وزیر اعلی کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھ رہی ہے ایسے میں ہمارے نوجوانوں کو بھی مصنوعی ذہانت کیلئے ہم آہنگ ہونا پڑے گا محکمہ امور نوجوانان اس وقت متعدد منصوبوں پر کام کررہا ہے جبکہ صوبائی حکومت بھی بڑھتے ہوئے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی کررہی ہے ۔وہ پشاور کی اقرائنیشنل یونیورسٹی میں منعقدہ پہلی ایمرجنگ میڈیا، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انفارمیشن سائنسز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر امور نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد، ایم ڈی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان، وائس چانسلر اقرائنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر ملک تیمور علی اور دیگر موجود تھے ۔ کانفرنس میں پشاور سمیت قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد ترند کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس وقت دنیا بھر میں انقلاب آرہا ہے ایسے میں خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو بھی اس سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا خیبر پختونخوا میں نامساعد حالات کے باوجود صوبائی حکومت نوجوانوں کیلئے بہترین مواقع میسر کررہی ہے اس وقت صوبے میں محکمہ امورنوجوانان کی جانب سے کئی ایسے منصوبے جاری ہیں جو نوجوانوں کو دنیا کے برابر لارہے ہیں قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا تھا موجودہ حکومت قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کررہی ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر امور نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد، ایم ڈی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان اور وائس چانسلر اقرائنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر ملک تیمور علی نے بھی خطاب کیا ۔ کانفرنس میں ابھرتے ہوئے نئے تقاضوں سے متعلق نوجوانوں کو روشناس کرایا گیا جبکہ جعلی خبروں، ڈیپ فیک اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچانے کے حوالے سے بھی انہیں تربیت دی گئی۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اقدامات کا جائزہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری مختلف اقدامات کا جائزہ ایک اجلاسمیں لیا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم میں جاری اہم اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں کمزور ترین کارکردگی والے کالجوں کو آؤٹ سورس کرنا، خدمات کو ڈیجیٹل بنانا، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور طلبہ کو روزگار کے قابل بنانے کے اقدامات شامل تھے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم طلبہ سے متعلق بنیادی خدمات کو ڈیجیٹل بنا رہا ہے۔ مرکزی آن لائن داخلہ نظام پہلے ہی فعال ہے جبکہ شفافیت اور سہولت سہل کرنے کے لیے کیش لیس ادائیگی کے نظام کو بھی جلد مکمل فعال کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اسٹیم سرٹیفکیشن پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت اس وقت 100 اساتذہ کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ سائنسی اور تکنیکی تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ فارغ التحصیل طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں کیریئر رہنمائی اور پلیسمنٹ پروگرامز متعارف کرائے جارہے ہیں، جن کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تین کالجوں کو کالجز آف اپلائیڈ سائنسز میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، جن میں سے کم از کم ایک کالج کو جون تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
جنوبی اضلاع میں سرسبز انقلاب کی بنیاد، پائیدار شجرکاری اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور
خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ماحول دوست ترقی، پائیدار شجرکاری اور جنگلی حیات کے تحفظ و افزائشِ نسل کے فروغ کے لیے ایک اہم اجلاس سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر اپ سکیلنگ گرین پاکستان محمد جنید دیار، کنزرویٹر وائلڈ لائف حسین خان سمیت محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں موسمِ بہار شجرکاری مہم کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر محمد جنید دیار نے جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی اضلاع جن میں کوہاٹ، کرک، ہنگو، لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور قبائلی اضلاع شامل ہیں میں لاکھوں نئے پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف سرسبز ماحول کی تشکیل ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا سدِباب اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔کنزرویٹر وائلڈ لائف حسین خان نے اجلاس کو مختلف اضلاع میں جنگلی چرند و پرند کی موجودہ صورتحال، قدرتی مساکن کے تحفظ اور افزائشِ نسل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نایاب انواع کے تحفظ کے لیے محفوظ علاقوں، بریڈنگ زونز اور قدرتی رہائش گاہوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنید خان نے کہا کہ جس طرح ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت پشاور کے گردونواح خصوصاً گھڑی چندن میں کامیاب جنگلاتی ماڈل تشکیل دیا گیا ہے، اسی طرز پر لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر جنوبی اضلاع میں بھی ماڈل فارسٹ قائم کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت گومل زام ڈیم اور کوہِ سلیمان کے علاقوں میں جنگلاتی اور جنگلی حیات کے مربوط منصوبے ترتیب دیے جائیں تاکہ ان خطوں کو ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکے۔مزید برآں، سیکرٹری جنگلات نے زور دیا کہ جن علاقوں میں نہری نظام یا آبپاشی کے روایتی ذرائع دستیاب نہیں، وہاں جدید سولر بیسڈ شجرکاری نظام متعارف کرایا جائے تاکہ پانی کی کمی کے باوجود سبزہ کاری کا خواب شرمند? تعبیر ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور آئندہ نسلوں کے لیے سرسبز مستقبل کی تعمیر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کی ان چند مثالوں میں سے ہے جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں کے باوجود مسلسل مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ہے
