Home Blog Page 54

Secretary Sports & Youth Affairs Department Saadat Hassan Reviews Progress on Ongoing Development Projects under Sports & Youth Affairs Department

The spokesperson of the Department of Sports and Youth Affairs, Government of Khyber Pakhtunkhwa, said that the 4th Development Review Meeting for the financial year 2025–26 was held under the chairmanship of the Secretary Sports and Youth Affairs Saadat Hassan. The meeting was attended by representatives and senior officials from the Planning & Development Department (P&D), Directorate of Works, Directorate of Sports, and Directorate of Youth Affairs.

During the meeting, the Secretary was given a comprehensive briefing on the status of ongoing and newly approved projects being executed under both the Sports and Youth Affairs Directorates. The officials presented detailed progress reports on approved, non-approved, and under-consideration projects, highlighting current challenges, budgetary status, and timelines for completion.

Key projects discussed included the establishment of futsal grounds, martial arts arenas, horse riding clubs, Jawan marakiz and polo grounds, as well as the provision of missing facilities in the Jamrud Sports Complex and many other projects. The forum also reviewed the construction of playgrounds at the union council level to promote healthy activities among youth in rural and urban areas alike.

The Secretary, Sports and Youth Affairs, appreciated the efforts of the concerned officers and directed them to accelerate work on all ongoing and pending projects to ensure their timely completion. He emphasized the importance of quality work, transparency, and efficient utilization of funds to maximize public benefit.

The Secretary reiterated that the Sports and Youth Affairs Department is committed to providing modern sports infrastructure and platforms for youth empowerment across the province, in line with the vision of the Government of Khyber Pakhtunkhwa.

کمشنر مردان نثار احمد کی زیر صدارت اجلاس، غیر معیاری خوردنی اشیاء کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں خوردونوش کی غیر معیاری اشیاء اور ناقص مواد کی فروخت کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مردان واصف رحمٰن، سیکریٹری ٹو کمشنر فضل واحد، اسسٹنٹ ٹو کمشنر ریونیو داؤد خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر روبینہ ریاض، ڈپٹی ڈائریکٹر حلال فوڈ اتھارٹی شاد محمد اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر لال باچا سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
کمشنر نثار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء باالخصوص غیر معیاری چپس پاپڑ وغیرہ تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سکولوں، کالجوں اور بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء کے معیار کی سخت نگرانی کی جائے اور تمام کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹس کمشنر آفس میں جمع کرائی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی

قرارداد نمبر 594- پُرامن جمہوری معاشرے کی جانب ایک اہم قدم

سینیٹ آف پاکستان سے حال ہی میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر 594 محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے فکری، سماجی اور سیاسی مستقبل کی سمت متعین کرنے والی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ قرارداد دراصل ایک قومی عہد کی تجدید ہے ۔ایسا عہد جو اس ملک کی بنیاد رکھنے والے اصولوں اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن سے جڑا ہوا ہے۔ آج جب معاشرہ انتہا پسندی، تقسیم، نفرت اور عدم برداشت کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس وقت یہ قرارداد ایک ایسی روشنی ہے جو پاکستان کو ایک پُرامن، مستحکم اور جمہوری معاشرے کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔

قرارداد 594 کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے 11 اگست 1947 کے تاریخی خطاب کو قومی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھ سکے۔ وہ تاریخی خطاب جس میں قائداعظم نے مذہبی آزادی اور شہری مساوات کے دو بنیادی اصول بیان کیے تھے۔ ان کا واضح پیغام تھا کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ اپنی مسجدوں یا ریاست پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم سب ایک ریاست کے مساوی شہری ہیں۔

یہ الفاظ نہ صرف پاکستان کی نظریاتی اساس ہیں بلکہ آج کے دور میں ان کی معنویت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ان رہنما اصولوں کو وقت کے ساتھ فراموش کر دیا۔ مذہب، نسل، زبان اور مسلک کے نام پر معاشرہ تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قرارداد 594 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کا وجود کسی خاص عقیدے کے غلبے کے لیے نہیں بلکہ ایک برابر حقوق رکھنے والے شہریوں کے آزاد وطن کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

