Home Blog Page 5

برآمدات میں اضافہ کے بجائے کمی کرنے کا ریکارڈ ن لیگ کے پاس ہے دسمبر کے مہینے میں ملکی برآمدات کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر پر آگئی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی برآمدات و قوت خرید سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کے بجائے کمی کرنے کا ریکارڈ ن لیگ کے پاس ہے پاکستان کی برآمدات کی حالت پریشانی سے بھی زیادہ بات بڑھ گئ ہے دسمبر کے مہینے میں ملکی برآمدات کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر پر آگئی ہے جبکہ ملکی برآمدات ایک سال پہلے 2.9 ارب ڈالر تھی ایک طرف بیرونی سرمایہ کاری پر کرفیو لگا ہوا ہے اور دوسری طرف برآمدات کی حالت بھی ایسی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ معاشی پستی کی ایک نوید لوگوں کی قوت خرید سے ظاہر ہوتی ہے شہری علاقوں کے مکینوں کی اصل آمدنی میں 17 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آمدنی میں کمی 2018-19 سے لکیر 2024-25 کے درمیان ہوئی ہے اور دیہاتی علاقوں کی اصل آمدنی میں 5 فیصد کمی آئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ملک کی مجموعی آمدنی میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اس سے تصدیق ہوا کہ ملک میں 42 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے یہ سب پی ڈی ایم اور رجیم چینج کی نوازشات ہیں

صوبے کی معیشت کے لئے سیاحت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے قیمتی عوامی اثاثوں کے شفاف، دیانت دارانہ،مؤثر انتظام اور سیاحت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے،ضلع سوات میں قائم سوات ہوٹل (سابقہ سرینا ہوٹل) سے متعلق بعض عناصر کی جانب سے منفی پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جو حقائق کے برعکس ہے۔شفیع جان نے سوات ہوٹل لیز سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سوات ہوٹل صوبے کی ایک نمایاں سیاحتی ملکیت ہے جو تقریباً 44.6 کنال رقبے پر مشتمل ہے۔ اس ہوٹل کو اپریل 1985 میں ایم/ایس ٹورازم پروموشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ (سرینا ہوٹل) کو 30 سالہ لیز پر دیا گیا تھا جس کا سالانہ کرایہ پانچ لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ لیز معاہدہ 30 جون 2015 کو ختم ہو گیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ 30 سالہ لیز 2015 میں مکمل ہوا۔ لیز کی مدت میں توسیع کی درخواست کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایے کے تعین پر اختلافات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہوا۔ مختلف ادوار میں کرایے کی ازسرنو جانچ کی گئی، جس کے تحت 2014 میں سالانہ کرایہ 88.6 لاکھ روپے جبکہ 2022 میں 1کروڑ 32 لاکھ 70 ہزار روپے مقرر کیا گیا۔ اکتوبر 2021 میں صوبائی کابینہ نے منصفانہ مارکیٹ ریٹ کے تعین سے مشروط، ماضی سے عارضی توسیع کی منظوری دی۔بعدازاں ڈائریکٹر جنرل سی ٹی اے کی سربراہی میں قائم کثیر شعبہ جاتی کمیٹی نے تفصیلی جائزے کے بعد اس ہوٹل کا سالانہ مارکیٹ کرایہ 10 کروڑ 46 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کیا تاکہ موجودہ مارکیٹ حقائق سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ تاہم قانونی و پالیسی تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ طے پایا کہ موجودہ صوبائی پالیسی کے تحت لیز میں مزید توسیع ممکن نہیں۔
اس فیصلے کے بعد سرینا ہوٹل انتظامیہ نے دسمبر 2025 میں ہوٹل خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ 31 دسمبر 2025 کو سوات ہوٹل کا باقاعدہ قبضہ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KP-CTA) کے حوالے کر دیا گیا۔شفیع جان نے مزید کہا کہ حکمت عملی کے تحت اس قیمتی سیاحتی اثاثے کو شفاف اور مسابقتی اوپن نیلامی کے ذریعے لیز پر دیا جائے گا۔ تیسرے فریق کے تخمینوں کے مطابق اس ہوٹل کی ماہانہ مارکیٹ ویلیو نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے صوبے کو خاطر خواہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے، انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ، سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور سیاحتی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی مزید بہتری کے لیے موثر اقدامات اٹھارہی ہے کیونکہ صوبے کی معیشت کے لئے سیاحت کا شعبہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ضلع کوہاٹ میں جاری محکمہ آبپاشی کے مختلف منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

