چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی تشکیل کے عمل کی خود نگرانی کریں اور قبل از بجٹ منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ کارکردگی اور مالی نظم و ضبط میں بہتری لائی جا سکے۔سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ خزانہ اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم تمام محکموں کو بھی اپنی شعبہ جاتی منصوبہ بندی کی مکمل ذمہ داری لینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے دوران مالی امور اور منصوبوں میں تبدیلیوں پر وقت ضائع ہوتا ہے، جسے بہتر پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور تمام دفتری و انتظامی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جائیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت مزید 10 محکموں کو شامل کیا گیا ہے اور 88 نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کا اعتماد محکموں کی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں میں بہتر نتائج دینا ضروری ہے۔ انہوں نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ اہداف کی کڑی نگرانی کریں اور ہر محکمے میں اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس منعقد کریں۔چیف سیکرٹری نے عندیہ دیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک محکموں کی کارکردگی رپورٹس شائع کی جائیں گی اور اس سلسلے میں کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے ایک ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے ایک تیز رفتار اقدام ہے۔اجلاس میں تبادلوں کی پالیسی اور پلیسمنٹ کمیٹیوں کے قیام و فعالیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام تقرریاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ اور قواعد کے مطابق کیے جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں ضلعی سطح پر سروس ڈلیوری، انٹیگریٹڈ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم (آئی پی ایم ایس) اور دیگر اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے 31 مارچ 2026 تک بورڈ آف ریونیو اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی 100 فیصد رہی، جبکہ دیگر محکموں کی کارکردگی 80 فیصد سے زائد رہی، جو مجموعی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی
خدمات تک رسائی کمیشن میں چار شہریوں کی شکایات کی شنوائی ہوئی
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چار عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلحہ لائسنس اجراء کی مختلف شکایات میں متعلقہ آفیسر اسلحہ برانچ پیش ہوئے۔ کمیشن نے تیرہ شکایات کو فوراً حل کرنے کے احکامات دئیے۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے فضل دین نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے حلقہ پٹواری کو ایک مہینے کے اندر حد براری کر کے کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ جواب نہ آنے پر کمیشن نے ڈی سی چارسدہ سے چودہ دنوں کے اندر رپورٹ طلب کرلی۔ سوات سے نبیحہ خان نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نے کمیشن کو بتایا کہ کمیشن کے احکامات کے مطابق چھ شکایت کنندگان کو لائسنس جاری کر چکے ہیں۔ فوزیہ رازی کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور انہوں نے لوئر دیر میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ خاتون کو سننے کے بعد کمیشن نے فیصلہ دیا کہ جائے وقوعہ راولپنڈی میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور عدالت احکامات بھی جاری کرچکا ہے۔ خاتون پچھلی ایف آئی آر کے تناظر میں اپنی متعلقہ تھانے میں درخواست دے۔
کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے اور ان کا بروقت اور مؤثر طریقے سے مہیا کرنا سرکاری اداروں کی اہم ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی نہ بھرتی جائے
ریڈیو پاکستان پشاور سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا تیسرا اجلاس پیر کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا
ریڈیو پاکستان پشاور سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا تیسرا اجلاس پیر کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین خصوصی کمیٹی اور صوبائی وزیر برائے قانون و پارلیمانی امورافتاب عالم نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سمیع اللہ، ڈاکٹر اسرار، فضل الہی، شیر علی آفریدی، ادریس خٹک، ریاض خان، احمد کنڈی اور طارق سعید نے شرکت کی، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ، پولیس اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو پیش آنے والے ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ حقائق کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور کسی بے گناہ فرد کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پولیس کی جانب سے درج تمام ایف آئی آرز، تفتیشی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی مصدقہ نقول آئندہ اجلاس سے کم از کم تین روز قبل اراکین کو فراہم کی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد اراکین کو کیس کے تمام پہلوؤں سے مکمل آگاہی دینا ہے تاکہ وہ دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ ٹھوس اور ناقابلِ تردید بنیادوں پر مرتب کر سکیں۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ کیس میں مؤثر پیشرفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے، کیونکہ ان کے بغیر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی افتاب عالم نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام ریکارڈ کو مکمل، منظم اور قابلِ رسائی شکل میں مرتب کر کے مقررہ وقت سے قبل کمیٹی کے حوالے کیا جائے، تاکہ تحقیقات کا عمل شفاف، مؤثر اور تیز رفتار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