قرارداد میں قائداعظم کے خطاب کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کی سفارش اس لیے نہایت اہم ہے کہ معاشرتی اصلاح ہمیشہ تعلیم سے ہی شروع ہوتی ہے۔ ہماری نئی نسل اگر آغاز ہی سے رواداری، مساوات اور احترامِ انسانیت جیسے اصولوں کو سمجھ لے تو مستقبل میں نفرت، انتہا پسندی اور تعصب کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں تاریخ کو اکثر مخصوص نظریات کے تحت پیش کیا گیا جس سے قوم فکری انتشار کا شکار ہوئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو قائداعظم کا اصل پیغام پڑھایا جائے تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ برداشت اور شمولیت (Inclusivity) ہی پاکستان کی اصل روح ہے۔

قرارداد 594 میں بین المذاہب ہم آہنگی اور عوامی آگاہی مہمات کے آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں میں معاشرہ مذہبی اور مسلکی تقسیم کے باعث بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے۔ عبادت گاہوں پر حملے، نفرت انگیز تقاریر، اور مذہب کے نام پر تشدد نے معاشرتی ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کیا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، تعلیمی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر ایک ایسی مہم چلائیں جو عام شہری کو یہ سکھائے کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا احترام ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط جمہوری معاشرہ کھڑا ہو سکتا ہے۔اسی تناظر میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے پختونخوا ایف ایم ریڈیو کوہاٹ سے نشر ہونے والے ایک مقبول پروگرام میں قرارداد 594 پر تفصیلی مکالمہ ہوا، جس میں سامعین نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ عوامی سطح پر اس قرارداد پر بحث و مباحثہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرہ فکری بیداری کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

قرارداد کا پیغام واضح ہے امن، برداشت اور مساوات۔ مگر یہ اہداف اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب ریاست اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین اور پالیسیاں مرتب کرے جو تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مواقع کی مساوات یقینی بنائیں۔ دوسری جانب عوام کا فرض ہے کہ وہ افواہوں اور تعصبات سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں۔میڈیا کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا وہ طاقتور ذریعہ ہے جو معاشرے کے رویے تشکیل دیتا ہے۔ اگر میڈیا برداشت، احترام اور مثبت مکالمے کو فروغ دے تو معاشرہ خودبخود انتہا پسندی سے دور ہوتا جائے گا۔

اگر اس قرارداد کے پیغام پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مذہبی اور نسلی تفریق بڑھنے سے سماجی اعتماد ختم ہو جائے گا۔ تقسیم زدہ معاشرے میں تعلیم، سرمایہ کاری، اور انسانی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان مایوسی اور انتہا پسندی کا شکار ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایک عدم برداشت پر مبنی معاشرہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک آج اس لیے آگے ہیں کہ انہوں نے انسانی برابری اور قانون کی بالادستی کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنایا۔ پاکستان کو بھی اگر عالمی برادری میں ایک مثبت تشخص برقرار رکھنا ہے تو اسے قائداعظم کے بیانیے کی روشنی میں اپنے راستے درست کرنے ہوں گے۔

پاکستان کا اصل بیانیہ مذہب کی بنیاد پر نفرت نہیں بلکہ انسان دوستی اور مساوات ہے۔ قائداعظم کے وژن میں پاکستان ایک ایسی ریاست تھی جہاں ہر شہری کو اس کی مذہبی یا نسلی شناخت سے قطع نظر برابری کا درجہ حاصل ہو۔قرارداد 594 اسی بیانیے کو از سرِ نو زندہ کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے اپنے بانی کے اصولوں کو پسِ پشت ڈالا تو ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں نہ امن بچے گا، نہ ترقی۔ لیکن اگر ہم نے اس قرارداد کے پیغام کو اپنایا تو پاکستان ایک بار پھر روشن، متحد اور جمہوری ملک بن سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 594 پاکستان کے لیے ایک فکری اور نظریاتی تجدیدِ عہد ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رویے، بیانیے اور پالیسیوں پر ازسرِنو غور کریں۔اگر ریاست، ادارے، تعلیمی نصاب، میڈیا اور عوام سب اس قرارداد کے بنیادی پیغام یعنی تحمل، انصاف، مساوات اور احترامِ انسانیت پر متفق ہو جائیں تو ہم اپنے مسائل کے باوجود ایک پُرامن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
قائداعظم کے پاکستان کا خواب اب بھی ممکن ہے بشرطِ یہ کہ ہم اپنے نظریاتی انحرافات کو درست کر کے ان کے قول و فعل کی روشنی میں ایک نئے عہد کا آغاز کریں۔ قرارداد 594 کی حمایت دراصل ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے ایک ایسا عزم جو ہمیں ایک بہتر، منصف اور پُرامن پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

