صوبائی وزیر برائے محنت خیبر پختونخوا، فیصل خان ترکئی نے لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں مزدوروں کو درپیش مسائل، فلاح و بہبود اور صنعتی شعبے میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے مزدوروں کو درپیش مختلف مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا، جن میں تنخواہوں، سوشل سیکیورٹی، کام کے محفوظ ماحول اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق امور شامل تھے۔ صوبائی وزیر نے تمام مسائل کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت مزدور طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
فیصل خان ترکئی نے اس موقع پر کہا کہ مزدور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔صوبائی وزیر نے مہمند ڈیم اور سکی کناری منصوبوں سے متعلق مزدوروں کے مسائل کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان منصوبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جلد از جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی اس سلسلے کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ مزدور طبقہ باعزت اور محفوظ ماحول میں کام کر سکے۔ملاقات کے اختتام پر لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی لیبر ایسوسی ایشن سے ملاقات، مزدوروں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری فلڈ پروٹیکشن والز (حفاظتی پشتوں) کی تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری فلڈ پروٹیکشن والز (حفاظتی پشتوں) کی تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے اور انہیں آئندہ مون سون بارشوں سے قبل ہر صورت مکمل کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے یہ ہدایات ضلع بونیر کے مختلف علاقوں بشمول قدر نگر، بٹئی اور دیگر متاثرہ مقامات کے تفصیلی دورے کے موقع پر جاری کیں۔ صوبائی وزیر نے دورے کے دوران فلڈ پروٹیکشن والز پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود متعلقہ حکام سے منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی لی۔اس موقع پر ریاض خان نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کی رفتار اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مون سون بارشوں سے قبل مقامی آبادی کا تحفظ یقینی بنانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور کام کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ منصوبے بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں محکمہ آبپاشی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم کا میٹرک امتحانات کے مراکز کے دوروں کا سلسلہ جاری ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ہری پور کے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا اس موقع پر ریز یڈنٹ انسپکٹر بھی ان کے ہمراہ تھے صوبائی وزیر نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول محسن مرتضیٰ شہید (ریحانہ)، گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور، اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سنٹرل جیل ہری پور مراکزمیں جاری میٹرک کے امتحانات کا جائزہ لیا دورے کے دوران صوبائی وزیر نے امتحانی عمل کی شفافیت، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات، سیکیورٹی انتظامات اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ امتحانات کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ طلبہ کو پرامن اور سازگار ماحول کی فراہمی کوبھی اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے امتحانی عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں، اور واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو ان کی محنت کا صحیح اور منصفانہ صلہ مل سکے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا ایک انقلابی قدم
تحریر: انجینئر اطہر
خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اقلیتی برادری کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے انڈومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اجلاس محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ ریاست کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کے ادراک کا ایک عملی مظہر ہے۔
پشاور کے آل سینٹس چرچ کوہاٹی گیٹ کے المناک سانحے کو ایک دہائی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ ان خاندانوں کی آنکھوں میں انصاف اور امداد کی جو آس تھی، اسے وزیراعلیٰ کے حالیہ فیصلے نے ایک نئی زندگی بخشی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے، بلکہ ریاست کے اس پختہ عزم کا اظہار بھی ہے کہ اقلیتی برادری کا تحفظ ہماری اولین آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اس تاریخی فیصلے کے تحت انڈومنٹ فنڈ کی سیڈ منی کو 200 ملین روپے سے بڑھا کر 400 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ فنڈز میں یہ سو فیصد اضافہ اس بات کی ضمانت ہے کہ وسائل کی کمی اب کسی متاثرہ خاندان کی امداد میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ رواں ہفتے ہی متاثرین میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کر دیے جائیں تاکہ ان کا طویل انتظار ختم ہو سکے۔
حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی رقوم میں جو اضافہ کیا ہے وہ بلا شبہ بے مثال ہے:
بیواؤں کے لیے: امداد 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
یتیم بچوں کے لیے: رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
معذور افراد کے لیے: امداد 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
زخمیوں کے لیے: مقررہ رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
مالی امداد کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی دور رس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ محکمہ اوقاف میں اقلیتی برادری کے لیے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، تاکہ ان کے مسائل ایک ہی چھت تلے فوری حل ہو سکیں۔
ان اقدامات کا سب سے اہم پہلو معاشرتی اثرات ہیں۔ جب ریاست اپنے ہر شہری کو بلا امتیازِ مذہب و ملت تحفظ کا احساس دلاتی ہے، تو اس سے معاشرے میں پھیلی نفرتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ایسے مخلصانہ اقدامات سے شہریوں کے درمیان آپس میں محبتیں اور یگانگت پروان چڑھتی ہے، جو ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ جب ایک مظلوم کو انصاف اور حق ملتا ہے، تو ملک میں امن و سکون کی فضا مستحکم ہوتی ہے، اور یہی وہ امن ہے جو کسی بھی ملک کے لیے ترقی کے دروازے کھول دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہر شہری کو برابر کے حقوق اور مواقع فراہم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے کوشاں ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی برادری کا خون اور پسینہ شامل ہے، اور آج ریاست نے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ یہ تمام اقدامات معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔
Reform agenda: what to expect?
