Home Blog Page 5

صوبائی وزیرِ قانون کے بروقت اقدام سے منصوبہ آبنوشی چورلکی فعال

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی بروقت مداخلت اور مؤثر اقدامات کے نتیجے میں دریائے سندھ،منصوبہ آبنوشی چورلکی کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ عوامی شکایات سامنے آنے پر صوبائی وزیرِ قانون نے فوری طور پر ایکسین اور متعلقہ ٹھیکیدار سے رابطہ کیا جس کے بعد واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی مرمت مکمل کر لی گئی جبکہ مشینری کو بھی فعال بنا دیا گیا ہے۔ صدر پاکستان تحریکِ انصاف چورلکی عدنان جگر کے مطابق آج عصر کے وقت محلہ سب خیل چورلکی کو پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی جس سے علاقہ مکینوں کو درپیش پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صوبائی وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی حفاظت اور باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا تخریب کاری کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، تعینات ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء، صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فراہم کردہ فنڈز، چیئرمین عامر خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کی کاوشوں سے بازید خیل روڈ پر بھی اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں اضافہ ہوگا۔
علاقہ عوام نے صوبائی وزیرِ قانون ر آفتاب عالم او ر ایم این اے شہریارآفریدی کی علاقے کی ترقی کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی کوششیں، اسی جذبے کے ساتھ آئندہ بھی مؤثر انداز میں عوامی فلاح کیلئے جاری رکھیں گے۔

پی ٹی آئی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے صوبائی وزیر فضل شکورخان کا ضلع چارسدہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی بھرپور حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ وہ ضلع چارسدہ میں منعقدہ شمولیتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر ایاز خان، باچامیر، صدیق خان اور آمین خان نے عوامی نیشنل پارٹی سے مستعفی ہو کر اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ صوبائی وزیر فضل شکور خان نے نئے شامل ہونے والے پی ٹی آئی کارکنان کو پارٹی کیپ اور مفلر پہناتے ہوئے انہیں پاکستان تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا۔
اپنے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا تیسری مرتبہ بھاری اکثریت سے اقتدار میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی پہلے سے زیادہ مضبوط، منظم اور عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام بار بار اس جماعت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
فضل شکور خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی ہے، چاہے وہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہو، صحت، تعلیم یا دیگر بنیادی سہولیات ہو ں، موجودہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔
پارٹی میں نئے شامل ہونے والے کارکنان نے اس موقع پر کہا کہ ان کی شمولیت کسی ذاتی مفاد کے تحت نہیں بلکہ عوامی خدمت، نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور علاقے کی ترقی کے وژن کے پیش نظر ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ہی وہ واحد سیاسی پلیٹ فارم ہے جو ملک کو درست سمت میں لے جا سکتا ہے۔
آخر میں صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی خدمت، حق و انصاف اور حقیقی تبدیلی کے مشن کو پوری قوت سے آگے بڑھاتی رہے گی اور نئے شامل ہونے والے ساتھی پارٹی کے وژن کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی جانچنے کیلئے بھی ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏وفاقی حکومت کے خود گورننس کے مسائل ہیں اور انکو چھ مہینے کا وقت ملا ہے گورننس کی شکار حکومت دوسروں کی کارکردگی کا کیا جائزہ لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں اڑان پاکستان پروگرام کہاں گیا اور احسن اقبال بتائیں ان کی وزارت کے منصوبوں کی کیا صورتحال ہے؟ وفاقی وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے کتنا بجٹ پہلے چھ ماہ میں جاری کیا اور 2022 سے اب تک کتنے منصوبے مکمل کئے؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک سی پیک میں کیا پیش رفت ہے اور وزیر اعظم بتائیں 2022 سے 2025 تک 35,000 ارب کا قرضہ لیا اس سے کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بتائیں ملک میں 21 سالہ بلند ترین بے روزگاری کیوں ہے اور حکومت بتائیں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے کیسے پہنچے ان تمام سوالات کے نتیجے میں سب سے پہلے ایک کمیٹی وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر بنی چاہیے

