Home Blog Page 71

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول ڈیفنس کی ری آرگنائزیشن اور ری سٹرکچرنگ سے ادارے کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول ڈیفنس کی ری آرگنائزیشن اور ری سٹرکچرنگ سے ادارے کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا اور عوام کو درپیش قدرتی و انسانی آفات میں بروقت اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق سول ڈیفنس کا ڈھانچہ مضبوط بنانے سے نہ صرف بین الصوبائی و قومی سطح پر ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ رضاکاروں کی صلاحیتوں کو بھی زیادہ منظم اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال، وزیر ریلیف، بحالی و آباد کاری نیک محمد داوڑ، وزیر سماجی بہبود، وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن سید قاسم علی شاہ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تعمیرات و مواصلات محمد سہیل آفریدی، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ زبیر احمد، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ (سیکیورٹی) محمد قیصر، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ داخلہ (ڈیفنس پلاننگ سیل) قلات خان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ کابینہ کمیٹی کے قیام کا مقصد سول ڈیفنس کو محکمہ داخلہ کے زیر انتظام لانے کے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سول ڈیفنس تنظیم 1952ء میں قائم ہوئی جبکہ 1971ء میں صوبائی ڈائریکٹوریٹ کے طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام شروع کیا۔ 2013ء میں اسے محکمہ ریلیف کے تحت منتقل کیا گیا تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے ریلیف ڈپارٹمنٹ اور سول ڈیفنس مل کر کام کر سکیں۔ سول ڈیفنس کے رضاکار مختلف مواقع پر جنگلاتی آگ بجھانے، پانی میں ریسکیو، کورونا پابندیوں کے نفاذ اور عوامی آگاہی جیسے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔محکمہ ریلیف نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اس محکمے کا بنیادی فریم ورک ہی قدرتی و انسانی آفات سے نمٹنا ہے، اس لیے سول ڈیفنس کا محکمہ ریلیف کے تحت رہنا زیادہ موزوں ہے تاکہ تربیت یافتہ رضاکاروں کی خدمات کو براہِ راست استعمال کیا جا سکے۔ محکمہ ہوم نے اپنی تجاویز میں کہا کہ دیگر صوبوں میں سول ڈیفنس ہوم ڈیپارٹمنٹس کے ماتحت کام کرتا ہے اور وفاقی سطح پر بھی سول ڈیفنس کو ہوم ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ منسلک کرنے کی بارہا سفارش کی گئی ہے۔ محکمہ قانون نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت کو قواعدِ کاروبار میں ترمیم کے ذریعے کسی محکمے کا دائرہ اختیار تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، جو وزیر اعلیٰ اور گورنر کی مشاورت سے ممکن ہو سکتا ہے۔ محکمہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو صوبائی کابینہ کے سامنے رکھنے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں طے پایا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی تمام محکموں کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات صوبائی کابینہ کو پیش کرے گی تاکہ آئندہ کے لیے حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ سال 2013 میں سول ڈیفنس کو محکمہ داخلہ سے الگ کرکے محکمہ ریلیف کے زیر انتظام کام کرنے کے فیصلے کی وجوہات کو آئندہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا کہ سول ڈیفنس کو کسی بھی محکمہ کے تحت کام کرنے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا تفصیلی تقابلی جائزہ تیار کرکے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ وزیر سماجی بہبود وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن نے کہا کہ سول ڈیفنس کے 30 ہزار رضاکاروں کی نمائندگی کو مجوزہ فیصلے کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے اور آئندہ اجلاس میں ان کی نمائندگی کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ محکمہ داخلہ کے زیر انتظام اس وقت کئی محکمے زیر اثر ہیں تاہم سول ڈیفنس اور اس سے جڑے 30 ہزار رضاکاروں کی خدمات کو کسی بھی محکمہ کے زیر اثر لانے سے اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور کمیٹی کو اس امر کو مرکزی نکتہ قرار دینا چاہیے۔ وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے سول ڈیفنس ایسوسی ایشن یا ضلعی سطح پر مجوزہ فیصلے کے بارے میں سینئر نمائندوں کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے محتسب خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ پشاور کا دورہ کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے محتسب خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ پشاور کا دورہ کیا اور روباب مہدی کو بطور محتسب خیبر پختونخوا ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی صوبائی وزیر نے روباب مہدی کی انصاف پسندی، انسانی حقوق کے فروغ، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اُن کی خدمات کوسراہتے ہوئے کہا کہ وہ خصوصاً خواتین اور معاشرتی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ روباب مہدی کی قیادت میں محتسب دفتر مزید مؤثر، فعال اور عوام دوست کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے دوران محنت کش خواتین کو درپیش مسائل، اُن کے پیشہ ورانہ و قانونی حقوق کے تحفظ، اور محفوظ و مساوی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تمام مزدوروں، خصوصاً خواتین کے لیے منصفانہ، محفوظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے روباب مہدی نے صوبائی وزیر فضل شکورخان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی مزدور دوست پالیسیوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کوششوں کو سراہا انہوں نے اداروں کے درمیان تعاون اور باہمی اشتراک کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انصاف کی فراہمی، صنفی مساوات، اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کا دفتر ہر شہری، خاص طور پر کام کرنے والی خواتین، کو انصاف، تحفظ اور عزتِ نفس کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے صوبا وزیر محنت فضل شکور خان نے کہا کہ روباب مہدی کا وسیع تجربہ اور اصولی قیادت صوبے میں انصاف اور جواب دہی کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی فلیگ شپ منصوبہ ہے، طارق سدوزئی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی صوبائی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گاتاکہ عوام اس کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نیضلع کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے موقع پر مختلف مساجد اورعبادتگاہوں میں محکمہ پیڈوکی جانب سے شمسی توانائی پرمنتقلی کے جاری منصوبوں کاجائزہ لیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سولرائزیشن اسفندیار خان، پیڈو کی ریجنل منیجر (جنوب) انجینئر ثنا وحید سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی انجینئر طارق سدوزئی نے ضلع کوہاٹ میں شمسی توانائی پرمنتقل کی گئی مساجد میں نصب شمسی توانائی کے آلات اورکام کابغورجائزہ لیا اوراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پراجیکٹ حکام کو باقی ماندہ کام ایک ماہ کے اندرہرصورت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے پیڈو حکام کوشمسی توانائی کے منصوبوں کی مانیٹرنگ تیزکرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ اس دوران وہ مقامی افراد سے ملے اور ان سے منصوبے کے ثمرات کے حوالے سے ان کی آراء حاصل کیں۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے انہیں سولرائزیشن منصوبے کے تحت مذکورہ اضلاع میں منصوبے پر جاری پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور معیاری آلات کی تنصیب کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ صوبائی حکومت کے اس اہم فلیگ شپ منصوبے سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔طارق سدوزئی نے مزید بتایا کہ پیڈو کے تحت اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے عملی اقدامات جاری ہیں۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

