Home Blog Page 7

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار سمیت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے آغاز کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے پہلے مرحلے میں صوبے بھر کے ڈگری کالجز کے 2250 فیکلٹی ممبران کو خصوصی تربیت دی جائے گی، جن میں 50 فیصد خواتین فیکلٹی سٹاف شامل ہوں گی۔ اس مرحلے کے تحت تقریباً 30 ہزار طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے نفاذ سے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے تدریسی معیار میں بہتری آئے گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ کے نتیجے میں تیار ہونے والی مصنوعات اور تخلیقی منصوبوں کو صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اس پروگرام پر مجموعی طور پر 341 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فیکلٹی سٹاف تربیت حاصل کرے اور اس کا فائدہ طلبہ تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے ذریعے طلبہ کو جدید دور اور مارکیٹ بیسڈ ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں فیکلٹی ممبران کی پروموشن کے عمل میں بھی سٹیم لرننگ ماڈل سے وابستہ کارکردگی اور شمولیت کو بطور ایک اہم عنصر شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ تعلیمی ادارے قومی و بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کرک کے ایم این اے شاہد خٹک اور ایم پی اے خورشید خٹک سمیت سیکٹری صحت شاہداللہ، متعلقہ ڈی ایچ اوز، ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک سمیت ضلع بھر کے دیگر مراکز صحت کو درپیش انتظامی، انسانی وسائل اور سروس ڈیلیوری کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منہدم سول ڈسپنسریاں (سی ڈی) شاہندند اور سی ڈی لاواگر کی تعمیرِ نو نئی اے ڈی پی کے تحت کی جائے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے جنرل ڈیوٹی کے معاملات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ افسران و ملازمین جو ڈی ایچ او کرک سے تنخواہیں لے رہے ہیں مگر ضلع سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں فوری طور پر واپس تعینات کیا جائے اور ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیرِ صحت نے اعلان کیا کہ 41 نئے ڈاکٹرز کی منتقلی اور بھرتی کی جائے گی تاکہ ڈی ایچ کیو اور دیگر صحت مراکز میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور طبی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس میں ٹائپ ڈی ہسپتال لٹمبر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ڈی ایچ او کرک کو ڈاکٹروں کی ریشنلائزیشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ افرادی قوت کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دواؤں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک میں ہسپتال کی اپنی فارمیسی قائم کرنے کی منظوری دی، جہاں ایم سی سی ادویات کی فہرست اور ایم سی سی ریٹس برقرار رکھے جائیں گے اور ایم سی سی کی آمدن ہسپتال کو حاصل ہوگی۔ اجلاس میں ڈی ایچ کیو کرک میں سی ٹی اسکین سروس کو پی پی پی موڈ کے تحت آؤٹ سورسنگ کے ذریعے شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ ہسپتالوں خصوصاً ایمرجنسی سروسز کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ڈی ایچ کیو کرک میں افرادی قوت کی کمی بالخصوص نرسنگ سٹاف کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی ہسپتال کی نگرانی میں سخت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولیات فعال ہیں اور انہیں مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ مریضوں کا زیادہ دباؤ ٹائپ سی صحت مراکز پر ہے، لہٰذا اسٹاف تعیناتی، او پی ڈی توازن اور سہولیات کی فراہمی اسی تناسب سے یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ صحت نے ایچ ایم سی ریونیو میں بہتری، صفائی کی صورتحال کی درستگی، مناسب سیوریج سسٹم کے قیام، ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کے نفاذ اور بچوں کے لیے نرسری/چائلڈ فرینڈلی سہولت قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔اگرچہ ڈی ایچ کیو کرک کو خطے کی بہترین عمارتوں میں سے ایک قرار دیا گیا، تاہم وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ انتظامی اور مینجمنٹ کے مسائل کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کا جامع معائنہ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قلیل المدتی اصلاحاتی منصوبہ جلد تیار کیا جائے گا جبکہ پیتھالوجی کے تمام بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت جلد دستیاب ہوگی۔ ریجنل ڈائریکٹر جنرلز (آر ڈی جیز) کو علاقائی سطح پر نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ صحت نے فکسڈ پے پر ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے ڈویژنل کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی تاکہ بھرتی کے عمل کو تیز کیا جا سکے، اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ بالخصوص امن و امان کے مسائل سے دوچار علاقوں میں ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوئی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ضلع کرک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، انسانی وسائل کی بہتری، تشخیصی سہولیات کے فروغ اور شفاف ادویات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری ہے۔ اس عمل کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لانا ہے۔منیجر ویٹس پشاور پیر زبیر کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے جاری اس خصوصی مہم کے دوران صوبہ بھر میں 15 ہزار سے زائد گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے بعد 10 ہزار گاڑیاں مقررہ معیار پر پورا اترنے کے باعث پاس، جبکہ 5 ہزار گاڑیاں ماحولیاتی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث فیل قرار دی گئیں۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ متعدد کیسز میں گاڑیوں کے قانونی کاغذات بھی ضبط کیے گئے۔ موٹر وہیکل ایگزامینر (ایم وی ای) پشاور انضمام عالم کے مطابق خصوصی طور پر نجی سکولوں کی گاڑیوں کے اخراجی دھونئے کی جانچ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور کے نجی سکولوں کے مالکان کو باقاعدہ وضاحت جاری کر دی گئی ہیں جن میں انہیں تین دن کے اندر اندر سکولوں کی تمام گاڑیوں کا دھواں اور ایم وی فٹنس چیک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایم وی ای نے مزید بتایا کہ پشاور کے کئی نامور نجی سکولوں کے مالکان نے اپنی گاڑیوں کا دھواں چیک کروانے کے لیے چالان جمع کرا دیے ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم جن سکولوں یا گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے ہدایات پر عمل نہیں کیا جائے گا، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مینیجر ویٹس نے واضح کیا ہے کہ محکمہ کی طرف سے یہ مہم بلا تفریق جاری رہے گی اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کسی بھی گاڑی کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت جانچ کروائیں اور صاف ماحول کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے رجسٹریشن حاصل کر سکیں اور وہ تعلیمی شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹری محمد مسعود، منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی افتخار احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر پی۔ ایس۔ آر۔ اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پرائیوٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبے کے پرائیویٹ اداروں کی آن لائین رجسٹریشن اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے اور شکایات ڈش بورڈ پر باقاعدہ کمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم موجودہے جس کے ذریعے یہ شکایات حل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ادارے کی اپنی ویب سائیڈ بھی ہے اور سکولوں کے طلبہ کے سکول چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ اور مائی گریشن جیسے مسائل بھی ڈیجیٹائزڈ کیئے گئے ہیں اور ان کا باقاعدہ طور پر اتھارٹی کے پاس ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے ماتحت پرائیویٹ ادارے تجد یدی طریقہ کار میں آن لائین بینکنگ اور ایزی پیسہ کے ذریعے آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جی۔ آئی۔ ایس بیسڈ میپنگ آف رجسٹریشن سسٹم، فائن منیجمنٹ سسٹم اور موبائل ایپلیکیشنز جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہاکہ صوبے کے تمام پرائیویٹ اداروں میں موجود بچوں کی تعداد کے ساتھ ان اداروں کے لئے متعین طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور مسنگ سکولوں کی رجسٹریشن بھی کرائی جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے دور حاضر کی ایسی اصلاحات متعارف کریں جن کی بدولت صوبے کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم میسر ہو سکے اورایس۔ایل۔ او بیسڈ امتحانات اورٹریننگ کے ساتھ ساتھ کلسٹر سسٹم کے امتحانات کو مزید فعال بنایا جائے۔

وفاقی حکومت کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مسلسل بیان بازی جعلی وفاقی وزراء کی شدید بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا نتیجہ ہے، وفاقی حکومت کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست کرنا نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے،شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پہلے دن سے واضح، دو ٹوک اور پوری قوم کے سامنے ہے، اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کا دہشت گردی اور شہداء کے جنازوں پر سیاست کرنا وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کا پرانا وطیرہ ہے۔ وفاق پر مسلط جعلی حکومت کے وزراء دہشت گردی جیسے حساس معاملے کو اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاہم وہ ہمیشہ کی طرح اس میں ناکام ہوں گے کیونکہ قوم نے اصل مینڈیٹ بانی چیئرمین عمران خان کو دیا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے صوبائی حکومت بھرپور اور سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک جامع امن جرگہ منعقد کیا جس میں متفقہ طور پر 15 نکات کی منظوری دی گئی جن پر اپوزیشن لیڈر سمیت تمام سیاسی قیادت کے دستخط موجود ہیں،شفیع جان نے خواجہ آصف کو مشورہ دیا کہ وہ بیانات دینے سے قبل امن جرگے کے منظور شدہ نکات کا مطالعہ کر لیں،معاون خصوصی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بہتر طرز حکمرانی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت گورننس کے میدان میں سب سے آگے ہے، خیبر پختونخوا حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا ہے جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کرپشن میں سرفہرست ہے،شفیع جان نے خواجہ آصف پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ کے دورے پر خواجہ آصف کی تکلیف ان کے غیر جمہوری اور تنگ نظر رویے کا واضح ثبوت ہے۔ فارم 47 پر منتخب جعلی وزیر خواجہ آصف الزام تراشی چھوڑ کر اپنا فارم 45 قوم کے سامنے پیش کریں،فارم 47 والے جعلی وزیر عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ وہ ان کے منتخب نمائندے ہیں؟انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ خواجہ آصف ریحانہ ڈار سے الیکشن ہار چکے ہیں وہ ایک شکست خوردہ شخص ہیں،ایسے شخص کو چاہیے کہ الزام تراشی کی سیاست کی بجائے اپنی کارکردگی قوم کے سامنے پیش کریں۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل اور امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے بدھ کے روز اپر چترال کا دورہ کیا اورپولو کھیلاڑیوں میں نقد انعامات کی رقم کی چیک تقسیم کئے

مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند اپر چترال میں پولو کھلاڑیوں کے درمیان تقد رقم تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ ان کے ہمراہ سیکریٹری کھیل خیبرپختونخواہ محمد آصف، ڈائریکٹر جنرل کھیل خیبرپختونخواہ تاشفین حیدر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر چترال کے چون پولو کھلاڑیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے نقد انعامات کے چیک تقسیم کئے گئے۔ اپر چترال پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے مشیر کھیل اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر چترال لیویز کے چاق و چوبند دستے نے مہمانانِ گرامی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔مشیر برائے کھیل اور سیکریٹری کھیل کے دورے کا مقصد گزشتہ سال شندور پولو ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپر چترال کے پولو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان میں انعامات تقسیم کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے آفس لان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ضلع میں کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال جناب سکندر الملک نے ایڈوائزر برائے کھیل کو اپر چترال میں پولو گراؤنڈز کی خستہ حالی، ان کی مرمت و بحالی، نئے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اور پولو گراؤنڈز کی حفاظت کے لیے چوکیداروں کی تعیناتی سے متعلق تفصیلی سپاسنامہ پیش کیا۔
مشیر برائے کھیل تاج محمد خان ترند نے اپر چترال میں پولو گراؤنڈز کی مرمت، آرائش و زیبائش، ریشن پولو گراؤنڈ میں پانی کی فراہمی، تحصیل سطح پر نئے پولو گراؤنڈز کی تعمیر کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں قاقلشٹ فیسٹیول کو باضابطہ طور پر اپنا کر آئندہ اسے محکمہ کھیل کے تحت منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔انہوں نے پیرا گلائیڈنگ سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب سے سیکریٹری کھیل خیبرپختونخواہ نے بھی خطاب کیا اور ضلع بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور حکومتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر مشیر برائے کھیل اور دیگر معزز مہمانوں نے چترال بی ٹیم، چترال سی ٹیم، چترال ڈی ٹیم، سب ڈویژن مستوج پولو ٹیم، لاسپور اے ٹیم اور لاسپور بی ٹیم کے پولو کھلاڑیوں میں فی کس پانچ، پانچ لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Elementary and Secondary Education was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat, Peshawar

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Elementary and Secondary Education was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat, Peshawar. The meeting was chaired by the Chairman of the Standing Committee and Member of the Provincial Assembly, Iftikhar Ali Mashwani. Members of the Standing Committee and MPAs Muhammad Abdul Salam Afridi, Ahmed Kundi, Sharafat Ali, Askar Parvez, Ms. Asma Alam, Ms. Shala Bano, and Ms. Sobia Shahid attended the meeting. In addition, the Secretary for Elementary and Secondary Education along with the relevant staff, representatives of the Law Department, the Finance Department, and officers of the Provincial Assembly were also present.
