Home Blog Page 57

صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی زیرِ صدارت لیبر کالونیوں سے متعلق اہم اجلاس، غیر قانونی رہائش کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت

صوبائی وزیر برائے محنت، فیصل خان ترکئی کی زیرِ صدارت محکمہ محنت کے اہم اجلاس کا انعقاد ہوا، جس میں صوبے بھر کی لیبر کالونیوں سے متعلق امور، نئی تعمیر ہونے والی لیبر کالونیوں، مزدوروں کے لیے تیار کیے گئے انتظامی معلوماتی نظام (ڈیش بورڈ) اور مختلف انتظامی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں حکام نے صوبائی وزیر کو لیبر کالونیوں کی موجودہ صورتحال، دستیاب رہائشی یونٹس، الاٹمنٹ کے عمل اور دیگر انتظامی امور سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ مزدوروں کی سہولت اور بہتر انتظامی نگرانی کے لیے جدید معلوماتی نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی نے ہدایت کی کہ تمام غیر الاٹ شدہ رہائشی یونٹس کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد الاٹ کیا جائے تاکہ مستحق مزدور اور ان کے اہل خانہ ان رہائش گاہوں سے مستفید ہو سکیں اور کالونیاں مکمل طور پر آباد ہوں۔انہوں نے لیبر کالونیوں میں غیر قانونی رہائش کے مسئلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو غیر قانونی رہائش کی واضح اور جامع رپورٹ پیش کرے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ نگراں عملہ (کیئر ٹیکرز) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے، انہوں نے کہا کہ غیر قانونی قابضین کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے یا واجبات کی وصولی میں ناکامی کی صورت میں متعلقہ نگراں عملے کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران لیبر کالونیوں سے 286 غیر قانونی رہائشیوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے، جبکہ آئندہ بھی اس کارروائی کو مزید مؤثر اور تیز کیا جائے گا۔صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی نے لیبر کالونیوں میں خوبصورتی، مرمت اور ترقیاتی کاموں کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام فلیٹس اور مکانات میں ضروری مرمت، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ مزدوروں کو صاف، محفوظ اور بہتر رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ محنت مزدوروں کی فلاح و بہبود، رہائشی سہولیات کی بہتری اور سرکاری املاک کے شفاف و مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کے زیرِ صدارت پی کے-65 چارسدہ میں محکمہ مواصلات کے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ان کے حلقہ نیابت چارسدہ میں محکمہ مواصلات کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ مواصلات کے ایکسین ہائی وے ڈویژن چارسدہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو حلقہ پی کے-65 چارسدہ میں جاری مختلف سڑکوں، رابطہ شاہراہوں، پلوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ متعدد منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ بعض منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں منصوبوں کے معیار، بروقت تکمیل اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد معیاری سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام منصوبے شفافیت، دیانتداری اور انجینئرنگ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت محکمہ ہاؤسنگ کا جائزہ اجلاس، جاری ہاؤسنگ سکیموں کی بروقت تکمیل کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت پیر کے روز ان کے دفتر میں محکمہ ہاؤسنگ کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ کے اعلیٰ حکام نے صوبے بھر میں جاری مختلف ہاؤسنگ سکیموں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ زاہد خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عامر زیب، ڈائریکٹر ٹیکنیکل عمران ہلال اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن امان الحق سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔حکام نے صوبائی وزیر کو جلوزئی ہاؤسنگ سکیم، جرمہ ہاؤسنگ سکیم، ملازو ہاؤسنگ سکیم، حیات آباد ہائی رائز منصوبے اور دیگر جاری ہاؤسنگ سکیموں پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی نے تمام زیر تعمیر ہاؤسنگ سکیموں کو بلا تاخیر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو باقاعدگی سے سائٹ وزٹ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہاؤسنگ کے حکام ایک ہفتے کے اندر ناصر باغ ہاؤسنگ سکیم سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں، جبکہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہفتہ وار اجلاس بھی منعقد کیے جائیں۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ ہاؤسنگ سکیموں میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کسی صورت قابل قبول نہیں، محکمہ میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے باقاعدہ دوروں کا پابند بھی بنایا۔ڈاکٹر امجد علی نے مزید بتایا کہ وہ منگل کے روز حویلیاں ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد کر وائیں گے، جبکہ جمعہ کے روز دنگرام ہاؤسنگ سکیم، سوات میں منعقد ہونے والے کھلی کچہری پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔

Excise Department Seizes 204 Kilograms of Hashish in Largest Anti-Narcotics Operation of the Year

In a major breakthrough under the Khyber Pakhtunkhwa Government’s zero-tolerance policy against narcotics, the Excise, Taxation and Narcotics Control Department has foiled an attempt to smuggle a large quantity of drugs, recovering 204 kilograms of hashish which is the department’s largest anti-narcotics operation of the year.
The successful operation was carried out by the Excise Police Station, Peshawar Region, as part of the provincial government’s ongoing crackdown on drug trafficking under the directives of Provincial Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan.
According to details received from the department, the Excise team intercepted a vehicle bearing registration number BUV-956 (Islamabad) during a targeted operation on Ring Road, Peshawar. A thorough search of the vehicle led to the recovery of 5.1 maunds (204,000 grams/204 kilograms) of hashish, which was being smuggled.
The accused, Wahid Shah, son of Sabit Shah and a resident of Mashokhel, was arrested on the spot. A case has been registered at Excise Police Station Peshawar, while further investigation and legal proceedings are underway.
Commending the performance of the Excise team, Provincial Minister Syed Fakhar Jehan said that drug traffickers are enemies of society and will continue to face indiscriminate action under the law. He reiterated that protecting the younger generation from the menace of narcotics remains one of the provincial government’s highest priorities and affirmed that no leniency would be shown to anyone involved in drug trafficking or the illicit narcotics trade.

خیبر پختونخوا حکومت امن و امان کے قیام اور پولیسنگ نظام کو جدید بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور پولیسنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا ہے جبکہ دہشت گردی سے نبرد آزما فرنٹ لائن اضلاع میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور استعداد کار میں اضافے کے فیز ون اور فیز ٹو کے لیے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پشاور میں سی ٹی ڈی ریجنل ہیڈکوارٹر کے قیام اور اس کے نیٹ ورک کو اضلاع تک توسیع دینے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کے لیے 7.7 ارب روپے، بلٹ پروف گاڑیوں اور آرمرڈ پرسنل کیریئرز کی خریداری کے لیے 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں تھرمل کیمروں، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، جیمرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے 3.562 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، انھوں نے کہا خیبرپختونخوا حکومت مختلف اضلاع میں سیکیورٹی نگرانی کو مزید موثر بنانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کررہی ہے اس ضمن میں اپر و لوئر ساؤتھ وزیرستان، اورکزئی اور کرم میں جدید سیف سٹی منصوبوں کے قیام کے لیے 1.78 ارب روپے جبکہ خیبر، مہمند اور باجوڑ کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے 1.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز مردان، کوہاٹ اور سوات کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ کرک، ٹانک اور مانسہرہ کے سیف سٹی منصوبوں کے لیے بھی بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جدید فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام کے لیے 600 ملین روپے اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے، جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیسنگ اور پٹرولنگ کا جدید نظام متعارف کرانے کے لیے ایک ارب روپے مالیت کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے، گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردوں کے 341 ڈرون حملوں کو اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکام بنایا گیا، جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا پولیس میں یو اے وی (UAV) ڈویژن قائم کیا گیا ہے، جو جدید سکیورٹی حکمت عملی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے،وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بجٹ میں صوبے بھر میں مزید تھانوں اور پولیس چوکیوں کی تعمیر کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو مؤثر اور بروقت پولیس خدمات فراہم کی جا سکیں، شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

حلقہ پی کے 26 بونیر کی ہمہ جہت ترقی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔سید فخر جہان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور پسماندہ علاقوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 26 بونیر کی ہمہ جہت ترقی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ، ان کے مسائل کا براہِ راست جائزہ لینا اور موقع پر احکامات جاری کرنا عوامی خدمت کے مؤثر نظام کا اہم حصہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر میں منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر اپنے حجرے میں مختلف عوامی وفود،عمائدین اورشہریوں سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔
حلقے کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، تعلیم، صحت، آبنوشی، بجلی اور دیگر بنیادی عوامی مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ سید فخر جہان نے تمام مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ضروری ہدایات جاری کیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں حکومت صوبے کے تمام علاقوں میں متوازن ترقی، عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور محروم علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو بلاامتیاز ریلیف کی فراہمی اور عوامی وسائل کا شفاف استعمال حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی، عوامی خدمت اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، جبکہ صوبائی حکومت اسی وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے۔
سید فخر جہان نے کہا کہ پبلک ڈے کا مقصد عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید مضبوط بنانا، عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا ہے۔

