Home Blog Page 45

صوبائی وزیر فضل شکورخان کی ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایات

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرزکو ہدایت کی ہے کہ ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی تمام جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار میں نمایاں تیزی لائی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مجوزہ ترقیاتی سکیموں کے پی سی ون پر بھی جلد از جلد مکمل ہوم ورک کرتے ہوئے انہیں منظوری کے لیے صوبائی ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) کو ارسال کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں ضلع مانسہرہ اور جنوبی وزیرستان میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف جاری اور مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ایکسین مانسہرہ سردار خالد گنڈا پور اور جنوبی وزیرستان کے ایکسین میاں گل نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دونوں ایکسینز نے اپنے اپنے اضلاع میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جاری اور مجوزہ سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مفاد سے وابستہ سکیموں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف پینے کے پانی اور سینیٹیشن کی فراہمی عوام کا بنیادی حق ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں نگرانی مؤثر بنائی جائے، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اضلاع کی ضروریات کے مطابق نئے منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ دور دراز علاقوں سمیت صوبے بھر میں عوام کو محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت لیگانئی ضلع بونیر میں سمال ڈیمز اور آبی ذخائر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت لیگانئی ضلع بونیر میں سمال ڈیمز اور آبی ذخائر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز اختر رشید اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع بونیر میں جاری اور مجوزہ آبی منصوبوں کا جائزہ لینا اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینا تھا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کو لیگانئی اور ضلع بونیر کے دیگر علاقوں میں سمال ڈیمز اور آبی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مصنوعی ڈیمز کی تعمیر سے متعلق مجوزہ منصوبے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، زرعی ضروریات اور علاقے میں پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آپشنز پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبے میں آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور پانی کے ذخائر میں اضافے کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لیگانئی میں مصنوعی ڈیمز کی تعمیر کے لیے فوری طور پر فزیبلٹی اسٹڈی کا آغاز کیا جائے اور جلد از جلد جامع اور قابل عمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ منصوبے پر بروقت عملی کام شروع کیا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سمال ڈیمز کے ساتھ ساتھ مصنوعی ڈیمز بھی نہایت فائدہ مند ثابت ہوں گے، جن کے ذریعے بارش اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے زرعی زمینوں کو سیراب کیا جا سکے گا، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی آبادی کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہو گے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضلع بونیر کے جن علاقوں میں پانی کی قلت درپیش ہے وہاں ترجیحی بنیادوں پر سمال ڈیمز کی نشاندہی کر کے تفصیلی اسٹڈی رپورٹس تیار کی جائیں صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی فلاح اور زراعت کے فروغ کے لیے آبی منصوبوں پر عملی اقدامات کو یقینی بنائے گی اور قابل عمل منصوبوں پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان کا زمونگ کور ماڈل سکول کا دورہ اور طلبہ سے خطاب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زمونگ کور ماڈل سکول کے بچوں کو ہر قسم کی سہولیات اور مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ وہ ایک بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم زمونگ کور ماڈل سکول میں طلباء کیلئے محکمہ کھیل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ یتیم اور مستحق بچوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مشیر کھیل و امور نوجوانان نے کہا کہ زمونگ کور اور خپل کور ماڈل سکول کے بچوں کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف درست رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے کی ہے۔تاج محمد خان ترند نے مزید بتایا کہ محکمہ کھیل بہت جلد انٹر مدارس، اقلیتی اور ٹرانس جینڈرسپورٹس کیمپس منعقد کر رہا ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ کھیل زمونگ کور کے بچوں کو تمام ضروری سہولیات اور تعاون فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں تحصیل کی سطح پر پلے گراؤنڈز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ نچلی سطح پر کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بحال اور مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری کھیل محمد آصف،ڈی جی کھیل تاشفین حیدر اور محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔

Divisional Task Force Meeting on Polio Eradication Held Under Hazara Commissioner