On March 26, Chief Minister Muhammad Sohail Afridi launched the Good Governance Roadmap 2.0, marking a significant expansion of the province’s reform agenda.
The updated roadmap brings 10 additional departments under its ambit and introduces 88 new reform initiatives, raising the total number of interventions from 362 to 450.
Addressing the launch ceremony, the chief minister said the roadmap was being monitored at the highest level. He warned that any delays in public service delivery would be treated as a serious administrative offence.
In view of the coming tourism season, he directed the concerned officials to ensure a safe, welcoming and facilitative environment for tourists. He also ordered an immediate facelift of tourist destinations and improvements in infrastructure and services to fully harness the province’s tourism potential.
He directed priority-completion of the PC-1 for the Nathia Gali Road, early initiation of the Circular Railway project and completion of preliminary work for extension of railway to Khyber and Mardan districts.
Before independence in 1947, Peshawar was connected by rail to Khyber, Nowshera, Mardan and Charsadda as well as Dargai in Malakand district.
Saad Bin Awais, an assistant director of the Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority, say that under the Good Governance Initiative, the Tourism Department has completed several key tasks, including the recruitment of tourism police for major tourist sites. Round the clock tourist facilitation centres across the province have been made operational and equipped with first-aid kits.
The government is also introducing an e-challan system. According to an official in the Excise Department, an e-transfer facility has been launched for all types of vehicles, enabling owners to transfer ownership via mobile phones without visiting excise offices. The service is available through Dastak, a flagship application of the provincial government aimed at paperless service delivery.
Officials say the reforms are designed to deliver quantifiable improvement in governance, transparency and public service delivery.
Under the initiative, land record services will be delivered through mobile units, with a focus on facilitating the elderly, the sick and women. Integration with NADRA is expected to ensure transparent and corruption-free land transactions.
A modern, camera-based traffic enforcement system will be introduced to improve road safety and compliance. A dedicated school zone safety package and targeted engineering interventions will reduce road accidents.
Environmental governance will be strengthened through smog monitoring systems and climate observatories providing real-time air quality data, as well as mechanisms for monitoring toxic waste and wastewater. The Billion Tree Plus programme will be expanded to reinforce afforestation and climate resilience efforts.
In the transport sector, digitisation of driving licences will be completed. An intra-city transport system under a public-private partnership model will improve connectivity.
Access to justice and rehabilitation services will be enhanced through legal aid and case facilitation for vulnerable groups. Tele-medicine and health screening will be extended to prisons. Measures are also being introduced to facilitate the placement of skilled juvenile inmates in industries for reintegration.
Labour sector reforms will expand advanced medical services. Enforcement of maternity benefits will strengthen financial protection for working women.
In sports and youth development, playground infrastructure will be upgraded and talent development programmes introduced. Sports facilities will be managed through public-private partnerships.
Disaster preparedness will be strengthened through early warning systems and direct digital payments for transparent and timely financial relief. GPS tracking of ambulances and rescue vehicles will improve efficiency and accountability.
Administrative reforms include the launch of an e-pension system and the establishment of a provincial nerve centre for real-time monitoring of service delivery.
Progress
A performance review revealed that 362 reform initiatives are currently under implementation across 16 departments, supported by over 2,200 action points. More than 440 weekly, 70 monthly and five quarterly review meetings have been held to ensure oversight.
