An important meeting regarding the overall performance of the Irrigation Department, ongoing development projects, and proposed schemes for the upcoming financial year 2025–26 was held at the office of Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation, Riaz Khan, in Peshawar. The meeting was attended by Secretary Irrigation Abdul Basit along with senior officers of the department.
During the meeting a detailed briefing was given on approved development projects currently underway across the province, as well as unapproved schemes for the next financial year. The meeting was informed about the current status of various projects included in the list of unapproved schemes for FY 2025–26, including estimated costs, funds released, progress on project documents, and matters under consideration at relevant forums. It was briefed that project documents for some schemes have already been received, while documentation for others is still pending. Some projects are under review at the relevant forums, whereas a few have been deferred after further scrutiny.
The meeting also focused on the rehabilitation of the canal system, projects for protection against potential floods, conversion of tube wells to solar energy, construction of small dams, and initiatives related to agricultural development. On this occasion, reference was also made to the directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Muhammad Sohail Afridi, regarding public welfare and the timely completion of development projects, and it was reiterated that development activities across the province would be made more effective in line with the Chief Minister’s vision.
Addressing the meeting, Provincial Minister for Irrigation Riaz Khan said that special attention is urgently required for development works in the merged areas, and no negligence in this regard will be tolerated. He directed that the pace of work on ongoing projects in the merged areas be accelerated and that available resources be utilized effectively to provide immediate relief to the public. He further emphasized that strong focus must be maintained on departmental performance so that no question mark is raised over the performance of the Irrigation Department. The Provincial Minister made it clear that there would be no compromise on departmental performance, transparency and good governance. He instructed the concerned officers to complete documentation for all unapproved projects at the earliest and submit them to the relevant forums to avoid any delay in the development process. He added that the provincial government is fully committed to the timely completion of public welfare projects, effective utilization of resources, and modernization of the irrigation system across the province.
An important meeting regarding the overall performance of the Irrigation Department, ongoing development projects, and proposed schemes for the upcoming financial year 2025–26 was held at the office of Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation
“جنگلات محض درخت نہیں، زمین، پانی اور دیگر وسائل کے درمیان توازن ہیں ”— جنید خان
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا صوبے کے جنگلاتی وسائل کے تحفظ، قانونی حیثیت کے واضح تعین اور دہائیوں سے چلے آ رہے تنازعات کے پائیدار حل کے لیے ایک جامع، سائنسی اور دور اندیش حکمتِ عملی کے تحت مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں جنگلات کی ازسرِنو حدبندی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس جنید خان، سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں طلحہ حسین فیصل، سپیشل سیکرٹری، محمد جنید دیار، پراجیکٹ ڈائریکٹر 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ، احمد جلیل چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون، شوکت فیاض چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو، اصغر خان چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری، خیال صدیق آفیسر انچارج سروے آف پاکستان، جبکہ محکمہ جنگلات اور سروے آف پاکستان کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلات جنید خان نے کہا کہ محکمہ جنگلات اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زمین، پانی، فضا اور انسانی زندگی کے مابین ایک نازک اور ہمہ گیر توازن کا نام ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو قانون، مشاورت اور انسانی وقار کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ جہاں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں وہاں عدالتی عمل کے مکمل احترام کے ساتھ مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ جہاں باؤنڈری پلرز کی تنصیب کے لیے مالی وسائل درکار ہیں وہاں متعلقہ فورمز پر فنڈز کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔سیکرٹری جنگلات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا تمام متعلقہ اداروں، ریونیو محکمے، ضلعی انتظامیہ اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جنگلاتی حدود کے تعین کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاوش محض زمین پر لکیر کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ قدرتی ورثے کے تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور ریاستی رِٹ کے مضبوط قیام کی ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی ہر حد، ہر ستون اور ہر نقشہ دراصل اس اجتماعی عہد کی علامت ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنے ماحول اور اپنے مستقبل کو بے نام و نشان ہونے نہیں دیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو شوکت فیاض نے بتایا کہ اسی سلسلے میں سروے آف پاکستان کے تعاون سے شمالی جنگلاتی خطہ ریجن-II ایبٹ آباد (ہزارہ فارسٹ ریجن) سے منسلک مختلف جنگلاتی ڈویژنز میں محفوظ شدہ (ریزرو) جنگلات کی ازسرِنو حدبندی کا ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جدید سائنسی اور تکنیکی پیمانوں کے مطابق جنگلاتی حدود کو واضح کرنا اور سرکاری و عوامی ریکارڈ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہری پور، گلیات، سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل فارسٹ ڈویژنز میں مجموعی طور پر تین لاکھ ستاسی ہزار ایکڑ سے زائد جنگلاتی رقبہ قانونی درجہ بندی کے دائرے میں آتا ہے، جس میں محفوظ اور گزارہ جنگلات شامل ہیں۔ مختلف ادوار میں سروے آف پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کی مالی معاونت 10 بلین ٹری سونامی پروگرام، بلین ٹری افاریسٹیشن پروگرام اور سائنٹیفک فارسٹ مینجمنٹ جیسے قومی منصوبوں کے ذریعے فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ازسرِنو حدبندی کے نتیجے میں متعدد فارسٹ ڈویژنز میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہری پور فارسٹ ڈویژن میں تقریباً انتیس ہزار ایکڑ رقبے کی حدبندی مکمل کی گئی، جہاں تجاوزات کی نشاندہی اور جزوی بازیابی بھی عمل میں لائی گئی۔ گلیات فارسٹ ڈویژن میں حدبندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہزاروں باؤنڈری پلرز کی تعمیر و بحالی کے ذریعے جنگلاتی حدود کو عملی طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح سیرن، کاغان اور اگرور تناؤل میں بھی ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگلات کی حدبندی کی گئی، جس سے پہلی مرتبہ ان علاقوں میں جنگلاتی سرحدوں کی سائنسی بنیادوں پر واضح نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس اہم قومی منصوبے کے دوران بعض سنگین چیلنجز سامنے آئے ہیں، جن میں جنگلاتی اور ریونیو ریکارڈ میں فرق، دہائیوں پرانے تجاوزات، عدالتی مقدمات، دشوار گزار اور دور افتادہ پہاڑی علاقوں تک رسائی کی مشکلات، اور بعض مقامات پر فنڈز کی بروقت فراہمی میں تاخیر شامل ہیں، جنہوں نے منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔اجلاس کے دوران چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن تھری اصغر خان نے ملاکنڈ ڈویژن میں جنگلات کی حدبندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دیر، سوات اور چترال میں جنگلات کی حتمی حدبندی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جہاں مقامی آبادی کی جانب سے بعض خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے ازالے کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی سطح پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ مشاورت کے ساتھ ان علاقوں میں سروے اور حدبندی کا عمل شروع کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری محکمہ جنگلات جنید خان نے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں سروے آف پاکستان کی جانب سے کام تاحال باقی ہے، وہاں متعلقہ فریقین کے مابین جلد علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ پورے صوبے میں جنگلاتی رقبے کو مؤثر، شفاف اور دیرپا تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے تاجر اور سبزی و فروٹ فروشوں نے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی ضلع چارسدہ کے صدور کی قیادت میں منگل کے روز پشاور میں ملاقات
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے تاجر اور سبزی و فروٹ فروشوں نے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی ضلع چارسدہ کے صدور کی قیادت میں منگل کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے لیے این او سی کے اجرا اور دیگر درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاجر اتحاد ضلع چارسدہ کے صدر افتخار حسین سراب اور سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے صدر شاہ روم نے ملاقات کی قیادت میں وفود نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ سبزی و فروٹ منڈی چارسدہ کے قیام کے لیے باقاعدہ طور پر این او سی کی درخواست جمع کروائی جا چکی ہے اور اس ضمن میں تمام قانونی تقاضے، قواعد و ضوابط اور مطلوبہ دستاویزی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود تاحال این او سی جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے وفود نے اس بات پر زور دیا کہ سبزی و فروٹ منڈی کے قیام سے نہ صرف تاجروں کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ضلع چارسدہ میں سبزی اور پھلوں کی منظم ترسیل، قیمتوں میں استحکام اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے وفود کو مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کے جائز مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے حل کے لیے وہ جلد ڈپٹی کمشنر چارسدہ سے تاجر اتحاد اور سبزی و فروٹ منڈی کے صدور کی موجودگی میں ملاقات کریں گے تاکہ تمام قانونی پہلوؤں اور قواعد و ضوابط کی روشنی میں مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی جائز درخواست میں بلاوجہ تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی وفود نے صوبائی وزیر کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
