Home Blog Page 56

مون سون کے ممکنہ خطرات: وفاقی اور صوبائی اداروں کا ہنگامی تیاریوں کا جائزہ

جاری مون سون سیزن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے اعلیٰ حکام نے پیر کے روز ایک اہم اجلاس میں صوبے کی تیاریوں، حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔شرکاء نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات، مختلف اداروں کے درمیان رابطوں، درپیش چیلنجز اور امدادی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سال غیر متوقع مون سون بارشوں، غیر معمولی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں شدید موسمی واقعات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (جی ایل او ایف)، لینڈ سلائیڈنگ، اربن فلڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ زیادہ ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور یہاں قدرتی آفات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شدید موسمی حالات کی صورت میں متعلقہ اداروں کو بہت کم وقت میں مؤثر کارروائی کرنا ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے مکمل تیاری، باہمی رابطے اور چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤثر پیشگی تیاری نہ صرف صوبے میں انسانی جانوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ قومی سطح پر بھی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔اجلاس میں سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبرپختونخوا سہیل خان نے صوبے کے مون سون پلان اور متعلقہ اداروں کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام 37 اضلاع میں 12 متعلقہ محکموں کے تعاون سے مون سون کے حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ خطرات کے جائزے کی بنیاد پر 11 اضلاع کو زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے جہاں اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، دریائی طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر خطرات کے امکانات زیادہ ہیں۔سیکرٹری ریلیف نے بتایا کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے، تمام اضلاع کے ہنگامی منصوبوں کو اپ ڈیٹ کر کے صوبائی نظام کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، مقامی آبادی میں آگاہی مہم چلائی گئی ہے، رضاکاروں کو تربیت دی گئی ہے جبکہ انخلا کے راستوں اور امدادی مراکز کا بھی تعین کر لیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آلات، مواصلاتی نظام، ہنگامی مشینری اور دیگر ضروری سامان کی جانچ مکمل کر کے انہیں ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو مون سون کے دوران مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ موسم، دریاؤں میں پانی کی صورتحال اور دیگر متعلقہ معلومات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ بروقت فیصلے اور فوری امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبل از وقت وارننگ سسٹم، اداروں کے درمیان رابطوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان بھی شریک تھے۔اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام اور صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کی اپنے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کے خصوصی ترقیاتی فنڈ سے ویلج کونسل غونڈو کے علاقہ جھاڑے میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ پیر مصور خان نے جاری کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے پیر مصور خان کا کہنا ہے کہ تمام یونین کونسلوں کو بلاامتیاز اور یکساں بنیادوں پر ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں گے، تاکہ ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہوں اور عوام کو بنیادی سہولیات یکساں طور پر میسر آ سکیں۔ اہلِ علاقہ نے جاری ترقیاتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان، صوبائی صدر جنید اکبر خان اور سابق تحصیل چیئرمین درگئی پیر اسلام غازی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب عوامی نمائندوں نے عوامی مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے علاقے میں عملی ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا، جس سے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو رہا ہے اس موقع پر مشیر جنگلات نے کہا ہے کہ علاقے میں ترقی کا سفر جاری ہے، عوامی خدمت ہمارا عزم ہے۔

اسپیکر صوبائی اسمبلی نے پارلیمانی لیڈرز کیساتھ اجلاس میں اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں دوبارہ قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کو بھجوانے کی ہدایت کی، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اراکین صوبائی اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز سے اس اراکین صوبائی اسمبلی مراعات ایکٹ پر بحث جاری ہے۔ صحافی برادری، عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے بھی بعض شقوں پر تحفظات سامنے آئے ہیں انہی تحفظات کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ اراکین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا، جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی سے مشاورت کے بعد ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں واپس لینے کی ہدایت کی گئی۔ صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور قائد حزب اختلاف نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام شرکاء کی آراء غور سے سنی گئیں، جس کے بعد اسپیکر نے ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں دوبارہ قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کو بھجوانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ بل قائمہ کمیٹی برائے استحقاق سے آیا تھا، اس لیے کمیٹی ایک ہفتے کے اندر ان شقوں کا دوبارہ جائزہ لے کر انہیں 1988 کے ایکٹ کے مطابق درست اور بحال کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی برادری اور عوام بھی اپنی تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1988 کے ایکٹ اور نئے ایکٹ کی بیشتر شقیں یکساں ہیں، صرف بلیو پاسپورٹ سے متعلق شق مختلف تھی۔ تاہم کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں نہ بچوں، نہ تاحیات سہولت اور نہ ہی شریکِ حیات کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دینے کی کوئی شق شامل تھی۔ گورنر خیبر پختونخوا نے 6 مئی کو بل پر دستخط کیے جبکہ 7 مئی کو اس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوا، لیکن اس وقت کسی جانب سے اس معاملے پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔شفیع جان نے کہا کہ اسحاق ڈار کے نواسے کے کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس معاملے کو اچھالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کیس کو دبانے نہیں دیا جائے گا اور تحقیقات میں سستی پر پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت دونوں کو تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کی ترامیم سندھ اور پنجاب میں بھی کی جا چکی ہیں، مگر وہاں اس پر بحث نہیں ہوئی۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف 992 بلیو پاسپورٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ان کی تعداد تقریباً 56 ہزار ہے، اس لیے اس حوالے سے مکمل حقائق اور اعداد و شمار بھی سامنے لائے جانے چاہییں

