Home Blog Page 54

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکرامجدعلی نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت کیلئے انکا دفتر ہر وقت کھلا ہے ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکرامجدعلی نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت کیلئے انکا دفتر ہر وقت کھلا ہے ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں ۔انہوں نے ملازئی ہاؤسنگ سکیم میں رہائشیوں کو سہولیات کی فراہمی میں غفلت برتنے والے انچارج کو معطل کرنے کا حکم دیا اورایک ماہ کے اندر ملازئ ہاؤسنگ سکیم کے رہائشیوں کی تمام تحفظات دور کرنےاور انکے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی سختی سے ہدایت کی ۔ان خیالات کا اظہارِ انہوں نے منگل کے روز ملازئی ہاؤسنگ سکیم ورسک پشاور میں ایک کھلی کچہری سے خطاب کے دوران کیا ۔ کھلی کچہری میں سکیم کے رہائشیوں نے صوبائی وزیر کو ملازئی ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔رہائشیوں نے سکیم کے بارے مختلف مشکلات،مسائل اور سہولیات کی عدم موجودگی بارے تفصیلی گفتگو کی ۔اس موقع پر ڈاکٹر امجد علی نے شرکاء سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشیوں کو تمام سہولیات فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ملازئی سکیم کے رہائشیوں کو بجلی، گیس سمیت سیکیورٹی،سٹریٹ لائٹ،صفائی کیلئے تحصیل میونسپل آفیسرز سے ایک گاڑی کا انتظام کیا جائیگا ۔انکا کہنا تھا کہ مسجد میں تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور پینے کے صاف پانی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ جلد لگانے کی ہدایت کردی ۔ہاوسنگ سکیم کیلئے سیکیورٹی انتظامات کیلئے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھانے کی ہدایت کردی ۔ڈاکٹر امجد نے مزید کہا ہے کہ جو اہلکار ڈیوٹی میں غفلت برتتے ہیں انکو موقع پر معطل کیا جائے ۔انہوں نے کہا ہے کہ سوسائٹی میں صفائی کا انتظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سکیم کے رہائشیوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے اور وہ اپنے مسائل بارے رپورٹ محکمہ کو ارسال کریں تاکہ بروقت ان مسائل کو حل کیا جاسکے ۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ سوئی گیس اور بجلی کے مسائل کے حل کیلئے ایک ماہ کے اندر اقدامات اٹھائیں جائیں اور باؤنڈری وال کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہچانے کی ہدایت کردی ۔اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان ،ڈی جی ہاؤسنگ زاہد خان اور ایڈیشنل ڈی جی امان الحق بھی موجود تھے

مختلف قانونی مسودات میں ترامیم کے حوالے سے قانون ساز کمیٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت مختلف قانونی مسودات میں ترامیم کے حوالے سے قانون ساز کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل اور خیبر پختونخوا سٹامپ ترمیمی بل میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی، محکمہ ریونیو و اسٹیٹ، محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ علاقوں اور انتظامی حدود کی تقسیم و تبدیلی کے نتیجے میں نئے تشکیل پانے والے اضلاع کو مقامی حکومت کے قانونی ڈھانچے میں شامل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔مجوزہ ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے نویں شیڈول میں ترمیم کرتے ہوئے سابقہ اضلاع کی تبدیل شدہ حدود کو قانونی طور پر منظم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کونسلوں کی مجموعی حد میں اضافہ کیے بغیر نئی حدود کی حدبندی (Delimitation) کے لیے ضروری انتظام کیا جائے گا۔مجوزہ بل میں ہنگو اور کرک اضلاع میں ویلج کونسلز اور نیبرہڈ کونسلز کی تعداد میں انتظامی ایڈجسٹمنٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ مقامی حکومتوں کے نظام کو موجودہ انتظامی حدود اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سٹامپ ترمیمی بل کے حوالے سے بتایا گیا کہ سٹامپ ایکٹ 1899 میں غیر منقولہ جائیداد میں حقوق، ملکیت یا مفاد کی منتقلی کے لیے الگ قانونی طریقہ کار موجود نہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے معاملات موجودہ سٹامپ ڈیوٹی نظام کے تحت یکساں طور پر منظم نہیں ہیں۔