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا اہم بیان جاری

وفاقی حکومت کے خود گورننس کے مسائل ہیں اور انکو چھ مہینے کا وقت ملا ہے۔ مزمل اسلم

گورننس کی شکار حکومت دوسروں کی کارکردگی کا کیا جائزہ لیں گے؟ مزمل اسلم

وزیر اعظم بتائیں اڑان پاکستان پروگرام کہاں گیا؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

احسن اقبال بتائیں ان کی وزارت کے منصوبوں کی کیا صورتحال ہے؟ مزمل اسلم

وزارت منصوبہ بندی نے کتنا بجٹ پہلے چھ ماہ میں جاری کیا؟ مزمل اسلم

احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک کتنے منصوبے مکمل کئے؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

احسن اقبال بتائیں 2022 سے اب تک سی پیک میں کیا پیش رفت ہے؟ مزمل اسلم

وزیر اعظم بتائیں 2022 سے 2025 تک 35,000 ارب کا قرضہ لیا اس سے کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے؟ مزمل اسلم

وزیراعظم بتائیں ملک میں 21 سالہ بلند ترین بے روزگاری کیوں ہے۔ مزمل اسلم

حکومت بتائیں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے کیسے پہنچے۔ مزمل اسلم

ان تمام سوالات کے نتیجے میں سب سے پہلے ایک کمیٹی وفاقی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر بنی چاہیے۔ مزمل اسلم

Karachi reception for CM Sohail Afridi underscores PTI’s popularity in Sindh: Shafi Jan

Special Assistant to the Chief Minister on Information and Public Relations, Shafi Jan, said on Saturday that the warm and enthusiastic reception accorded to Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi upon his arrival in Karachi for a Sindh visit had once again underscored Pakistan Tehreek-e-Insaf’s growing popularity in the province.

In a statement, he said the massive turnout of party workers and the public reflected that Sindh still stood firmly with the ideology of PTI founder Imran Khan. “PTI has once again proven that it is the country’s only truly national political party, and the entire nation remains united and steadfast with its leader, Imran Khan,” he added.

Shafi Jan said CM Afridi was escorted from Karachi airport to Insaf House in the form of a large rally by party workers. He termed the chief minister’s Sindh visit crucial for injecting fresh momentum into the party’s street movement.

He said that during his three-day visit, the chief minister would meet party leadership, incarcerated party members, workers, as well as lawyers and journalists. He added that CM Afridi would hold a formal meeting with the Sindh chief minister on Monday, while on Sunday he would address a large public gathering at Jinnah Bagh, expected to be attended by a sizeable number of party supporters.

The special assistant said that since the general elections, PTI’s political activities across the country had remained under an undeclared restriction. “On the one hand, PTI founder Imran Khan, along with other leaders and workers, has been unjustly imprisoned, and on the other hand, the party has been denied adequate political space,” he said, adding that CM Afridi broke this political deadlock by launching the street movement from Punjab.

He appreciated the conduct of the Sindh government — particularly Sindh Minister Saeed Ghani — for welcoming the chief minister at the airport, contrasting it with the situation in Punjab. Shafi Jan said political activity was the constitutional and democratic right of every political party across the country, and no one had the authority to curtail it through unconstitutional, undemocratic or illegal means.

He further said that CM Sohail Afridi would also lead the street movement in various areas, including Keamari, Malir, Kotri and Korangi, among others.

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Administration was held on Friday at Peshawar.

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Administration was held on Friday at Peshawar. The meeting was chaired by Member of the Provincial Assembly and Member of the Standing Committee, Fazal Elahi. Besides the members of the Standing Committee and MPAs Aftab Alam, Zarshad Khan, and Ms. Rehana Ismail, officials from the Administration Department, Law Department, Finance Department, and the relevant officers of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly attended the meeting.
During the meeting, the Standing Committee was given a detailed briefing on the framework of the Khyber Pakhtunkhwa Right to Public Services (Amendment) Bill, 2025. The Committee deliberated on the proposed amendments to a total of nine sections of the Khyber Pakhtunkhwa Act, 2014, aimed at improving administrative affairs and ensuring the provision of effective, timely, and transparent services to the public. On this occasion, the members of the Committee also presented their opinions and suggestions on the proposed amendments.
It was informed in the meeting that under the proposed amendments, all departments involved in public dealing will be made accountable before the RTI Commission, whereas previously only the government was accountable to this Commission. Furthermore, each department will be bound to submit its annual performance report regarding public services to the Commission by 31 March every year, in order to further strengthen transparency, accountability, and public trust.