In light of the directives issued in the previous meeting held on 16 September 2025, the Elementary and Secondary Education Department gave a detailed briefing regarding 2,914 vacant posts of watchmen. It was informed that the Finance Department has issued the NOC for recruitment against 2,802 posts, while the NOC for 112 posts related to the merged districts has not yet been issued. The Committee directed that these posts be filled at the earliest. As these are Class-IV positions, priority should be given to local residents in all districts, and landowners who have provided land for schools should also be included. The Committee further directed that a progress report be presented in the next meeting.
During the meeting, Committee members and MPAs presented details regarding the deteriorating condition of government schools in their respective constituencies and directed the Education Department to give special attention to the matter to safeguard the future of coming generations. The Committee reviewed the Education Department’s e-transfer formula and emphasized its full implementation. The Secretary for Elementary and Secondary Education informed the Committee that headmasters of schools with results below forty percent have been issued warnings, and conferences in this regard were held in Peshawar, Abbottabad, and Mardan. Various members also raised concerns regarding the condition of schools in Swat, Swabi, and other districts, as well as issues related to quotas for government employees, which the Committee decided to place on record.

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ایبٹ آباد میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں مبینہ غفلت کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ایبٹ آباد میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں مبینہ غفلت کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں ڈسرکٹ ایجوکیشن آفس ایبٹ آباد کے لیٹی گیشن افسر سے بھی انکوائری کی جائے تاکہ صوبائی حکو مت کے عزم کے مطابق شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں نئی بھرتیوں کے لئے شفاف طریقہ کار وضع کر رہے ہیں جس کے تحت اب نئی بھرتیوں کا اختیار ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسرکے پاس نہیں ہوگا اوروہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو منظوری کے لئے سرف ریکامنڈیشن بھیج سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں ضلع ایبٹ آباد میں محکمہ تعلیم کے سکولوں سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی اورنذیر احمد عباسی، منیجنگ ڈائریکٹرایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن قیصر عالم،ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم، ڈپٹی چیف پلاننگ آفیسر،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز ایبٹ آباد سمیت دگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلع ایبٹ آباد میں بند سکولوں اور نئے تعمیر ہونے والے سکولوں کے لئے فنڈز کے اجراء، ایڈیشنل گرانٹ کو استعمال میں لانے، سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اس میں فرنیچر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبہ کو اولیت دے رہی ہے اور محکمہ تعلیم کے عدالت کے معاملات کو پیروی کرنے کے لئے ایک قانونی فورم بنایا جا رہا ہے جو ان کیسوں کو صحیح طور پر نمٹائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ایبٹ آباد کے ضلع میں سکولوں کی تعمیرو مرمت اورسکولوں میں فرنیچرکی فراہمی کو یقینی بنایاجائے جبکہ فنڈزکی کمی کی وجہ سے کئی سالوں سے التوا کے شکار زیر تعمیر سکول جو مکمل نہ ہو سکے ان کے لئے محکمہ خزانہ سے فنڈز کی فرہمی کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مجوزہ آئینی ترمیمی بل اور اس کے صوبے پر ممکنہ آئینی، مالی اور وفاقی اثرات کے ساتھ ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کی منتقلی اور اس کے تصفیے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ قانون کے حکام، محکمہ خزانہ، بلدیات و دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، زراعت، اعلیٰ تعلیم، صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں، جامعات اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بظاہر انتظامی نوعیت کی مجوزہ آئینی قانون سازی درحقیقت سینیٹ میں نمائندگی، قومی مالیاتی کمیشن اور وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس پر کسی بھی پیش رفت سے قبل تمام صوبوں سے بامعنی اور سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کے رقبے میں تقریباً چھتیس فی صد جبکہ آبادی میں سولہ فی صد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ انیس اعشاریہ چھ چار فی صد بنتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس شرح کے مطابق صوبے کو سالانہ تقریباً تین سو اسی ارب روپے ملنے چاہئیں، تاہم یہ رقم تاحال صوبے کو فراہم نہیں کی جا رہی جو آئینِ پاکستان بالخصوص آرٹیکل 160(3A) کے تحت صوبوں کے مالی حقوق کے تحفظ کے منافی ہے۔اسی اجلاس میں کابینہ کی قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اقدامات کے لیے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق زیر التوا کیسز، عدالتی فیصلوں اور ڈیکری کی صورت میں واجب الادا رقوم کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اراضی کے تصفیے میں درپیش قانونی و انتظامی پیچیدگیوں، تاخیر کے اسباب اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پیش کی گئیں اور اس امر پر زور دیا گیا کہ زمین کے حصول اور اس سے متعلق مالی واجبات کے معاملات کو قانون کے مطابق، شفاف اور بروقت نمٹایا جائے تاکہ حکومت کو غیر ضروری مالی بوجھ اور عدالتی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام کی مضبوطی صوبائی خودمختاری، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور تمام اکائیوں کے درمیان برابری کے اصول سے مشروط ہے، اس لیے کسی بھی آئینی ترمیم یا انتظامی فیصلے میں صوبوں کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے آئینی، مالی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس ضمن میں ہر دستیاب آئینی و قانونی فورم پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اراضی کے حصول اور اس سے متعلق تمام زیر التوا کیسز کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ ان معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔

پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی سزا پنجاب سمیت پورے پاکستان کو مل رہی ہے۔ پنجاب حکومت کا دعوہ ہے کہ گندم 3000 روپے من کے حساب سے ریلیز کر رہے ہیں مگر گندم مارکیٹ میں 4600 من پر بھی دستیاب نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندم نرخ کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی سزا پنجاب سمیت پورے پاکستان کو مل رہی ہے پنجاب حکومت کا دعوہ ہے کہ گندم 3000 روپے من کے حساب سے ریلیز کر رہے ہیں مگر گندم مارکیٹ میں 4600 من پر بھی دستیاب نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بتائیں گندم کس کو ریلیز کی جارہی ہے؟ پہلے حساب دیا جائے کہ غریب کسان سے 2200 کی گندم کس نے خریدی؟ پھر گندم کو کس نے سٹور کیا تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت 3000 فی من کے حساب سے دے رہی ہے تو مارکیٹ میں دستیاب کیوں نہیں ہے۔ ن لیگ حکومت میں دراصل چینی اور آٹا مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت کھوکھلا دعویٰ دس کلو 900 روپے کا تھیلا بتائیں کس جگہ میں دستیاب ہے؟ مزمل اسلم نے کہا کہ آٹے مارکیٹ کا ریٹ پنجاب سے کھلتا ہے۔ پنڈی، اسلام آباد، اٹک اور پشاور میں 20 کلو تھیلے کا ریٹ 2800 تک پہنچ گیا ہے۔ آٹے کی بلیک مارکیٹ کی ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومت کی بنتی ہے۔