Home Blog Page 67

خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری ملازمین کو وسائل اور استطاعت کے مطابق جائز حقوق اور مراعات ملتے رہیں گے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے سیکرٹریٹ ملازمین کی جانب سے منعقدہ اظہار تشکر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری ملازمین کو خیبرپختونخوا حکومت کے استطاعت کے مطابق انکے جائزے مطالبات اور مراعات دینے کا سلسلہ جاری رہے گا حکومت خیبرپختونخوا اپنے محدود وسائل کے اندر سرکاری ملازمین کو بہتر سہولیات اور مراعات فراہم کر رہی ہے۔ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس سیکرٹریٹ ملازمین کا جائز اور دیرینہ مطالبہ تھا جو دیگر صوبوں کے سیکریٹریٹ ملازمین کو کئی سالوں سے مل رہا تھا جو خیبرپختونخوا حکومت نے وسائل کو دیکھتے ہوئے منظوری دی ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے آل سیکرٹریٹ کوارڈینیشن کونسل کی جانب سے ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس کی منظوری پر منعقدہ اظہار تشکر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ملازمین صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے خادم ہیں اپنے فرائض ایمانداری اور دیانتداری سے ادا کریں تو انکے زندگی اور مالی معاملات میں نہ صرف برکت ہوگی بلکہ انکو ڈیوٹی عبادت میں شمار ہوگی۔ اس موقع پر چیئرمین سیکرٹریٹ کوارڈینیشن کونسل ظفر خان یوسفزئی، محمد اسد کمپیوٹر آپریٹرز ایسوسی ایشن، شیر زمان وائس چیئرمین کوارڈینیشن کونسل، الطاف حسین صدر کلاس فور ایسوسی ایشن اور طارق حسن سمیت متعدد ملازمین رہنماؤں نے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے حق میں نعرے بلند کیے۔

Khyber Pakhtunkhwa Board of Investment & Trade (KPBOIT) and Small & Medium Enterprises Development Authority (SMEDA) Jointly Celebrate International Micro-Small and Medium Size Enterprises (MSME) Day 2026

The Khyber Pakhtunkhwa Board of Investment and Trade (KPBOIT), in collaboration with the Small and Medium Enterprises Development Authority (SMEDA), commemorated International Micro, Small and Medium-sized Enterprises (MSME) Day 2026 through a joint event held in Peshawar. The event brought together key stakeholders from the public and private sectors to reaffirm their commitment to strengthening the MSME ecosystem in Khyber Pakhtunkhwa.
The ceremony was graced by Mr. Humayun Khan, Advisor to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Industries, as the Chief Guest, while Mr. Hassan Masood Kunwar, Vice Chairman KPBOIT, participated as the Guest of Honour. The event was attended by representatives of various chambers of commerce and industry, trade associations, MSMEs, entrepreneurs, and officials from relevant government departments.
Speaking on the occasion, Mr. Humayun Khan highlighted the pivotal role of MSMEs in driving economic growth, employment generation, innovation, and regional development. He reiterated the Provincial Government’s commitment to creating an enabling business environment through policy reforms, investment facilitation, improved access to finance, and enhanced support services for entrepreneurs. He emphasized that empowering MSMEs is essential for achieving sustainable and inclusive economic development in Khyber Pakhtunkhwa.
Addressing the participants, Mr. Hassan Masood Kunwar, Vice Chairman KPBOIT, underscored KPBOIT’s role in promoting investment, facilitating businesses, and supporting the growth of local enterprises. He noted that MSMEs form the backbone of the provincial economy and that KPBOIT remains committed to working closely with SMEDA, chambers of commerce, development partners, and the private sector to enhance business competitiveness, attract investment, and create new opportunities for entrepreneurs across the province.
Representatives of SMEDA highlighted the organization’s ongoing initiatives aimed at capacity building, business development services, technology adoption, market access, and financial inclusion for MSMEs. They stressed the importance of collaboration among public institutions, private sector organizations, and development partners to build a resilient and competitive MSME sector.
Representatives from various chambers of commerce and MSMEs shared their perspectives on the challenges and opportunities facing small businesses in the province. They appreciated the efforts of the Government of Khyber Pakhtunkhwa, KPBOIT, and SMEDA in promoting entrepreneurship and facilitating business growth while emphasizing the need for continued policy support, improved access to finance, skills development, digital transformation, and enhanced market linkages.
The event concluded with a renewed commitment from all stakeholders to strengthen collaboration for the promotion of entrepreneurship and the sustainable growth of MSMEs in Khyber Pakhtunkhwa. Participants reaffirmed that a vibrant MSME sector is critical for job creation, export promotion, innovation, and long-term economic prosperity