ضلع کوہاٹ میں جاری محکمہ ایریگیشن کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے اور ان پر کام تیز کرنے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت خیبرپختونخوا کیوزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کی۔اس موقع پرسیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران مختلف منصوبوں پر جاری کام کے حوالے سیگفتگو کی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کی جانے والی سکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری محکمہ آبپاشی نے اس موقع پر متعلقہ افسران کو کوہاٹ میں جاری منصوبوں پر جاری کام سے متعلق آگاہی لی۔ وزیر قانون کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کوہاٹ میں جاری ڈیمز اور دیگر منصوبوں پر کام جلد مکمل کرنے سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کوہاٹ بلکہ دیگر اضلاع میں بھی جاری منصوبوں کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ویژن کے مطابق بروقت مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سیکرٹری محکمہ آبپاشی نے کہا کہ گڈ گورننس روڑ میپ کے مطابق کام کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو بروقت ریلیف دیا جاسکے۔

Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Sports and Youth Affairs Taj Muhammad Khan Tarand visits Peshawar Sports Complex

Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Sports and Youth Affairs, Taj Muhammad Khan Tarand visited Peshawar Sports Complex. On this occasion, Director General Sports and other senior officers of the Sports Department were also present.

During the visit, the Sports Advisor made a detailed inspection of various ongoing construction projects in the Sports Complex, especially the construction of the Tartan Track, and reviewed the pace and quality of the work.

Speaking on the occasion, Taj Muhammad Khan Tarand directed that all ongoing development projects, including the Tartan Track, be completed as soon as possible. He clarified that no compromise will be made on the quality of the construction work.
The Sports Advisor said that the construction of the Tartan Track is an encouraging and important step for the preparation of the athletes of the province, which will provide international standard facilities to the athletes. He added that highlighting the talents of talented athletes of Khyber Pakhtunkhwa to the world is the top priority of the government.
He directed the officers of the sports department to ensure timely completion and transparency of development projects so that better sports opportunities can be provided to the youth. The sports advisor further said that the tartan track is in the final stages of completion and will be inaugurated by Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Khan Afridi soon.
Taj Muhammad Khan Tarand has said that the provincial government is striving for the promotion of sports.

The Khyber Pakhtunkhwa government has completed the recruitment process for 58 sub-engineers in the Local Government Department through what it described as a fully transparent mechanism.

The Khyber Pakhtunkhwa government has completed the recruitment process for 58 sub-engineers in the Local Government Department through what it described as a fully transparent mechanism.
Provincial Minister for Higher Education and Local Government Mian Khan Afridi distributed appointment letters among the newly recruited sub-engineers at a ceremony held here in Local Government Secretariat Peshawar.
Speaking on the occasion, the minister said that the recruitment process was conducted strictly through the Educational Testing and Evaluation Agency (ETEA) to ensure merit and transparency. He emphasised that no compromise was made on standards and that merit remained the sole criterion throughout the process.
Expressing confidence in the newly appointed officers, Mr Afridi said he hoped they would perform their duties with honesty, professionalism and a strong sense of responsibility. He added that strengthening the technical capacity of the Local Government Department was essential for improving service delivery at the grassroots level.
The minister reiterated the government’s commitment to transparent recruitment and institutional reforms, stating that such initiatives were aimed at ensuring efficiency, accountability and better governance across the province.

KP Local Government Commission Reactivated, Holds First Meeting Since 2024

The Khyber Pakhtunkhwa Local Government Commission has been fully reactivated and resumed its operations with the holding of its first meeting since 2024, chaired by Provincial Minister for Local Government Meena Khan Afridi.
The 41st meeting of the commission was attended by all members, including Ahmed Karim Kundi. During the session, the commission took up several key agenda items related to governance, accountability, and administrative oversight at the local level.
The commission discussed criminal cases pertaining to the chairman of Village Council Miter Wari in Upper Dir and decided to initiate a formal inquiry through the Local Government Department. It was resolved that the inquiry report would be completed and presented in the commission’s next meeting.
In another decision, the commission resolved to summon, in their personal capacity, a village council chairman and secretary accused of issuing birth certificates to Afghan nationals, to hear their stance on the matter. Similarly, in a separate case involving the Village Council Chairman of Dubandi, Malakand, the commission decided to summon the concerned chairman, secretary, and Assistant Director Local Government over the issue of prolonged absence and the proposed removal from office.
The commission also ratified a judicial decision related to Tehsil Nazim Inamullah Khan.
Chairing the meeting, Meena Khan Afridi directed that a complete schedule of commission meetings for the entire year be issued and emphasized that meetings of the Local Government Commission would now be held on a regular basis.
He reiterated the government’s commitment to strengthening the local government system, stating that the transfer of powers to the grassroots level would be ensured under all circumstances to improve governance and service delivery across the province.