مجوزہ ترمیم کے ذریعے شیڈول-I میں نیا آرٹیکل 11-AA شامل کرتے ہوئے ’’Assignable Deed‘‘ کو دستاویزات کی ایک الگ اور باقاعدہ قسم کے طور پر متعارف کرایا جائے گا اور اس پر قابل اطلاق سٹامپ ڈیوٹی مقرر کی جائے گی۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد حقوق، ملکیت یا مفاد کی منتقلی سے متعلق معاملات میں قانونی وضاحت پیدا کرنا، ایسی منتقلیوں کی باضابطہ دستاویز بندی کو فروغ دینا اور سٹامپ قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانا ہے۔اجلاس میں دونوں قانونی مسودات میں مجوزہ ترامیم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے بریفنگ لی گئی۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائیاں،3 ہزار کلو مردہ مرغیاں اور 680 لیٹر غیر معیاری دودھ پکڑکر تلف،ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 3 ہزار کلو گرام مردہ مرغیاں اور 680 لیٹر غیر معیاری دودھ برآمد کرکے تلف کر دیا جبکہ ذمہ داران کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے جاری کردہ تفصیلات کیمطابق پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے خفیہ اطلاع پر باچا خان چوک میں کارروائی کرتے ہوئے 3 ہزار کلو گرام مردہ مرغیاں برآمد کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مردہ مرغیاں پنجاب سے پشاور منتقل کی گئی تھیں۔ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے جبکہ برآمد ہونے والی تمام مردہ مرغیاں ڈمپنگ سائٹ پر تلف کر دی گئیں۔دوسری جانب کوہاٹ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے دودھ کی ایک دکان پر چھاپہ مارا اور موقع پر موبائل فوڈ ٹسٹنگ لیبارٹری سے دودھ کی نمونوں کی جانچ پڑتال کی، نمونے غیر معیاری ثابت ہونے پر600 لیٹر دودھ تلف کیا اور دکان کے مالک پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔اسی طرح ڈی آئی خان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھکر پل پر ناکہ بندی کی اور دودھ لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی جس کیدوران 80 لیٹر غیر معیاری دودھ برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیا۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور مضر صحت خوراک کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ، معیاری اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مشیر زراعت میاں محمد عمر کا ضلع ملاکنڈ کا دورہ، کاشتکاروں کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے ضلع ملاکنڈ میں محکمہ زراعت توسیع ملاکنڈ کے دفتر میں کاشتکاروں کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ زراعت دل نواز، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد فیاض شیرپاؤ، ڈائریکٹر زراعت توسیع ضم اضلاع مراد علی، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع ملاکنڈ محمد وسیم، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت فراد سمیت کاشتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھے۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کھلی کچہری میں کاشتکاروں کے مسائل تفصیل سے سنے اور بعض مسائل موقع پر حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں کو چھوٹی مشینری سستی قیمت پر تین مہینے بعد دی جائیگی اس کے علاوہ سبسڈائز قیمت پر ڈریپ ایریگیشن سسٹم، سپرنکل ایریگیشن سسٹم اور فری ورٹیکل فارمنگ بھی دی جائیگی۔ مشیر زراعت نے ضلع ملاکنڈ میں رائس ریسرچ سنٹر اور لوئر دیر میں زرعی ریسرچ اسٹیشن کے قیام کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں کو سبسڈائزنرخ پر لینڈ لیولنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی تاکہ وہ آسانی کیساتھ کاشتکاری کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے شکایات سیل قائم کیا ہے جس میں ای منسٹر پورٹل اور موبائل فون نمبرکے ذریعے شکایات درج کی جاتی ہے اور اس پر فوری موثر کاروائی ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی آفیسر کمیشن یا رشوت کی ڈیمانڈ کرتاہے تو اس کیخلاف فوری طورپر شکایت درج کریں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔اس سے قبل مشیر زراعت نے ضلع ملاکنڈ کے زراعت توسیع دفتر میں میوہ دار پودا لگاکر مون سون شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ کے کاشتکاروں میں ڈسٹرکٹ فنڈ سے3900 مفت میوہ دار پودے تقسیم کئے جائیں گے جس میں آم، امرود، انجیر،انار اور لوکاٹ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مشیر زراعت میاں محمد عمر نے ضلع ملاکنڈ کے زراعت توسیع، واٹر منیجمنٹ، سائل اینڈ واٹرکنزرویشن آفیسران کیساتھ اجلاس کا بھی انعقاد کیا۔ مشیر زراعت نے کہا کہ کوئی بھی آفیسر غلط کام نہ کریں اور کرپشن کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے آفیسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری سے کام کریں اور کسی کے پریشر میں نہ آئے۔ کسانوں کو ریلیف دینا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر معدنیات و معدنی ترقی عارف احمد زئی سے فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کی نمائندہ وفد کی ملاقات