حکومت خیبرپختونخوا نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شمشان گھاٹوں کی تعمیر کی غرض سے 4 کنال اراضی حوالہ کر دی

حکومت خیبرپختونخوا نے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندو اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹوں کے قیام کی غرض سے چار کنال اراضی حوالہ کر دی ہے۔ اس اراضی میں سے دو کنال ہندو برادری جبکہ دو کنال سکھ برادری کے لیے مختص کی گئی ہے۔
اراضی حوالگی کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے اقلیتی برادریوں کے نمائندگان، منتخب عوامی نمائندوں، مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری حکام کی موجودگی میں اراضی باضابطہ طور پر حوالے کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر عدنان قادری نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا تمام شہریوں کے آئینی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور مذہب، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جانب عملی پیش رفت ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی احترام، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریاں پاکستان کے سماجی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار ہمیشہ قابل قدر رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے تقریب کے شرکاء کو حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی عبادت گاہوں میں مذہبی تہواروں کے انعقاد کے لیے 61 ملین روپے کا خصوصی سپورٹ پروگرام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ انٹرمیڈیٹ سے پی ایچ ڈی سطح تک اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ بیواؤں، یتیم بچوں، مستحق خاندانوں اور خصوصی افراد کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کے لیے سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات کی تیاری کے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لیے 200 ملین روپے اور کیلاش کمیونٹی کے لیے 100 ملین روپے کے اینڈومنٹ فنڈز قائم کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں اقلیتی قبرستانوں، عبادت گاہوں اور شمشان گھاٹوں کے لیے اراضی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 500 ملین روپے سے زائد مالیت کے منصوبے کے تحت اقلیتی عبادت گاہوں اور رہائشی آبادیوں کی بحالی و مرمت بھی جاری ہے۔عدنان قادری نے کہا کہ حکومت اقلیتی مذہبی رہنماؤں کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کر رہی ہے جبکہ صوبے بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے صوبائی و ضلعی بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیاں، اقلیتی مشاورتی کمیٹیاں اور اقلیتی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ اقلیتی برادریوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور عطا الرحمن نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہ صرف آئینی ذمہ داری بلکہ مذہبی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت تعلیمی وظائف، فلاحی گرانٹس، عبادت گاہوں کی بحالی، بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگرام، اینڈومنٹ فنڈز، ہنر مندی کے منصوبے اور قبرستانوں و شمشان گھاٹوں جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کامیابی سے جاری ہیں۔ہندو اور سکھ برادری کے نمائندوں نے حکومت خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شمشان گھاٹوں کے لیے علیحدہ اراضی کی فراہمی ان کا دیرینہ مطالبہ تھا، جس کی تکمیل سے اقلیتی برادریوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے اس اقدام کو صوبے میں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتی حقوق کے فروغ کی جانب ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مذہبی رواداری، باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کے طلبہ کیلئے سمر لرننگ اینڈ گرومنگ فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے سرکاری سکولوں کے طلبہ کیلئے سمر لرننگ اینڈ گرومنگ فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد موسم گرما کی تعطیلات کے دوران طلبہ کو تعلیمی، تربیتی اور تفریحی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔فیسٹیول کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 19 اضلاع سے چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً دو ہزار طلبہ حصہ لیں گے۔ ان طلبہ کیلئے رہائشی سمر کیمپس سوات، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں منعقد کیے جائیں گے۔سمر لرننگ اینڈ گرومنگ فیسٹیول کے انتظامات کا جائزہ صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام، متعلقہ ڈویژنوں کے کمشنرز، تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز اور متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ یہ فیسٹیول طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی کیلئے ایک اہم اقدام ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیتیں، ٹیم ورک، کھیلوں، تخلیقی سرگرمیوں اور صحت مند تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع بلعموم اور جنوبی اور ضم اضلاع بالخصوص کے بہت سے باصلاحیت طلبہ کو ایسے مواقع کم میسر آتے ہیں۔ یہ فیسٹیول انہیں نہ صرف نئی چیزیں سیکھنے کا موقع دے گا بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے طلبہ سے میل جول، تجربات کے تبادلے اور باہمی ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گا۔وزیر تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کیمپس میں طلبہ کی رہائش، خوراک، سکیورٹی، صحت اور دیگر انتظامات بہترین انداز میں کیے جائیں تاکہ طلبہ محفوظ، آرام دہ اور خوشگوار ماحول میں اپنی تعطیلات گزار سکیں اور سیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ طلبہ اس سمر کیمپ سے نئی معلومات، اچھی یادیں، نئے دوست اور ایسے تجربات لے کر واپس جائیں جو ان کی آئندہ زندگی میں بھی ان کے کام آئیں۔سمر لرننگ اینڈ گرومنگ فیسٹیول میں تعلیمی نشستوں کے علاوہ کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں، تخلیقی مشقوں، قیادت سازی، مہماتی سرگرمیوں اور تفریحی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جائے گا، تاکہ طلبہ کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبرپختونخوا کا انقلابی اقدام، جدید موبائل ایپ متعارف