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کا دنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات کا دورہ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ 1.22 ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر رہائشی منصوبہ دنگرام سوات پر باقاعدہ کام کا آغاز فروری 2025 کو ہوا جبکہ اس کی تکمیل کے لیے اگست 2027 کا ٹائم فریم دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع سوات میں دنگرام ہاؤسنگ سکیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دورہ کے موقع پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں منصوبے کے مختلف پہلوؤں، پیشرفت اور درکار اقدامات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنگرام ہاؤسنگ سکیم، خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس کا مقصد سوات میں ایک جدید، منظم اور سہولیات سے آراستہ ایک رہائشی منصوبے کی تعمیر ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مذکورہ رہائشی سکیم مجموعی طور پر 682 پلاٹس پر مشتمل ہے، جن میں 7 مرلہ کے 256 جبکہ 5 مرلہ کے 426 پلاٹس شامل ہیں۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے معیار کام اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا تمام رہائشی منصوبوں میں معیاری سڑکوں، پارکنگ ایریاز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی، نکاس اب، باؤنڈری والز، واٹر ٹینکس، سیپٹک ٹینکس اور ٹیوب ویلز کی تعمیر اور دیگر تمام لوازمات یقینی بنا رہا ہے، تاکہ پائیدار اور منظم شہری ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری صحت اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک ایسوسی ایشن کے نمائندگان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد ڈاکٹروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کرنا اور صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے باہمی اعتماد پر مبنی ایک مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا ہے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت نے پی ڈی اے کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں کی تمام زیرِ التواء ترقیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاجائے گا، جبکہ ڈاکٹروں کے دیرینہ اور جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ڈاکٹروں کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے پی ڈی اے کے نمائندگان کی سیکرٹری ایکسائز کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات بھی مقرر کی جائے گی۔
پی ڈی اے کے نمائندگان نے ڈاکٹر وردہ کے قتل کے مقدمے میں صوبائی وزیرِ صحت کے فعال اور سنجیدہ کردار پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈاکٹروں کے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں سے دیانتداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مکمل لگن کے ساتھ خدمات کی توقع رکھتا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کے بجائے بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، کیونکہ ایم ٹی آئیز خودمختار بورڈز اور وسائل کے تحت کام کر رہی ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ایچ اوز) اور ہسپتال ڈائریکٹرز کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غفلت، نااہلی یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ نئی ہیلتھ پالیسی حتمی مراحل میں ہے، جو ڈاکٹروں کو درپیش بیشتر مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگی۔ محکمہ صحت ڈاکٹروں کے مالی اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ اصلاحاتی ایجنڈا ڈاکٹروں، مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور پیشہ ورانہ تنظیموں کے ساتھ مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ تعاون سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوگا، جبکہ میرٹ کو صحت کے نظام میں انقلاب لانے کی بنیاد بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور خوشحال صوبہ بنایا جائے۔

ریسکیو1122 سالانہ کارکردگی رپورٹ (2025)جاری

خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں سالانہ کارکردگی اجلاس منعقد ہوا، اس موقع پر بلال احمد فیضی ترجمان ریسکیو1122 نے کہا کہ ریسکیو1122 نے گزشتہ سال 2025 میں 2 لاکھ 71 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں، جن میں 1 لاکھ 69 ہزار سے زائد میڈیکل، 25 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات،5691 آگ لگنے کے واقعات، 780 ڈوبنے کے واقعات، 4439 جرائم, 194عمارتیں و چھتیں منہدم، مائنز 10، مختلف نوعیت کے گیس و سلینڈر دھماکے 93 اور دیگر مختلف ایمرجنسیز 6924 شامل ہیں، بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ریسکیو1122 نے 2 لاکھ 89 ہزار سے زائد زخمیوں و مریضوں کوطبی امداد فراہم کی اور علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کیا، ریسکیو1122 نے ہیلتھ ایمبولینس (ریفرل) کے ذریعے 58800 شدید زخمیوں و مریضوں کو بہتر علاج معالجے کے ضلع کے اندر اور دوسرے اضلاع کے بڑے ہسپتالوں کو منتقل کیاجبکہ اس دوران مختلف واقعات میں 6185 افراد جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو1122 شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع اور سابق ایف آر ز میں بھی عوام الناس کو ان کی دہلیز پر یکساں خدمات فراہم کررہا ہے۔ ریسکیو1122 نے صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر عارضی ریسکیو پوائنٹس و سٹیشنز بھی قائم کیے ہیں جہاں سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو بھی ایمرجنسیز کے دوران سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2025 جاری