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کی ان چند مثالوں میں سے ہے جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں کے باوجود مسلسل مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلق محض سفارتی یا معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ اعتماد، احترام، بھائی چارے اور باہمی تعاون پر مبنی ایک زندہ رشتہ ہے، جس نے ہر دور میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب تر رکھا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ اور جشن بہاراں کی شاندار تقریب سے خطاب میں کیا۔ سابق گورنروں حاجی غلام علی اور اقبال ظفر جھگڑا، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان داؤد خان، وائس چانسلر یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر صادق خٹک،بشپ ارنسٹ جیکب، تاجر برادری، صحافیوں، طلباء ع طالبات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ مزمل اسلم نے تقریب سے خطاب میں کہاکہ پاکستان نے 1951 میں عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کر کے جس دور اندیشی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج 75 برس بعد ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر چائنہ ونڈو کے منتظمین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔مزمل اسلم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس نے پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں نے بجلی کے بحران میں نمایاں کمی کی، موٹرویز اور شاہراہوں نے ملک کو شمال سے جنوب تک مربوط کیا، جبکہ گوادر بندرگاہ نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی تجارت کے نقشے پر ایک اہم مقام دلایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کو ایک برابر کے شراکت دار کے طور پر دیکھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں چین کے لیے بے پناہ محبت اور احترام پایا جاتا ہیانہوں نے تقریب کے انعقاد پر چائنہ ونڈو کے منتظمین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ سابق گورنر خیبر پختون خواحاجی غلام علی نے ان کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میں تعلیمی، ثقافتی اور عوامی سطح پرروابط کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔انہوں نے پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ اور جشن بہاراں کے موقع پر چین کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے چائنہ ونڈو کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاک چین دوستی، ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے کہاکہ پاک چین دوستی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کچھ لو اور کچھ دو کی بجائے اعتماد اور باہمی عزت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس نے پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بھی چائنہ ونڈو کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطوں کا مضبوط ذریعہ قرار دیا۔کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان داؤد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاک چین دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی، ثقافتی اور میڈیا روابط کے ذریعے اس رشتے کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ ونڈو جیسے ادارے عوامی سطح پر پاک چین دوستی کو فروغ دے رہے ہیں جو قابل تحسین ہے۔تقریب کے اختتام پر پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔قبل ازیں چائنہ ونڈو کے ایڈمنسٹریٹر امجد عزیز ملک نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پاک چین دوستی سے متعلق اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب کے انعقاد کا مقصد اپنے چینی بہنوں بھائیوں کو پشاور اور خیبر پختون خوا سے امن، پیار اور محبت کا پیغام دینا تھا۔
خیبرپختونخوا اور عالمی بینک کا اشتراکِ عمل، فضاؤں کے صاف رکھنے کے لیے مشترکہ عزم، سموگ ایکشن پلان مرکزِ نگاہ بن گیا