مشیر برائے کھیل خیبر پختونخوا تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اور چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) نے شرکت کی
مشیر برائے کھیل خیبر پختونخوا تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اور چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بونیر کے معروف “ٹوٹالئی گراؤنڈ” سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گراؤنڈ کی ترقی، بہتری، سہولیات کی فراہمی اور جاری منصوبوں پر پیش رفت پر غور کیا گیا۔مشیر کھیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹوٹالئی گراؤنڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے تاکہ مقامی کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی کام بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے پشاور میں ان کےحلقہ نیابت سے آئے ہوئے مختلف وفود نے ملاقات کی
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے پشاور میں ان کےحلقہ نیابت سے آئے ہوئے مختلف وفود نے ملاقات کی۔ وفود نے مشیر کو اپنے درپیش مسائل اور مشکلات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔مشیر تاج محمد خان ترند نے وفود کے مسائل نہایت توجہ اور سنجیدگی سے فرداً فرداً سنے اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ عوامی خدمت ہماری سیاست کا بنیادی مشن ہے اور صوبائی حکومت عوام کی خدمت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف امیر و غریب سب کے لیے یکساں فلاح و بہبود، میرٹ اور انصاف کے اصولوں پر کاربند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائد عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل افرئدی کا وژن ہی ہمارا نصب العین ہے، اور اسی وژن کے مطابق عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں
Prompt resolution of public issues, regional development and public service remain top priorities: Minister Excise Syed Fakhar Jehan
Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, has said that the development of underdeveloped areas, provision of basic facilities and timely resolution of public issues are among the foremost priorities of the current provincial government.
In line with the vision of Pakistan Tehreek-e-Insaf founder chairman Imran Khan, every possible step will be taken to ensure public welfare and service delivery through the principles of transparency, justice, merit and equitable development.
He expressed these views during a Public Day held at his hujra in PK-26 Buner, where he met public delegations from the constituency and addressed various joining ceremonies.
The provincial minister held detailed discussions with the delegations regarding regional development, ongoing welfare schemes, provision of basic civic facilities and the resolution of issues being faced by the local population.
The delegations apprised him of certain concerns related to basic infrastructure and public services, discussed key development schemes, and requested immediate redressal of issues of public importance.
He said that timely resolution of public issues and equal development across all areas form the core vision of Imran Khan, which the provincial government is actively translating into practical measures.
He added that empowering youth, ensuring transparency in development projects and bringing less development regions into the mainstream of progress are important pillars of the government’s policy.
The minister directed the relevant authorities to take immediate steps for the resolution of public grievances and further accelerate progress on development and welfare initiatives so that relief could be provided to the people at the earliest.
He further stated that maintaining continuous public engagement, directly understanding people’s issues, and adopting an effective strategy for their prompt resolution are among the key priorities of the present government. He made it clear that no negligence in projects of public welfare would be tolerated.
On this occasion, Altaf Hussain, an important political worker from Jamaat-e-Islami belonging to Tehsil Chagharzai, Union Council Sorey Village Landai Bazar Kot, along with his relatives and associates, resigned from Jamaat-e-Islami and joined Pakistan Tehreek-e-Insaf. Former Tehsil Nazim Haji Muhammad Sharif Khan, known as Baba-e-Chagharzai, along with party workers, was also present at the joining ceremony.
Meanwhile, the provincial minister also met local elders and notables in Union Council Shalbandai and later attended another joining ceremony as chief guest in Mohalla Band Kalay. On the occasion, Bakht Zareen Shah, Zamrud Shah, Rohamin Shah, Tariq, Ismail Shah, Saqib Zareen, Suhail, Asif, Faisal, Razi Mand Shah, Shafiq, Salman, Bilal, Samad, Mehran Syed, Bakht Munir, Bakht Nazir Shah, Syed Wazir Shah, Luqman Shah, and Zahir announced their joining of Pakistan Tehreek-e-Insaf.The provincial minister welcomed the new members into the party, congratulated them on their decision, and expressed his best wishes for their future political role.
