خیبر پختونخوا کے وزیر ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و میوزیم فضل شکور خان نے نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت، ثقافت اور ورثے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے وزیراعلیٰ کا وژن ہے کہ خیبر پختونخوا کو بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرایا جائے، جہاں قدرتی حسن، ثقافتی تنوع اور تاریخی ورثہ ترقی و روزگار کے نئے دروازے کھولے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں سیاحت کی ترقی نہ صرف معیشت کی مضبوطی بلکہ عالمی سطح پر مثبت امیج کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد محکمہ کی ابتدائی بریفنگ حاصل کرنے کے بعد کیا۔سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر عبدالصمد نے وزیرِ سیاحت کو محکمہ کے جاری منصوبوں، نئی سکیموں، ترقیاتی اہداف اور موجودہ کارکردگی سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اس موقع پر محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا تاریخی اور قدرتی مقامات سے مالامال ہے، جنہیں عالمی معیار کے مطابق ترقی دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم کے بعد سیاحت سب سے بڑی صنعت کی حیثیت رکھتی ہے، اور خیبر پختونخوا میں اس شعبے کی ترقی سے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام سیاحتی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہری پور ڈیم میں جدید بوٹنگ کی سہولت متعارف کرانے سے ایڈونچر ٹورازم کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ ونٹر ٹورازم کے لیے مزید سکی ریزارٹس کے قیام پر بھی کام تیز کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و میوزیم وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وژن کے مطابق اپنی خدمات کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنائے گا، تاکہ خیبر پختونخوا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سیاحت اور ثقافت کا مرکز بن کر اُبھرے۔
وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں انقلابی منصوبے صحت کارڈ پلس کی کامیابی کا سفر تیزی سے جاری ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں انقلابی منصوبے صحت کارڈ پلس کی کامیابی کا سفر تیزی سے جاری ہے،موجودہ حکومت کے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔ عوام کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی پر مجموعی طور پر 57 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، 276 مریضوں کو ٹرانسپلانٹ اور کاکلئیر امپلانٹ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، خیبر پختونخوا کے 158 ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے 700 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پلس کے تحت گردے اور جگر کی پیوندکاری، بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت دیگر مہنگے امراض کا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے، ژوندون کارڈ کے ذریعے او پی ڈی مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے، ژوندون کارڈ کے تحت مفت او پی ڈی کا آغاز ضلع مردان سے کیا گیا ہے، جسے جلد صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی، صحت کارڈ پلس حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے، خیبر پختونخوا حکومت عوام کو باوقار اور معیاری صحت سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی خدمت کا نیا معیار قائم کیا ہے، حکومت خیبر پختونخوا کا انقلابی منصوبہ صحت کارڈ پلس عوام کی خدمت، تحفظ اور شفا کی ضمانت ہے،لاکھوں خاندان صحت کارڈ پلس کے ذریعے مفت اور معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
زیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی وثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ و شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
زیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی وثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ و شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بچوں کی تعلیم اولین ترجیح ہے۔ محکمے میں اصلاحات لا کر بچوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے ساتھ محکمہ تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی اور سکلز متعارف کروائے جائیں گے اور اپنی تعلیمی سٹینڈرڈز کو اس قدر بہتر بنانا ہے کہ نجی سکولوں کے طلبہ و طالبات سرکاری سکولوں میں تعلیم کے لیے آئے۔ تعلیمی سلیبس اور اساتذہ تربیت پروگرامز میں جدید اصلاحات لائے جائیں گے اور تعلیمی بورڈز میں جدید ریفارمز متعارف کروا کر میرٹ بیسڈ کلچر متعارف کروایا جائے گا۔ رٹہ اور نقل کلچر کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا اور تعلیمی بورڈز میں ڈیجیٹائزیشن کی بدولت طلبہ و طالبات کو آسانی فراہم کی جائے گی۔ میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی کر کے اساتذہ کی کمی پوری کی جائے گی اور حکومت کی طرف سے مختص اور ریلیز شدہ بجٹ کو استعمال میں لا کر سابقہ منصوبوں کی تکمیل، نئے منصوبوں کے آغاز اور سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے کردار کو مزید فعال بنا کر کوالٹی ایجوکیشن کی مانیٹرنگ کے لئے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا جبکہ اتھارٹی کے رپورٹس کے مطابق قصوروار اہلکاروں کے خلاف ای این ڈی رولز کے تحت کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ تعلیم میں سزا و جزا کا عمل شروع کیا جائے گا اچھی کارکردگی کے حامل اہلکاروں کو جزا اور کم کارکردگی اور قصوروار اہلکاروں کو سزا دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم اورذیلی اداروں کی بریفنگ لیتے وقت کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹریز عبدالباسط اور مسعود کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ای ایم اے سہیل خان مینجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی افتخار مروت، چیئرمین ٹکسٹ بک بورڈ عابداللہ کاکاخیل، مینیجنگ ڈائریکٹر ای ایس ایف قیصر عالم، مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ پال، ڈائریکٹریس ایجوکیشن ناہید انجم، ڈائریکٹر ڈی پی ڈی مطہر، ڈائریکٹر ڈی سی ٹی ای منصور، چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ شاہ، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین اور ڈائریکٹر ائی ٹی صلاح الدین کے علاوہ محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ معاون خصوصی محمد عاصم خان نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ صوبے کے مختلف اضلاع کے آفسز میں اٹانومی اور پی ٹی سی کے جو فنڈ موجود ہیں ان کو زیر استعمال لانے کے لئے 10 دنوں کے اندر پروپوزل تیار کریں۔ سکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور سکولوں میں نا پید سہولیات کی فراہمی پر یہ فنڈ خرچ کریں تاکہ بچوں کو تعلیمی سہولیات مل سکیں۔ اور تمام کاموں کے لئے جلد از جلد ٹائم لائن مکمل کریں تاکہ قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ اور وژن کے مطابق اصلاحات لائے جائیں اور محکمہ تعلیم کا ہر ذیلی ادارہ ریفارمز پر مشتمل بریفنگ تیار کرے جس کی تکمیل کے لئے ٹائم لائن مقرر ہو۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ محکمہ تعلیم لیٹیگیشن ونگ کو مزید فعال کریں اور میرٹ و انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ معاون خصوصی نے یہ بھی ہدایت کی کہ مدارس کی رجسٹریشن محکمہ تعلیم کا مینڈیٹ ہے اس لیے ہوم اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ بیٹھ کر پلان کو حتمی شکل جلد از جلد دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی تو محکمہ تعلیم کی طرف سے شروع کردہ کلی کچہریوں کو صوبے کے تمام اضلاع تک توصیع دی جائے اور اس میں کیے گئے فیصلوں اور مسائل کی نشاندہی اور حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ٹیکسٹ بک بورڈ حکام کو ہدایت کی کہ تعلیمی سال کے آغاز کے پہلے دن بچوں کے ہاتھ میں مفت درسی کتابوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور ای ایم اے کی رپورٹس کے مطابق کتابوں کی چپائی کا عمل مکمل ہو اور کوئی اضافی کتابیں نہیں چپنا چاہئے۔ انہوں نے ای ایس ای ایف حکام کو ہدایت کی کہ آن لائن سکولنگ، ٹیلی تعلیم، پوہہ اور آن لائن کلاسز کے آغاز پر کام جلد از جلد مکمل کرے۔ اور وہ عنقریب خود اس کا باضابطہ افتتاع کریں گے۔ اور کامیاب پائلٹ کو پھر صوبے کے دیگر اضلاح تک توصیع دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ جن ماڈل سکولز کے بورڈ ممبران کا دورانیہ پورا ہو چکا ہے نئے ممبران کی تعیناتی کی منظوری کے لئے کیسز فورا بھیج دی جائے اور ماڈل سکولز کے غیر ضروری احراجات کو کم کیا جائے۔ معاون خصوصی برائے تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہمارے 34 ہزار 784 سرکاری سکولز, 3 ہزار 556 گرلز کمیونٹی سکولز اور 1378 اے ایل پی سینٹرز کے علاوہ 2 ہزار 154 بیکس اور این سی ایچ ڈی سینٹرز ہیں۔ جبکہ 11 ہزار 542 نجی سکولوں کو بھی ہم مانیٹر کر رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں تقریبا چھ ملین بچے پڑھ رہے ہیں اسی طرح گرلز کمیونٹی سکولوں میں 25 ہزار، اے ایل پی سینٹرز میں 46 ہزار، بیکس اور این سی ایچ ڈی سینٹرز میں 90 ہزار اور نجی سکولوں میں تقریبا تین ملین بچے زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں میں ایک لاکھ 85 ہزار اساتزہ, گرلز کمیونٹی سکولوں میں 5 ہزار 600 اساتذہ, اے ایل پی سینٹرز میں 1378 اساتذہ، بیکس میں 2700 اور نجی سکولوں میں ایک لاکھ 31 ہزار 434 اساتذہ بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ جبکہ 10 کیڈٹ کالجز اور 19 ماڈل سکولز بھی محکمہ تعلیم کی طرف سے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم کا کل بجٹ 311.896 ارب روپے ہے۔ جس میں ضم اضلاع کے لئے 51.863 ارب روپے، بندوبستی اضلاع کے لئے 311.896 ارب روپے شامل ہیں۔ بجٹ میں امسال 11 فیصد اضافہ ہوا ہے اور موجودہ تعلیمی بجٹ صوبے کے کل بجٹ کا 21 فیصد ہے۔ انہیں مزید بتایا گیا کہ کل جاری سکیمیں 67 ہیں جن میں خیبر پختونخوا کے 37، ضم اضلاع کے 14 اور اے ائی پی کے 16 منصوبے شامل ہیں۔ جس کے لیے 12.580 ارب روپے مختص ہیں۔ نئے منسوبوں میں خیبر پختونخوا کے 20، ضم اضلاع کے 4, اور اے آئی پی کے 5 منصوبوں بشمول کل منصوبوں کی تعداد 29 ہے۔ اور اس کے لیے 737 ارب روپے مختص ہیں۔ اسی طرح جاری اور نئے منصوبوں کی کل تعداد 96 ہے۔ نئے پی سی ون 29 ہیں جن میں 9 پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کئے گئے ہیں۔ بجٹ کے حوالے سے انہیں بتایا گیا کہ خیبر پختون خواہ کو 3701 ملین، ضم اضلاع کو 736.61 ملین, اور اے ائی پی کو 828 ملین ریلیز کئے جا چکے ہیں۔ جبکہ سپلیمنٹری گرانٹ ایک ارب روپے اور ضم اضلاع کو بھی ایک ارب روپے ریلیز ہو چکے ہیں۔
رحمت اللعالمین کے آنے سے دنیا میں جہالت اور تاریکی کا خاتمہ ہوا۔سید قاسم علی شاہ
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ترقی خواتین سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔آپﷺ کی سیرت پاک ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نبی پاکﷺ کی تعلیمات اور طرززندگی پر عمل پیرا ہوں، اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے رنڑہ چائلڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پیر کے روز پشاور میں عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں منعقدہ ایک روحانی اورپروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پررکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار بھی موجود تھیں۔صوبائی وزیر نے کہا نبی پاک کی بعثت کی بدولت دنیا کو ظلم و جبر اور جہالت و تاریکی سے نجات ملی اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوا آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے اگر مسلمان نبی کریم کی تعلیمات کو پوری طرح اپنی زندگیوں میں اپنا لیں تو نہ صرف دنیا میں کئی ایک مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہو جائیں گے۔اس موقع پر وزیر سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ترقی خواتین سید قاسم علی شاہ اوررکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار نے رنڑہ چائلڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک روحانی اورپروقار تقریب کے انعقاد کے اقدام کو سرہاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی محافل کے انعقادکی بدولت نہ صرف روحانی طور تقویت ملتی ہے بلکہ نبی پاک کی تعلیمات سے آگاہی کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے میں بھی مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ رنڑہ چائلڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی سٹریٹ چلڈرن اورتعلیم سے محروم محنت کش بچوں کی بہتری، خاص طور پر ان کی صحت و تعلیم سمیت دیگر ضروریات کے لئے کی جانے والی کوششیں قابل قدر ہیں اور معاشرے کی فلاح و بہبودکے لئے دیگر فلاحی اداروں کو بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ اقدامات اٹھانے چاہئے۔ تقریب کے اختتام پرصوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ اوررکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار نے تقریب کے شرکاء میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا نے بین الاقوامی یومِ بزرگ شہری 2025 جوش و جذبے کے ساتھ منایا
خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا نے بین الاقوامی یومِ بزرگ شہری 2025 جوش و جذبے کے ساتھ منایا، جس کی میزبانی محکمہ سماجی بہبود نے فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلوسیو ڈویلپمنٹ (FAID) اشتراک سے کی۔ اس پُروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر برائے سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ تھے جبکہ سماجی بہبود کے ایڈیشنل سیکریٹری عمرا خان نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔تقریب میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور، وزیر زادہ کیلاش نے خصوصی شرکت کی۔ معزز مہمانوں میں ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر، ریحان گل خٹک؛ ایڈیشنل سیکریٹری اوقاف، حبیب آفریدی؛ جنرل منیجر خیبر ٹی وی، جمشید علی خان؛ چیئرمین سوشل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر عزیزالرحمٰن؛سی ای او فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلوسیو ڈویلپمنٹ (FAID)، سید معیز الدین،ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا، شاہد خان شامل تھے۔