خیبرپختونخوا میں فضائی آلودگی کے تدارک اور اسموگ ایکشن پلان پر ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم کے ساتھ منعقد ہوا۔ صوبائی وفد کی قیادت سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان نے کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری طلحہ حسین فیصل، ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی اور اداری برائے تحفظ ماحولیات کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران عالمی بینک ٹیم کے رکن شفیق نے ایئرشیڈ بیسڈ اپروچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی انتظامی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ شہری مراکز سے باہر پیدا ہونے والا دھواں اور ذراتی آلودگی ہواؤں کے دوش پر دور دراز علاقوں تک پہنچ کر آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں اس لیے علاقائی تعاون اور سرحد پار آلودگی کے کنٹرول کے بغیر پائیدار نتائج ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بامعنی کامیابی صرف اسی صورت حاصل کی جا سکتی ہے جب ٹرانسپورٹ، توانائی، صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومتوں سمیت تمام شعبے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگی سے کام کریں، نہ کہ الگ الگ خانوں میں محدود رہیں۔شفیق نے مزید کہا کہ“35 بائے 35”یعنی سال 2035 تک ذراتی آلودگی میں 35 فیصد کمی کا ہدف نہ صرف حقیقت پسندانہ ہے بلکہ قابلِ حصول بھی ہے، بشرطیکہ مربوط پالیسی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور عوامی شمولیت یکجا ہو جائیں۔ ان کے مطابق یہ ہدف عوامی صحت، موسمیاتی مزاحمت اور معاشی استحکام کے لیے دور رس فوائد کا حامل ہوگا، خصوصاً شہری علاقوں کی کمزور آبادیوں کے لیے۔عالمی بینک ٹیم نے سیٹلائٹ پر مبنی مانیٹرنگ کے نتائج بھی پیش کیے، جو صوبے بھر میں پی ایم 2.5 کے پھیلاؤ کی جامع اور حقیقی وقت میں تصویر فراہم کرتے ہیں۔ ان مشاہدات کے مطابق خیبرپختونخوا میں وادی? پشاور فضائی آلودگی کے شدید دباؤ کا شکار اہم ایئر بیسنز میں شامل ہے، جہاں باریک ذرات کی بلند سطح انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔یہ مباحثہ پاکستان کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی (2025–2035) سے ہم آہنگ رہا، جس میں موسمیاتی مزاحمت، پائیدار شہری ترقی اور ماحولیاتی حکمرانی کو ترجیح دی گئی ہے۔ طے شدہ Outcome #4 کے تحت گریٹر پشاور–حیات آباد–فرنٹیئر (GP-HF) کوریڈور میں مشترکہ آلودگی کے ذرائع کے تدارک، بڑے اخراجی عوامل کی نشاندہی اور یکساں کنٹرول اقدامات نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں صاف ایندھن کا فروغ، گاڑیوں کے اخراجی معیارات،صنعتی ضابطہ بندی اور بہتر ویسٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق ہوا کہ فضائی معیار کے بہتر ضوابط کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تین اسٹریٹجک محاذوں پر کام کیا جائے گا: نفاذی نظام کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، اور جدید مانیٹرنگ انفراسٹرکچر کی تنصیب خیبرپختونخوا اسموگ ایکشن پلان کی معاونت کے لیے عالمی بینک پی ایم 2.5 کی سطح میں کمی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا، جس میں ریگولیٹری اصلاحات، شعبہ جاتی تدارکی اقدامات، ادارہ جاتی استعداد سازی، عوامی آگاہی مہمات اور اسٹریٹجک شراکت داری شامل ہیں۔ یہ اقدامات پانچ اسٹیک ہولڈر مشاورتی سیشنز اور ایک ابتدائی گیپ اینالیسس رپورٹ کی روشنی میں ترتیب دیے گئے ہیں، جن میں حکمرانی، ہم آہنگی اور تکنیکی صلاحیت سے متعلق بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔حکمرانی کے تناظر میں شفیق نے ادارہ جاتی رابطے کے فقدان، حقیقی وقت کی مانیٹرنگ کی محدود سہولتوں اور جامع ایمیشن انوینٹری کی عدم موجودگی جیسے چیلنجز کی نشاندہی کی، جو شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کی جدید کاری، صنعتی ضابطہ بندی اور شہری فضائی معیار کے اصلاحاتی اقدامات میں جاری پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم ان کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنید خان نے حکومتِ خیبرپختونخوا کے ماحولیاتی تحفظ اور صاف ہوا کے ایجنڈے سے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی بینک ٹیم کو مکمل ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے سپیشل سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ فوکل پرسن نامزد کیا تاکہ رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی سی ون کی تیاری شفافیت، تکنیکی معیار اور طویل المدتی پائیداری کے اصولوں کے تحت کی جائے گی، بالخصوص ضلع پشاور میں فضائی معیار کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ فضائی آلودگی صوبے کو درپیش سب سے بڑے ماحولیاتی اور عوامی صحت کے چیلنجز میں شامل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے ساتھ مل کر اس قومی ذمہ داری کی تکمیل کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کیونکہ صاف ہوا محض ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عہد کے ساتھ ہوا کہ پالیسی مکالمے کو عملی اقدام میں ڈھالا جائے گا — خاکوں کو سانس لینے کے قابل فضاؤں میں بدلتے ہوئے، خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ڈیڑھ کروڑ روپے میں“وزیر ون (Wazir-1)”نمبر پلیٹ خریدنے والے حاجی رحمان کی ڈی جی ایکسائز سے خصوصی ملاقات