محکمہ ریلیف خیبرپختونخوا کی جانب سے ڈیجیٹل ڈیزاسٹر کمپنسیشن مینجمنٹ سسٹم کا اجراء قابل تحسین ہے، عاقب اللہ خان

مون سون 2026 سے متعلق، حساس اضلاع میں پیشگی اقدامات مکمل, صوبائی وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیزاسٹر کمپنسیشن نظام کا مقصد قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو بروقت ریلیف فراہم کرنا، معاوضوں کی تقسیم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور درخواستوں کی پراسیسنگ کو تیز تر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومت خیبرپختونخوا کے عوام دوست اقدامات کا حصہ ہے۔ صوبائی وزیر عاقب اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے مون سون اور موسم گرما کے دوران ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مون سون کنٹیجنسی پلان 2026 جاری کر دیا ہے۔ جس کا مقصد بروقت تیاری، مؤثر ردعمل، جان و مال کا تحفظ اور تمام اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی الرٹ کرتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے ھدایات جاری کردی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر نے وضع شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے سمیت ضلعی انتظامیہ کو ایمرجنسی کنٹرول رومز فعال رکھنے، حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور تمام اداروں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

عالمی بینک کے تعاون سے خیبر پختونخوا حکومت نے ضم اضلاع میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری شروع کی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ضم اضلاع کی پائیدار ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اسی وژن کے تحت صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی نگرانی میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ضم شدہ اضلاع میں  پینے کے صأف پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور ماحولیاتی بہتری کے شعبوں میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری پر عملدرآمدہو رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ ان کا مقصد ان علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنا اور دہائیوں سے موجود بنیادی سہولیات کے فقدان کا خاتمہ بھی ہے۔ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو کافی وقت گزرچکا ہے، تاہم ان علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج تھی، خصوصاً صاف پینے کے پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور گندے پانی کے مؤثر انتظام کے شعبوں میں طویل عرصے تک سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث عوام کو متعدد مشکلات کا سامنا رہا۔ انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت خیبر پختونخوا نے عالمی بینک کے مالی تعاون سے ”خیبر پختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ” (KP-RIISP) کے تحت ضم شدہ اضلاع اور قبائلی سب ڈویژنز میں ایک جامع اور تاریخی ترقیاتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔مذکورہ منصوبہ محض چند ترقیاتی سکیموں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع البنیاد اور طویل المدتی پروگرام ہے جس کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا، انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا اور ضم شدہ اضلاع میں موجود ترقیاتی خلا کو پر کرنا ہے۔آر آئی آئی ایس پی۔کے پی منصوبہ دراصل حکومت خیبر پختونخوا کے اس جامع انضمامی وژن کا حصہ ہے جس کے ذریعے ضم شدہ اضلاع کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جا رہا ہے۔سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے ضم شدہ اضلاع میں پانی اور سینیٹیشن کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا۔ اس منصوبہ بندی میں موجودہ آبادی، مستقبل کی ضروریات، پانی کے دستیاب ذرائع، انفراسٹرکچر کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔جس سے یہ واضح ہوگیا کہ محفوظ پینے کے پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔اسی ماسٹر پلان کی بنیاد پر آر آئی آئی ایس پی۔کے پی کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے تقریباً 25.8 ارب روپے صاف پینے کے پانی کی فراہمی جبکہ تقریباً 7 ارب روپے سینیٹیشن کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 32 ارب روپے سے زائد کی یہ سرمایہ کاری ضم شدہ اضلاع کی تاریخ میں پانی اور سینیٹیشن کے شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں شمار کی جا رہی ہے۔صاف پانی کے شعبے میں مختلف اضلاع میں 12 نئی میگا واٹر سپلائی سکیموں پر کام جاری ہے جن سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ ان منصوبوں میں ضلع کرم کی صدہ، ستین اور شلوزان/پاڑا چنار واٹر سپلائی سکیمیں، جنوبی وزیرستان کی بنگی والا، لدھا اور شامن خیل میگا سکیمیں، ضلع اورکزئی کی سپوہ، عیسیٰ خیل، مشتی میلہ، کنڈی مشتی تا غلجو اور سما ماموزئی سکیمیں، ضلع باجوڑ کی ارنگ اتمان خیل سکیم، ضلع خیبر کی شلمان تا لنڈی کوتل گریٹر واٹر سپلائی سکیم اور ضلع مہمند کی خوئی زئی اور بائزئی میگا واٹر سپلائی سکیمیں شامل ہیں۔اس کے ساتھ منصوبے کا ایک انتہائی اہم جزو 320 سے زائد موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی اور سولرائزیشن ہے۔ ان سکیموں میں سے متعدد بجلی کی عدم دستیابی، پرانے آلات، تکنیکی خرابیوں اور محدود وسائل کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی تھیں۔ خیبر پختونخوا حکومت ان سکیموں کی بحالی، اپ گریڈیشن اور شمسی توانائی پر منتقلی کے ذریعے انہیں مستقل بنیادوں پر فعال بنا رہی ہے، جس سے آپریشنل اخراجات میں کمی اور خدمات کی پائیداری میں اضافہ ہوگا۔سینیٹیشن کے شعبے میں بھی پہلی مرتبہ اس پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت 18 بڑے سینیٹیشن پراجیکٹس، سیوریج نیٹ ورکس، نکاسی آب کے نظام، پی سی سی گلیوں کی تعمیر، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، بارش کے پانی کے مؤثر اخراج اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں عوامی صحت  میں بہتری، آبی آلودگی میں کمی اور شہری و دیہی ماحول کی بہتری متوقع ہے۔ضلع خیبر کے علاقے باڑہ، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، کرم اور اورکزئی کو اس پروگرام میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں متعدد میگا واٹر سپلائی سکیمیں زیر تکمیل ہیں جبکہ شمالی وزیرستان کے میران شاہ اور میرعلی میں سینیٹیشن اور شہری خدمات کی بہتری کے منصوبے منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ کے مراحل میں ہیں۔ اسی طرح باڑہ میں جدید سیوریج سسٹم، نکاسی آب، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور شہری ماحولیات کی بہتری کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا مربوط اور پائیدار نقطہ نظر ہے۔ صاف پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب، ویسٹ واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک، شمسی توانائی کے استعمال، سماجی شمولیت اور آپریشن و مینٹیننس کو ایک جامع فریم ورک کے تحت یکجا کیا گیا ہے تاکہ منصوبوں کے فوائد طویل عرصے تک برقرار رہ سکیں۔مزید برآں، منصوبے کے تحت صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ محکمہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ، جدید تکنیکی معاونت، عملے کی تربیت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، کمیونٹی انگیجمنٹ اور آپریشن و مینٹیننس کے مؤثر نظام کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی خدمات کا معیار برقرار رہے۔حکومت خیبر پختونخوا نے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے فاسٹ ٹریک حکمت عملی اختیار کی ہے۔ سروے، ڈیزائننگ، ماحولیاتی جائزوں، خریداری کے مراحل اور تعمیراتی سرگرمیوں کو بیک وقت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بعض منصوبوں پر عملی کام شروع ہو چکا ہے جبکہ دیگر مختلف مراحل میں ہیں۔یہ منصوبہ تقریباً 50 لاکھ افراد کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ صاف پانی کی فراہمی، بہتر سینیٹیشن، بیماریوں میں کمی، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک اور بہتر معیارِ زندگی جیسے اہداف ضم شدہ اضلاع کی سماجی اور معاشی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔اس منصوبے کے تحت صاف پینے کے پانی کی فراہمی، جدید سینیٹیشن نظام، نکاسی آب، گندے پانی کے محفوظ انتظام، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور مقامی آبادی کو پائیدار سہولیات کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضم شدہ اضلاع میں رہنے والے لاکھوں شہریوں کو صحت مند ماحول، معیاری بنیادی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان  کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت قبائلی اضلاع کی پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور آر آئی آئی ایس پی۔کے پی اسی وژن کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نظر انداز کیے گئے ان علاقوں میں صاف پانی اور سینیٹیشن کی بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ”صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ہماری حکومت اس حق کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔آر آئی آئی ایس پی۔کے پی صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ عوام کی صحت، خوشحالی اور باوقار زندگی میں سرمایہ کاری ہے۔”فضل شکور خان نے کہا کہ منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والی تمام سکیمیں بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کی جائیں گی تاکہ ان کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ منصوبوں کی شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا اور عوامی مفاد کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائیگا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی، سینیٹیشن اور نکاسی آب کی بہتر سہولیات نہ صرف عوامی صحت میں نمایاں بہتری لائیں گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ، خواتین اور بچوں کی زندگی میں آسانی، اور مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے ایسے منصوبوں کو مزید وسعت دے گی تاکہ قبائلی علاقوں کے عوام بھی
 صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح جدید اور معیاری بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آر آئی آئی ایس پی۔کے پی
 ضم اضلاع میں ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔بلاشبہ آر آئی آئی ایس پی۔کے پی صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ خیبر پختونخواحکومت  کے اس عزم کا عملی اظہار ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو بھی وہی بنیادی سہولیات، ترقیاتی مواقع اور معیارِ زندگی فراہم کیا جائے جو صوبے کے دیگر علاقوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔

