Home Blog Page 63

KP Assembly Signs MoU with Edu Tourism for Unity to Promote Parliamentary Capacity Building, Leadership Development and International Cooperation

Peshawar: In the presence of the Hon’ble Speaker, Khyber Pakhtunkhwa Assembly, Babar Saleem Swati, a Memorandum of Understanding (MoU) was signed today at the Speaker’s Office, Khyber Pakhtunkhwa Assembly Secretariat, between the Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa and the international organization Edu Tourism for Unity.

The MoU was signed on behalf of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly by Syed Wiqar Shah, Secretary, KP Assembly, while Muhammad Daniyal Akram, Overseas Executive Director, Edu Tourism for Unity, signed on behalf of the organization.

Members of the Provincial Assembly Ahmad Kareem Kundi and Muneer Hussain Lughmani were also present on the occasion.

Speaking at the ceremony, Speaker Babar Saleem Swati said that strengthening the professional capacity of elected representatives and the Assembly Secretariat staff is fundamental to building a strong, effective and modern parliamentary institution. He added that collaboration with international organizations, leadership development programmes and structured study tours would provide Members of the Assembly and parliamentary staff with valuable exposure to global best practices, thereby enhancing legislation, public representation and institutional performance.

Under the MoU, both organisations will collaborate in the areas of parliamentary capacity building, leadership development, national and international study tours, educational exchanges, and initiatives aligned with the United Nations Sustainable Development Goals (SDGs).

The agreement further provides that all activities, nominations and programmes undertaken under the MoU shall be subject to the approval and oversight of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly Secretariat, ensuring transparency, institutional accountability, confidentiality and effective coordination between the two parties.

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال درگئی کا اچانک دورہ

 وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری صحت سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، درگئی ہسپتال میں جاری ترقیاتی منصوبے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل درگئی ہسپتال کے اچانک دورے کے موقع پر کیا ہے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر درگئی ریاض محسود، ٹی ایم او درگئی، سب انجینئرز، ڈی, ڈی ایم ایس ودیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔پیر مصور خان نے ہسپتال میں زیرِ تعمیر اضافی کمروں کا معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی رفتار و معیار پر بریفنگ لی ہے۔ بریفننگ کے دوران بتایا گیا کہ نئی عمارت کی تکمیل کے بعد مختلف شعبوں کو وہاں منتقل کیا جائے گا، جس سے ہسپتال میں مریضوں کا رش کم ہوگا اور علاج معالجے کی سہولیات مزید بہتر ہوں گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تھیلیسیمیا سنٹر اور فزیوتھراپی اینڈ ری ہیبیلیٹیشن سنٹر کے قیام کے لیے نئی جگہ مختص کرنے کے حوالے سے بھی عملی اقدامات کیے اور اس منصوبے پر جلد پیش رفت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ بعد ازاں پیر مصور خان نے ایمرجنسی، لیبارٹری اور مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، مریضوں کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات، بروقت علاج اور خوش اخلاقی کے ساتھ خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد عوام کو بروقت سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

صحت مند شہری ہی مضبوط خیبرپختونخوا کی ضمانت ہے، غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیح ہے، ڈاکٹر محمد اسرار خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ ایک صحت مند شہری ہی اپنے خاندان، صوبے اور ملک کے لیے ایک کارآمد شہری ثابت ہو سکتا ہے، عوام کو محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی نہ صرف بیماریوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ہسپتالوں پر بوجھ کم ہونے سے صوبے کے مالی وسائل اور معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے درمیان صوبے میں بڑے پیمانے پر فوڈ فورٹیفیکیشن کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری محکمہ خوراک شاہ محمود، ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عامر حسن اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر شبینہ رضا نے اپنے ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کو محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ فورٹیفیکیشن جیسے اقدامات غذائی اور مائیکرونیوٹرینٹس کی کمی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کریں گے، جس سے آنے والی نسلوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر اسرار نے کہا کہ محکمہ خوراک عوامی مفاد کے ہر منصوبے میں متعلقہ قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور محفوظ خوراک کے فروغ کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کا شف اقبال جیلانی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر شبینہ رضا نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس شراکت داری کا مقصد صوبے میں بڑے پیمانے پر فوڈ فورٹیفیکیشن کو فروغ دینا، عوام کو مائیکرونیوٹرینٹس سے بھرپور، محفوظ اور معیاری غذائی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا اور غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا قانونی اصلاحات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، آفتاب عالم