تحریر: اطہر سوری,سٹیشن منیجر,پختونخوا ریڈیو کوہاٹ

کمشنر مردان کا جانوروں کی گلیوں میں ذبح کرنے پر پابندی اور این-45 روڈ کی خوبصورتی کے اقدامات کا حکم

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر کے سلاٹر ہاؤس (مذبح خانے) کے درست طریقے سے کام کرنے کو یقینی بنائیں اور گلیوں اور رہائشی علاقوں میں جانوروں کے ذبح پر مکمل پابندی عائد کریں۔شہر کی خوبصورتی اور این-45 (نوشہرہ مردان روڈ) پر شجرکاری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر نے زور دیا کہ تمام قصاب ہر قسم کے جانوروں کے ذبح کے لیے صرف سرکاری سلاٹر ہاؤس کا استعمال کریں تاکہ صفائی اور شہری نظم و ضبط برقرار رہے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اقبال حسین خٹک، سیکرٹری ٹو کمشنر فضل واحد، ریجنل میونسپل آفیسر ذیشان خان، اے سی آر داؤد خان، ٹی ایم او مردان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ٹی ایم او نے بتایا کہ این-45 کے ساتھ لگے ہوئے ٹوٹے ہوئے گملوں کو نئے گملوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ کمشنر کی ہدایت کے مطابق نئے پھولدار پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر یو اے ڈی اے نے بھی خوبصورتی کے کام پر پیش رفت رپورٹ پیش کی۔کمشنر نے تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) اور اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ این-45 کے ساتھ جاری خوبصورتی کے منصوبوں کی رفتار تیز کریں اور ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ٹی ایم اے تمام خراب اسٹریٹ لائٹس، خصوصاً کالج چوک سے نوشہرہ روڈ تک، دس دن کے اندر تبدیل کرے۔کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تجاوزات خواہ وہ عارضی ہوں یا مستقل کے خلاف بھرپور مہم شروع کرے تاکہ شہر کی اصل خوبصورتی بحال ہو اور ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔اجلاس میں این-45 پر ٹریفک جام اور غیر ضروری یو ٹرنز کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک مینجمنٹ اور متعلقہ امور پر غور کے لیے آئندہ ہفتے ایک الگ اجلاس بلایا جائے گا۔

سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا محمد جاوید مروت کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن کے ریونیو و زرعی انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم اجلاس

سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا محمد جاوید مروت کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن کے ریونیو و زرعی انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم اجلاس کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریونیو افسران اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زرعی انکم ٹیکس، ریونیو امور اور لینڈ ریکارڈ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو محمد جاوید مروت نے اس موقع پر ہدایت کی کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو شفاف اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ اداروں کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور تمام سروس ڈلیوری سینٹرز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ شفافیت اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ریونیوسٹاف کی استعداد کار بڑھانے کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔اجلاس میں خانہ کاشت اور خانہ ملکیت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔فراڈ اور دھوکہ دہی سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے کیش لیس یا الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ تمام سروس ڈلیوری سینٹرز کو سینٹرلائز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے واضح کیا کہ ریونیو سے متعلق تمام مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا کے اشترا ک سے ٹرائبل یوتھ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام گرینڈ ٹرائبل یوتھ کنونشن کا کامیاب انعقاد