درہ آدم خیل کو سیالکوٹ طرز کے انڈسٹریل زون میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس۔
درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کے کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرِصدارت منعقدہواجس میں مینیجنگ ڈائریکٹر سمال اینڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈ، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا، کے پی اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، 11 کور کے حکام، ضلعی انتظامیہ کوہاٹ، کوہاٹ پولیس، اسلحہ سازی سے وابستہ مینوفیکچرنگ نمائندگان اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ درہ آدم خیل کا اسلحہ سازی کا کاروباری کلسٹر ملک بھر کے ہنرمندوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس صنعت کو ایک منظم اور قانونی دائرہ کار میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ ریگولرائزیشن سے نہ صرف اس صنعت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ مقامی معیشت، روزگار کے مواقع اور سرکاری ریونیو میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کوہاٹ کی جانب سے پیش کی گئی سروے رپورٹ پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے مطابق اب تک 467 یونٹس کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید پیش رفت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ شرکاء کو 26 مئی 2025 کو ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کے طے شدہ ٹرمز آف ریفرنس (TORs) سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے سے درست اعداد و شمار کی دستیابی، مصنوعات کی منظم ترسیل کے مراکز کے قیام اور ریونیو کی بہتر وصولی ممکن ہو سکے گی۔ مقامی صنعت کاروں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے صوبائی سطح پر دی جانے والی مراعات، بالخصوص ایکسائز ڈیوٹی میں ایک بار کی چھوٹ، پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں دو ذیلی کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پہلی ذیلی کمیٹی مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم یا موجودہ قوانین میں ایک علیحدہ چیپٹر شامل کرنے پر کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری ذیلی کمیٹی انڈسٹریل زون کے لیے درکار تفصیلی سروے مکمل کر رہی ہے جس میں مینوفیکچرنگ یونٹس اور ڈیلرز کا مستند اور جامع ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔جلاس میں اسٹیک ہولڈرز کی آراء جاننے، پیچیدہ طریقہ کار کو سادہ بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے حکومتی تعاون کے پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی بھرپور معاونت حاصل رہے گی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ درہ آدم خیل میں ٹیوٹا کی مخدوش عمارت کی بحالی اور ازسرِ نو تعمیر پر آئندہ ایک ماہ میں کام شروع کیا جائے گا، جس سے مقامی ہنرمندوں کی فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر اسلحہ سازی سے متعلق ایس او پیز کی تیاری، قانون کے مطابق صنعت کے فروغ اور ہنرمندوں کی مہارتوں کو مزید نکھارنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ انڈسٹریل زون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ قانونی سہولتوں اور قواعد و ضوابط میں ممکنہ نرمی کے ذریعے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران 11 کور کے حکام نے سیالکوٹ کے کاروباری کلسٹر کے ماڈل کو درہ آدم خیل کے مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے بطور اسٹڈی اپنانے کی تجویز بھی پیش کی۔
Those lecturing on corruption should explain who is responsible for Rs 5,300 billion corruption.shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has strongly reacted to the statements of federal ministers, saying that Ikhtiar Wali’s remarks regarding governance in Khyber Pakhtunkhwa reflect his ignorance, panic, and political dishonesty. He said such statements are an attempt to divert attention from the failures and poor governance of the federal government through baseless allegations.
In his statement, Shafi Jan said that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the provincial government is taking practical steps to promote good governance and is working day and night to provide relief to the public. Khyber Pakhtunkhwa is the only province where no compromise is made on transparency, accountability, and merit, while lawlessness is on the rise in other provinces due to illegitimate governments.
He said the provincial government is giving special attention to the health sector and, in line with the vision of PTI Founder Chairman Imran Khan, free medical treatment and free medicines are being provided to the public through the Sehat Card, a program that has also received international recognition.
Terming Ikhtiar Wali a defeated individual, Shafi Jan said that instead of resorting to baseless criticism against the provincial government, he should ensure the payment of Khyber Pakhtunkhwa’s outstanding dues by the federation. Due to the federal government’s stubborn attitude, the development process in the province is being adversely affected.