خیبرپختونخوا میں کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے بے بنیاد ہیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں خیبرپختونخوا کے آٹھ اضلاع میں مبینہ فوجی آپریشن کی منظوری سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر، ٹانک، کرم، باجوڑ، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں اور وزیرستان میں کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی۔ عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر یقین کرنے کی بجائے صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
طارق سعید مروت نے واضح کیا کہ بجٹ میں مختلف مدات کے تحت مختص کیے جانے والے فنڈز ہنگامی حالات، قدرتی آفات، ممکنہ نقل مکانی، ریلیف، بحالی اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ ان فنڈز کو کسی مخصوص یا نئے فوجی آپریشن کی منظوری سے جوڑنا حقائق کی غلط تشریح ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی اقدامات کے لیے حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر فیصلہ قومی مفاد، قانون اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
معاونِ خصوصی نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کریں اور افواہوں کے ذریعے عوام میں بے چینی پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت کا گلیات کا دورہ، غیر قانونی تعمیرات پر سخت برہمی اظہار، ایوبیہ چیئر لفٹ کی جلد بحال ہو جائے گی۔ ملک عدیل اقبال

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت ملک عدیل اقبال نے گلیات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے غیر قانونی تعمیرات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی اور غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ معاون خصوصی سیاحت کے گلیات کے دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد فواد، ڈائریکٹر جنرل محکمہ سیاحت شاہد خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اس موقع پر ملک عدیل اقبال نے کہا کہ گلیات میں عدالتی فیصلے کے تحت تعمیرات پر پابندی عائد ہے اور اس کی ہر صورت پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور گلیات کے قدرتی حسن اور ماحول کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کوئی قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ عمران خان نے صوبے کو بلین ٹری سونامی جیسے انقلابی منصوبے دیے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ سیاحت کے فروغ اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے وہ گلیات میں بھی اپنا دفتر قائم کریں گے۔ ایوبیہ میں چیئر لفٹ کی جگہ کے دورے کے موقع پر ملک عدیل اقبال نے کہا کہ ایوبیہ چیئر لفٹ ایشیا کی پہلی چیئر لفٹ ہے اور گلیات میں سیاحت کے جُھومر کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئر لفٹ کو جلد فعال کرنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے چیئر لفٹ کی بحالی کے معاملے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے عملی اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے چند دنوں میں متعدد بار اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئر لفٹ کی بحالی سے مقامی لوگوں کے کاروبار اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
گلیات کے دورے کے دوران معاونِ خصوصی نے ڈونگا گلی ٹورسٹ فیسیلیٹیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا اور محکمہ سیاحت کو ہدایت کی کہ کمپلینٹ نمبر نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جائے تاکہ سیاحوں کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
بعدازاں انہوں نے 700 میٹر طویل ڈونگا گلی ٹاؤن روڈ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مشک پوری ٹریک کی جانب جانے والی اس سڑک کی بلیک ٹاپنگ مکمل کی ہے۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ ڈونگا گلی روڈ گلیات کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے اور اس کی بلیک ٹاپنگ سے سیاحوں کو مشک پوری ٹریک تک رسائی مزید آسان ہوگی۔
ملک عدیل اقبال نے نتھیاگلی میں سیوریج سسٹم کی تنصیب کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے فنڈز سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ رواں سال مکمل کر لیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ویسٹ واٹر کولیکشن اینڈ ٹریٹمنٹ سسٹم کے لیے مجموعی طور پر 11 ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کیے جائیں گے، جبکہ گلیات کے 6 ٹاؤنز کے ہوٹلز سے نکلنے والے ویسٹ واٹر کو ٹریٹمنٹ کے بعد جنگلاتی علاقے میں چھوڑا جائے گا۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ اس منصوبے سے گلیات کے خوبصورت اور پرفضا ماحول کو صاف، محفوظ اور آلودگی سے پاک رکھنے میں نمایاں مدد ملے گی۔