Provincial Government Successfully Concludes High-Impact PPP Roadshow. Investors, Contractors & Banks Show Strong Interest in Infrastructure Project

Provincial Government Successfully Concludes High-Impact PPP Roadshow. Investors, Contractors & Banks Show Strong Interest in Infrastructure Project

ISLAMABAD, January 9, 2026 – The Provincial Government of Khyber Pakhtunkhwa announced the successful completion of a dynamic investors roadshow for the Public-Private Partnership (PPP) project, a road connecting Indus Highway N-55 with Hakla D.I. Khan Motorway M-14. The event drew enthusiastic participation from leading construction firms, financial institutions, and private equity investors.

The roadshow, held at Islamabad, showcased the project’s detailed scope, financial arrangements, risk-sharing framework, and implementation timelines. The event provided a platform for stakeholders to engage with government officials and explore opportunities for collaboration.

”The Bannu Link Road Project is a testament to our commitment to improving regional connectivity and promoting economic growth in Khyber Pakhtunkhwa,” says Mr. Adeel Shah, Secretary, P&D Department.

Attendees included CEOs of Tier-1 contractors, senior bankers from national lenders, and investment fund managers, all expressing keen interest in participating in the project. The government’s transparent approach and commitment to de-risking the project through viability gap funding and land acquisition support were highlighted as key factors in generating investor interest.

”We are excited to partner with the private sector to deliver this critical infrastructure project, which will have a transformative impact on the lives of our people,” says Mr. Adeel Shah, Secretary, P&D Department.

Speaking on the occasion, the Secretary Communication and Works Department stated, ”Today’s roadshow was a resounding success. The response from the private sector validates our vision. This PPP Project is not only a fast-tracked critical infrastructure initiative but will also attract long-term, sustainable investment into our province.”

Investors praised the government’s clarity in documentation and commitment to supporting the project’s development. Several firms have already signaled their intent to participate in the upcoming bidding process.

”Khyber Pakhtunkhwa’s successful PPP portfolio, including the landmark Swat Expressway Phase I and Phase II projects, demonstrates our ability to attract private sector investment and deliver development goals,” says Mr. Shahzad Mehboob, Chief Public Private Partnership Unit, P&D Department.

The Bannu Link Road Project is expected to significantly enhance regional connectivity, reduce travel time, and stimulate economic growth in the area. The project’s successful implementation is anticipated to set a precedent for future PPP initiatives in Khyber Pakhtunkhwa.