He cited the example of the Peshawar Northern Bypass project, stating that when the federation failed to release funds, the provincial government recently provided billions of rupees from its own resources to ensure timely completion of the project.
He added that those claiming a lack of governance in the province should first present an account of the federal government’s performance. Poor federal policies, inflation, and unemployment have made life miserable for the people. Those lecturing on corruption should explain why major corruption scandals are surfacing at the federal level and who is responsible for corruption amounting to Rs 5,300 billion.
Speaking on terrorism, Shafi Jan said that despite the withholding of funds by the federation, the Khyber Pakhtunkhwa Police is bravely fighting terrorism. The people and police of the province are making great sacrifices in this war, but the statements of Talal Chaudhry and other federal ministers are regrettable and condemnable.
He said such statements insult the sacrifices of the police in the war against terrorism, which is unacceptable. Terrorism is a serious national issue, while criticizing
the provincial government for it is an inappropriate and irresponsible approach.
He said the provincial government is taking all possible measures within its available resources to eradicate terrorism.
Shafi Jan further stated that the province’s 45 million people have given a clear mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf, and the elected provincial government and members of the assembly will continue to make decisions in accordance with their mandate to safeguard the rights and interests of the people.
Meanwhile, declaring Chief Minister Sohail Afridi’s visit to Sindh a success, Shafi Jan said that the love and sincerity shown by the people of Sindh will always be remembered. On the directions of PTI Founder Chairman Imran Khan, the street movement in Karachi and Hyderabad proved highly successful, which has also caused panic within the Sindh government.
He added that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the street movement will be expanded across the entire country.
سال2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بجلی استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں عوام بے دھڑک بجلی استعمال کرتے تھے اور بانی پی ٹی آئی حکومت میں عوام کو بجلی کے بل کی فکر نا تھی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے جبکہ 2021 میں باقی صارفین 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اب 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں صرف 34 فیصد افراد 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے تھے جبکہ 2025 میں 61 فیصد عوام 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ 38 فیصد آبادی کو جابرانہ بجلی بل کی وجہ سے کھپت کم کرنی پڑی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اگر سولر کو شامل کر لیں تو شاید یہ 38 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی سروے کے مطابق ملک میں پہلے ہی عوام دو وقت کی روٹی، دودھ اور دال والے ایک وقت پر آگئے ہیں گوشت تو عوام کو سونگھنے کے لئے بھی میسر نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں ڈیجیٹل انقلاب، فیلڈ انسپکشن سسٹم FRAIMS کے تحت منتقل
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں فوڈ انسپکشن کے نظام کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرتے ہوئے FRAIMS (Food Quality Real-time Audit and Inspections Monitoring System) کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق FRAIMS کی باقاعدہ منظوری فوڈ اتھارٹی بورڈ نے دے دی ہے، جس کے بعد صوبہ بھر میں پیپر لیس اور کیش لیس فوڈ انسپکشن کا عملی طور پر آغاز کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت فیلڈ میں تعینات فوڈ سیفٹی اہلکار انسپکشن کے دوران باڈی وورن کیمرے اور جدید ڈیجیٹل آلات کا استعمال کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کے بغیر کی گئی کسی بھی فوڈ انسپکشن کو ناقابلِ قبول تصور کیا جائے گا، جبکہ بورڈ نے نئے انسپکشن ضوابط کی بھی منظوری دے دی ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔فوڈ اتھارٹی حکام نے کہا کہ جرمانوں، فیسوں اور لائسنسنگ سے متعلق تمام ادائیگیاں اب صرف کیش لیس ذرائع کے ذریعے وصول کی جائیں گی، جس سے مالی امور میں شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے بتایا کہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ میں آئی ایس او سرٹیفکیشن کے حصول کے لیے تمام ضروری لوازمات مکمل کر لیے گئے ہیں اور سرٹیفکیشن کے حصول کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس او سرٹیفکیشن سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے کی فوڈ انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ ٹیسٹنگ نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے لیبارٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کی تنصیب پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس سے لیبارٹری کے امور میں شفافیت، رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ اتھارٹی بورڈ نے خوراک کے معیار اور عوامی صحت کے درمیان تعلق کو سائنسی بنیادوں پر جانچنے کے لیے 15 سالہ فوڈ سیفٹی و پبلک ہیلتھ ریسرچ پروگرام کی بھی منظوری دے دی ہے۔