An important meeting of the Divisional Task Force on polio eradication was held under the chairmanship of Commissioner Hazara Division, Mr. Fayaz Ali Shah, to review preparedness for the upcoming polio vaccination campaign scheduled for February. The WHO Coordinator briefed participants on key operational aspects of the campaign.
Addressing the meeting, the Commissioner emphasized that accurate, timely, and reliable data is critical to improving campaign quality and promptly addressing gaps. He directed District Health Officers (DHOs) to deploy internal monitoring teams using their own resources to ensure full coverage of missed children.
He further instructed that during master trainers’ sessions, Union Council–level trainers should receive focused and effective training. Deputy Commissioners and DHOs were asked to personally visit training sessions to motivate master trainers, monitors, and field staff, thereby enhancing overall campaign performance.
Stressing the importance of timely and accurate reporting, the Commissioner called for comprehensive documentation of refusal cases to enable swift and effective follow-up. He also directed special attention to transit points, instructing DHOs to deploy staff to vaccinate children traveling with passengers and tourists.
Regarding security, the Commissioner ordered the preparation of a comprehensive police deployment plan to be shared with all Deputy Commissioners. He underscored that police personnel must accompany polio teams throughout the campaign to ensure security and operational effectiveness.
The Commissioner advised Deputy Commissioners and DHOs to develop district-specific plans based on local ground realities through close coordination. He also emphasized the participation of Assistant Commissioners and Additional Assistant Commissioners in evening review meetings to strengthen field-level supervision and implementation.
Reaffirming collective responsibility, the Commissioner stated that eradicating polio requires coordinated efforts, robust monitoring, and shared commitment. He expressed confidence that Hazara Division can be made polio-free through sustained collaboration.
Concluding the meeting, he directed that recorded messages from elected representatives, social workers, and religious scholars be disseminated on social media to raise public awareness about the importance of the polio campaign and ensure its success.

وفاقی حکومت کا دہشت گردی جیسے سنگین معاملے پر مسلسل سیاست چمکانا قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وزیر مملکت طلال چوہدری کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت پر عائد کی گئی بے بنیاد الزام تراشیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق پر چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے قابض حکومت کا دہشت گردی جیسے حساس اور سنگین معاملے پر مسلسل سیاست چمکانا قابل مذمت اور افسوسناک ہے،یہاں سے جاری اپنے بیان میں معاون خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور عالمی سطح کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس نازک معاملے پر وفاق کا خیبرپختونخوا کے ساتھ نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں اور معصوم سویلین شہداء کی توہین کے مترادف ہے،شفیع جان نے کہا کہ طلال چوہدری واضح کریں کہ وہ کس بنیاد پر ایک صوبے کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جبکہ اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز، عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی بھی نشانہ بن چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ وفاق اور پنجاب پر ایک ایسی سیاسی جماعت غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے قابض ہو چکی ہے جو دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر بھی جھوٹ اور سیاست سے باز نہیں آ رہی،معاون خصوصی نے خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کے نہ ہونے کے دعوے کو طلال چوہدری کی کم علمی، نااہلی اور سیاسی بغض کا واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی اور پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر مشترکہ طور پر لڑ رہی ہیں۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کے جوانوں نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ان اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 31 ارب روپے کی منظوری دی ہے،شفیع جان نے سیف سٹی منصوبے کے حوالے سے پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں سیف سٹی منصوبہ آئندہ ہفتے مکمل ہو جائے گا جبکہ بنوں اور دیگر اضلاع کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی جا چکی ہے،انہوں نے طلال چوہدری کو خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام نے کسی سیاسی جماعت کو تیسری مرتبہ خدمت کا موقع دیا ہے، اگر پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوتی تو عوام اسے تیسری بار اپنا مینڈیٹ کیوں دیتے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سیاسی بغض کے باعث طلال چوہدری کو عوامی فیصلے سے اس قدر
تکلیف کیوں ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آپریشن سے متعلق اپنا دوٹوک مؤقف واضح طور پر بیان کر چکے ہیں جبکہ آپریشن کے معاملے پر صوبائی حکومت کو آن بورڈ لینے سے متعلق طلال چوہدری کے بیانات بے سروپا اور حقائق کے منافی ہیں