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو تیز، شفاف، مؤثر اور آسان انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی اصلاحات کا عمل مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی، ٹیکس نظام میں شفافیت، عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر نظامِ انصاف کی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر مجوزہ قانون اور ترمیم کو آئینی، قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق مکمل جانچ پڑتال کے بعد حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی یا انتظامی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانون سازی کے ہر مرحلے میں عوامی مفاد، شفافیت، آئینی تقاضوں اور مؤثر عملدرآمد کو مقدم رکھا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں منعقدہ لیجسلیٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026، ضابطہ فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 اور خیبر پختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، محکمہ قانون، محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، محکمہ داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، ضلعی انتظامیہ پشاور اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026 کے مختلف قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ *اسی طرح ضابط? فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 پر تفصیلی غور و خوض کے بعد لیجسلیٹو کمیٹی نے مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دے دی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس مسود? قانون کو منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ان ترامیم سے فوجداری نظام کو مزید مؤثر، مقدمات کے جلد اور منصفانہ تصفیے کو یقینی بنانے اور عوام کو بروقت انصاف کی
فراہمی میں مدد ملے گی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ ماتحت عدلیہ کے سروس معاملات کو مزید مؤثر، شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر استوار کیا جا سکے، جبکہ اربن غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بل 2026 سے متعلق مختلف تجاویز اور قانونی نکات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ زیر غور تمام قانونی مسودات کو اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز، قانونی آراء اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں مزید بہتر بنایا جائے، تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل بروقت مکمل کیا جائے، مالی و انتظامی اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے اور باقی ماندہ مسودات کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر آئندہ اجلاسوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ بین المحکمہ رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ قانون سازی کے عمل کو بروقت مکمل کرتے ہوئے عوامی مفاد سے متعلق اصلاحات کو جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اپنی حتمی سفارشات اور قانونی آراء مقررہ مدت کے اندر محکمہ قانون کو ارسال کریں تاکہ زیر غور مسودات کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد منظوری کے لیے متعلقہ فورمز پر پیش کیا جا سکے۔

صوبائی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وفاق خیبر پختونخوا کے بجلی بقایاجات کی ادائیگی میں سنجیدگی دکھائے: احمد کنڈی

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین احمد کنڈی کی زیر صدارت منگل کے روز پشاورمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاق کے ذمہ نیٹ ہائیڈل منافع (NHP)، بجلی کی مد میں صوبے کے بقایاجات، مشترکہ مفادات کونسل کے کردار، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے سے متعلق صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے صوبے میں موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں اور گندھارا تہذیب سے متعلق وفاق اور صوبے کے درمیان امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی احمد کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے آئینی اور مالی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام صوبائی سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور وفاق سے صوبے کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وفاق خیبر پختونخوا کے بجلی بقایاجات کی ادائیگی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی محکمہ خزانہ اس معاملے پر اپنی سفارشات صوبائی اسمبلی کو ارسال کرے تاکہ آئینی حقوق کے حصول کے لیے مؤثر پیش رفت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔احمد کنڈی نے کہا کہ 2014 سے مشترکہ مفادات کونسل کا باقاعدہ اجلاس نہ ہونا افسوسناک ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری خزانہ سے استفسار کیا کہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت اب تک صوبے کو بجلی کے مد میں کتنی رقم موصول ہوئی ہے۔انہوں نے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کو ہدایت کی کہ قائمہ کمیٹی کے توسط سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط ارسال کیا جائے تاکہ وہ وزیراعظم پاکستان سے صوبائی حقوق، بالخصوص بجلی بقایاجات کے معاملے پر اجلاس کے لیے وقت حاصل کریں۔اجلاس میں صوبہ بھر میں موبائل نیٹ ورکس کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے اور متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں کے حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور منتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے اپنے حلقے میں موبائل نیٹ ورک کی ناقص کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ پی ٹی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل طارق خان نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبے کے دیگر علاقوں میں نیٹ ورک مسائل جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔احمد کنڈی نے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت انگوٹھے کی تصدیق سے متعلق مسائل حل ہو چکے ہیں اور تمام اضلاع میں مستحقین کو رقوم کی ادائیگی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ گندھارا تہذیب کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کرے گی۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی، ریحانہ اسماعیل، ناہیدہ نور اور احسان اللہ نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری خزانہ مشرف رسول، سیکرٹری توانائی و برقیات نثار خان، ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم حبیب عارف، سیکرٹری قانون جاوید اورکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری آئی پی سی نعیم درانی، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی، پی ٹی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریجنل طارق خان اور مختلف موبائل کمپنیوں کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔

دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کی بحال کیلئے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اقلیتوں کی بحالی (دہشت گردی کے متاثرین) انڈوومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادریوں کے مستحق افراد اور خاندانوں کی مالی معاونت، بحالی اور فلاح و بہبود سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور حبیب خان آفریدی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور، مردان، بونیر اور لوئر چترال سمیت مختلف اضلاع کی جانچ پڑتال کمیٹیوں کی جانب سے موصول ہونے والے 173 کیسز کی مکمل جانچ، تصدیق اور قانونی چھان بین کے بعد انہیں اسسمنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام دستیاب ریکارڈ، سفارشات اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 167 مستحق افراد اور خاندانوں کیلئے مجموعی طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی۔اجلاس کو اگاہ کیا گیا کہ منظور شدہ امدادی پیکیج کے تحت دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد، بیوہ گان، یتیم بچوں، غیر شادی شدہ بیٹیوں اور مستقل معذوری کا شکار افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور انہیں باوقار انداز میں اپنی زندگی کی بحالی کا موقع فراہم ہو۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مالی امداد کے تمام کیسز متعلقہ ضلعی جانچ پڑتال کمیٹیوں کی سفارشات اور تصدیق کے بعد پیش کیے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ہر کیس کی جانچ نہ صرف ضلعی سطح پر کی گئی بلکہ محکمانہ سطح پر بھی تمام دستاویزات، شناختی کوائف، واقعہ کی نوعیت اور اہلیت کے معیار کی ازسرنو تصدیق کی گئی تاکہ شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے اصولوں کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے ایک خاتون درخواست گزار کے کیس کا بھی جائزہ لیا جس کا نام دو مختلف امدادی زمروں میں شامل تھا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ایک ہی مستحق فرد کو ایک سے زائد زمروں کے تحت مالی فوائد دینا فنڈ کے اغراض و مقاصد اور مساوی تقسیم کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ درخواست گزار کو صرف ایک مجاز زمرے کے تحت مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی دوہری ادائیگی یا مالی بے ضابطگی کا احتمال باقی نہ رہے۔اجلاس میں مستقل معذوری سے متعلق سات کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف ایک درخواست گزار نے مجاز اتھارٹی سے جاری شدہ معذوری کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا ہے جبکہ باقی چھ درخواست گزاروں کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات تاحال جمع نہیں کرائی گئیں۔ کمیٹی نے ان چھ کیسز کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مالی امداد کا اجراء مجاز اتھارٹی سے جاری کردہ معذوری کے سرٹیفکیٹس کی فراہمی اور تصدیق سے مشروط ہوگا۔ محکمہ سماجی بہبود کے نمائندے نے اس ضمن میں مکمل تعاون اور ضروری سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوران شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی بروقت معاونت ریاستی ذمہ داری ہے۔اور اس مقصد کیلئے قائم انڈوومنٹ فنڈ اقلیتی برادریوں کے اعتماد اور احساسِ تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شرکاء نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں دستیاب وسائل کے مطابق امدادی رقوم میں مزید اضافہ کیا جا سکے گا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو زیادہ مؤثر سہارا فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں مردان کے تاریخی گوردوارہ سنگھ سبھا میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے افسوسناک واقعہ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس میں جگن ناتھ اور ان کی اہلیہ جاں بحق ہوئے تھے۔ کمیٹی نے واقعہ کی سنگینی اور متاثرہ خاندان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاں بحق کے قانونی ورثاء کیلئے چالیس لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی۔ مزید فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی جانچ پڑتال کمیٹی اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے پیش کرے تاکہ قانونی تقاضے بروقت مکمل کرتے ہوئے امدادی رقم کی فوری ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں شریک اراکین صوبائی اسمبلی نے اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ معاونت متاثرہ خاندانوں کیلئے امید، اعتماد اور حوصلے کا ذریعہ ثابت ہوگی اور انہیں معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیر اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور نے اپنے گفتگو میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اقلیتی برادریوں کے جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور سماجی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی مدد صرف ایک انتظامی یا مالی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ حکومت اس امر کیلئے پرعزم ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ ہر مستحق خاندان کو قانون کے مطابق بھرپور معاونت فراہم کی جائے اور انہیں تنہا محسوس نہ ہونے دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی برادریاں صوبے کی سماجی، ثقافتی اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور حکومت ان کے تحفظ، وقار اور خوشحالی کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور معاونت کے اقدامات کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو بروقت اور باعزت سہارا فراہم کیا جا سکے۔

معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت بہبود آبادی سے متعلق اہم اجلاس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت پشاور میں بہبود آبادی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی انیلا درانی، ڈائریکٹر جنرل عبداللہ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل افرانہ باسط اور یو این ایف پی اے کے کنٹری نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معاونِ خصوصی کو یو این ایف پی اے کے جاری پروگراموں اور بہبودِ آبادی کے حوالے سے یو این ایف پی اے ادارے کے تعاون اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر یو این ایف پی اے کے نمائندوں نے اپنی جانب سے تکنیکی طور پر باہمی تعاون اور مشاورتی خدمات کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے معاونِ خصوصی طفیل انجم نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا آبادی میں متوازن اضافہ، خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ اور بہبودِ آبادی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بہبودِ آبادی کی کارکردگی میں مزید بہتری اور اس کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق گڈ گورننس کے ثمرات عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا جبکہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔اجلاس میں محکمہ بہبودِ آبادی اور یو این ایف پی اے کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، جدید تکنیکی معاونت کے فروغ اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق عوامی آگاہی کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کا تحصیل درگئی کی ویلج کونسل مہردے میں زیر تعمیر کازوے منصوبے کا اچانک دورہ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے پیر کے روز تحصیل درگئی کے ویلج کونسل مہردے میں زیر تعمیر کازوے منصوبے کا اچانک دورہ کیا ہے اور جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیاہے۔واضح رہے کہ یہ کازوے دو مرتبہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بہہ گیا تھا، جس سے اہلِ علاقہ کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔اب اس کی ازسرِ نو تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ عوام کو محفوظ، پائیدار اور مستقل سہولت فراہم کی جا سکے۔ دورے کے دوران پیر مصور خان نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام مزید انتظار اور مشکلات سے بچ سکیں۔اہلِ علاقہ نے منصوبے پر کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان، رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان اور سابق تحصیل چیئرمین درگئی پیر اسلام غازی کی کاوشوں کو سراہا ہے اس موقع پر مشیر جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری ر ہے گا کیونکہ عوامی خدمت ہمارا عزم ہے۔

