وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت اور آزادی کی منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری ریاستی جبر، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہیں۔ مقبوضہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ذمہ داری کا سنگین مسئلہ ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم و ستم، جبر اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی آج بھی زندہ ہے اور کسی دباؤ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہی وہ جدوجہد ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ عالمی ضمیر کے سامنے جرات مندی سے اجاگر کیا۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کیا اور اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی بھرپور ترجمانی کی۔ عمران خان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے، جن میں خصوصی واکس شامل ہیں، جبکہ تمام سرکاری عمارتوں اور اہم مقامات پر پینا فلیکسز اور بینرز آویزاں کیے گئے ہیں تاکہ بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔معاونِ خصوصی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور دیرپا حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی جائز جدوجہد کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت کے ساتھ اجاگر کرتا رہے گا۔
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود اور صوبائی محتسب برائے ہراسیت خیبر پختونخوا رباب مہدی کی قیادت میں قومی یومِ خواتین کے موقع پر مشترکہ آگاہی سیشن کا انعقاد
کمشنر پشاور ڈویژن کے دفتر کے زیر اہتمام محتسب سیکریٹریٹ خیبر پختونخوا کے اشتراک سے قومی یومِ خواتین کے موقع پر کمشنر آفس پشاور ڈویژن میں ایک جامع اور مؤثر مشترکہ آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔یہ اہم آگاہی پروگرام کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود اور صوبائی محتسب برائے ہراسیت خیبر پختونخوا رباب مہدی کی خصوصی قیادت اور سرپرستی میں منعقد ہوا، جو خواتین کے حقوق کے تحفظ، قانونی آگاہی کے فروغ اور سماجی انصاف کے قیام کے لیے ادارہ جاتی عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے۔سیشن کے دوران خواتین کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں بالخصوص خواتین کے وراثتی حقوق، کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق قوانین، اور قانونی تحفظ کے دستیاب طریقہ کار شامل تھے۔ مختلف سرکاری محکموں، جامعات، وکلا برادری، خواتین پروفیشنلز، کاروباری نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس پروگرام میں بھرپور شرکت کی۔کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے، ضلعی سطح پر مشترکہ اقدامات، اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں محتسب کے دفتر کے ساتھ مل کر مختلف اضلاع میں مشترکہ کھلی کچہریوں کے انعقاد، عوامی شکایات کے بروقت ازالے، اور خواتین سمیت تمام شہریوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے لیے مشترکہ مہمات چلائی جائیں گی۔ اس موقع پر رباب مہدی نے اپنے خطاب میں خواتین کو بااختیار بنانے، قانونی تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانے، اور عوام دوست اصلاحات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ محتسب ادارہ کمشنر پشاور ڈویژن کے تعاون سے ضلعی سطح پر آگاہی پروگرام، موبائل کمپلینٹ سیلز، اور عوامی رسائی کے اقدامات کو مزید وسعت دے گا تاکہ انصاف ہر شہری تک پہنچ سکے۔پروگرام کے اختتام پر دونوں اداروں کی جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں باہمی تعاون، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے عوامی خدمت، خواتین کے حقوق کے تحفظ، اور شفاف حکمرانی کے اہداف کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے انڈر 21 گیمز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے انڈر 21 گیمز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم کو مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے اور رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز پشاور میں کھیلے جائیں گے، جو صوبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔تاج محمد خان ترند نے کہا کہ انڈر 21 گیمز نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کا بہترین پلیٹ فارم ہیں، جن میں پورے صوبے سے 5 ہزار سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ گیمز میں 38 مردوں اور 18 خواتین کے کھیل شامل کیے گئے ہیں۔انہوں نے قیوم سٹیڈیم کے ٹریک کو صوبے میں اپنی نوعیت کا منفرد ٹریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوان کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی تاکہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر صوبے اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور بدانتظامی ناقابلِ قبول ہے۔معاونِ خصوصی اطلاعات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ کوہاٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی سستی، غفلت یا غیر شفاف رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے دفتر میں کوہاٹ کی ترقیاتی اسکیموں اور عوامی مسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک جامع جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر سمیت تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے ضلعی افسران نے شرکت کی جبکہ متعلقہ محکموں نے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ معاونِ خصوصی نے ہر ترقیاتی اسکیم کی رفتار، معیار اور شفافیت کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے محض فائلوں تک محدود نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس سے جڑے ہیں، اس لئے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ شفیع جان نے افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں خود موجود رہ کر منصوبوں کی مؤثر نگرانی کریں، عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں اور ہر سطح پر شفافیت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آئندہ اجلاس میں محض رپورٹس نہیں بلکہ زمین پر نظر آنے والی عملی پیش رفت ہی افسران کی کارکردگی کا پیمانہ ہوگی۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت صوبے میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت صوبے میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر میں منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ کے سیکرٹری مسعود یونس اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جاری سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ان منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، تکمیل کی صورتحال، درپیش مسائل اور فنڈز کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔بریفنگ میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ متعدد اضلاع میں پینے کے صاف پانی اور سینیٹیشن سے متعلق اہم سکیمیں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، جبکہ بعض منصوبوں پر کام کی رفتار میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں سست روی کا شکار منصوبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو صاف پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔فضل شکور خان نے فنڈز کے شفاف اور بروقت استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام منصوبوں کی مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں باقاعدہ دورے کر کے منصوبوں کے معیار اور رفتار کا خود جائزہ لیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صوبے بھر میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے
اخبارات کے اشتہاری واجبات کی فوری ادائیگی کے لیے صوبائی کابینہ سے سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیر صدارت آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس گزشتہ روز محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد بختیار خان، سپیشل سیکرٹری خزانہ خالد اقبال، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد عمران، مختلف محکموں کے افسران کے علاوہ آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں اخبارات کے طویل عرصے سے زیر التواء اشتہاری واجبات کا جائزہ لینا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنا شامل تھا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد بختیار خان نے بتایا کہ اخبارات کے واجبات 1987 سے زیر التواء ہیں اور محکمہ اطلاعات نے اس سلسلے میں ضروری ہوم ورک مکمل کر کے معاملہ ورک آؤٹ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2025 تک کل واجبات کی رقم 1.4 ارب روپے بنتی ہے، جس کے بعد مختلف محکموں کے ساتھ بلوں کی تصدیق (reconciliation)کی گئی ہے۔ اس میں سے 798 ملین روپے کی بلوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 571 ملین روپے کی بلوں کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ محمد بختیار خان نے مزید بتایا کہ تصدیق شدہ فنڈز میں سے 94 ملین روپے اخبارات کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رقم ابھی اخبارات کو ادا کرنے ہیں۔ مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ اخبارات کو بقایاجات کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ مسئلہ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے، جس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ مشیرِ خزانہ نے محکمہ خزانہ اور محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اخبارات کے اشتہاری واجبات کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر سپلیمنٹری گرانٹس کی سمری ارسال کی جائے تاکہ بروقت صوبائی کابینہ سے منظوری حاصل کر کے اخبارات کا یہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔
پنشن فوائد کی عدم ادائیگی پر شکایت کا ازالہ
ضلع پشاور کے رہائشی غلام صابر کی جانب سے پنشنری فوائد کی عدم ادائیگی کے خلاف وفاقی محتسب کو شکایت درج کروائی گئی۔ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس پشاور نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ کارروائی اور تفتیش عمل میں لائی۔نوٹس کی تعمیل میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ پشاور نے رپورٹ جمع کروائی، جس کے مطابق سائل 15-04-2025 کو مدتِ ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوئے تھے، اور مجاز اتھارٹی کی جانب سے ان کے حق میں 630360 روپے کے پنشنری فوائد منظور کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق منظور شدہ پنشنری فوائد سائل کو ادا کر دیے گئے، جبکہ کیس ایک ماہ کے اندر کامیابی سے نمٹا دیا گیا۔اس کیس کی تفتیش ایڈوائزر مشتاق جدون نے انجام دی، جبکہ فیصلے پر مؤثر عملدرآمد ایسوسی ایٹ ایڈوائزر قاسم جان نے یقینی بنایا۔سائل نے وفاقی محتسب کی بروقت مداخلت پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔ریجنل آفس پشاور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں بالخصوص پنشنرز کو درپیش انتظامی اور مالی مسائل کے فوری، شفاف اور منصفانہ حل کے لیے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔عوام وفاقی اداروں میں بدانتظامی سے متعلق اپنی شکایات براہِ راست وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس پشاور یا سرکاری واٹس ایپ نمبر 03108147713 پر درج کرا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 5 فروری کا دن کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کے اظہار، ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا دن ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 5 فروری کا دن کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کے اظہار، ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، تاہم کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری ظلم و جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور نہتے شہریوں پر مظالم عالمی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہیں۔