Home Blog Page 42

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں توانائی، جنگلات کے تحفظ اور سول ڈیفنس کے انتظامی و تنظیمی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، مشیر خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ توانائی و بجلی نثار احمد، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، سول ڈیفنس، ریلیف، محکمہ جنگلات، پیڈو، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ سول ڈیفنس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق امور زیر غور آئے۔ کمیٹی کو سول ڈیفنس کے نئے تنظیمی ڈھانچے پر بریفنگ دی گئی، جس کے تحت محکمہ کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے ماتحت مزید مؤثر انداز میں فعال بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں سول ڈیفنس کی ری الائنمنٹ اور ری سٹرکچرنگ پر بھی غور کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ جنگ ہویا امن، ہر صورتحال میں یہ محکمہ مکمل طور پر فعال ہو اور اس کی کارکردگی واضح طور پر نظر آئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چونکہ ریسکیو 1122 پہلے ہی محکمہ ریلیف کے تحت کام کر رہا ہے، اس لیے سول ڈیفنس کو محکمہ ریلیف کی بجائے محکمہ داخلہ کے ماتحت رکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔ سول ڈیفنس حکام نے محکمہ کی 418 منظور شدہ اسامیوں اور سالانہ سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔اجلاس میں ضلع چترال کے علاقے ارندو گول کے جنگلات سے لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور ترسیل سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2004 تا 2010 کے دوران لاء اینڈ آرڈر کی کمزور صورتحال کے باعث مذکورہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی عمل میں آئی۔ مزید بتایا گیا کہ دیر کوہستان اور شیرینگل کے علاقوں میں سالانہ تقریباً دس لاکھ مکعب فٹ لکڑی جلائی جاتی ہے جو ماحولیاتی نظام اور قیمتی قومی وسائل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ضلع چترال میں 7343 گرے ہوئے درخت، 13891 لاگز اور 68551 سکنٹس کی صورت میں لکڑی موجود ہے۔اجلاس میں لکڑی کی معاشی قدر کے تعین، غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام اور جلائی جانے والی لکڑی کے متبادل ذرائع متعارف کرانے سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ آئل اینڈ گیس رائلٹی کے طرز پر ارندو گول میں موجود 1.70ملین کیوبک فٹ لکڑی سے حاصل ہونے والی آمدن کو متعلقہ علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے، جس کے لیے مقامی آبادی کی رضامندی حاصل کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ بروقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں قیمتی لکڑی کے ضائع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس ضمن میں ایک مرتبہ ایمنسٹی دینے کی صورت میں 70 فیصد رقم سرکار اور 30 فیصد مقامی سٹیک ہولڈرز کو دینے جبکہ ایمنسٹی نہ دینے کی صورت میں آمدن بحق سرکار آنے سے قبل گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں گبرال–کالام 88 میگاواٹ اور مدین 215 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ سیکرٹری محکمہ توانائی و بجلی نے منصوبوں کے مالیاتی تخمینوں پر بریفنگ دی جن میں سرمائے کی اوسط لاگت، متوقع منافع کی شرح، خالص موجودہ مالی قدر، قرضہ جات کی ادائیگی کی صلاحیت، سرمایہ واپسی کی مدت اور دیگر مالی و تکنیکی پہلو شامل تھے۔ محکمہ توانائی، پیڈو اور متعلقہ اداروں نے منصوبوں کی تازہ ترین پیش رفت، فنانشل اور تکنیکی صورتحال سے آگاہ کیا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور و قابل تجدید توانائی ترقیاتی پروگرام کے تحت ان منصوبوں کے لیے اضافی مالی وسائل کی فراہمی، منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ان کی باضابطہ توثیق سے متعلق امور زیر غور آئے۔ شرکاء نے کہا کہ یہ منصوبے صوبے میں صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ہائیڈرو پاور، سیاحت، تیل و گیس اور معدنی وسائل خیبر پختونخوا کے وہ قدرتی اثاثے ہیں جو صوبے کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت ان وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سول ڈیفنس کے نئے ڈھانچے، جنگلاتی وسائل کے تحفظ اور توانائی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے جامع اور مربوط طریقہ کار مرتب کیا جائے تاکہ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی حکومت عوامی تحفظ، قدرتی وسائل کے تحفظ اور توانائی کے شعبے کی ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کو ایک مستحکم اور خود کفیل صوبہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبرپختونخوامیں توانائی کے10منصوبوں سے224میگاواٹ سستی بجلی کی پیدا وارجاری