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے بنیظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال مردان میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے لیے قائم کیے گئے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے بنیظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال مردان میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے لیے قائم کیے گئے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ سنٹر 8 بیڈز پر مشتمل ہے جہاں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کو علاج معالجہ اور پروٹین سے بھرپور خوراک فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر منعقدہ افتتاحی تقریب میں ڈین و چیف ایگزیکٹو آفیسر طبی تدریسی ادارہ مردان پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد، ہسپتال ڈائریکٹر مردان میڈیکل کمپلیکس کرنل (ر) ڈاکٹر گلزار احمد خان، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد سید، انچارج، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔بنیظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال میں قائم نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ سنٹر کے لیے بیڈز، ضروری طبی سامان، ایک ماہر نیوٹریشنسٹ اور دیگر عملہ بھی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ سنٹر میں بچوں کے کھیلنے کے لیے علیحدہ جگہ جبکہ غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے لیے پروٹین سے بھرپور خوراک تیار کرنے کے لیے باقاعدہ کچن بھی قائم کیا گیا ہے۔ سنٹر کا بنیادی مقصد غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کو معیاری دیکھ بھال اور مؤثر علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔افتتاح کے بعد صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور انتظامیہ سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں قائم کیتھ لییب کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ اب تک 700 سے زائد مریضوں کی انجیوگرافی اور انجیوپلاسٹی کے پروسیجرز کامیابی سے انجام دیے جا چکے ہیں۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ صوبے کے عوام کو فوری اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران صحت کے شعبے میں متعدد اصلاحات اور انقلابی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں جس سے شعبہ صحت کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پی۔ ای۔این) خیبرپختونخوا محمد سلیم خان کی قیادت میں ضلع ہری پور کے وفد نے پشاور میں ملاقات کی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پی۔ ای۔این) خیبرپختونخوا محمد سلیم خان کی قیادت میں ضلع ہری پور کے وفد نے پشاور میں ملاقات کی اور نجی تعلیمی شعبے کو درپیش مختلف مسائل اور مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر صوبائی صدر محمد سلیم خان نے وزیر تعلیم کو وزارت تعلیم کا قلمدان سنبھالنے پر مبارکباد بھی پیش کی اور نجی تعلیمی اداروں کو درپیش لیبر لاز، سوشل سیکیورٹی اور دیگر قوانین کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ان قوانین میں مجوزہ ترامیم کے لیے صوبائی اسمبلی میں کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی۔وفد نے ایڈمیشن فیس، اینول فنڈ، سمسٹر سسٹم کے نفاذ سے طلبہ کو درپیش مسائل، پی ایس آر اے (PSRA) پورٹل میں طلبہ کی انٹری کے مضمرات، تعلیمی بورڈز کے امور اور کلسٹر سسٹم امتحانات کے حوالے سے بھی وزیر تعلیم کو تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے وفد کے تمام مسائل کو توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ نجی تعلیمی شعبے کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کو جلد ہدایات بھی جاری کی جائیں گی۔ وفد میں صوبائی نائب صدر فاروق شاہ، ضلعی صدر پی ای این ہری پور بشارت نواز عباسی، جنرل سیکرٹری خورشید احمد، نائب صدور محمد اکبر خان، شہریار خان اور زغفران خان شامل تھے۔ وفد نے مسائل اور مطالبات غور سے سننے اور حل کرنے کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز اور نجی ریہیب ادارے “د حق آواز” کا ایک مشترکہ اجلاس ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز اور نجی ریہیب ادارے “د حق آواز” کا ایک مشترکہ اجلاس ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس،محکمہ کے اعلی اور اینٹی نارکوٹکس ونگ کے افسران اور مزکورہ ریہیب ادارے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور انھیں معاشرے کے مفید شہری بنانے کیلئے مشترکہ کوششوں کے حوالے سے غوروخوض کیا گیا اور اس ضمن میں یہ طے پایا کہ محکمہ ایکسائز خصوصی طور پر پشاور شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں سے نشئی افراد کو لیکر “د حق آواز” ریہیب ادارے کے حوالے کرے گی جہاں پر ان افراد کی باقاعدہ طبی علاج اور بحالی کا انتظام کیا جائے گا۔محکمہ ایکسائز ابتدائی طور پر 100 افراد پہنچانے کیلئے مذکورہ ادارے کیساتھ مفت علاج اور بحالی اقدامات اٹھانے کیلئے عنقریب مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کرے گا۔اس موقع پر صوبائی ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس سید فخرجہان نے کہا کہ یہ اقدام انسانیت کی بھلائی کیلئے ایک عظیم کار خیر ہے کیونکہ ہم نے مخلوق خدا کی فلاح کیلئے کوششیں کرنی ہے جو بطور مسلمان ہمارا فریضہ ہے۔انھوں نے ادارے کی جانب سے نشئی افراد کی بحالی کیلئے محکمہ ایکسائز کیساتھ مشترکہ کوششوں کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ بحالی کے بعد ان لوگوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ پر بھی غور کیا جائے تاکہ انھیں بری صحبتوں کے اثرات اور معاشرے میں اس عفریت سے بچایا جاسکے اور وہ دوبارہ اس لعنت میں نہ پڑیں۔