واصف سعید کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کے امور کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو معیاری اور آسان خدمات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی اور حلقہ۔ این۔ اے۔30 میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری، مکمل، غیر فعال اور مجوزہ واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر کو اپنے حلقہ۔ این۔ اے۔30 پشاور میں جاری واٹر سپلائی سکیموں کی موجودہ پیش رفت، غیر فعال اور ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی، اور پانی کی فراہمی کے نظام کو شمسی توانائی (سولرائزیشن) پر منتقل کرنے کی ضرورت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا شاندانہ گلزار نے اس بات پر زور دیا کہ حلقے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس ضمن میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل، غیر فعال سکیموں کی بحالی اور توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص شمسی نظام، کی جانب منتقلی ناگزیر ہے تاکہ نظام کو پائیدار اور کم خرچ بنایا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن قومی اسمبلی کو مسائل کے حل کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقے میں جاری تمام واٹر سپلائی سکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا اور ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جن ٹیوب ویلز کو فوری مرمت یا بحالی کی ضرورت ہے، اور جن واٹر سپلائی سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جانا ہے، ان کے لیے درکار فنڈز پی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے فوراً بعد جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سولرائزیشن کے منصوبوں سے نہ صرف توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پانی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ حلقے میں جاری اور مجوزہ سکیموں کی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں، تمام تکنیکی و انتظامی امور بروقت مکمل کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کام کی رفتار مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شفافیت، مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت تکمیل کے اصولوں پر عمل پیرا ہے تاکہ صوبے بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے۔ رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر فضل شکورخان کی جانب سے تعاون اور یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے حلقے کے عوام کو جلد ریلیف ملے گا اور پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔
صوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور غیر معیاری و جعلی ادویات کی خرید و فروخت کے خلاف فوری طور پر مہم شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔یہ اہم فیصلے محکمہ صحت کے کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت صوبائی وزیرِ صحت نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈرگ کنٹرول و فارمیسی سروسز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ڈرگ انسپکٹرز اور فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ وہ کیمسٹس اور ڈرگسٹوں کی یونینز و ایسوسی ایشنز کے ذریعے آگاہی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائیں تاکہ صوبے بھر میں ڈرگ قوانین اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے مزید ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں کی جانے والی تمام کارروائیوں کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کی جائے، جس میں تصویری شواہد شامل ہوں اور یہ رپورٹس ہر پندرہ روز بعدصوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت کو پیش کی جائیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ادویات کے معیار، حفاظت اور افادیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کی صحت کا تحفظ حکومتِ خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔
صوبائی وزیرِ قانون کے بروقت اقدام سے منصوبہ آبنوشی چورلکی فعال
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی بروقت مداخلت اور مؤثر اقدامات کے نتیجے میں دریائے سندھ،منصوبہ آبنوشی چورلکی کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ عوامی شکایات سامنے آنے پر صوبائی وزیرِ قانون نے فوری طور پر ایکسین اور متعلقہ ٹھیکیدار سے رابطہ کیا جس کے بعد واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی مرمت مکمل کر لی گئی جبکہ مشینری کو بھی فعال بنا دیا گیا ہے۔ صدر پاکستان تحریکِ انصاف چورلکی عدنان جگر کے مطابق آج عصر کے وقت محلہ سب خیل چورلکی کو پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی جس سے علاقہ مکینوں کو درپیش پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صوبائی وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واٹر اسکیم کے پائپس اور سولر سسٹم کی حفاظت اور باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا تخریب کاری کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، تعینات ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء، صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فراہم کردہ فنڈز، چیئرمین عامر خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کی کاوشوں سے بازید خیل روڈ پر بھی اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کی معاشی و سماجی ترقی میں اضافہ ہوگا۔
علاقہ عوام نے صوبائی وزیرِ قانون ر آفتاب عالم او ر ایم این اے شہریارآفریدی کی علاقے کی ترقی کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی کوششیں، اسی جذبے کے ساتھ آئندہ بھی مؤثر انداز میں عوامی فلاح کیلئے جاری رکھیں گے۔