آرٹسٹ کسی بھی معاشرے کی ثقافت، تہذیب اور مثبت تشخص کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں۔ شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان سے ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں آرٹسٹ ایکشن فاؤنڈیشن کے ایک نمائندہ وفد نے نامور فنکار ارشد حسین کی سر براہی میں ملاقات کی،ملاقات میں صوبے میں فن و ثقافت کے فروغ، آرٹسٹ انڈومنٹ فنڈ، فنکاروں کو درپیش مسائل اور ان کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،وفد میں طارق جمال، نوشابہ، ذوالفقار، خالد خان سمیت دیگر فنکار بھی شامل تھے،اس موقع پر وفد نے فن و ثقافت کے فروغ، فنکاروں کی معاشی بہتری اور ثقافتی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں،وزیر اطلاعات شفیع جان نے وفد سے گفتگو سے کرتے ہوئے کہا کہ آرٹسٹ کسی بھی معاشرے کی ثقافت، تہذیب اور مثبت تشخص کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکار قوم کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے امین ہیں اور ان کا فن ہماری قومی شناخت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آرٹسٹ کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فن، ثقافت اور ادبی ورثے کا فروغ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے،شفیع جان نے وفد کے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ انکی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں جلد ہی وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ثقافت اور متعلقہ حکام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ فنکاروں کے مسائل کے حل اور ثقافتی شعبے کی ترقی کے لیے مؤثر لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔وفد نے فنکاروں کے مسائل کے حل اور مکمل تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اطلاعات شفیع جان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت کے اقدامات سے صوبے میں فن و ثقافت کے شعبے کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

High-Level Meeting Chaired by Speaker KP Assembly Babar Saleem Swati in Wake of Naran Incident; Consensus Reached on Strengthening Inter-Agency Coordination among Emergency Services

A high-level meeting was held in the Conference Room of the Provincial Assembly under the chairmanship of Speaker Khyber Pakhtunkhwa Assembly, Babar Saleem Swati, to review the recent incident in Naran and to further strengthen coordination among emergency service institutions in the province, ensuring timely, coordinated, and effective response in any emergency situation.

The meeting was attended by Secretary Relief and Rehabilitation Sohail Khan, Director General Rescue 1122 Shah Fahd, District Emergency Officer Rescue 1122 Mansehra Abrar Ali, Chairman Pakistan Red Crescent Society Khyber Pakhtunkhwa Farzand Ali Wazir, Provincial Secretary Pakistan Red Crescent Society Khyber Pakhtunkhwa Abid-ur-Rehman Marwat, along with other concerned officials.

During the meeting, various aspects of the recent incident in Naran were thoroughly reviewed, and deliberations were held on strengthening integrated strategies and mutual cooperation among institutions to effectively respond to such emergencies in the future.

On the occasion, Speaker Babar Saleem Swati stated that Rescue 1122 is a highly important institution of the provincial government, directly linked with the protection of human lives. Due to this critical role, public expectations from the institution are very high. However, given the vast geographical landscape of the province and the diverse nature of emergencies, it is not always possible for a single organization to ensure effective coverage and immediate response at every location.

He emphasized that the most effective solution to this challenge lies in strong coordination, joint planning, and mutual cooperation among Rescue 1122, Pakistan Red Crescent Society, Civil Defence, and other relevant institutions. By utilizing their capabilities under an integrated system, the emergency response capacity in the province can be significantly enhanced, ensuring better and timely services to the public.

The Speaker further stated that the Khyber Pakhtunkhwa Assembly will continue to play its active and effective role in this regard. The primary objective of today’s meeting was to promote inter-agency harmony and lay the foundation for a joint future strategy.

He added that another consultative meeting will soon be convened, in which additional stakeholders will be invited, so that the emergency response system in the province can be made more effective, integrated, and aligned with modern requirements, ensuring comprehensive measures for the protection of lives and property of the public.