعی سطح پر نظام قائم ہوگا۔ ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ یہ تمام اقدامات صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق طے کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار دینا ہے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور خواتین کمیشن کی پوری ٹیم کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا، جنہوں نے اس پورے عمل میں انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اہم اقدام کو ممکن بنایا۔
صوبائی ٹاسک فورس کا فروری پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ
پولیو کے خاتمے سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمٰن اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی مشترکہ صدارت میں جمعرات کے روز چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے اراکین، محکمہ صحت، قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اور عالمی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنرز، آر پی اوز، ڈی پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں دو سے پانچ فروری 2026 تک صوبے کے تمام اضلاع میں ہونے والی قومی پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے صوبے بھر میں 35 ہزار 500 پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فروری 2026 کی مہم کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں ٹیموں کی تربیت، مائیکرو پلاننگ اور آپریشنل تیاری شامل ہے۔ سات برف باری سے متاثرہ اضلاع میں 38 مکمل اور 25 جزوی یونین کونسلز کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں موسم بہتر ہوتے ہی مکمل کوریج یقینی بنائی جائے گی۔صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں مہم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان علاقوں تک بھی رسائی ممکن ہوئی جہاں پہلے مشکلات تھیں، جس کے نتیجے میں پولیو سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیو فری خیبرپختونخوا کے لئے پرعزم ہے اور مربوط فیلڈ آپریشنز اور عوامی تعاون اس حکمت عملی کا بنیادی حصہ رہیں گے۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے زور دیا کہ معمولی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر مائیکرو پلاننگ اور فرنٹ لائن ورکرز کے لئے مستحکم اقدامات ضروری ہیں اور اس ضمن میں حکام اقدامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 27 جنوری 2026 تک 71 فیصد آبادی میں عمومی ویکسینیشن مکمل کی جا چکی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت ان علاقوں میں روٹین امیونائزیشن کی توسیع کو ظاہر کرتی ہے جہاں پہلے خدمات محدود تھیں۔ اس کے علاوہ بی سی جی، پینٹا، ایم آر اور او پی وی ویکسین کی کوریج میں بہتری سے واضح ہے کہ پولیو مہم مجموعی صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، آزادانہ بعد از مہم جائزہ اور سخت ڈیٹا تصدیقی طریقہ کار کے استعمال سے ویکسینیشن کوریج میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے بہتر نتائج آنا شروع ہوئے ہیں۔
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف کمشنر محمد علی شہزادہ نے کی۔اجلاس میں کمشنر ذاکر حسین، ڈائریکٹر جنرل کے پی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان، ڈپٹی ڈائریکٹر شاکر اللہ اور کمیشن کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کا جائزہ لینا اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عاکف خان نے کمیشن کو پانچ سو سے زائد عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں اب تک ہونے والی پیش رفت، تکنیکی نظام اور مختلف محکموں کے درمیان ربط پر روشنی ڈالی گئی۔چیف کمشنر محمد علی شہزادہ نے کے پی آئی ٹی بورڈ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن شفافیت، بروقت خدمات کی فراہمی اور انسانی مداخلت میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں تاکہ شہریوں کو سہل، تیز اور مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور شہریوں کی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
خیبرپختونخوا حکومت کا پائیدار جنگلاتی نظم و نسق کے عزم کا اعادہ
سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیر صدارت جنگلاتی نظم و نسق اور پائیدار فارسٹ مینجمنٹ سے متعلق پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد حکومت اور جنگلاتی مالکان کے درمیان براہِ راست مکالمہ، مسائل کا فوری حل اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا تھا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون احمد جلیل، ریجن ٹو شوکت فیاض، ریجن تھری اصغر خان، متعلقہ کنزرویٹرز آف فاریسٹ کے علاوہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی مالکان کے نمائندگان سمیت مقامی سطح پر درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ضلع بٹگرام سے رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان اور چترال ارندو سے معروف سماجی شخصیت شیر زمین نے بھی شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران جنگلاتی مالکان نے مختلف علاقوں میں مانیٹرنگ، مارکنگ، ووڈلاٹس اور ورکنگ پلانز کی مدت پوری ہونے یا تکمیل کے قریب ہونے، نیز انتظامی رکاوٹوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنگلات جنید خان نے عمائدین کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام معاملات میں قانون کی پاسداری، شفافیت اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کا مقصد احتساب کے ساتھ اصلاحِ احوال اور نظام کی بہتری ہے، نہ کہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں میں وقت اور وسائل ضائع کرنا۔سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ 1992ء میں سائنسی بنیادوں پر جنگلاتی کٹائی پر عائد پابندی کے باعث صوبے کے جنگلاتی انتظام اور مالی استحکام کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ محکمہ جنگلات یکطرفہ فیصلے کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری سے لے کر نگرانی کے لیے نہگبانوں کی تعیناتی، گھریلو ضروریات کی فراہمی اور ورکنگ پلان کے تحت تجارتی کٹائی تک ہر مرحلے میں مقامی آبادی کو شریکِ کار بنایا جاتا ہے، کیونکہ پائیدار ترقی عوامی شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ 24 جون 2024ء کو عائد کی گئی عارضی پابندی کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض بے ضابطگیوں کی شکایات کے پیش نظر اصلاحی نگرانی کے لیے لگائی گئی تھی، جسے 12 نومبر 2024ء کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مقررہ قوانین و ضوابط کے تحت دوبارہ کٹائی اور ترسیل کا عمل بحال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی فارسٹ مینجمنٹ جنگلات کے پائیدار تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے، جو فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 35 کے تحت مضبوط قانونی بنیاد رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو جلد تفصیلی بریفنگ دی جائے گی تاکہ پالیسی سطح پر مزید رہنمائی حاصل کی جا سکے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نادرن فاریسٹ ریجن ٹو میں موجود 24 ورکنگ پلانز میں سے 13 منظور شدہ اور فعال ہیں، 9 منظوری کے مرحلے میں جبکہ 2 تیاری کے مراحل میں ہیں۔ سال 2015ء سے اب تک ایک کروڑ 17 لاکھ 22 ہزار مکعب فٹ لکڑی کی مارکنگ مکمل کی جا چکی ہے۔ بعض کمپارٹمنٹس میں تاخیر کی وجوہات میں عدالتی مقدمات اور مقامی سطح پر تنازعات شامل ہیں۔سیکرٹری جنید خان نے ہدایت کی کہ میعاد پوری کرنے والے ورکنگ پلانز کی فوری نظرثانی کی جائے اور اس مقصد کے لیے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کو درکار فنڈز مہیا کیے جائیں۔ مزید برآں، جن ورکنگ پلانز کی مدت ختم ہو چکی ہے یا تکمیل کے قریب ہے، ان میں توسیع کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تاکہ جنگلاتی مالکان کو بروقت سہولت اور اعتماد فراہم کیا جا سکے۔خشک کھڑے اور آندھی سے گرے ہوئے درختوں کی ترسیل سے متعلق بتایا گیا کہ یہ عمل منظور شدہ ورکنگ پلانز کے تحت جاری ہے۔ گزارہ جنگلات کے لیے خصوصی طریقہ کار پہلے ہی مرتب کیا جا چکا ہے، جبکہ کوہستان کے جنگلات سے متعلق معاملہ صوبائی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر چترال ارندو گول سے تعلق رکھنے والے شیر زمین نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ بیس برسوں سے قیمتی درخت جنگلات میں گل سڑ رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگ انہیں قدرتی آفات اور سرحد پار سمگلنگ سے بچانے کے لیے دن رات نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ اس پر سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ ارندو گول کا معاملہ صوبائی حکومت کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے اور اسے جلد صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔سیکرٹری جنگلات نے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کے کردار کو موجودہ حالات میں نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ جنگلاتی منصوبہ بندی اور نگرانی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جسے انسانی وسائل اور مالی معاونت کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ جنگلاتی ریکارڈ اور نقشہ جات میں تضادات کے ازالے کے لیے فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ایک جامع پی سی ون تیار کیا جا چکا ہے جبکہ ڈیجیٹائزیشن اور جیو ریفرنسنگ منصوبہ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس سے شفافیت اور جدید نظم و نسق کو فروغ ملے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 36 اور 44 کے تحت جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی ممنوع ہے۔ تاہم نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس کے پائیدار انتظام کے لیے مقامی برادری کو محکمہ جنگلات اور جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ کمیٹیز کے اشتراک سے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایکو ٹورزم رولز اور کان کنی کے لیے ایس او پیز تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ یہ ادارہ ماضی میں سائنسی بنیادوں پر کٹائی اور آمدن کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ طویل المدتی پالیسی پابندیوں کے باعث ادارے کو چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ستمبر 2023ء میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کے ذریعے تیسری پارٹی کارکردگی جائزہ رپورٹ تیار کی گئی، جسے متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا اور اس میں مقامی برادری کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر سیکرٹری جنید خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مانیٹرنگ شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کا بنیادی ستون ہے اور اس کے نتیجے میں اصلاحی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت، جنگلاتی مالکان اور مقامی آبادی کے باہمی اشتراک کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ ہماری آب و ہوا کے محافظ، حیاتیاتی تنوع کے امین اور قومی ورثے کے نگہبان ہیں اوران کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو کونسل کے وفد کی ملاقات
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک وفد نے صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی کی قیادت میں ملاقات کی اور صوبے میں شعبہ صحت کو درپیش اہم چیلنجز، ہیلتھ کیئر ورک فورس کے مسائل اور طبی انفراسٹرکچر سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرمیں انصاف ڈاکٹرز فورم کے مرکزی صدر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مدیر خان وزیر، مرکزی و صوبائی قیادت کے اراکین، پیرا میڈیکس، فزیوتھراپسٹس اور اسٹوڈنٹس ونگ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔وفد کی جانب سے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے وظائف میں اضافے سے متعلق محکمہ خزانہ میں گزشتہ پانچ ماہ سے زیر التواء سمری کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی تعداد میں میڈیکل گریجویٹس کو ایڈجسٹ کرنے اور ہسپتالوں میں سروس ڈیلیوری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 500 ہاؤس آفیسرز اور 500 ٹرینی میڈیکل آفیسرز کی نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز پیش کی گئی۔اجلاس میں آئندہ صوبائی بجٹ میں ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، تاکہ افرادی قوت کو برقرار رکھا جا سکے، ان کی حوصلہ افزائی ہو اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔وفد نے شہید ڈاکٹر وردہ مشتاق کے لیے شہداء پیکیج کی جلد حتمی منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجراء کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے اداروں میں انتظامی خلا کو پُر کرنے کے لیے KPPSC کے ذریعے مینجمنٹ کیڈر کی نشستوں پر ایک مرتبہ کی خصوصی رعایت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں دور دراز علاقوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئرسٹاف کے لیے رہائشی عمارات کی تعمیر، موجودہ رہائشی سہولیات میں توسیع، اور ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر و بحالی پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ہیومن ریسورس کی مضبوطی سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے 1000 میڈیکل آفیسرز اور 1000 ڈینٹل سرجن کی اسامیوں کی تخلیق، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں FCPS/MCPS ٹریننگ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن، اور ریپڈ ریسپانس ٹیم (RRT) کی زیر التواء ادائیگیوں کی فوری کلیئرنس کے مطالبات بھی سامنے آئے۔اس کے علاوہ ایڈز کنٹرول پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، SRSPDP، کنٹریکٹ میڈیکل آفیسرز، EPI ویکسینیٹرز اور IMU سٹاف کے ملازمین کی ریگولرائزیشن پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز صوبے کے صحت کے نظام کی بنیاد ہیں، اور حکومت ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام قابلِ عمل امور پر متعلقہ فورمز پر بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے انصاف ڈاکٹرز فورم کے مثبت، تعمیری اور اصلاحاتی کردار کو سراہا اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل مشاورت کے عزم کا اعادہ کیا۔