خیبرپختونخواحکومت اپنے وسائل سے توانائی کے جاری منصوبوں پرتیزی سے کام کررہی ہے۔اس وقت 224میگاواٹ کے 10توانائی منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں جن سے صوبے کوسالانہ 5ارب روپے کی آمدن ہورہی ہے جبکہ آئندہ پانچ سالوں میں توانائی کے جاری مزید 7منصوبوں کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھ کر1000میگاواٹ ہوجائے گی جس سے صوبے کوسالانہ تقریباً 55ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ ضلع سوات میں توانائی کے 3فلیگ شپ منصوبوں پربھی کام تیزی سے جاری ہے جن سے 387میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ2سالوں میں شروع ہوجائے گی۔سوات کوریڈورپر40کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پربھی کام تیز کردیا گیا ہے جورواں سال مکمل کرلیا جائے گاجن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے پن بجلی کے جاری7 اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری توانائی انورخان شیرانی،چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق، سینئرچیف پلاننگ آفیسرسیدظاہرشاہ اوردیگرسینئرافسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ سال 63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور10.2میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرلئے گئے ہیں جن کی تکمیل کے بعد پیڈوکی سستی بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھ کر224میگاواٹ ہوچکی ہے۔اسی طرح 7منصوبوں جن میں 300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،215میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،13.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم 6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمشن لائن منصوبے کوآنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے کو رواں سال ٹائم فریم میں ہرصورت مکمل کرنے پر زوردیا اور صوبے کے سب سے بڑے منصوبے 300میگاواٹ بالاکوٹ پر بھی متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کوکام مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔سیکرٹری توانائی نے پیڈوحکام کوہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ جاری توانائی منصوبے مکمل ہونے کے بعد نیشنل گرڈ میں شامل کئے جائیں اگرنیشنل گرڈ میں شامل نہ کئے جائیں توصنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی کی فروخت کے لئے ڈائریکٹ سپلائی ماڈل کے تحت ڈسٹری بیوشن لائسنس فوری حاصل کئے جائیں۔انہوں نے پراجیکٹ ڈائریکٹرزکوسختی سے خبردارکرتے ہوئے کہاکہ وہ منصوبوں کا اینالائسز گیپ کاجائزہ لے کرآپریشنل گیپ،ٹی اوآرز،ٹائم باؤنڈنگ سمیت تمام رکاوٹوں کودورکرکے مقررہ ٹائم لائن کے اندرمنصوبے مکمل کریں بصورت دیگرکسی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔

صوبائی وزیرِ صحت کی خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور میں وائٹ کوٹ اور حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ وائٹ کوٹ اور حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ایم بی بی ایس کے 150 نئے طلبہ و طالبات نے وائٹ کوٹ پہننے کے ساتھ ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کا حلف بھی اٹھایا۔ وزیرِ صحت کی آمد پر ڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور طالبات کی بڑی تعداد نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ اور حلف برداری کی تقریب طلبہ کے طبی سفر کا ایک نہایت اہم اور تاریخی مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اٹھایا جانے والا حلف محض رسمی الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے ذاتی مفادات اور لالچ سے بالاتر ہو کر اپنانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان، باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے تاکہ صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ صحت کے شعبے میں غفلت، نااہلی اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا براہِ راست تعلق انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر اعلیٰ اخلاقی معیار کو ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے شمار باصلاحیت نوجوان مالی مجبوریوں کے باعث طبی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، لہٰذا جن 150 طالبات کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بہتر نتائج کے حصول پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے اور اس شعبہ کی مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور جدید آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور اس کا مؤثر حل بیماریوں کی بروقت روک تھام میں مضمر ہے۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنی خدمات مقامی سطح پر سرانجام دیں تاکہ بنیادی صحت مراکز اور دیہی صحت مراکز کو مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر ہی بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کا واحد پائیدار حل ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ محکمہ صحت صوبے بھر میں موجود خامیوں کے ازالے کے لیے مسلسل اور سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صوبے کے صحت کے نظام میں واضح اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے عابد خان کرکٹ گراؤنڈ چارسدہ میں منعقدہ عمران خان گولڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے عابد خان کرکٹ گراؤنڈ چارسدہ میں منعقدہ عمران خان گولڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ فائنل مقابلے کے موقع پر کرکٹ شائقین، نوجوان کھلاڑیوں، سپورٹس آرگنائزرز، سماجی شخصیات اور معززینِ علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔فائنل میچ سے قبل صوبائی وزیر فضل شکورخان کا شاندار استقبال کیا گیا جبکہ قومی ترانے کے بعد میچ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کھیل کے میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی تلقین کی۔ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی صحیح سمت میں رہنمائی ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تربیت، نظم و ضبط، برداشت، صبر اور ٹیم ورک جیسی خصوصیات کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان گولڈ کپ جیسے ٹورنامنٹس نوجوانوں کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور اس طرح کے مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں، منشیات اور جرائم سے دور رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔صوبائی وزیر نے مذید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور کھیلوں کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور صوبے بھر میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، سپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط اور خوشحال خیبر پختونخوا کی ضمانت ہے۔انہوں نے ٹورنامنٹ کے منتظمین کو کامیاب ٹورنامنٹ کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس نوجوانوں میں مثبت سوچ، بھائی چارے، برداشت اور امن کے پیغام کو فروغ دیتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی عمران خان گولڈ کپ جیسے معیاری ٹورنامنٹس کا تسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مزید مواقع میسر آئیں۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے فائنل میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کامیاب ٹیم کو ٹرافی اور نقد انعامات دیے جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں بھی انفرادی انعامات تقسیم کیے گئے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان مستقبل میں ملک و صوبے کا نام روشن کریں گے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کو وادی تیراہ سے متعلق بیان پر خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کو وادی تیراہ سے متعلق حالیہ بیان پر ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں زمینی حقائق، آئینی ذمہ داریوں اور انسانی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے،خط میں شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ 26 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ریلیف و بحالی کے لیے پیشگی تیاریوں سے متعلق تھا جسے کسی مخصوص سکیورٹی حکمت عملی کی تائید یا غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی سکیورٹی کارروائیوں کی منظوری کے طور پر ہرگز نہیں دیکھا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر سکیورٹی اقدامات کو وسیع تر سیاسی، معاشی اور سماجی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جن میں عام شہریوں کا متاثر ہونا، معاشی سرگرمیوں میں خلل، سماجی بے دخلی اور جبری نقل مکانی شامل ہیں۔ ایسے اثرات عوامی اعتماد کو مجروح کرتے اور مقامی سطح پر شکایات کو جنم دیتے ہیں،شفیع جان نے خط میں مزید کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے آبادی کی نقل مکانی قلیل وقت میں جاری کی گئی انخلائی ہدایات کے نتیجے میں ہوئی، جو صوبائی حکومت اور منتخب سیاسی قیادت سے پیشگی مشاورت کے بغیر دی گئیں۔ یہ اقدامات خراب موسمی حالات اور محدود وقت کے اندر نافذ کیے گئے، جس کے باعث فوری انسانی بحران پیدا ہوا اور صوبائی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرنا پڑی،انہوں نے نشاندہی کی کہ آئینی طور پر وفاقی اختیار کے تحت ہونے والی کارروائیوں، بشمول ایکشن ان ایڈ آف سول پاور، کے نتیجے میں متاثرہ شہریوں کی بروقت امداد، بحالی اور معاوضے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ تاہم مؤثر وفاقی انتظامات کی عدم موجودگی میں صوبائی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت یہ بوجھ خود اٹھایا،معاون خصوصی برائے اطلاعات نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کا راستہ سیاسی ملکیت، عوامی شمولیت، مکالمے اور سول بالادستی سے ہو کر گزرتا ہے۔ سکیورٹی اقدامات جہاں ناگزیر ہوں، انہیں اس جامع حکمت عملی کے معاون کے طور پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کا متبادل،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام محض بیانیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی توازن، شفافیت اور پالیسی، ابلاغ اور زمینی حقائق میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ وفاقی سطح پر حساس معاملات، بالخصوص آبادی کی نقل مکانی اور سکیورٹی آپریشنز سے متعلق بیانات، صوبائی اسمبلی کے اجتماعی مؤقف اور زمینی حقائق کے درست عکاس ہونے چاہئیں۔

نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام منگل کے روز نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی شاندار نیلامی کا انعقاد کیا گیا جہاں خواہشمند بڈرز نے غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے من پسند نمبر پلیٹس بڑے داموں خریدیں۔نیلامی کے دوران سب سے زیادہ بولی وزیر 1 نمبر پلیٹ پر لگی جو 1 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔ دوسری سب سے زیادہ بولی آفریدی 1 نمبر پلیٹ پر لگی جو 1 کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت ہوئی اور اسے پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے حاصل کیا۔ جبکہ تیسری نمایاں بولی خان 1 نمبر پلیٹ پر رہی جو 1 کروڑ 11 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی اور یہ نمبر پلیٹ ایم پی اے نیک محمد خان کے حصے میں آئی۔ہری پور 1نمبر پلیٹ 80 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی جبکہ یوسفزئی 1نمبر پلیٹ 49 لاکھ 20 ہزار روپے میں نیلام ہوئی۔اسی طرح درانی 1 چوائس نمبر پلیٹ 16 لاکھ اور 60 ہزار روپے،ملاکنڈ 1 ساڑھے 12 لاکھ اور صوابی 1نمبر پلیٹ بھی 12 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔نیلامی سنگل بڈنگ کے تحت ہوئی جبکہ مزید نمبرات کی نیلامی ای بڈنگ کے تحت کی جائے گی۔نیلامی کے عمل میں عوامی جوش و خروش اور بھرپور شرکت نے اس منفرد منصوبے کی کامیابی کو واضح کر دیا۔یہ منفرد اور عوام دوست اقدام محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی جدید اصلاحات کا حصہ ہے، جو بانی چیئرمین عمران خان کے وژن، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی سرپرستی میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔نشتر ہال پشاور میں منعقدہ اس خصوصی نیلامی میں شخصی، قبائلی ناموں، سیاسی اور علاقائی شناخت پر مبنی چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی نے بڈرز کی خصوصی توجہ حاصل کی جس سے سرکاری خزانے کو خطیر ریونیو حاصل ہوگا۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چوائس نمبر پلیٹس کا یہ منصوبہ ایک منفرد اور عوام دوست اقدام ہے، جو الحمدللہ عوام کی بھرپور دلچسپی کے باعث کامیاب رہا۔انہوں نے کامیاب بولی دہندگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی درخواست اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں مزید من پسند چوائس نمبر پلیٹس کی ای بڈنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خواہشمند حضرات اپنی دلچسپی کے مطابق ناموں اور مارکس کے لیے دستک ایپ کے ذریعے یا ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کو درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول آئندہ بھی عوامی سہولت، شفافیت اور جدیدیت پر مبنی ایسے مزید اقدامات جاری رکھے گا۔نیلامی کی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبد الحلیم خان کے علاؤہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

با سٹھ ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کی ٹرافی کی رونمائی

پشاور براق 62ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کی ٹرافی کی رونمائی کی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوئی تقریب کے مہمان خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمدخان ترند تھے، جنہوں نے باقاعدہ طور پر ٹرافی کی رونمائی کی۔اس موقع پر ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر کھیل تاج محمد ترند نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کا انعقاد خوش آئند امر ہے جس سے صوبے کے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے منشور کے مطابق تمام اضلاع کے کھلاڑیوں کو کھیلوں کی معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑی بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں گے آخر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کے لیے پانچ لاکھ روپے کے تعاون کا اعلان بھی کیا۔62 ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ یکم فرور ی سے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں شروع ہوگی جس میں ملک بھر سے سو سے زائد مرد وخواتین کھلاڑی شرکت کریں گے۔

انصاف، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں ان کے کردار میں انڈونیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لئے اعلیٰ سطح قومی وفد کا جکارتہ کا دورہ

چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خواتین، امن اور سلامتی (ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی) کے موضوع پر پاکستان–انڈونیشیا ایکسپوژر اینڈ لرننگ وزٹ میں شرکت کے لئے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 19 سے 24 جنوری 2026 تک منعقد ہوا جس کا اہتمام یو این ویمن کے تعاون سے کیا گیا۔اس بین الاقوامی فورم میں چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس حکومتِ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کا حصہ تھیں۔ وفد میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق پاکستان خالد صدیق، چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن امے لائلہ، چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کرن بلوچ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل تھے۔دورے کے دوران پاکستانی وفد نے انڈونیشیا کے سرکاری اداروں، پولیس حکام، قومی خواتین و انسانی حقوق کمیشنز اور سول سوسائٹی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انصاف کے مربوط نظام، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے انڈونیشیا کے ”پیس ولیج ماڈل“، کمیونٹی پولیسنگ، ابتدائی انتباہی نظام اور خواتین کی قیادت میں جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد تنازعات کی روک تھام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ پولیس تربیتی اداروں اور نگران اداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں صنفی حساس پولیسنگ اور عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر مختلف سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن کے پی سی ایس ڈبلیو نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج ان پر مؤثر عملدرآمد ہے، خاص طور پر خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں۔چیئرپرسن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا ویمن کمانڈونیشیا کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صوبائی اداروں کو مضبوط بنائے گا، امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی شمولیت بڑھائے گا اور خیبرپختونخوا میں ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد کو فروغ دے گا۔دورے کے اختتام پر یو این ویمن پاکستان اور یو این ویمن انڈونیشیا کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے ممالک کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو ممکن بنایا جس سے ان ممالک میں خواتین کو بااختیار بنانے، امن اور انصاف کے لئے پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری میں مدد ملے گی۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان، تاج محمد خان ترند نے حالیہ برف باری اور بارشوں سے متاثرہ ضلع بٹگرام میں تمام رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی اور برف ہٹانے کے لیے ڈپٹی کمشنر بٹگرام کو ہدایات جاری کر دی ہیں

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان، تاج محمد خان ترند نے حالیہ برف باری اور بارشوں سے متاثرہ ضلع بٹگرام میں تمام رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی اور برف ہٹانے کے لیے ڈپٹی کمشنر بٹگرام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔مشیر کھیل نے پشاور میں واقع اپنے دفتر سے بذریعہ ٹیلی فون ڈپٹی کمشنر بٹگرام سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ لنگ روڈز، دور افتادہ علاقوں کی سڑکوں اور اہم شاہراہوں کو فوری طور پر کھولا جائے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے بھاری مشینری اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا۔تاج محمد خان ترند نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں عوام کو روزمرہ ضروریات، علاج معالجے اور آمدورفت میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افراد جن کے مکانات بارشوں یا برف باری کے باعث متاثر ہوئے ہیں، اپنی درخواستیں ڈپٹی کمشنر آفس بٹگرام میں جمع کروائیں تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔مشیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کریں تاکہ بحالی کا عمل مؤثر اور تیز تر بنایا جا سکے۔انہوں نے انتظامیہ کو مزید ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ رہیں۔

بر سوات کو ضلع قرار دینا خوش آئند ہے، تاریخی پہچان اور شناخت برقرار رہی، ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہا ہے کہ بر سوات کو باقاعدہ ضلع کا درجہ ملنا، احسن اقدام ہے، بر سوات کے لوگ خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ بر سوات سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے حوالے سے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجدعلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ترقیاتی منصوبوں کی بہتر انجام دہی اور اس میں تیزی آنے سمیت انتظامی امور میں بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بر سوات کو برسوات کا نام دینے سے اس کی تاریخی پہچان اور شناخت بھی برقرار رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات اور برسوات دونوں کے لیے یہ ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام ہے اور دونوں اضلاع باہمی تعاون، اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ترقی و خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوات کو دو اضلاع بنانے کافیصلہ علاقے کے روشن مستقبل کے لیے بنیاد ثابت ہوگا۔