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا ٹانک میں پولیس گاڑی پر دھماکے کی مذمت

صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے ضلع ٹانک میں پولیس گاڑی پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ایک پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔یہاں سے جاری اپنے بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات نے شہید پولیس اہلکاروں کی بہادری اور فرض شناسی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں،شفیع جان نے کہا کہ پولیس گاڑی پر حملہ انتہائی افسوسناک، بزدلانہ اور قابل مذمت کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر افسران اور اہلکاروں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا اس دکھ کی گھڑی میں شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے،انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، انکے لواحقین کے لیے صبر وجمیل اور دھماکے میں زخمی ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

مشیر و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت سالانہ جائزہ اجلاس، کھیلوں کے فروغ، میرٹ اور کفایت شعاری پر زور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند کی زیر صدارت کھیلوں کے سالانہ ایونٹس، باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی، مختلف مدات کے اخراجات اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے پی سی ونز سے متعلق اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان محمد آصف، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر اکاؤنٹس فیصل، چیف پلاننگ آفیسر (سی پی او) اور محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سال 2026-27 کے مجوزہ کھیلوں کے پروگرام، مختلف سپورٹس ایونٹس اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے ہدایت کی کہ جہاں بھی حکومتی وسائل کی بچت ممکن ہو وہاں ہر ممکن کفایت شعاری اختیار کی جائے تاکہ عوامی وسائل غیر ضروری اخراجات پر صرف نہ ہوں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ڈائریکٹر ایجوکیشن (سپورٹس) کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ سکول سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، جبکہ کالجوں میں باسکٹ بال، والی بال اور فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔مشیر کھیل نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ہر کھیل کے لیے اوپن میرٹ پر ٹرائلز منعقد کیے جائیں، سفارشی کلچر کا خاتمہ کرکے میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کھلاڑیوں کی آن لائن ڈیٹا انٹری اور رجسٹریشن کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے بتایا کہ کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کو نئی “دستک” ایپلیکیشن کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کھلاڑی اپنی رجسٹریشن خود کریں گے جبکہ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز صرف اس کی منظوری دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس ایپلیکیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سال انٹر مدارس گیمز ریجنل سطح پر منعقد کیے جائیں تاکہ صوبے بھر کے مدارس کے کھلاڑیوں کو مساوی مواقع میسر آئیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسجینڈر گیمز کے انعقاد، صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایڈونچر آؤٹ ڈور سپورٹس کے مقابلے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں کرانے، جبکہ بروغل فیسٹیول کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو بروقت، شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ودودیہ ہال سیدو شریف سوات میں منشیات کے خاتمے سے متعلق کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔

کھلی کچہری میں اراکین صوبائی و قومی اسمبلی فضل حکیم خان،چئیرمین ڈیڈک اختر خان ایڈووکیٹ، سلطان روم اور سلیم الرحمن، سیکرٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، دیگر سرکاری افسران، مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور شہریوں نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کو ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص ضلع سوات میں منشیات کے خاتمے سے متعلق اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے عوامی آراء کو بغور سنا، بعض شکایات کے فوری ازالے کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں، جبکہ دیگر معاملات کو قانونی کارروائی کے لیے نوٹ کر لیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخرجہان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی چئیرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل افریدی کی قیادت میں منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔محکمہ ایکسائز اس حوالے سے پوری طرح متحرک ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کے ساتھ اس ضمن میں غفلت برتنے پر رعایت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر محکمہ ایکسائز یا پولیس کا کوئی افسر یا اہلکار منشیات کے کاروبار یا اس کی سرپرستی میں ملوث پایا گیا تو اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور بلاخوف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، جبکہ صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔صوبائی وزیر نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کو ہدایت کی کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں منشیات فروشوں کے خلاف جامع حکمت عملی اور ایک مؤثر ایکشن پلان تیار کرکے ہمیں ارسال کیا جائے تاکہ اس لعنت کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔کھلی کچہری سے ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان یوسفزئی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نوجوان نسل اور معاشرے کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں، لہٰذا ان کے خاتمے کے لیے تمام اداروں اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت منشیات کے خلاف جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کی اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق پریس کانفرنس