محکمہ ایکسائزو ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے 27 جنوری 2026 کو منعقدہ“من پسند نمبر پلیٹس”کی نیلامی میں ریکارڈ ساز قیمت ڈیڑھ کروڑ (1.5کروڑ) روپے میں منفرد نمبر پلیٹ“وزیر۔ ون (Wazir-1)”خریدنے والے شہری حاجی رحمان وزیر نے پشاور کا دورہ کرکے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔واضح رہے کہ حاجی رحمان کا تعلق بنوں (ڈومیل، احمدزئی) کے علاقے سے ہیں جو دبئی کے ایک معروف بزنس مین ہیں اور وہاں پر متعدد کاروباری اداروں کے مالک ہیں۔ ملاقات کے موقع پر ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے حاجی رحمان وزیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ“وزیر۔ ون”نمبر پلیٹ کا اس قدر بڑی مالیت میں حصول اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محکمہ ایکسائز کے شفاف، قواعد و ضوابط کے مطابق اور ڈیجیٹل نیلامی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ شہریوں کو من پسند نمبر پلیٹس کے حصول کے لیے ایسا نظام فراہم کیا جائے جو مکمل طور پر شفاف، آسان اور قابلِ اعتماد ہو۔انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات ہیں کہ عوام کی خدمت میں کوئی کثر باقی نہ رہے اور انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ کی یہ ریکارڈ نیلامی شہریوں کے اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ڈی جی ایکسائز نے مزید کہا کہ یہ نیلامیاں نہ صرف خزانے میں ریونیو اضافہ کا مؤثر ذریعہ ہیں بلکہ گاڑیوں کے شوقین افراد کو قانونی، باقاعدہ اور محفوظ طریقے سے اپنی پسند کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے‘من پسند نمبر پلیٹس’کی نیلامی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رہے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور شفافیت کا یہ نظام مزید مضبوط ہو۔اس موقع پر حاجی رحمان نے“وزیر ون”نمبر کے حصول پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئیوزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس سید فخرجہان کی ایکسائز کے شعبے کی ترقی اور اس کے ذریعے صوبے کے عوام کیلئے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا اور محکمہ محکمہ ایکسائز کے تعاون، نیلامی کے منظم طریقہ کار اور عملے کے پروفیشنل رویے کو بھی احسن قرار دیا۔حاجی رحمان وزیر نے کہا کہ من پسند نمبر پلیٹس نیلامی کے پورے عمل میں شفافیت اور محکمہ کا تعاون قابلِ تعریف ہے۔ملاقات کے اختتام پر ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے حاجی رحمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ شہری اسی طرح محکمہ کے قانونی و شفاف نظام میں بھرپور حصہ لیتے رہیں گے۔
صوبائی وزیرِ صحت نے سال 2026 کی پہلی انسدادپولیو مہم کا افتتاح کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے جمعہ کے روزپولیس سروسز ہسپتال پشاور میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر سال 2026 کی پہلی چار روزہ انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ مہم کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں 65 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں 35 ہزار سے زائد پولیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو مہم کو مؤثر، مضبوط اور کامیاب بنانے کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 20 کیسز کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ سال 2026 میں اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور حکومت کا حتمی ہدف زیرو پولیو کیسز کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں سخت موسم، برف باری اور امن و امان کی صورتحال جیسے چیلنجز درپیش ہیں، تاہم محکمہ صحت نے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایک جامع حکمتِ عملی اور فریم ورک ترتیب دیا ہے تاکہ دور دراز اور مشکل علاقوں تک رسائی حاصل کر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کاوشیں اور جدید طریقہ کار ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کے تحفظ اور مہم کی کامیابی کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ معاشرے کے مختلف طبقات میں آگاہی مہمات شروع کی گئی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں نوجوانوں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ علماء کرام، اساتذہ اور معززینِ علاقہ کو اعتماد میں لے کر عوام میں پولیو سے متعلق مثبت پیغام عام کیا جا رہا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور منفی سماجی رویّوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی تعاون اور مسلسل کوششوں سے پاکستان اور خیبر پختونخوا کو جلد پولیو فری بنایا جائے گا اور آنے والی نسلوں کو اس عمر بھر کے مرض سے محفوظ کیا جائے گا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے جمعہ کے روز پشاور میں یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر پشاور اور ماہر تعلیم سید فواد علی شاہ نے ملاقات کی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے جمعہ کے روز پشاور میں یونیسف کے چیف فیلڈ آفیسر پشاور اور ماہر تعلیم سید فواد علی شاہ نے ملاقات کی۔ دو رکنی وفد نے صوبائی وزیر کو شعبہ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے یونیسف کی جانب سے مکمل تعاون کی یقینی دہانی کرائی اور کہا کہ نئی داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے آؤٹ آف سکول چلڈرن کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی خاطر موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس کے لئے صوبے میں آؤٹ آف سکول چلڈرن کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے ساتھ بچوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی تاکہ بچے حصول تعلیم سے محروم نہ رہیں۔وفد نے یونیسف کی جانب سے سکولوں کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم د لانے میں بھی تعاون کی یقینی دہانی کرائی اور صوبے کے سکولوں کو سولر ائزیشن پر منتقل کرنے اور عمارات کی مرمت سمیت ان میں بہتر انفراسٹرکچر مہیا کرنے پر رضامندی کا بھی اظہار کیا۔وفد سے بات چیت کے دوران صوبائی وزیر نے یونیسف کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں میں تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا شعبہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے میں تعلیم کی ترقی کے بہتر فروغ میں حصہ لینے والی تمام تنظیموں کو حکومت قدر کی نگا ہ سے دیکھتی ہے۔
