پولیو کے خاتمے سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمٰن اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی مشترکہ صدارت میں جمعرات کے روز چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے اراکین، محکمہ صحت، قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اور عالمی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنرز، آر پی اوز، ڈی پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں دو سے پانچ فروری 2026 تک صوبے کے تمام اضلاع میں ہونے والی قومی پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے صوبے بھر میں 35 ہزار 500 پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فروری 2026 کی مہم کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں ٹیموں کی تربیت، مائیکرو پلاننگ اور آپریشنل تیاری شامل ہے۔ سات برف باری سے متاثرہ اضلاع میں 38 مکمل اور 25 جزوی یونین کونسلز کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں موسم بہتر ہوتے ہی مکمل کوریج یقینی بنائی جائے گی۔صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں مہم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان علاقوں تک بھی رسائی ممکن ہوئی جہاں پہلے مشکلات تھیں، جس کے نتیجے میں پولیو سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیو فری خیبرپختونخوا کے لئے پرعزم ہے اور مربوط فیلڈ آپریشنز اور عوامی تعاون اس حکمت عملی کا بنیادی حصہ رہیں گے۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے زور دیا کہ معمولی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر مائیکرو پلاننگ اور فرنٹ لائن ورکرز کے لئے مستحکم اقدامات ضروری ہیں اور اس ضمن میں حکام اقدامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 27 جنوری 2026 تک 71 فیصد آبادی میں عمومی ویکسینیشن مکمل کی جا چکی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت ان علاقوں میں روٹین امیونائزیشن کی توسیع کو ظاہر کرتی ہے جہاں پہلے خدمات محدود تھیں۔ اس کے علاوہ بی سی جی، پینٹا، ایم آر اور او پی وی ویکسین کی کوریج میں بہتری سے واضح ہے کہ پولیو مہم مجموعی صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، آزادانہ بعد از مہم جائزہ اور سخت ڈیٹا تصدیقی طریقہ کار کے استعمال سے ویکسینیشن کوریج میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے بہتر نتائج آنا شروع ہوئے ہیں۔
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف کمشنر محمد علی شہزادہ نے کی۔اجلاس میں کمشنر ذاکر حسین، ڈائریکٹر جنرل کے پی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان، ڈپٹی ڈائریکٹر شاکر اللہ اور کمیشن کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کا جائزہ لینا اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عاکف خان نے کمیشن کو پانچ سو سے زائد عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں اب تک ہونے والی پیش رفت، تکنیکی نظام اور مختلف محکموں کے درمیان ربط پر روشنی ڈالی گئی۔چیف کمشنر محمد علی شہزادہ نے کے پی آئی ٹی بورڈ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن شفافیت، بروقت خدمات کی فراہمی اور انسانی مداخلت میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں تاکہ شہریوں کو سہل، تیز اور مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور شہریوں کی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
خیبرپختونخوا حکومت کا پائیدار جنگلاتی نظم و نسق کے عزم کا اعادہ
سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا جنید خان کی زیر صدارت جنگلاتی نظم و نسق اور پائیدار فارسٹ مینجمنٹ سے متعلق پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد حکومت اور جنگلاتی مالکان کے درمیان براہِ راست مکالمہ، مسائل کا فوری حل اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا تھا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون احمد جلیل، ریجن ٹو شوکت فیاض، ریجن تھری اصغر خان، متعلقہ کنزرویٹرز آف فاریسٹ کے علاوہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی مالکان کے نمائندگان سمیت مقامی سطح پر درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ضلع بٹگرام سے رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان اور چترال ارندو سے معروف سماجی شخصیت شیر زمین نے بھی شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران جنگلاتی مالکان نے مختلف علاقوں میں مانیٹرنگ، مارکنگ، ووڈلاٹس اور ورکنگ پلانز کی مدت پوری ہونے یا تکمیل کے قریب ہونے، نیز انتظامی رکاوٹوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنگلات جنید خان نے عمائدین کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام معاملات میں قانون کی پاسداری، شفافیت اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کا مقصد احتساب کے ساتھ اصلاحِ احوال اور نظام کی بہتری ہے، نہ کہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں میں وقت اور وسائل ضائع کرنا۔سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ 1992ء میں سائنسی بنیادوں پر جنگلاتی کٹائی پر عائد پابندی کے باعث صوبے کے جنگلاتی انتظام اور مالی استحکام کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ محکمہ جنگلات یکطرفہ فیصلے کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری سے لے کر نگرانی کے لیے نہگبانوں کی تعیناتی، گھریلو ضروریات کی فراہمی اور ورکنگ پلان کے تحت تجارتی کٹائی تک ہر مرحلے میں مقامی آبادی کو شریکِ کار بنایا جاتا ہے، کیونکہ پائیدار ترقی عوامی شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ 24 جون 2024ء کو عائد کی گئی عارضی پابندی کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض بے ضابطگیوں کی شکایات کے پیش نظر اصلاحی نگرانی کے لیے لگائی گئی تھی، جسے 12 نومبر 2024ء کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مقررہ قوانین و ضوابط کے تحت دوبارہ کٹائی اور ترسیل کا عمل بحال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی فارسٹ مینجمنٹ جنگلات کے پائیدار تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے، جو فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 35 کے تحت مضبوط قانونی بنیاد رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو جلد تفصیلی بریفنگ دی جائے گی تاکہ پالیسی سطح پر مزید رہنمائی حاصل کی جا سکے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نادرن فاریسٹ ریجن ٹو میں موجود 24 ورکنگ پلانز میں سے 13 منظور شدہ اور فعال ہیں، 9 منظوری کے مرحلے میں جبکہ 2 تیاری کے مراحل میں ہیں۔ سال 2015ء سے اب تک ایک کروڑ 17 لاکھ 22 ہزار مکعب فٹ لکڑی کی مارکنگ مکمل کی جا چکی ہے۔ بعض کمپارٹمنٹس میں تاخیر کی وجوہات میں عدالتی مقدمات اور مقامی سطح پر تنازعات شامل ہیں۔سیکرٹری جنید خان نے ہدایت کی کہ میعاد پوری کرنے والے ورکنگ پلانز کی فوری نظرثانی کی جائے اور اس مقصد کے لیے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کو درکار فنڈز مہیا کیے جائیں۔ مزید برآں، جن ورکنگ پلانز کی مدت ختم ہو چکی ہے یا تکمیل کے قریب ہے، ان میں توسیع کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تاکہ جنگلاتی مالکان کو بروقت سہولت اور اعتماد فراہم کیا جا سکے۔خشک کھڑے اور آندھی سے گرے ہوئے درختوں کی ترسیل سے متعلق بتایا گیا کہ یہ عمل منظور شدہ ورکنگ پلانز کے تحت جاری ہے۔ گزارہ جنگلات کے لیے خصوصی طریقہ کار پہلے ہی مرتب کیا جا چکا ہے، جبکہ کوہستان کے جنگلات سے متعلق معاملہ صوبائی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر چترال ارندو گول سے تعلق رکھنے والے شیر زمین نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ بیس برسوں سے قیمتی درخت جنگلات میں گل سڑ رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگ انہیں قدرتی آفات اور سرحد پار سمگلنگ سے بچانے کے لیے دن رات نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ اس پر سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ ارندو گول کا معاملہ صوبائی حکومت کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے اور اسے جلد صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔سیکرٹری جنگلات نے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کے کردار کو موجودہ حالات میں نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ جنگلاتی منصوبہ بندی اور نگرانی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جسے انسانی وسائل اور مالی معاونت کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ جنگلاتی ریکارڈ اور نقشہ جات میں تضادات کے ازالے کے لیے فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ایک جامع پی سی ون تیار کیا جا چکا ہے جبکہ ڈیجیٹائزیشن اور جیو ریفرنسنگ منصوبہ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس سے شفافیت اور جدید نظم و نسق کو فروغ ملے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ فارسٹ آرڈیننس 2002ء کی سیکشن 36 اور 44 کے تحت جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی ممنوع ہے۔ تاہم نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس کے پائیدار انتظام کے لیے مقامی برادری کو محکمہ جنگلات اور جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ کمیٹیز کے اشتراک سے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایکو ٹورزم رولز اور کان کنی کے لیے ایس او پیز تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ یہ ادارہ ماضی میں سائنسی بنیادوں پر کٹائی اور آمدن کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ طویل المدتی پالیسی پابندیوں کے باعث ادارے کو چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ستمبر 2023ء میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کے ذریعے تیسری پارٹی کارکردگی جائزہ رپورٹ تیار کی گئی، جسے متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے گا اور اس میں مقامی برادری کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر سیکرٹری جنید خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مانیٹرنگ شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کا بنیادی ستون ہے اور اس کے نتیجے میں اصلاحی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت، جنگلاتی مالکان اور مقامی آبادی کے باہمی اشتراک کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ ہماری آب و ہوا کے محافظ، حیاتیاتی تنوع کے امین اور قومی ورثے کے نگہبان ہیں اوران کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو کونسل کے وفد کی ملاقات