In the health sector, 150 of 250 Basic Health Units are now operational 24/7. Full coverage is expected by June. Outsourcing of 72 health facilities is under way. 700 doctors have been recruited and 2,400 medical officer positions approved.
The polio campaign has been expanded to 45 additional union councils, including some previously inaccessible areas. More than 150 vaccinators have been deployed across more than 60 hospitals. Immunisation coverage has increased by nearly 24 per cent.
In municipal services, 2,500 kilometres of drains and sewerage lines have been cleared. A rural waste collection system is collecting 4,500 tonnes of waste monthly.
In education sector, school furniture has been provided for more than 100,000 students. 3,500 scholarships have been awarded. Disciplinary action against more than 16,000 teachers has helped raise attendance to 91 per cent.
In agriculture sector, 150,000 wild olive trees have been converted into productive varieties. Modern machinery is being provided to farmers. Lining of over 700 watercourses has been completed.
In social welfare sector, 20 special education institutions have been revamped, with 146 teachers recruited alongside physiotherapists, speech therapists and psychologists. Financial assistance is being provided to vulnerable groups: over 3,100 orphans and 3,300 widows are receiving a monthly stipend of Rs 5,000 each.
Assistive devices, including electric wheelchairs, tricycles, sewing machines and hearing aids, have also been distributed to improve the quality of life for persons with disabilities. Additionally, 14 buses have been deployed to facilitate transport for children enrolled in special schools.
In the IT sector, a cashless payment initiative has been launched. The KP Digital Payment Act 2025 has been approved. More than 100 government services have been digitised, with 114 services across over 25 departments now available online. The Dastak app provides access to more than 60 public services.
Solid waste management in Galiyat Development Authority areas has been outsourced. Land use planning for Kalam, Kaghan, Kumrat and Galiyat is under way. Rs 150 million interest-free loans have been disbursed to promote community-based accommodation.
Meanwhile, the new general bus stand in Peshawar is nearing completion. It is expected to become operational by June.
Riaz Ghafoor, spokesperson for the local government minister, says work on several projects under the Peshawar Uplift Programme is in progress. These includes a state-of-the-art bus terminal.
“The bus stand has been equipped with modern amenities. We’ll maintain comprehensive records of passengers and buses. Developed alongside the BRT system, the bus terminal will provide easier access to all parts of the city. It will also serve passengers traveling to and from Islamabad, Hazara, Malakand and Mardan regions,” Riaz says.
Dr. Sumera Shams Represents KP at UN CSW70, Highlights Women’s Rights Progress
Dr. Sumera Shams, Chairperson of the Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women (KPCSW), represented the Government of Khyber Pakhtunkhwa at the 70th Session of the Commission on the Status of Women (CSW70), held at the United Nations Headquarters in New York.
Convened under the auspices of the United Nations Economic and Social Council, the session brought together global leaders, policymakers, civil society representatives, and advocates to accelerate progress on gender equality and women’s empowerment.
During the session, Dr. Shams actively participated in multiple high-level discussions and side events as a panel speaker. She highlighted the significant strides made by the Government of Khyber Pakhtunkhwa in promoting women’s rights, including pro-women legislative reforms, implementation of the Women Empowerment Policy, and institutional mechanisms to ensure protection, participation, and equal opportunities for women across the province.
In her remarks, she emphasized the vital role of women in governance, peacebuilding, and socio-economic development. She also called for stronger global and national commitments to address persistent gender gaps, particularly in access to justice, economic inclusion, and leadership opportunities.
Dr. Sumera Shams further raised concerns at international forums regarding the growing trend of political victimization of women. She drew attention to the challenges faced by women associated with political leadership, specifically highlighting the denial of basic rights and access to justice in the case of the wife and sisters of former Prime Minister Imran Khan. She urged the international community to uphold principles of justice, dignity, and equal protection under the law for all women, regardless of political affiliation.
Reaffirming the province’s commitment, Dr. Sumera Shams stated that sustainable development and democratic resilience are closely linked to the empowerment and protection of women’s rights.
Her participation at CSW70 reflects Pakistan’s continued engagement with global frameworks and underscores Khyber Pakhtunkhwa’s resolve to translate commitments into meaningful action for women and girls.
Other participants in the delegation from Pakistan at the session included Senator Bushra Butt, Federal Secretary for Human Rights Khalid Sheikh, Federal Director Human Rights Dr. Arif, and Chairperson of the Balochistan Commission on the Status of Women, Kiran Baloch.