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کا طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم اقدام، پانچ اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے اور انہیں ڈیجیٹل دنیا کے مواقعوں سے جوڑنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پانچ نمایاں تنظیموں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیئے ہیں۔ان معاہدوں کے تحت خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ، ٹائی، سکیل سکواڈ، مائیگرنٹ ریسورس سنٹر اور سرکل وویمن طلبہ کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف پروگرامز پر عملدرآمد کریں گے۔
معاہدوں کے مطابق خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ طلبہ کو ڈیجیٹل اسکلز اور آئی ٹی اکانومی سے متعلق تربیت فراہم کرے گا، جبکہ ٹائی کی جانب سے خواتین کی ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی خودمختاری کے تحت 6000 طالبات کو مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ سکیل سکواڈ کالجز کے طلبہ کو ای کامرس اور انٹرپرینیورشپ کی تربیت دے گا۔اسی طرح مائیگرنٹ ریسورس سنٹر طلبہ اور تدریسی عملے کی محفوظ اور باخبر مائیگریشن کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے میں معاونت فراہم کرے گا، جبکہ سرکل وویمن کالجز میں طالبات کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرامز پر کام کرے گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ طلبہ کو عملی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا میں موجود مواقعوں سے روشناس کرانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں سکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داریاں صوبے کے طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائیں گی۔
صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی لیبر ایسوسی ایشن سے ملاقات، مزدوروں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی
صوبائی وزیر برائے محنت خیبر پختونخوا، فیصل خان ترکئی نے لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں مزدوروں کو درپیش مسائل، فلاح و بہبود اور صنعتی شعبے میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے مزدوروں کو درپیش مختلف مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا، جن میں تنخواہوں، سوشل سیکیورٹی، کام کے محفوظ ماحول اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق امور شامل تھے۔ صوبائی وزیر نے تمام مسائل کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت مزدور طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
فیصل خان ترکئی نے اس موقع پر کہا کہ مزدور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔صوبائی وزیر نے مہمند ڈیم اور سکی کناری منصوبوں سے متعلق مزدوروں کے مسائل کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان منصوبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جلد از جلد حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی اس سلسلے کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ مزدور طبقہ باعزت اور محفوظ ماحول میں کام کر سکے۔ملاقات کے اختتام پر لیبر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری فلڈ پروٹیکشن والز (حفاظتی پشتوں) کی تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری فلڈ پروٹیکشن والز (حفاظتی پشتوں) کی تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے اور انہیں آئندہ مون سون بارشوں سے قبل ہر صورت مکمل کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے یہ ہدایات ضلع بونیر کے مختلف علاقوں بشمول قدر نگر، بٹئی اور دیگر متاثرہ مقامات کے تفصیلی دورے کے موقع پر جاری کیں۔ صوبائی وزیر نے دورے کے دوران فلڈ پروٹیکشن والز پر جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود متعلقہ حکام سے منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی لی۔اس موقع پر ریاض خان نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کی رفتار اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مون سون بارشوں سے قبل مقامی آبادی کا تحفظ یقینی بنانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور کام کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ منصوبے بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں محکمہ آبپاشی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم کا میٹرک امتحانات کے مراکز کے دوروں کا سلسلہ جاری ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ہری پور کے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا اس موقع پر ریز یڈنٹ انسپکٹر بھی ان کے ہمراہ تھے صوبائی وزیر نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول محسن مرتضیٰ شہید (ریحانہ)، گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور، اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سنٹرل جیل ہری پور مراکزمیں جاری میٹرک کے امتحانات کا جائزہ لیا دورے کے دوران صوبائی وزیر نے امتحانی عمل کی شفافیت، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات، سیکیورٹی انتظامات اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ امتحانات کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ طلبہ کو پرامن اور سازگار ماحول کی فراہمی کوبھی اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے امتحانی عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں، اور واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو ان کی محنت کا صحیح اور منصفانہ صلہ مل سکے۔