فضل شکور خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام، کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ہر فورم پر ان کی جائز جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق حل ہونا ناگزیر ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی ایک دن ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگی اور انشائاللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا سلسلہ ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت میں خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت میں خیبر پختونخوا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور موجودہ شقوں، مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے اغراض و مقاصد پر بریفنگ دی گئی۔ خاص طور پر صوبے میں مالی نظم و ضبط، قرضہ جاتی حدود، بجٹ خسارے اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر غور کیا گیا، جن میں قرض لینے کے مقاصد کو محدود کرنا، عارضی کیش ضروریات کے لیے قرض لینے کی شق ختم کرنا، غیر مالی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی شرح بڑھانا اور قرضوں کی ادائیگی کی حد کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد صوبے میں مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا، قرضہ جات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا اور مالی شفافیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی عوامی قرضوں اور گارنٹیز کی حد کم کرنے، پنشن واجبات سے متعلق شق ختم کرنے اور سرکاری اداروں کے قرضوں کو مجموعی حد کے تحت منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں قرضہ جاتی نظم و نسق سے متعلق قانون کی شق 11 میں ترمیم پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت Debt Management Unit کی جگہ Debt Management Office کے قیام کی تجویز دی گئی۔ مجوزہ دفتر کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے جبکہ عملہ مسابقتی بنیادوں پر کنٹریکٹ کے تحت تعینات ہوگا، جس میں مدتِ ملازمت، توسیع اور کارکردگی سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ذمہ دارانہ مالی پالیسی، شفاف حکمرانی اور آئینی تقاضوں کے مطابق قانون سازی پر یقین رکھتی ہے، اور ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دے کر صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ کوئی بھی محکمہ قرض لینے سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری کا پابند ہوگا جبکہ گرانٹس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دیں گے، اور خودمختار ادارے صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر قرض نہیں لے سکیں گے۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد محکموں کو کم سے کم قرض لینے اور اپنے وسائل پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے صوبے کے خسارے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے گی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قانون سازی سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مجوزہ ترامیم قابلِ عمل اور صوبے کے مالی مفاد کے مطابق ہوں۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آبادپشاور میں منعقدہ کینسرکون 18 کی کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آبادپشاور میں منعقدہ کینسرکون 18 کی کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر روشنی ڈالی اور اس کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے کثیر الجہتی اور باہمی تعاون پر مبنی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جن کے ذریعے قومی و بین الاقوامی ماہرین، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد، محققین اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ ملک کے لیے ایک بڑی نعمت ہے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسے ادارے اس نہایت جان لیوا بیماری کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کینسر کے علاج کے بنیادی ڈھانچے میں بعض خلا اور محدودیاں موجود ہیں، تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے اور آنکولوجی سروسز کو مضبوط کرنے کے لیے ایک سنجیدہ اور جامع عملی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔خلیق الرحمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قومی اور معاشرتی سطح پر توجہ صرف علاج سے ہٹ کر احتیاطی تدابیر کی جانب منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں بیماری کے بعد علاج پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ احتیاطی سوچ اور طرزِ فکر کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس معروف اصول پر زور دیتے ہوئے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے وزیرِ صحت نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آگاہی، بروقت سکریننگ اور احتیاطی اقدامات کو ترجیح دی جائے تاکہ کینسر کے مجموعی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت معیاری کینسر کیئر تک رسائی کو یقینی بنانے، ترتیری سطح کے صحت کے اداروں کو مضبوط کرنے، جدت، تحقیق پر مبنی پالیسی سازی اور مضبوط ادارہ جاتی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے علاقوں میں۔ خلیق الرحمان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کینسرکون 18 میں ہونے والی مشاورت اور سفارشات خیبر پختونخوا اور ملک بھر میں کینسر کی نگہداشت کی خدمات اور مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