گزشتہ کئی روز سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ پر بحث جاری ہے، شفیع جان

صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کو بھی اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق تحفظات تھے، شفیع جان

صحافی برادری، عوام اور پی ٹی آئی کارکنوں کے تحفظات کے پیش نظر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ اراکین کیساتھ اجلاس منعقد کیا،شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسپیکر صوبائی اسمبلی سے مشاورت کے بعد ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں واپس لینے کی ہدایت کی، شفیع جان

اسی تناظر میں آج اسپیکر صوبائی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس ہوا،شفیع جان

جس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور قائد حزب اختلاف نے شرکت کی، شفیع جان

اجلاس میں تمام پارلیمانی لیڈرز اور قائد حزب اختلاف کو سنا گیا، شفیع جان

اسپیکر صوبائی اسمبلی نے تمام قابل اعتراض شقیں دوبارہ پریولیجز کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی، شفیع جان

چونکہ یہ بل پریولیجز کمیٹی سے آیا تھا، اس لیے کمیٹی دوبارہ اجلاس میں ان شقوں کا جائزہ لے گی، شفیع جان

ایک ہفتے کے اندر کمیٹی قابل اعتراض شقوں پر کام مکمل کرے گی اور انہیں 1988 کے ایکٹ کے مطابق درست اور بحال کیا جائے گا، شفیع جان

صحافی برادری اور عوام بھی پریولیجز کمیٹی کو اپنی تجاویز پیش کر سکتے ہیں، شفیع جان

 پرانے ایکٹ اور نئے ایکٹ کی شقیں یکساں ہیں، صرف بلیو پاسپورٹ کی شق مختلف ہے، شفیع جان

لیکن کابینہ سے منظور شدہ بلیو پاسپورٹ کی شق میں نہ بچوں، نہ تاحیات سہولت اور نہ ہی سپاوئس کا ذکر شامل تھا، شفیع جان

گورنر خیبر پختونخوا نے 6 مئی کو بل پر دستخط کیے جبکہ 7 مئی کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوا، شفیع جان

  گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود اس وقت کسی نے اس معاملے پر بات نہیں کی، شفیع جان

اسحاق ڈار کے نواسے کے کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس معاملے کو اچھالا گیا، شفیع جان

اسحاق ڈار کے نواسے کے کیس کو دبانے نہیں دیں گے، تحقیقات میں سستی پر تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کو بھی تحفظات ہیں، شفیع جان

ایسی ترامیم سندھ اور پنجاب میں بھی کی گئیں، کسی نے اس پر بات نہیں کی، شفیع جان

خیبر پختونخوا میں 992 بلیو پاسپورٹس جبکہ ملک بھر میں ان کی تعداد 56 ہزار بلیو پاسپورٹس جاری ہوئے، شفیع جان

خیبرپختونخوا میں گندم اور آٹے کی کوئی قلت نہیں، مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے معاون خصوصی برائے محکمہ خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کے ہمراہ گندم کی پیداوار، ترسیل، ذخائر اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی گندم کی سالانہ ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار 537 میٹرک ٹن ہے۔ سال 2026 میں گندم کی مقامی پیداوار 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن رہی، صوبے کو سالانہ 38 لاکھ 4 ہزار 537 میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ یہ کمی دیگر صوبوں خصوصاً صوبہ پنجاب کے کسانوں سے خریدی جاتی ہے۔اس وقت سرکاری فوڈ گرین گوداموں میں 1 لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا تخمینہ شدہ ذخیرہ 1 لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے۔ صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 1 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے جس میں 25 ہزار میٹرک ٹن گندم وصول کی جا چکی ہے۔ باقی 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کے لیے ایم او یو پر دستخط اور پیشگی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے۔ صوبائی کابینہ نے مقامی کاشتکاروں سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے، جس کے لئے قیمت فی 40 کلوگرام تین ہزار پانچ سو روپے کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ فی الحال صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی سے متعلق نگرانی کی جارہی ہے۔ قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات جا ری ہیں اوروزیراعلی گندم کی صورتحال کاباقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے قومی اقتصادی کونسل میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا اور این ایف سی، این ایچ پی اور گندم و آٹے کی ترسیل کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ بدقسمتی سے پنجاب حکومت بین الصوبائی تجارت سے متعلق آئین پاکستان کے آرٹیکل 151 کی روح کے منافی گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ ان اقدامات سے خیبر پختونخوا میں سپلائی متاثر ہونے، قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور اقتدار میں ہمیشہ خیبرپختونخوا سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ یہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اس لئے اسے عوامی مشکلات کا احساس نہیں ہے۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے آئینی اور پارلیمانی فورم سے رجوع کیا ہے۔اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت و پنجاب کو 15 مراسلے ارسال کیے،وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گورنر اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اکٹھا کیا۔ صوبائی حکومت مارکیٹ کی مسلسل نگرانی،سٹریٹیجک ذخائر کے تحفظ اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے صوبہ بھر میں گندم اور آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بناتی رہے گی۔ شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں فوری طور پر بلا رکاوٹ گندم اور آٹے کی ترسیل یقینی بنائیں،غیر ضروری پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا معاون خصوصی برائے محکمہ خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کے ہمراہ خیبر پختونخوا میں گندم کی پیداوار ، ترسیل کی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق پریس کانفرنس