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے معدنیات و معدنی ترقی عارف احمد زئی کا فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کی نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صوبے میں مائننگ سیکٹر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری معدنیات ڈاکٹر محمد اسرار، ڈائریکٹر جنرل منرلز اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کی نمائندہ وفد نے صوبائی وزیر کو سطحی کرایہ اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرانے، ایکسائز ڈیوٹی اور سالانہ کرایوں پر نظرثانی، محکمہ جنگلات سے نقشہ جات کی مد ہم آہنگی، غیر قانونی مائننگ کا خاتمہ، مائننگ ایکٹ 2017 میں درکار ترامیم اور شعبہ معدنیات کو صنعتی درجہ دینے سے متعلق ضروریات و درکار اقدامات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں بھی مائننگ لیزنگ کے عمل کو مکمل طور پر آن لائن اور شفاف بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے اور بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو۔ انہوں نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جن علاقوں سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سمیت صوبے کے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے رائلٹی کی وصولی کے نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے بھی ھدایات جاری کیں۔ عارف احمد زئی کا مزید کہنا تھا کہ مائننگ سیکٹر میں کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کریں گے۔

صوبہ بھر کے سکولوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 10 ہزار نئے کمروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم

وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کے فروغ اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے صوبہ بھر کے سکولوں میں 10 ہزار نئے کمروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس سے سکولوں کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے یہ بات گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کھنڈہ، ضلع صوابی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سابق مشیر صنعت عبدالکریم خان، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سکولوں میں گنجائش کے مسئلے کے حل کے لیے سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام کے تحت صبح اور دوپہر کی شفٹوں میں تدریسی سرگرمیوں سے مسائل میں کافی کمی ہوگی، جبکہ کرائے کی عمارتوں اور کمیونٹی سکولنگ جیسے منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔کھلی کچہری کے دوران ارشد ایوب خان نے اساتذہ اور دیگر شرکاء کے مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر فوری حل کیا جائے۔انہوں نے درسی کتب کی فراہمی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تمام طلبہ کو نصابی کتب فراہم کر دی جائیں گی۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے لڑکیوں کے سکولوں کے لیے 13 کروڑ روپے جبکہ لڑکوں کے سکولوں کے لیے 18 کروڑ روپے مالیت کے فرنیچر کے آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قواعد و ضوابط اور ای پروکیورمنٹ سسٹم کے تحت مرحلہ وار فرنیچر کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ 2013ء کے بعد تمام بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی گئیں جبکہ ای ٹرانسفر پالیسی کے ذریعے تبادلوں کا نظام بھی شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مرحلے میں ہیڈ ماسٹرز، ہیڈ ٹیچرز اور پرنسپلز کو بھی ای ٹرانسفر سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے سکولوں کے قیام کے لیے عطیہ شدہ زمین کی شرط پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ حکومت ضرورت کے مطابق مناسب مقامات پر زمین خرید کر نئے تعلیمی ادارے قائم کر سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایت پر ہری پور کا تفصیلی دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پر ہری پور کا تفصیلی دورہ گیا جہاں صوبائی وزیر نے زیر تعمیر چپڑہ ڈیم اور دوڑ رائٹ بینک کینال پر تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر نے تعمیراتی کام میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور عوامی مفاد میں جلد تکمیل کی ہدایت جاری کی۔