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبرپختونخوا نے عوام کو بہتر، شفاف اور بروقت خدمات کی فراہمی کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے جدید موبائل ایپ متعارف کرا دی۔ صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے منگل کے روز محکمہ کی نئی موبائل ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری،چیف انجینئرز، ڈائریکٹر ٹیکنیکل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو موبائل ایپ کی تیاری، اس کے مختلف فیچرز، افادیت اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی موبائل ایپ کے ذریعے عوام اپنے پانی کا بل اور بقایاجات آن لائن دیکھ سکےگے لوگوں کی آسانی کیلیے ایپ اردو اور انگلش دونوں ذبانوں میں تیار کیا گیا ہے جبکہ ایپ کے ذریعے صارفین صاف پانی کی فراہمی، واٹر سپلائی سکیموں، شکایات کے اندراج، شکایات کی آن لائن ٹریکنگ، ترقیاتی منصوبوں کی معلومات، متعلقہ دفاتر سے رابطے اور دیگر اہم عوامی خدمات تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے ایپ کے ذریعے شکایات کے بروقت ازالے کی نگرانی بھی ممکن ہوگی، جس سے محکمانہ کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں مزید بہتری آئے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی خدمت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی نئی موبائل ایپ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے عوام اور محکمہ کے درمیان رابطہ مزید مؤثر، آسان اور شفاف ہوگا
۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا وژن عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور وسائل کے شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ موبائل ایپ کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جائے، اس میں مزید جدید سہولیات شامل کی جائیں اور عوامی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔ صوبائی وزیر نے موبائل ایپ کی تیاری میں کردار ادا کرنے والی محکمانہ ٹیم، آئی ٹی ماہرین اور افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بونیر گل د نمیر 2026 میلے کے دوسرے روز مختلف کھیلوں کا انعقاد ہوا

ضلع بونیر میں محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام تین روزہ ثقافتی میلہ “بونیر گل د نمیر 2026” کے دوسرے روز بھی مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوئے۔ ہاکی، کرکٹ،فٹ بال، رسہ کشی،مخہ، کبڈی، مارشل ارٹ کے مقابلوں میں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ میلے میں خصوصی افراد کے مابین ویل چیئر ریس اور دیگر مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ میلے کے دوسرے روز رنگارنگ ثقافتی پروگرام بھی منعقد ہوئے جس میں سابق تحصیل ناظم سید سالار جہان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قیصر کنڈی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس انڈ پلاننگ محترمہ فرنگس عظیم سمیت سابق تحصیل ناظم حاجی شریف خان اور بونیر کے عوام و نوجوانوں اور کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ تقریبات میں جادوئی کرتب پیش کئے گئے جبکہ موسیقی کے دھنوں سے بھی حاضرین خوب محظوظ ہوئے۔ دوسرے روز کے اختتام پر جوند بینڈ کی شاندار پرفارمنس سے نوجوانوں اور بچوں نے خوب مزہ لیا۔

قانون ساز کمیٹی کا اجلاس، نظام میں اصلاحات اور انسدادی و عدالتی مجسٹریسی سے متعلق اہم مسودۂ قانون پر غور۔