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک اہم منصوبے کا افتتاح کر دیا
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک اہم منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ صوبائی وزیر نے ضلع بونیر تحصیل گدیزئی کے گاؤں بیشونئی میں 142 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے فلڈ پروٹیکشن ورکس کا باضابطہ افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں سابق تحصیل ناظم شیر عالم خان، معتبر خان ایڈوکیٹ، ظفر سانی، ضیاء حسین، محکمہ آبپاشی کے ایکسین سلیمان خان، ایس ڈی او رضوان خان کے علاوہ علاقہ عمائدین، معززین، تاجر برادری اور شہریوں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریاض خان نے کہا کہ بیشونئی میں فلڈ پروٹیکشن وال کا یہ منصوبہ علاقے کو مستقبل میں سیلابی خطرات سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیلاب کے دوران بونیر کے مختلف علاقے، بالخصوص بیشونئی، قدر نگر، بٹئی، گوکند اور چغرزی شدید متاثر ہوئے تھے، جن کی بحالی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ محمد سہیل افریدی کی قیادت میں متاثرہ علاقوں کی بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے 142 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جو نہ صرف علاقے کو قدرتی آفات سے محفوظ بنائیں گے بلکہ مقامی ترقی میں بھی اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں۔
انہوں نے عوامی مسائل کے فوری حل اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں بڑی کارروائیاں
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبہ بھر میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک ہفتے کے دوران متعدد کارروائیاں عمل میں لائیں۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں جعلی، ایکسپائر اور مضر صحت اشیائے خورونوش برآمد کر کے تلف کر دیں جبکہ متعدد یونٹس کو سیل اور مالکان پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق خفیہ اطلاع پر پشاور اور نوشہرہ کی ٹیموں نے پبی کے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 2100 لیٹر جعلی کولڈ ڈرنکس برآمد کر لیں جبکہ 3000 لیٹر موقع پر ہی تلف کر دی گئیں۔ اسی طرح حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر ایک جوس فیکٹری پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ پشاور فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلع مہمند میں گھی ملز کا معائنہ کرتے ہوئے 560 لیٹر ایکسپائر کیمیکلز پکڑ کر تلف کیے اور مالکان پر جرمانے عائد کیے۔ اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیم نے مردان میں مصالحہ یونٹ اور گوشت کی دکانوں کے معائنے کے دوران ناقص صفائی، مس لیبلنگ اور غیر معیاری اشیاء پر کارروائی کرتے ہوئے 300 کلو غیر معیاری مصالحہ برآمد کر کے یونٹ سیل کر دیا گیا اور قانونی کارروائی شروع کر دی گئی جبکہ ایک گوشت کی دکان سے 50 کلو خراب گوشت برآمد کر کے تلف کیا گیا۔
نوشہرہ کے رسالپور انڈسٹریل اسٹیٹ میں کارروائیوں کے دوران 1760 لیٹر ایکسپائرڈ فروٹ پلپ تلف کیا گیا۔ ہری پور میں ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ موبائل لیب کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی جانچ کی گئی جہاں 300 لیٹر مضر صحت دودھ تلف کر کے جرمانے عائد کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے گودام پر چھاپے کے دوران 10 ہزار لیٹر غیر معیاری مشروبات برآمد کر کے تلف کیے گئے جبکہ کوہاٹ میں کوہاٹ اور بنوں ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 2550 لیٹر جعلی و مضر صحت مشروبات برآمد کیں۔ سوات میں قیمہ کی دکان پر چھاپے کے دوران 2300 کلو مضر صحت قیمہ برآمد کر کے تلف کیا گیا اور ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا۔ ملاکنڈ میں خفیہ اطلاع پر گھی کے کارخانے پر کارروائی کرتے ہوئے مس لیبل گھی برآمد کیا گیا جبکہ 200 لیٹر غیر معیاری و ایکسپائر گھی ضبط کر کے کارخانہ سیل کر دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق مختلف اضلاع میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مالکان کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