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک وفد نے صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی کی قیادت میں ملاقات کی اور صوبے میں شعبہ صحت کو درپیش اہم چیلنجز، ہیلتھ کیئر ورک فورس کے مسائل اور طبی انفراسٹرکچر سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرمیں انصاف ڈاکٹرز فورم کے مرکزی صدر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مدیر خان وزیر، مرکزی و صوبائی قیادت کے اراکین، پیرا میڈیکس، فزیوتھراپسٹس اور اسٹوڈنٹس ونگ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔وفد کی جانب سے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے وظائف میں اضافے سے متعلق محکمہ خزانہ میں گزشتہ پانچ ماہ سے زیر التواء سمری کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی تعداد میں میڈیکل گریجویٹس کو ایڈجسٹ کرنے اور ہسپتالوں میں سروس ڈیلیوری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 500 ہاؤس آفیسرز اور 500 ٹرینی میڈیکل آفیسرز کی نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز پیش کی گئی۔اجلاس میں آئندہ صوبائی بجٹ میں ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، تاکہ افرادی قوت کو برقرار رکھا جا سکے، ان کی حوصلہ افزائی ہو اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔وفد نے شہید ڈاکٹر وردہ مشتاق کے لیے شہداء پیکیج کی جلد حتمی منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجراء کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے اداروں میں انتظامی خلا کو پُر کرنے کے لیے KPPSC کے ذریعے مینجمنٹ کیڈر کی نشستوں پر ایک مرتبہ کی خصوصی رعایت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں دور دراز علاقوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئرسٹاف کے لیے رہائشی عمارات کی تعمیر، موجودہ رہائشی سہولیات میں توسیع، اور ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر و بحالی پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ہیومن ریسورس کی مضبوطی سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے 1000 میڈیکل آفیسرز اور 1000 ڈینٹل سرجن کی اسامیوں کی تخلیق، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں FCPS/MCPS ٹریننگ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن، اور ریپڈ ریسپانس ٹیم (RRT) کی زیر التواء ادائیگیوں کی فوری کلیئرنس کے مطالبات بھی سامنے آئے۔اس کے علاوہ ایڈز کنٹرول پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، SRSPDP، کنٹریکٹ میڈیکل آفیسرز، EPI ویکسینیٹرز اور IMU سٹاف کے ملازمین کی ریگولرائزیشن پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز صوبے کے صحت کے نظام کی بنیاد ہیں، اور حکومت ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام قابلِ عمل امور پر متعلقہ فورمز پر بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے انصاف ڈاکٹرز فورم کے مثبت، تعمیری اور اصلاحاتی کردار کو سراہا اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل مشاورت کے عزم کا اعادہ کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا کے بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے چیئر مینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شعبہ تعلیم کے یکساں امتحانی طریقہ کار کی پالیسی تیار کریں او ر امتحانا ت میں نقل کے رجحان کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی اور بہتر حکمت عملی وضع کریں
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا کے بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے چیئر مینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شعبہ تعلیم کے یکساں امتحانی طریقہ کار کی پالیسی تیار کریں او ر امتحانا ت میں نقل کے رجحان کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی اور بہتر حکمت عملی وضع کریں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ آنے والے امتحانات میں صوبے کے تمام بورڈز طلبہ کے پیپر کی چیکنگ ای۔مارکنگ سسٹم کے تحت کروائیں۔یہ ہدایات انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ خیبر پختونخوا کے تمام بورڈ زآ ف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد،تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز کے آئندہ امتحانات کے لئے سافٹ وئیر کی فراہمی،نقل کے خاتمے اورصوبے کے ہر ایک بورڈ کے کم از کم تین پیپر کی ای۔ مارکنگ کرانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے اور امتحانات میں ڈیوٹیا ں سرانجام دینے کے لائحہ عمل طے کرنے کے فیصلے کئے گئے۔ اسی طرح امتحانی ہالز میں انسپکٹرز کی تعیناتی کے لئے جوائنٹ انسپکٹریٹ کے تحت امتحانی ہالز میں آزادانہ طور پر انسپکشن کرانے کی تجویز دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے تمام بورڈز انویجیلیٹر کی امتحانات میں نئے گریجویٹ سے ڈیوٹی لینے کے لئے اشتہار دیا جائے گا جبکہ مائیگریشن کے عمل پر پابندی ہوگی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام بورڈز کے چیئر مینوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ احسن طریقے سے امتحانات کے عمل کو شفاف انداز میں کامیابی سے مکمل کریں اور صوبے کے طلبہ کے لئے تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ تمام طلبہ کو یکساں طور پر مواقع فراہم ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ طلبہ امتحانات میں نمبروں کی دوڑ سے نکلیں جس کے لئے نئی ڈی ایم سی متعارف کروائی جا رہی ہے اور اسکے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیرنے بورڈز کے چیئر مینوں کو ہدایت کی کہ وہ شعبہ تعلیم کی ترقی کے لئے بہتر حکمت عملی اپنانے اور درپیش مسائل کے حل کرنے کے لئے باہمی مشاورتی اجلاسوں کا انعقاد کر یں تاکہ فروغ تعلیم کے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جاسکیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس اور اوپن ڈو رپالیسی کے تحت محنت کش مزدوروں کو درپیش مسائل کے فوری حل اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے محکمہ محنت خیبر پختونخوا کے زیراہتمام پشاور میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس اور اوپن ڈو رپالیسی کے تحت محنت کش مزدوروں کو درپیش مسائل کے فوری حل اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے محکمہ محنت خیبر پختونخوا کے زیراہتمام پشاور میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت سیکرٹری محکمہ محنت و چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال نے کی۔ اس موقع پر سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ شیر عالم خان، وائس کمشنر ای ایس ایس آئی وسیم احمد، ڈائریکٹر لیبر طارق خان، ڈائریکٹر ورکس آصف مجید، ڈائریکٹر میڈیکل, ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس سمیت محکمہ محنت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔کھلی کچہری میں صنعتی مزدوروں بالخصوص خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل براہِ راست انتظامیہ کے سامنے پیش کیے، جن کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی ہدایات جاری کی گئیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ محنت نے کہا کہ محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود حکومتِ خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قابلیت کی بنیاد پر ہر سال پانچ مزدوروں کے بچوں کو بین الاقوامی تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ہر سال دس مزدوروں کے بچوں کو سی ایس اے اکیڈمی کے ذریعے سول سروسز امتحانات کی تیاری کے لیے حکومتی اخراجات پر مواقع دیے جائیں گے۔کھلی کچہری کے دوران مزدوروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے افسران نے شفاف، جامع اور تسلی بخش انداز میں جوابات دیے اور شرکاء نے انتظامیہ کے عوام دوست رویے، بروقت اقدامات اور مسائل کے فوری حل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا انعقاد حکومتِ خیبر پختونخوا کے محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود، شفاف حکمرانی اور عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے عزم کی عملی عکاسی ہے۔
ڈی ایم او پشاور آر ٹی ایس کمیشن تاشفین اسرار کی پشاور پریس کلب صدر ایم ریاض سے ملاقات۔
رائیٹ ٹو سروسز (آر ٹی ایس) کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر تاشفین اسرار نے پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آر ٹی ایس کمیشن خیبرپختونخوا اور آر ٹی ایس ایکٹ 2014 پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی ایم او پشاور نے صدر اور پریس کلب کے عہدیداروں کو آر ٹی ایس کمیشن کی خدمات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض نے عوام کی خدمات تک بروقت رسائی میں آر ٹی ایس کمیشن کی اہمیت اور کاوشوں کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ کمیشن سے بہتر انداز میں استفادہ کے لئے آر ٹی ایس کمیشن سے متعلق عوام میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے اور اس ضمن میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو آر ٹی ایس مطلع شدہ خدمات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے ایک مکمل اوریئنٹیشن اور آگاہی سیشن کا اہتمام کیا جائے۔ڈی ایم او تاشفین اسرار نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور یقین دلایا کہ جلد ہی صحافیوں کو آر ٹی ایس مطلع شدہ خدمات اور ان کے کردار کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے ایک سیشن کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور ذمہ داری کو فروغ دیا جا سکے۔اس موقع پر عوام کی خدمات تک بروقت رسائی، گڈ گورننس اور شفافیت کو فروغ دینے کے لئے آر ٹی ایس کمیشن اور میڈیا کے درمیان تعاون اور قریبی رابطے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا۔