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے بلدیاتی خدمات میں شفافیت، بہتری اور فوری ازالے کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے شکایات ازالہ ایپ“منصوبہ عمل”کا باقاعدہ آغاز کر دیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے بلدیاتی خدمات میں شفافیت، بہتری اور فوری ازالے کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے شکایات ازالہ ایپ“منصوبہ عمل”کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں لوکل گورننس سکول حیات آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبہ بھر سے تحصیل میونسپل انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اب عوام بلدیاتی امور، خدمات کی بہتری اور بروقت فراہمی سے متعلق اپنی شکایات اور تجاویز براہِ راست منصوبہ عمل ایپ کے ذریعے درج کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ایپ کے تحت شکایات سب سے پہلے نچلی سطح کے ذمہ دار افسران کو موصول ہوں گی تاکہ مسائل کا حل مقامی سطح پر ممکن بنایا جا سکے، جبکہ شکایات حل نہ ہونے کی صورت میں معاملہ خود بخود اعلیٰ حکام تک پہنچ جائے گا۔وزیر بلدیات نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور نئے طرزِ فکر کے ذریعے عوامی شکایات کے بروقت اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو بہتر، تیز اور شفاف بلدیاتی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ منصوبہ عمل ایپ ان کے اپنے موبائل فون میں بھی انسٹال ہوگی اور وہ شکایات کے ازالے کے عمل کی خود نگرانی کریں گے۔تقریب میں سیکرٹری بلدیات ظفرالاسلام سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جبکہ وزیر بلدیات کو شکایات ایپ کی فعالیت، طریقہ کار اور مانیٹرنگ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر بلدیات نے عوام سے اپیل کی کہ خیبرپختونخوا کو پاک صاف، منظم اور بہتر صوبہ بنانے کے لیے منصوبہ عمل شکایات ایپ کا بھرپور اور ذمہ دارانہ استعمال کریں تاکہ بلدیاتی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اختیار عوام کا — عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک مؤثر قدم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی اورچیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے عوامی فلاحی اقدام ’اختیار عوام کا‘ کے تحت عوام کو بااختیار بنانے اور سرکاری اداروں تک براہِ راست رسائی فراہم کرنے کے وژن کے مطابق، سیکریٹری محکمہ ایکسائزو ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر ضلع مردان خالد خان کے ہمراہ مردان چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے دوران چیمبر آف کامرس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اویس خان، صدر مردان چیمبر آف کامرس اور ایگزیکٹو ممبران سے ٹیکس سے متعلق امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔اجلاس میں تاجروں نے سیکریٹری محکمہ ایکسائز کو ٹیکسز سے متعلق درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری ایکسائز نے تاجروں کے مسائل کو بغور سنا اور ان کے بروقت حل کی یقین دہانی کرائی۔سیکریٹری محکمہ ایکسائز نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (ای ٹی او) کو ہدایت جاری کی کہ چیمبر آف کامرس کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکسز سے متعلق مسائل اور تحفظات پر ایک جامع رپورٹ مرتب کر کے پیش کی جائے تاکہ ان مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔مزید برآں، سیکریٹری ایکسائز نے مردان چیمبر آف کامرس میں تاجروں کی سہولت اور آسانی کے لیے فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جس پر فوری عمل درآمد شروع کردیا گیا تاکہ تاجران کو ٹیکسز سے متعلق سہولت اور آسانی، شکایات کے اندراج، رہنمائی اور فوری پیروی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع چیمبر آف کامرس نے محکمہ ایکسائز اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تاکہ ٹیکس نظام کو مؤثر، شفاف اور تاجر دوست بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ یہ اقدامات حکومتِ خیبر پختونخوا کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ’اختیار عوام کا‘ کے ذریعے شہریوں اور تاجر برادری کو بااختیار بنا کر ان کے مسائل کو شفاف، تیز رفتار اور مؤثر انداز میں حل کیا جائے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کی طرح ضلع سوات میں بھی عرصہ دراز سے زیرِ التواء ڈرائیونگ لائسنسز کی پرنٹنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کی طرح ضلع سوات میں بھی عرصہ دراز سے زیرِ التواء ڈرائیونگ لائسنسز کی پرنٹنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ سوات کے مطابق تمام پرنٹ شدہ ڈرائیونگ لائسنسز ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں دستیاب ہیں۔ وہ تمام شہری جن کے ڈرائیونگ لائسنس طویل عرصے سے زیرِ التواء تھے مقررہ اوقات کار کے دوران ڈرائیونگ لائسنس برانچ سے اپنے ڈرائیونگ لائسنس وصول کر سکتے ہیں۔جاری کردہ شیڈول کے مطابق سیریل نمبر 37081 تا 42094 کے 5013 ڈرائیونگ لائسنسز 19 تا 23 جنوری 2026،سیریل نمبر 46001 تا 50000 کے 4000 ڈرائیونگ لائسنسز 26 تا 30 جنوری 2026جبکہ سیریل نمبر 50001 تا 57901 کے 7901 ڈرائیونگ لائسنسز 02 تا 06 فروری 2026 کے دوران تقسیم کیے جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ سوات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخوں پر اپنے ڈرائیونگ لائسنس وصول کریں۔وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر عوامی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل کے لیے صوبائی حکومت پُرعزم ہے اور اس ضمن میں عملی اقدامات جاری ہیں۔

غیر حقیقی ڈیٹا ناقابلِ قبول، ہسپتال مینجمنٹ میں مؤثر ہم آہنگی اور مضبوط قیادت ناگزیر ایم ایس کا کردار فیصلہ کن، غفلت پر کوئی رعایت نہیں ہوگی صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی صوبہ بھر کے ایم ایس کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت

خیبر پختونخواکے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ صحت سے متعلق ڈیٹا حقیقت کے مطابق، منظم اور مربوط ہونا چاہیے کیونکہ رپورٹ شدہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق میں فرق کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیرِ صحت نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے مؤثر ہم آہنگی، مضبوط قیادت اور مثبت نیت ناگزیر ہے، جس میں ایم ایس کا کردار مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔اجلاس میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی سمیت محکمہ صحت کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں انسانی وسائل، طبی آلات کی دستیابی، انفراسٹرکچر، سروس ڈیلیوری اور انتظامی امور سے متعلق ایک جامع اور مفصل بریفنگ دی گئی۔ ہسپتالوں کی سطح پر ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور انتظامی خامیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو سراہا گیا جبکہ غفلت اور کمزور انتظام کے ذمہ دار افسران کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ محکمہ صحت نے صوبے بھر کے ہسپتالوں کو طبی آلات، انسانی وسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط اور جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی سطح پر کوتاہی، تاخیر یا بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض ہسپتالوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جبکہ چند اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے باعث صحت کی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں وہاں متعلقہ یونٹس کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور آؤٹ سورس کیے گئے یونٹس میں سروس ڈیلیوری میں واضح بہتری آئی ہے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ ہسپتال ری ویمپ اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عملی کام تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری، سہولیات کی توسیع اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ نئی ہیلتھ پالیسی کے تحت مریضوں کو معیاری، بروقت اور بہتر علاج کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ڈیٹا سے متعلق ہدایات دہراتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ اعداد و شمار سے زیادہ زمینی حقائق اہم ہیں کیونکہ ایم ایس براہِ راست ہسپتالوں میں موجود ہوتے ہیں اور اصل صورتحال، مسائل اور ضروریات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایس کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ٹیموں کو متحرک کریں، نظم و ضبط کو یقینی بنائیں اور ہسپتالوں میں واضح، قابلِ پیمائش اور عملی بہتری لائیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں سیاسی مداخلت نہایت محدود ہو چکی ہے اور حکومت تمام افسران کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا”محکمہ صحت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔”اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ایم ایس کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ہسپتالوں کی کارکردگی، سروس ڈیلیوری اور زمینی صورتحال میں واضح اور نمایاں بہتری نظر آنی چاہیے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان نے کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی اورنگزیب خان، احمد کنڈی، منیر حسین، شیر علی آفریدی، گروپال سنگھ، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر، عسکر پرویز، نثار باز، محترمہ آمنہ سردار، محترمہ شازیہ تماس خان، محترمہ ثوبیہ شاہد اور محترمہ مدینہ گل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ، محکمہ قانون، صحت اور اوقاف کے حکام، بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے سابقہ احکامات کی روشنی میں محکمہ خزانہ، صحت اور اوقاف کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زیر التوا امور پر وضاحت طلب کی گئی۔ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے تمام محکموں کا جاری اور ترقیاتی بجٹ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، تاہم چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام مالیاتی فنڈز کو ایک ہی جامع پلیٹ فارم پر نمایاں کرنے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ ضم اضلاع (سابقہ فاٹا) کی اصلاحات کا بڑا مالی بوجھ صوبائی بجٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے بجٹ کی مکمل تفصیلات پیش کی گئیں، جبکہ قائمہ کمیٹی نے پورے صوبے کے ریونیو ڈیٹا کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ایم ایس محکمہ صحت نے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کے سوال پر ڈی ایچ کیو باجوڑ میں متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری رپورٹ اور انصاف سہولت کارڈ سے متعلق مکمل معلومات فراہم کیں۔ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سوالات کے جواب میں محکمہ خزانہ نے وضاحت پیش کی، جبکہ رکن اسمبلی محترمہ ثوبیہ شاہد نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو پنجاب اور سندھ کی طرز پر این ایف سی ایوارڈ میں منصفانہ حصہ دیا جائے۔اجلاس میں محکمہ اوقاف سے صوبے کی مختلف مساجد کی سولرائزیشن سے متعلق تفصیلات طلب کی گئیں۔ محترمہ آمنہ سردار نے بینک آف خیبر کے حکام کو قرضوں کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز نے پشاور میں چرچ پر خودکش حملے کے شہداء اور زخمیوں کے معاوضے کے معاملے پر محکمہ اوقاف سے وضاحت طلب کی۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر سفارشات مرتب کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