خیبر پختونخوا کےوزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت قانون ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضابطہ فوجداری (خیبرپختونخوا) ترمیمی بل 2025 کے قانونی، آئینی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ میڈم شگفتہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، پشاور ہائی کورٹ، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، محکمہ خزانہ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مجوزہ ترمیمی بل کی مختلف دفعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس کے صوبے کے فوجداری نظام، تفتیشی عمل، عدالتی کارروائی اور انصاف کی بروقت فراہمی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے بالخصوص انسدادی (Preventive) اور عدالتی (Adjudicative) مجسٹریسی سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی بحث کی، جن کا مقصد دونوں شعبوں کے اختیارات اور دائرۂ کار کو واضح بنانا، فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانا، اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا اور قانونی کارروائی کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانا ہے۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ مجوزہ اصلاحات کو آئین، موجودہ قوانین اور عوامی مفاد سے مکمل ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ فوجداری نظامِ انصاف کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے اور قانونی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد ایسے قوانین متعارف کرانا ہے جو شہریوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، عدالتی نظام کی کارکردگی میں بہتری لائیں اور فوجداری نظامِ انصاف کو مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ انسدادی اور عدالتی مجسٹریسی سے متعلق مجوزہ اصلاحات کا مقصد مجسٹریٹوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو زیادہ واضح اور مؤثر بنانا، قانونی ابہام کا خاتمہ کرنا، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں شفافیت، مؤثریت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے نمائندوں، قانونی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی مجوزہ بل کے مختلف قانونی، تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام متعلقہ فریقین کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے مسودۂ قانون کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ ایک جامع، قابلِ عمل اور مؤثر قانون مرتب کیا جا سکے۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ خیبرپختونخوا میں عوام دوست، شفاف اور مؤثر نظامِ انصاف کے قیام کے لیے قانونی اصلاحات کا عمل آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Forest and Environment Pir Musawar Khan made a surprise visit to Environmental Protection Agency (EPA) Analysis Laboratory here on Tuesday

Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Forest and Environment Pir Musawar Khan has said that all possible steps will be taken to promote a human-friendly environment in the province. He has said that all resources will be utilized for better services of the Environmental Protection Agency (EPA) in Khyber Pakhtunkhwa.

The advisor expressed these views during a surprise visit to the Environmental Protection Agency (EPA). During his surprise visit to the Environmental Protection Agency (EPA), Pir Musawar Khan inspected the Analysis Laboratory while also inspecting various sections of the laboratory and reviewing its ongoing affairs, facilities and performance.

During the visit, the concerned authorities gave a detailed briefing to the Advisor on Forests and Environment about the analytical process and environmental monitoring system being carried out in the laboratory.

During the visit Pir Musawar Khan emphasized the need to further improve the quality of services and increase the capacity of the institution, while directing the analysis laboratory to be better and more in line with modern requirements. He said that the health and safety of the people of the province is the top priority of our provincial government. We have to make the development and prosperity of the province possible at all costs

سیاحوں کو محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، معاون خصوصی برائے سیاحت ملک عدیل اقبال

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت،ثقافت و آثار قدیمہ ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت خیبرپختونخوا رورل روڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے حوالےسے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی وقار علی شاہ،پروجیکٹ ڈائریکٹر عمیر احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی،اجلاس میں صوبے کے سیاحتی مقامات تک محفوظ، معیاری اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ معاون خصوصی ملک عدیل اقبال نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔سیاحوں کو محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے متعلقہ افسران کو آئندہ ماہ سے نئے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ سیاحت کا شعبہ مقامی معیشت کو مستحکم کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیاحتی مقامات تک بہتر رسائی، جدید سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ناگزیر ہے

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا بانی چیئرمین عمران خان سے فیملی اور وکلا کی ملاقات سے متعلق بیان

بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے آج ان کی فیملی اور وکلا اڈیالہ جیل جائیں گے، شفیع جان

صوبائی کابینہ کے اراکین اور پارٹی کے اراکین اسمبلی بھی عمران خان اور ان کی فیملی سے اظہار یکجہتی کے لیے اڈیالہ جائیں گے، شفیع جان

فارم 47 کے ذریعے قائم وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے سیاسی انتقام میں ظلم و جبر کی ہر حد پار کردی،شفیع جان

عمران خان کے آئینی، قانونی اور بنیادی انسانی حقوق سلب کرنا قابل مذمت اور انتہائی افسوسناک ہے، شفیع جان

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور آئین و قانون کی کھلی پامالی ہے،شفیع جان

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں کلاس بی کی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ ان کی صحت پر بھی غفلت برتی گئی،شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، عمران خان کی بہنوں اور پارٹی نے ملاقات کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا، شفیع جان

ہمارا مطالبہ ہے کہ آج ہی عمران خان کی فیملی سے ملاقات کرائی جائے اور عمران خان و بشریٰ بی بی کو فوری طور پر الشفاء آئی ہسپتال منتقل کیا جائے، شفیع جان

نواز شریف کو ذاتی معالجین تک رسائی حاصل تھی، عمران خان کو اس بنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے، شفیع جان

بانی چیئرمین عمران خان کو ان کے قانونی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، شفیع جان

عدالتی احکامات اور قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، شفیع جان

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، آئینی اور جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، شفیع جان

فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر قابض نااہل ٹولہ یہ بھول چکا ہے کہ انکے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں،شفیع جان

پاکستان تحریک انصاف آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی، شفیع جان