Federal and Punjab Government Misled Nation on Imran Khan’s Health; Truth Now Exposed :CM’s aide Shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that the provincial government and Pakistan Tehreek-e-Insaf have consistently expressed serious concerns regarding the health of the party’s founding chairman, Imran Khan. However, he said, the “fake federal government” continued to issue false statements about his health in an attempt to mislead the public.
In a statement issued here, Shafi Jan said the federal government secretly shifted the founding chairman, Imran Khan, to PIMS Hospital, adding that the recent admission by Federal Minister Atta Tarar is, in fact, a charge sheet against the federal government itself, exposing all its lies.
He said that despite serious concerns about Imran Khan’s health, access to his personal physician is being denied, which is a blatant violation of fundamental human rights. He added that although the founding chairman was moved to a hospital, his family members and lawyers were deliberately kept uninformed, which is evidence of criminal negligence on the part of the federal and Punjab governments and the jail administration, and is strongly condemned.
The Special Assistant made it clear that if the “fake federal government” does not immediately allow access to Imran Khan’s personal physician, Pakistan Tehreek-e-Insaf will decide a tough course of action. He said the federal government has trampled the Constitution and the law, while clear court orders regarding meetings with Imran Khan have also been blatantly ignored.
Shafi Jan said that the insensitivity shown by the federal government in the matter of a former prime minister and a popular national leader is extremely unfortunate. He added that the corrupt clique forcibly imposed at the federal and Punjab levels should not be blinded by political revenge.
He further stated that Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, came to Adiala Jail on Thursday to meet the founding chairman, Imran Khan, but was not allowed to do so. He said that illegal restrictions have been imposed on meetings with Imran Khan, which constitute a clear violation of court orders, the Constitution, democratic values, and fundamental human rights.
Shafi Jan added that this is the fear of Imran Khan and CM Sohail Afridi ,that whenever they come to Adiala, a curfew-like situation is imposed.
He said they will not leave until Imran Khan is allowed to meet his personal physician, and that Chief Minister Sohail Afridi, along with members of the National and Provincial Assemblies and senators of the party, will remain peacefully present outside Adiala Jail.
He further stated that despite keeping Imran Khan imprisoned in false cases, the corrupt clique remains fearful of his public popularity. He added that Imran Khan’s politics revolves around public welfare, strengthening democracy, and economic sovereignty, whereas the current federal government is entirely focused on political revenge instead of providing relief to the people.
Criticising the Punjab government, Shafi Jan said the health sector in Punjab has reached the brink of collapse, and that the report of the Chief Minister’s Inspection Team itself stands as a clear charge sheet against the Punjab government.
خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی مؤثر اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے
خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی مؤثر اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے جس کے تحت وویمن کمیشن نے صوبے کے 26 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کمیٹیز آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے نوٹیفکیشن جاری کر دئے ہیں، جو خواتین کی قیادت اور نمائندگی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وومن کمیشن کا قانون 2010 میں منظور ہوا تھا اور طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ ضلعی سطح پر اس پر عملدرآمد ممکن بنانے کے لئے ضلعی سطح پر اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کمیٹیوں کے قیام سے خواتین کے مسائل کی نگرانی، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت حل کے لیے ایک ضلعی سطح پر نظام قائم ہوگا۔ ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ یہ تمام اقدامات صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق طے کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار دینا ہے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور خواتین کمیشن کی پوری ٹیم کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا، جنہوں نے اس پورے عمل میں انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اہم اقدام کو ممکن بنایا۔