دورے کے موقع پر صوبائی وزیر کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی اکبر ایوب، ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز، ایکسین، ایس ای، ایکسین اور محکمہ آبپاشی کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے ڈیم پر جاری تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو ڈیم کی تعمیر، ہائیڈرولوجی، سپل وے اور آؤٹ لٹ ورکس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ چپڑہ ڈیم ہری پور کے عوام کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ اس سے زراعت کو فروغ ملے گا ڈیم پر تعمیراتی کام میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ چپڑہ ڈیم کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تعمیراتی کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے دوڑ رائٹ بینک کینال ہری پور کا بھی دورہ کیا اور زیر تعمیر کینال کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔محکمہ کے افسران نے صوبائی وزیر کو کینال پر جاری کام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر نے موقع پر موجود افسران کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کینال کی تعمیر میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، شفاف طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہیانہوں نے مزید کہا کہ چپڑہ ڈیم اور دوڑ کینال جیسے منصوبے ہری پور کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ ان کی بروقت تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن عثمان خان بیٹنی کا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کا دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن عثمان خان بیٹنی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈیڈک چیئرمین نوشہرہ و رکن صوبائی اسمبلی حاجی زرعالم خان اور رکن قومی اسمبلی سید شاہ احد علی شاہ بھی موجود تھے۔ کالج پہنچنے پر انتظامیہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران معاون خصوصی عثمان خان بیٹنی نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں منعقدہ کھلی کچہری میں شرکت کی، جہاں طلبہ، اساتذہ اور عملے کے مسائل و تجاویز سنی گئیں۔بعد ازاں عثمان خان بیٹنی، حاجی زرعالم خان اور سید شاہ احد علی شاہ نے شجرکاری مہم کے تحت کالج میں پودے بھی لگائے اور ماحول دوست سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔پرنسپل گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی نوشہرہ نے معزز مہمانوں کو کالج کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کرایا۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کالج کی مختلف ورکشاپس اور لیبارٹریوں کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہیں طلبہ کو فراہم کی جانے والی فنی و تکنیکی تعلیم، جدید سہولیات اور تربیتی نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔معاون خصوصی نے کالج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ اور نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشیر کھیل تاج محمد خان ترند کا ضلع مالاکنڈ کا دورہ، محکمہ کھیل کی کارکردگی پر بریفنگ، مختلف سپورٹس گراؤنڈز کا معائنہ، کرکٹ اکیڈمی کو نیٹ فراہم، شجرکاری اور کھلاڑیوں کی بھرپور سرپرستی کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند اور سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان محمد آصف ضلع مالاکنڈ پہنچ گئے، جہاں ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ محمد فیاض خان شیرپاؤ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر سعید اختر، ڈائریکٹر ورکس احمد علی اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر مالاکنڈ محمد فیاض خان شیرپاؤ پورا دن مشیر کھیل کے ہمراہ رہے، جبکہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر سعید اختر، ڈائریکٹر ورکس احمد علی اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران بھی مختلف سرگرمیوں اور دوروں میں ان کے ساتھ موجود رہے۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر سعید اختر نے محکمہ کھیل مالاکنڈ کی کارکردگی، جاری و مجوزہ کھیلوں کے ایونٹس، سپورٹس گراؤنڈز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے بریفنگ دی۔