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا معاون خصوصی برائے محکمہ خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کے ہمراہ خیبر پختونخوا میں گندم کی پیداوار ، ترسیل کی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق پریس کانفرنس

خیبرپختونخوا کی گندم کی سالانہ ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار 537 میٹرک ٹن ہے۔شفیع جان

سال 2026 میں گندم کی مقامی پیداوار 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن رہی، صوبے کو سالانہ 38 لاکھ 4 ہزار 537 میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہتا ہے ، شفیع جان

جو دیگر صوبوں خصوصاً صوبہ پنجاب کے کسانوں سے خریدی جاتی ہے۔شفیع جان

اس وقت سرکاری فوڈ گرین گوداموں میں 1 لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا تخمینہ شدہ ذخیرہ 1 لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے، شفیع جان

صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 1 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے جس میں 250 ہزار میٹرک ٹن گندم وصول کی جا چکی ہے،شفیع جان

باقی 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کے لیے ایم او یو پر دستخط اور پیشگی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے، شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قومی اقتصادی کونسل میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا – شفیع جان

قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں این ایف سی ، این ایچ پی اور گندم و آٹے کی ترسیل کے حوالے سے صوبے کا مقدمہ پیش کیا، شفیع جان

صوبائی کابینہ نے مقامی کاشتکاروں سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے،قیمت فی 40 کلوگرام تین ہزار پانچ سو روپے کی قیمت مقرر کی گئی ہے، شفیع جان

فی الحال صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے،شفیع جان

وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی سے متعلق نگرانی کی جارہی ہے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، شفیع جان

بدقسمتی سے پنجاب حکومت بین الصوبائی تجارت سے متعلق آئین پاکستان کے آرٹیکل 151 کی روح کے منافی گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رہی ہے، شفیع جان

ان اقدامات سے خیبر پختونخوا میں سپلائی متاثر ہونے، قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے، شفیع جان

مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہمیشہ خیبرپختونخوا سے امتیازی سلوک ہوتا ہے – شفیع جان

مسلم لیگ ن فارم 47 کے ذریعے اقتداریں آئی ہے اسلیئے انکو عوامی مشکلات کا احساس نہیں ، شفیع جان

مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے، شفیع جان

وزیراعلی سہیل آفریدی گندم کی صورتحال کی باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں

حکومت خیبر پختونخوا نے گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیےآئینی اور پارلیمانی فورم سے رجوع کیا ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت و پنجاب کو 15 مراسلے ارسال کیے ،وزیراعلی سہیل آفریدی نے گورنر اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اکٹھا کیا، شفیع جان

وفاقی اور پنجاب حکومتیں فوری طور پر بلا رکاوٹ گندم اور آٹے کی ترسیل یقینی بنائیں،غیر ضروری پابندیاں فوری ختم کی جائیں، شفیع جان

صوبائی حکومت مارکیٹ کی مسلسل نگرانی، اسٹریٹیجک ذخائر کے تحفظ اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے صوبے بھر میں گندم اور آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بناتا رہے گا، شفیع جان

صوبائی حکومت زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ میاں محمد عمر

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر سے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ سمیع اللہ خان نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سمیع اللہ خان کے اپنے حلقہ انتخاب میں محکمہ زراعت سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں، کسانوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ زراعت دلنواز خان، ڈائریکٹر جنرل کارپ رپورٹنگ الطاف شاہ، پلاننگ آفیسر نثار خان بھی موجود تھے۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے واٹر مینجمنٹ کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ نہری پانی کے بہتر استعمال، بارانی علاقوں میں آبی وسائل کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور آن فارم واٹر مینجمنٹ کے فروغ کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ کم وسائل کے باوجود زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔اس موقع پرمعاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ سمیع اللہ خان نے اپنے حلقے کے کسانوں کو درپیش مسائل سے مشیر زراعت کو آگاہ کیا اور محکمہ زراعت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ مشیر زراعت نے یقین دہانی کرائی کہ کسانوں کے مسائل کے بروقت حل اور زرعی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