اس موقع پر مختلف سماجی کارکنان، محکمہ سماجی بہبود کے سینئر افسران، بزرگ شہری، وکلاء، خواجہ سرا نمائندگان، ماہرین تعلیم اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ تقریب کی کارروائی سلمیٰ ملک، ڈپٹی ڈائریکٹر خواتین بااختیاری نے انجام دی، جو پروگرام کی چیف آرگنائزر اور کمپیئر بھی تھیں۔ انہوں نے محکمہ کی جانب سے بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری پروگرامز اور اقدامات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی۔پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن نے بطور محقق بزرگ شہریوں کے حوالے سے ریاستی ذمہ داریوں پر ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی، جس میں انہوں نے پالیسی سطح پر مزید بہتری اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔صوبائی وزیر سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی گھروں اور سفری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ والدین کی بے ادبی یا اُن کی تذلیل کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنایا جائے گا اور ایسے عناصر کو کڑی سزائیں دی جائیں گی تاکہ معاشرے میں والدین کے احترام اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بزرگ ہمارے قیمتی اثاثہ ہیں، ان کے تجربات اور دعاؤں کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ بزرگوں کی خدمت دراصل اللہ کی رضا اور قومی ترقی کی ضمانت ہے۔ صوبائی وزیر نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنے والدین اور بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ یہی ہماری تہذیبی اور دینی اقدار کی اصل روح ہے۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، اُن کی سماجی شمولیت اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اقلیتی برادری کو باوقار شہری تسلیم کرتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کے لیے محکمہ سماجی بہبود کے کردار کو سراہا۔خطابات میں بزرگ افراد کے لیے صحت کی سہولیات تک آسان رسائی، سماجی تحفظ اور شمولیت کی اہمیت پر زور دیا گیااور ان کی فلاح و بہبود، عزت و تکریم کے لئے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا
ڈاکٹر شفقت ایاز کا اپنے حلقہ کوٹ میں گورنمنٹ پرائمری سکول کا دورہ — تعلیم کے فروغ، بچوں کی حوصلہ افزائی، مزید کمروں کی تعمیر اور جدید تعلیمی منصوبے کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بروز ہفتہ اپنے حلقہ کوٹ میں واقع گورنمنٹ پرائمری سکول کا تفصیلی دورہ کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران اسکول میں ایک پُررونق تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طلباء و طالبات نے قرأتِ کلامِ پاک، قومی ترانہ، تقاریر، رسہ کشی، ملی نغمے اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔تقریب میں طلبہ کے والدین، اساتذہ، مقامی عمائدین اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے بچوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، ان کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری ہی حقیقی قومی خدمت ہے۔ انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء میں انعامات تقسیم کیے اور اساتذہ کو بہترین تدریسی ماحول فراہم کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔خاص طور پر پسماندہ اور دیہی علاقوں کے اسکولوں میں مزید کمروں کی تعمیر، جدید سہولیات کی فراہمی، صاف پانی، فرنیچر، اور آئی ٹی لیبز کے قیام کے لیے کام جاری ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے موقع پر اسکول میں مزید کمروں کی تعمیر اور طلباء کے لیے اضافی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتے ہیں، اور وزیراعلیٰ اسی وژن کو خیبرپختونخوا میں عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہر بچہ جدید تعلیم سے آراستہ ہو تاکہ خیبرپختونخوا ”تعلیم یافتہ، خودمختار اور ترقی یافتہ صوبہ” بن سکے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں بچوں کے کردار، نظم و ضبط، صفائی، کھیلوں اور تخلیقی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ وہ نہ صرف اچھے طالبِ علم بلکہ بااخلاق شہری بھی بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور صوبائی حکومت ان کے مسائل کے حل، ترقیوں اور تربیت کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔اختتام پر ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ صوبے کو جدید، تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل خیبرپختونخوا بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت بہت جلد“ای-بستہ (E-Basta)”پروگرام کا آغاز کر رہی ہے، جس کے تحت نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلباء کو ڈیجیٹل نصاب کی سہولت فراہم کی جائے گی۔یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کتابوں کے بوجھ میں کمی، تعلیم میں آسانی، اور طلباء کو ڈیجیٹل لرننگ کی دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم خصوصی وارڈ کا دورہ کیا