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 92 ہزار 312 مختلف خوردونوش اشیاء سے منسلک کاروباروں کے معائنے کیے گئے، جبکہ 4 لاکھ 13 ہزار 888 کلوگرام و لیٹرز غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراکی اشیاء تلف کی گئیں۔سالانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوڈ اتھارٹی نے قوانین کی خلاف ورزی پر 7 ہزار 685 بہتری کے نوٹسز جاری کیے، جبکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر 142 خوراکی کاروبار سیل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق خوراک سے منسلک کاروباروں کے لیے 89 تربیتی اور 1,167 آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔سال 2025 کے دوران 40 ہزار 932 نئے لائسنس جاری اور تجدید کیے گئے، جبکہ 1,318 فوڈ پراڈکٹس رجسٹرڈ کی گئیں۔ پراڈکٹ رجسٹریشن، لائسنسز اور جرمانوں کی مد میں 253.8 ملین روپے سرکاری خزانے میں جمع کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی معائنوں میں 29,905 کریانہ سٹورز، 6,338 ہول سیل ڈیلرز، 6,228 بیکری شاپس، 5,184 ڈھابہ، ٹی سٹالز، شوارمہ و دہی بلے شاپس، 4,836 پولٹری و فش شاپس، 4,764 ہوٹلز، 4,688 ڈیری شاپس و فارمز، 4,579 فروٹس و سبزی شاپس، 3,426 میٹ شاپس، 2,115 کباب شاپس اور 1,832 ریسٹورنٹس شامل ہیں۔اسی طرح 1,411 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس، 895 چپس و پاپس فیکٹریز، 446 مصالحہ جات کارخانے، 442 فاسٹ فوڈ پوائنٹس، 411 شہد کی دکانیں اور 68 ڈیری انڈسٹریز کا بھی معائنہ کیا گیا۔تلف شدہ اشیاء میں 184,379 لیٹرز مشروبات، 36,854 کلوگرام گوشت، 21,741 کلو مصالحہ جات، 20,559 کلو پاپس و چپس، 17,065 کلو آئل و گھی، 14,614 لیٹرز دودھ اور 12,376 کلو بیکری آئٹمز شامل ہیں۔پبی، نوشہرہ اور حطار انڈسٹریل زون ہری پور میں جعلی مشروبات اور جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے میں ملوث 3 بڑی فیکٹریاں بند کر کے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ضبط کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سٹیٹک پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں 2,813 خوراکی نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں 2,074 نمونے تسلی بخش جبکہ 738 غیر معیاری قرار پائے۔ ٹیسٹنگ میں پانی، گھی و آئل، مشروبات، مصالحہ جات، پاپس، نمکو، چائے کی پتی، سرکہ،کیچپ، جیم، اور کسٹرڈ پاؤڈر وغیرہ شامل تھے۔اسی طرح موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے دودھ، آئل، گھی، شہد، مشروبات، مصالحہ جات، گوشت اور جوسز، آئس کریم، گرین ٹی،گڑ،فروزن فوڈز دیگر کئی فوڈز کے 14,213 نمونے چیک کیے گئے، جن میں 10,139 نمونے تسلی بخش جبکہ 4,074 غیر معیاری قرار پائے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے 8 خصوصی مہمات چلائی گئیں، جن میں مصالحہ جات، نمکو، چپس، واٹر فلٹریشن پلانٹس، بوتل بند پانی اور لائسنس و پراڈکٹ رجسٹریشن شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے سالانہ رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر بتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی ھدایات پر صوبے میں خوراکی اشیاء کی جانچ کے لیے سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سینٹر فار ریسرچ قائم کرکے باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی کے تمام امور کو تقریباً مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