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا کے اشترا ک سے ٹرائبل یوتھ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام گرینڈ ٹرائبل یوتھ کنونشن کا شاندار اور کامیاب انعقاد کیا گیا۔ترجمان محکمہ امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا کے مطابق اس تقریب میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، طلباء و طالبات، سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف مکاتبِ فکر سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی مقامی بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیئر مبشر اور ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد ٹرائبل یوتھ ایسوسی ایشن کی خدمات پر مبنی ایک جامع ڈاکیومنٹری پیش کی گئی۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے نوجوان پاکستان کے پُرامن اور خوشحال مستقبل کی اصل طاقت اور بنیاد ہیں۔ محکمہ امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا نوجوانوں کی تعلیم، ہنر، اور قیادت کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ڈاکٹر نعمان مجاہد نے ٹرائبل یوتھ ایسوسی ایشن کی جانب سے گرینڈ ٹرائبل یوتھ کنونشن کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام قبائلی نوجوانوں کو یکجا کرنے، ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔کنونشن کے دوران سوال و جواب کا خصوصی سیشن منعقد ہوا جس میں نوجوانوں نے کھل کر اپنے خیالات اور سوالات پیش کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد اور بریگیڈیئر مبشر نے نوجوانوں کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔تقریب کے اختتام پر تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ٹرائبل یوتھ ایسوسی ایشن کے فری ایجوکیشن پراجیکٹ کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات اور امن و تعلیم کے فروغ میں سرگرم نوجوانوں کو اعزازی سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا، جبکہ مہمانانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

ڈی جی ہیلتھ خیبرپختونخوا کا کے ایم یو موبائل اور صوبائی پبلک ہیلتھ لیبارٹریز کا دورہ

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا ڈاکٹر شاہد یونس نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور کی موبائل اور پبلک ہیلتھ لیبارٹری کا دورہ کیا۔واضح رہے کہ کے ایم یو موبائل لیب سیلاب سے متاثرہ پیر بابا، ضلع بونیر میں 62 روز تک متعدی امراض کی تشخیص اور نگرانی کے لیے تعینات رہی۔ دورے کے دوران ڈاکٹر یاسر یوسفزئی، ڈائریکٹر صوبائی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری نے ڈی جی ہیلتھ کو موبائل لیبارٹری کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران لیبارٹری نے 10 ہزار سے زائد تشخیصی ٹیسٹ کیے جن سے وائرل اور بیکٹیریل بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور سیلاب کے بعد وبائی امراض پر قابو پانے میں مدد ملی۔ موبائل لیبارٹری نے ضلع بونیر کی ضلعی محکمہ صحت انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی اشتراک سے خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر شاہد یونس نے کے ایم یو اور پی پی ایچ آر ایل کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے صوبے میں عوامی صحت کے نظام کو مستحکم بنانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے موبائل لیبارٹری ٹیکنالوجی کے جدید استعمال کو سراہا جس سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں تشخیصی سہولیات کی فراہمی اور امراض کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ مزید برآں، ڈی جی ہیلتھ نے کے ایم یو میں واقع صوبائی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں وفاقی انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ ریسپانس سسٹم (IDSRS) کے تحت فراہم کی گئی جدید تشخیصی مشینری اور نیٹ ورک سپورٹ حوالے کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر علی الرحمن، پراجیکٹ ڈائریکٹر IDSRSنے جدید لیبارٹری آلات باقاعدہ طور پر ڈائریکٹرپی پی ایچ آر ایل خیبرپختونخوا کو حوالے کیے۔ یہ اقدام صوبائی لیبارٹری کی تشخیصی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے اور متعدی امراض کی بروقت نشاندہی و رپورٹنگ کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دورے کے دوران ڈاکٹر شاہد یونس نے لیبارٹری کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور تشخیصی عمل و ٹیسٹنگ استعداد کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے کے ایم یو اور پی پی ایچ آر ایل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی صحت کے مضبوط نظام کے لیے سرکاری و نجی تشخیصی اداروں کے مابین مربوط رابطہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ نے صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی بسوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں شروع کی ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا نے سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر زہریلا اور ماحول دشمن دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں اور بسوں کے خلاف صوبہ بھر میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 7453 گاڑیوں کا دھواں چیک کیا جن میں 4352 گاڑیوں کو پاس کیا جبکہ 3301 گاڑیوں کے ڈرائیور کو چالان کرکے ویٹس سے ایک ہفتہ کے اندر سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے احکامات جاری کئے اسی طرح ویٹس پشاور نے ضلع پشاور کے مختلف نجی سکول بسوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا بھی آغاز کردیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ویہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن (ویٹس) پشاور اور موٹر وہیکل ایگزامینر(ایم وی ای) کی ٹیمیں مشترکہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر مختلف نجی سکولوں کی بسوں کی چیکنگ کر رہی ہیں ویٹس کی موبائل لیبارٹری کے ذریعے بسوں کے دھوئیں کی جانچ کی جاتی ہے، جبکہ موٹر وہیکل ایگزامینر ٹیم بسوں کے ٹائرز، سیٹوں، باڈی اور دیگر فٹنس معیار کا تفصیلی معائنہ کرتی ہے چیکنگ کے بعد جن گاڑیوں کا دھواں بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہوتا، انہیں ویٹس سے فٹنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ویٹس حکام کے مطابق پچھلے تین دن کے دوران ورسک روڈ، دلہ زاک روڈ اور اردگرد کے علاقوں میں واقع نجی سکولوں کی بسوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ اب تک 40 بسوں کی چیکنگ عمل میں لائی گئی ہے جن میں سے صرف 5 بسوں کا دھواں بین الاقوامی معیار کے مطابق پایا گیا، جبکہ باقی بسوں کے مالکان کو فوری طور پر فٹنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ویٹس حکام نے مزید بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو عوام کی جانب سے نجی سکول بسوں کے مضر دھوئیں سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے پیش نظر یہ خصوصی مہم شروع کی گئی۔ پہلے مرحلے میں ورسک روڈ اور دلہ زاک روڈ کے سکولوں کی بسوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں شہر کے دیگر نجی سکولوں کی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جائیں گی محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ جو سکول اس مہم میں تعاون نہیں کریں گے، ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا محکمہ ٹرانسپورٹ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام اور ڈرائیوروں و شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات بھی چلاتا ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے جبکہ رواں سال دھند پر قابو پانے اور موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لئے بھی محکمہ ٹرانسپورٹ کی کوششیں جاری ہے