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم خصوصی وارڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، ممبران صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی، افتخار علی مشوانی اور ڈیڈک چیئرمین زرشاد خان بھی اُن کے ہمراہ تھے۔وزراء اور منتخب نمائندوں نے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی عیادت کی اورہسپتال میں دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور محکمہ صحت کے عملے کو ہدایت کی کہ ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں کیے جائیں۔انہوں نے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی اپیل کی تاکہ ڈینگی وائرس پر قابو پایا جا سکے
پاک صاف و شفاف خیبرپختونخوا،صوبائی حکومت کا اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد فلیگ شپ پروگرام ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ پاک صاف و شفاف خیبرپختونخواصوبائی حکومت کا ایک انقلابی اور اپنی نوعیت کا پہلا فلیگ شپ پروگرام ہے، جو 11 ارب روپے کی لاگت سے صوبے کے دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل درگئی کے 25 ویلج کونسلز میں پروگرام کے تحت بھرتی ہونے والے اہلکاروں میں عارضی تقرری نامے، لوڈر رکشے، یونیفارمز اور صفائی کٹس کی تقسیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں چیئرمین تحصیل درگئی پیر اسلام غازی، اسسٹنٹ کمشنر درگئی شہباز خان، محکمہ بلدیات کے افسران، منتخب بلدیاتی نمائندے اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے ویژن پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت عوامی مسائل کے حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ“پاک، صاف و شفاف خیبرپختونخوا”پروگرام کے تحت ہر ویلج کونسل میں صفائی کے لیے شفاف طریقہ کار اور قرعہ اندازی کے ذریعے افراد بھرتی کیے گئے ہیں۔ بھرتی کے عمل میں کسی قسم کا سیاسی اثر ورسوخ شامل نہیں، عوام کے ٹیکس کے پیسے کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے صفائی کی نگرانی کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک جدید ڈیش بورڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔پیر مصور خان نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف دیہی علاقوں میں صفائی کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہا ہے، جس سے عوامی فلاح و بہبود کے اہداف حاصل ہوں گے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ صاف، سرسبز اور صحت مند خیبرپختونخوا ہماری منزل ہے اور یہ پروگرام عوام کی شمولیت اور شفافیت کے ذریعے اسی منزل کی جانب ایک اہم قدم ہے
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری معیاری، مؤثر اور سستی ادویات کی فراہمی کے لیے تاریخی قدم
خیبر پختونخوا حکومت نے صحت عامہ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے “فارمیسی سروسز پالیسی” کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کے 39ویں اجلاس میں وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں صوبائی کابینہ نے اس پالیسی کی منظوری دی، جو “معیاری ادویات سب کیلئے” کے وژن کے تحت تیار کی گئی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ملک کی پہلے پالیسی ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے صوبے میں محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی ممکن ہو گی، جس کے نتیجے میں مریضوں کے علاج کے اخراجات میں کمی، ہسپتالوں میں قیام کا دورانیہ کم، اور شرحِ اموات میں کمی متوقع ہے۔ پالیسی کے سماجی و معاشی اثرات کے تحت صحت عامہ پر مجموعی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی اور صوبے کے ہیلتھ بجٹ پر دباؤ کم ہو گا۔پالیسی میں اینٹی بایوٹک مزاحمت (Antibiotic Resistance) کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ انٹی بائیوٹکس کی خلاف بڑھتے مزاحمت سے دنیا کی اندر لاکھوں لوگ اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس پالیسی سے ادویات کے محفوظ استعمال اور مریضوں کو ادویات کی مضر اثرات سے بچانے کیلئے فارماکو ویجیلنس سینٹرز کے قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس کیساتھ ادویات کے مضر اثرات کی بروقت رپورٹنگ ممکن ہو سکے گی اور ایک مستند ڈیٹا اکٹھا ہو سکے گا۔ ڈرگ انفارمیشن اور پوائزن کنٹرول سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا.یہ سنٹر ادویات کی بارے میں گھر بیٹھے مستند معلومات کیساتھ کیساتھ ایمرجنسی ریسپانس کی طور پر بھی کام کرے گی۔ ہسپتالوں کی اندر فارماسسٹ کی خدمات حاصل کر کے اس سے استفادہ کیا جائے گا۔ پالیسی کی تحت ڈرگ کنٹرول کو بھی منظم اور مظبوط کیا جائے گا تاکہ صوبے کی اندر جعلی اور غیر معیاری ادویات کا قلع قمع ہو سکے اور معیاری ادویات کی دستیابی ہو۔ صوبے کی اندر ڈرگ کنٹرول کو ضروری افرادی قوت اور وسائل فراہم کیے جائے گے۔ ادویات کی تجزیہ اور جانچ پڑتال کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو عالمی معیاری اصول کی مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ڈویژنل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی قیام کیساتھ ساتھ ٹیسٹنگ پروٹوکولز کو بھی اپگریڈ کیا جائے گا۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، پالیسی کے نفاذ سے مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی ممکن ہو گی، اینٹی بایوٹک مزاحمت میں کمی آئے گی، ادویات کے غلط استعمال کی روک تھام ہو گی اور صحت عامہ کے نظام میں شفافیت و اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ یہ صوبائی حکومت کامریضوں کی مفاد میں ایک اہم کارنامہ ہے۔
Chief Secretary Reviews Good Governance Roadmap for Education
A review meeting on the Good Governance Roadmap reforms in the Elementary and Secondary Education Department was held under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah. The meeting was attended by Secretary Elementary and Secondary Education and other concerned officials.
The forum was informed that sports competitions will be organized for school students to provide them with constructive extracurricular opportunities alongside education. Competitions will be held from inter-school to tehsil, district, divisional, and provincial levels. Available school lands have been identified, while plans for constructing playgrounds and providing indoor games facilities are also underway. Provincial-level competitions in debates, story writing, and spelling bees will also be arranged.
The meeting was briefed that under the governance roadmap, furniture supply has already been initiated in most schools across the province, and the remaining demand will be met accordingly. Work is also in progress for the provision of other basic facilities in schools.
To ensure 90 percent teacher attendance, a digital attendance system will first be introduced in all higher secondary schools. The Chief Secretary directed that a report on action against absentee teachers be submitted by October 10. It was also informed that the provincial cabinet has approved the outsourcing of underperforming schools, with 500 schools, including those in merged districts, to be outsourced in the first phase. The outsourcing process will not affect the service of teachers, while education will remain free of cost, with all expenses to be borne by the provincial government.
The Chief Secretary was further apprised that a CCTV surveillance project in high-risk examination centers is on track, while a two-year transfer policy is being introduced in education boards. Recruitment through ETEA is also underway to ensure a minimum of four teachers in each primary school, while classroom shortages are being addressed through various means, including assistance from international development partners.
The Chief Secretary directed the Education Department to devise a plan for overcoming classroom shortages in all primary schools, specifying the resources to be used so that the government may take informed decisions and complete the process within a set timeframe. He further instructed the Finance and Planning & Development departments to monitor the governance roadmap initiatives separately to ensure their timely completion.
It was also informed that reforms in the examination system are in progress, and the next board examinations will be conducted under the Student Learning Outcomes (SLO) and cluster-based method. Under this system, students will appear in nearby cluster examination centers instead of their own schools.