بعد ازاں مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے ضلع مالاکنڈ میں مختلف کھیلوں کی سہولیات اور سپورٹس انفراسٹرکچر کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے رنگ محلہ پلے گراؤنڈ (تحصیل بٹ خیلہ)، ظفر پارک بٹ خیلہ، ڈھیری آلہ ڈنڈ بیڈمنٹن ہال، حنیف خان میموریل سپورٹس کمپلیکس تھانہ اور جلالہ پلے گراؤنڈ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں، دستیاب سہولیات اور گراؤنڈز میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈائریکٹر ورکس احمد علی کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے ترقیاتی کام بروقت مکمل کیے جا سکیں۔دورے کے دوران مشیر کھیل نے کرکٹ اکیڈمی کا بھی دورہ کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کی سہولت کے لیے اکیڈمی کو کرکٹ نیٹ فراہم کیا۔ انہوں نے جاری ہاکی میچ بھی دیکھا، کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں مزید محنت اور لگن سے کھیلنے کی تلقین کی۔مشیر کھیل نے سپورٹس کمپلیکس میں شجرکاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا اور کہا کہ کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ سرسبز اور صاف ماحول کا فروغ بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے ہدایت کی کہ تمام کھیلوں کے ایونٹس میں عوامی نمائندوں کو باقاعدگی سے مدعو کیا جائے تاکہ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کی خدمات اور کھیلوں کے فروغ کے لیے جاری اقدامات سے آگاہی حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات اور مکمل سرپرستی فراہم کی جائے تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اور پاکستان کا نام قومی و بین الاقوامی سطح پر روشن کریں۔مشیر کھیل نے مزید ہدایت کی کہ ضلع مالاکنڈ میں جتنے بھی سپورٹس گراؤنڈز مکمل ہو چکے ہیں انہیں جلد از جلد فعال کیا جائے، جبکہ جن منصوبوں پر کام رکا ہوا ہے انہیں فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ مالاکنڈ کے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلیٰ محمد سہیل آفرید کی قیادت میں کھیلوں کے فروغ، جدید سپورٹس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق نوجوانوں میں پارلیمانی تعلیم، آئینی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تعلیمی و مطالعاتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے مطابق نوجوانوں میں پارلیمانی تعلیم، آئینی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تعلیمی و مطالعاتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی پروگرام کے تحت رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ الہاشمی کی درخواست پر دارالمحبہ الایتام، بنوں (پاک چیریٹی) کے یتیم بچوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا مطالعاتی دورہ کیا۔دورے کے دوران بچوں نے وزیٹرز گیلری سے اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا مشاہدہ کیا، جبکہ انہیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے آئینی کردار، قانون سازی کے مراحل، پارلیمانی روایات اور جمہوری نظامِ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی تاکہ وہ پارلیمانی نظام سے عملی طور پر آگاہی حاصل کر سکیں۔اس موقع پر اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ نوجوان نسل، بالخصوص یتیم اور مستحق بچوں کو جمہوری اداروں، آئینی نظام اور قانون سازی کے عمل سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مطالعاتی دورے نوجوانوں میں قومی شعور، آئینی آگاہی، جمہوری اقدار اور ذمہ دار شہری ہونے کے احساس کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔اسپیکر نے پاک چیریٹی اور رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ الہاشمی کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے محروم طبقات، خصوصاً یتیم بچوں کو ایسے تعلیمی مواقع فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ بچوں کے لیے ایک یادگار اور مفید تجربہ ثابت ہوگا اور انہیں مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دے گا۔دورے کے اختتام پر بچوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے کیے گئے پرتپاک استقبال، رہنمائی اور مہمان نوازی پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اس دورے کو اپنی زندگی کا ایک منفرد، معلوماتی اور یادگار تجربہ قرار دیا۔