محکمہ توانائی میں کھلی کچہری،عوامی مسائل کے حل کے لئے موقع پر احکامات جا ری محکمے اورذیلی اداروں میں درپیش عوامی مسائل کی سماعت،عوام الناس کی جانب سے دلچسپی کا اظہار
خیبرپختونخواحکومت کے احکامات کی روشنی میں سرکاری اداروں کے انتظامی امورمیں شفافیت لانے اورعوامی مسائل کے فوری حل کیلئے Good Governance Road Mapکی جاری پالیسی کے تحت محکمہ توانائی وبرقیات خیبرپختونخوانے دوسری آن لائن (براہ راست)ای کھلی کچہری کا انعقادکیاجس میں عوام الناس نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہوئے اپنے مسائل پیش کئے جن کے فوری حل کے لئے موقع پرہد ایات جاری کی گئیں۔ سیکرٹری محکمہ توانائی وبرقیات نثاراحمدکی زیرصدارت براہ راست ای کھلی کچہری میں محکمے کے جملہ افسران سپیشل سیکرٹری حبیب اللہ عارف،ایڈیشنل سیکرٹریزانورخان شیرانی اورنورولی خان کے علاوہ ذیلی اداروں PEDO،KPOGCL،الیکٹرک انسپکٹریٹ اورKPٹرانسمیشن اینڈگرڈسسٹم کمپنی کے سربراہوں،جملہ افسران اورپراجیکٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ای کھلی کچہری میں صوبے کے مختلف اضلاع سے 55افراد نے محکمہ توانائی وبرقیات اوراسکے تمام ذیلی اداروں سے جڑے درپیش مسائل پرکھل کرگفتگو کی اورعوام الناس کی طرف سے صوبائی حکومت کے ای کھلی کچہری کے انعقادکوشفافیت اورمیرٹ کا ایک انقلابی اقدام قراردیا۔ آن لائن فیس بک پربراہ راسٹ ٹیلی فون پر موصولہ کالز کے ذریعے عوامی مسائل کوغورسے سناگیااورموقع پر موجود افسران وحکام کو انکے مسائل فوری طورپرحل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ 2گھنٹوں کے دورانئے پرمشتمل ای کھلی کچہری کے آخرمیں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے عوام الناس کویقین دلایاکہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت عوامی مسائل کو ای کھلی کچہری کے ذریعے موقع پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے ای کھلی کچہری کو موجودہ صوبائی حکومت کا ایک انقلابی اقدام قراردیتے ہوئے امید کا اظہارکیا کہ ای کھلی کچہری سے عوام اوراداروں کے درمیان فاصلے کم ہونگے اورعوام الناس حکومتی اقدامات کو میرٹ وشفافیت سے مانیٹرکرسکیں گے۔ انہوں تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کردہ عوامی مسائل کوفوری طورپر حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اورعملدرآمد کی رپورٹ جلد پیش کی جائے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان کا ایبٹ آباد کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان جمعرات کے روز ایبٹ آباد کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا اس موقع پر چیئرمین ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ عنایت اللہ وسیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ارشد ایوب نے ایبٹ آباد شہر میں میٹرک امتحانات کے لیے قائم امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔صوبائی وزیر تعلیم نے امتحانی مراکز میں طلبہ کو فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا اورطلبہ کو امتحانات کے دوران آرام دہ ماحول فراہم کرنےکی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ نقل اور بوٹی مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے،نقل کرنے والوں سے کوئی نرمی نہ بھرتی جائے گی۔اگر امتحانی عملہ نقل کرانے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ امتحانی عملہ نقل کرنے والے طلبہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائے۔ ارشد ایوب
نے کہا کہ نقل کے کلچر کو جڑ سے ختم کرنے کا مشن لے کر چل رہے ہیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر تعلیم نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد کا بھی دورہ کیا اوربی آئی ایس سی ایبٹ آباد کے امتحانات کنٹرول روم سے امتحانی مراکز کی نگرانی کا معائنہ صوبائی وزیر تعلیم کو امتحانی مراکز کی ڈیجیٹل نگرانی کے حوالے سے بریفننگ بھی فی گئی اور بتایا گیا کہ ہزارہ ڈویژن میں کل 486 امتحانی مراکز قائم ہیں۔ 360 سے زائد سینٹرز کی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ ارشد ایوب نے کنٹرول روم سے ایک امتحانی ہال کے عملے سے براہِ راست بات چیت بھی کی انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ نے مجموعی طور پر بہترین انتظامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبے بھر کے امتحانی مراکز کے دورے کر رہے ہیں۔