وفاقی وزراء پاکستان تحریک انصاف کو عوامی سیاست کا درس دینے سے پہلے اپنا سیاسی مقام دیکھیں،شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور طلال چودھری کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں وفاقی وزراء پاکستان تحریک انصاف کو عوامی سیاست کا درس دینے سے پہلے اپنا سیاسی مقام دیکھیں،پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور عوامی سیاست کی نمائندہ ہے جبکہ موجودہ وفاقی حکمران جعلی فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے نورتنوں کا بیانیہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور قوم اب ان کے جھوٹے اور ناکام بیانیے سے بخوبی آگاہ ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ وادی تیراہ سے متعلق وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسز اور قومی اسمبلی میں کی گئی تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں جو خود ان کے تضادات اور جھوٹے مؤقف کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں، انہوں نے کہا کہ جعلی وفاقی حکومت کا اصل چہرہ اب پوری قوم کے سامنے آ چکا ہے اور مسلسل پریس کانفرنسز کے ذریعے حقائق چھپانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں،شفیع جان نے مزید کہا کہ تیراہ سے انخلاء کے معاملے پر وفاقی حکومت نے نہایت ہی منفی سیاست کی جسے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء آپریشن سے متعلق اپنے ہی بیانات سے مکر گئے جو یوٹرن نہیں بلکہ عوام کو گمراہ کرنے کا ایک منظم ڈرامہ ہے۔ عطاء اللہ تارڑ کو دانستہ طور پر ڈس انفارمیشن پھیلانے کے لیے آگے لایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ عطاء اللہ تارڑ اور طلال چودھری نے مل کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلائی لیکن باشعور عوام نے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے خلاف پراپیگنڈہ کو پوری طرح مسترد کردیا ہے،بند کمروں میں فیصلے کرنے والے جعلی وفاقی وزرا عوام میں جانے سے خوفزدہ ہیں جبکہ عوام اب وفاق پر مسلط منفی کرداروں سے تنگ آ چکے ہیں،معاون خصوصی نے کہا کہ مسترد شدہ ٹولہ اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے مگر پاکستان تحریک انصاف نے عوام دشمن سیاست کرنے والوں کا سیاسی بستر گول کرنے کا عزم کر رکھا ہے،دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ مقدمہ کے اندراج اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت 8 فروری کے احتجاج کے اعلان سے خوفزدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ احتجاج کو روکنے کے لیے سازشیں کی جا رہی ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف عوام اور اپنے کارکنوں کے ساتھ مل کر 8 فروری کے احتجاج کو ہر صورت کامیاب بنائے گی۔
گڈ گورننس روڈ میپ، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کل کھلی کچہری میں عوام کے رو برو پیش ہوں گے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت عوامی مسائل کے براہِ راست حل کے لیے کل بروز جمعرات “کھلی کچہری”کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مؤثر موقع فراہم کرنا ہے۔یہ کھلی کچہری 29 جنوری 2026 کو دوپہر ایک بجے فیس بک لائیو کے ذریعے نشر کی جائے گی، جس میں سیکرٹری بلدیات سمیت محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔ کھلی کچہری کا اہتمام محکمہ لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔مذکورہ ایونٹ کے حوالے سے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کو بلدیاتی خدمات کی فراہمی میں شفافیت، بہتری اور بروقت رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور کھلی کچہری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے علاقوں سے متعلق بلدیاتی مسائل، شکایات اور تجاویز بلا جھجھک کھلی کچہری میں پیش کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہری کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کو متعلقہ حکام تک پہنچا کر ان کے ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیر بلدیات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فیس بک لائیو سیشن میں بھرپور شرکت کریں اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مسائل براہِ راست (www.facebook.com/share/183XAMXYZ8DI/?MIBEXTID=WWXIFR) کے ذریعے حکومت کے سامنے رکھیں تاکہ بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے خانپور میں منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر مختلف عوامی وفود نے ملاقاتیں کیں
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان سے خانپور میں منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر مختلف عوامی وفود نے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر وفود نے علاقائی ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی سہولیات اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق امور صوبائی وزیر کے سامنے رکھے۔ارشد ایوب خان نے وفود کے مسائل توجہ سے سنے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے، تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل اور عوامی فلاح سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے اور جاری ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے اور پبلک ڈے جیسے اقدامات عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی فلاح اور تعلیمی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