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائیاں تیز، تین ماہ میں 801 طبی مراکز رجسٹر، 1,678کو سیل کیا گیا

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ شائع کردی۔ ترجُمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق صرف تین ماہ میں 801 طبی مراکز کو رجسٹر کیا گیا جبکہ8199 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا جس میں 4496 طبی مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر جواب طلبی نوٹس جاری کیے گئے اور 1678 طبی مراکز کو سیل کیا گیا۔ اسی طرح 74طبی مراکز کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں 17 کو مُکمل اور 136 کو عبوری لائسنس جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق تین ماہ میں “خدمات صحت کے معیار”پر سات تربیتی سیشن منعقد کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا جس سے صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طبی مراکز کے 183 ملازمین کو تربیت دی گئی۔ اسی طرح کمیشن کو تین ماہ میں 333 نئی شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 303 کو نمٹا دیا گیا۔ ڈائریکٹر آپریشنز خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ارسلان احمد خان نے رپورٹ پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شُمار کمیشن کے عملے کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جس کا مقصد عوام کو صحت کی معیاری خدمات کی فراہمی ہے۔

غیر پھٹے بموں سے متعلق آگاہی مہم کا کامیاب اختتام

محکمہ سول ڈیفنس خیبر پختونخوا کی جانب سے تین ہفتوں پر مشتمل غیر پھٹے بموں سے متعلق آگاہی مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔اس مہم کا بنیادی مقصد عوام، بالخصوص تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات میں UXBs کے خطرات، ان کی شناخت، اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔اس مہم کے دوران خیبر پختونخوا کے 24 اضلاع میں واقع 78 اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 5296 طلبائ اور 1600 طالبات نے شرکت کی۔تمام سیشنز کے دوران شرکائ کو نہ پھٹنے والے بموں UXBs کی پہچان، ہنگامی صورتحال میں ردِعمل، اطلاع دہی کے طریقہ کار، اور حفاظتی اقدامات سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔محکمہ سول ڈیفنس نے خصوصی توجہ ضم شدہ اضلاع پر مرکوز رکھی، جہاں عوامی آگاہی کی کمی کے باعث UXBs سے متعلق حادثات کے خدشات نسبتاً زیادہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے سول ڈیفنس انسٹرکٹرز نے مقامی تعلیمی اداروں، کمیونٹی سینٹرز، اور نوجوانوں کے گروپس کے ساتھ خصوصی آگاہی سیشنز منعقد کیے اورمجموعی طور پر مہم بعض انتظامی و جغرافیائی چیلنجز کے باوجود انتہائی کامیاب رہی۔محکمہ سول ڈیفنس خیبر پختونخوا کے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق باجوڑ میں قائم آئی ڈی پیز کیمپ میں سول ڈیفنس کے رضاکار اپنی خدمات پوری ذمہ داری اور جذبہ خدمتِ انسانیت کے تحت انجام دے رہے ہیں۔رضاکاروں کی ذمہ داریوں میں خوراک کی تقسیم، میڈیکل سہولیات کی فراہمی میں تعاون، اور کیمپ میں مقیم افراد کا اندراج شامل ہے۔سول ڈیفنس باجوڑ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح ضلع خیبر میں قائم افغان مہاجرین کے کیمپوں میں سول ڈیفنس کے رضاکار دوپہر اور شام کے اوقات میں مستقل بنیادوں پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ان کی خدمات میں خوراک کی تقسیم، میڈیکل فیسلٹی سپورٹ، رجسٹریشن، اور کیمپ میں نظم و ضبط کی نگرانی شامل ہیں۔سول ڈیفنس خیبر، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مکمل تعاون میں رہتے ہوئے افغان مہاجرین اور ان کے خاندانوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن معاونت فراہم کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ محکمہ سول ڈیفنس خیبر پختونخوا کی زیر نگرانی 36 اضلاع میں ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی سیشنز بھی جاری ہیں۔جن میں عوام کو ڈینگی وائرس سے بچاؤ، مچھر کی افزائش روکنے کے طریقے، صفائی ستھرائی کی اہمیت، اور ہنگامی حالات میں ابتدائی طبی امداد کے اصولوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق پشاور کے انڈسٹریل زون سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر صنعتی علاقوں میں سول ڈیفنس کے انسٹرکشنل اسٹاف اور افسران کی ٹیمیں فائر سیفٹی انسپیکشنز انجام دے رہی ہیں۔ورکرز کو فائر فائٹنگ آلات کے استعمال، آگ لگنے کی صورت میں ابتدائی ردعمل، اور محفوظ انخلائ کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ان اقدامات کا مقصد صنعتی اداروں میں آگ سے متعلق حادثات کے خطرات کو کم کرنا اور ورک فورس کو بہتر حفاظتی شعور سے آراستہ کرنا ہے۔جبکہ نئے اقدام کے تحت رضاکاروں کی آن لائن انرولمنٹ اور تربیتی نظام کا آغاز کیا گیا ہے اور قومی دفاع اور ہنگامی حالات میں خواتین کی شمولیت چوں کہ ناگزیر ہے اس لئے محکمہ سول ڈیفنس خیبر پختونخوا کی زیرِ نگرانی خواتین کو مختلف سول ڈیفنس خدمات میں خصوصی تربیت (Specialized Training) فراہم کی جاتی ہے جس کی بدولت معاشرتی تحفظ میں بہتری، اور عوامی آگاہی میں وسعت کے ساتھ قومی سطح پر دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوتاہے۔ وہ ہنگامی حالات، قدرتی آفات یا فضائی حملوں کے بعد خواتین متاثرہ اور بے گھر افراد کو خوراک، پناہ، اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں۔علاوہ ازیںڈائریکٹر سول ڈیفنس خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں سول ڈیفنس رضاکاروں کو آن لائن انرول کرنے کا بھی اقدام اٹھایا ہے جس کے تحت رضاکاروں کی جدید تقاضوں کے مطابق استعداد کار کی تربیت فراہم کی جائے گی، تاکہ ان کی صلاحیتوں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اس اقدام کا مقصد ایک منظم، تربیت یافتہ اور فعال رضاکار فورس تیار کرنا ہے جو کسی بھی جنگی حالات، انسانی ساختہ یا قدرتی آفات کے دوران فوری، مؤثر اور منظم انداز میں عوامی خدمت انجام دے سکے۔