صوبائی وزیر لائیوسٹاک، فیشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو میں گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ کی کارکردگی اور گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹو طاہر خان اورکزئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان اور ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم شدہ اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ وزیر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ لائیوسٹاک کی سروس ڈلیوری، ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے دورے اور چیف سیکرٹری آفس کی ٹیم کے فیلڈ وزٹس سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر لائیوسٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ضلعی ڈائریکٹرز لائیوسٹاک کا اجلاس بلایا جائے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں گڈ گورننس روڈ میپ اور سروس ڈلیوری کے حوالے سے جامع اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور محکمے کی کارکردگی میں مزید شفافیت اور بہتری لانا ہے۔ وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گڈ گورننس کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ عوام تک خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

گورنر ہاؤس پشاور میں تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد

گورنر ہاؤس پشاور میں بدھ کے روز تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد کیاگیا.  گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی. سیشن میں سنیئر ٹرینر عظمی اجمل ، ماہرین تعلیم اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر آرٹیفیشل انٹلی جنس سے متعلق بنیادی ضروریات اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی، تاکہ نوجوان نسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں کردار ادا کرسکے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا. فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر عبور حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تعلیمی شعبہ سمیت تمام شعبوں میں دنیا مصنوعی ذہانت سبقت حاصل کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں بالخصوص خواتین کیلئے مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور تربیتی سیشنز احسن اقدام ہیں، عالمی دنیا کے چیلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے صوبہ کے نوجوانوں کو مصنوعی زہانت سمیت تمام جدید علوم میں مہارت حاصل کرنی ہو گی، انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے تعلیم کے بعد روزگار کا حصول سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اکثر خواتین کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق مواقع نہیں ملتے. اخر میں ٹرینرز کو ایوارڈز دیے گئے جبکہ ادارے کی جانب سے گورنر کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئ

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، چیف پلاننگ آفیسر، ہسپتال ڈائریکٹر پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قاضی سعد اور دیگر متعلقہ عملے کے ہمراہ تخت بھائی گنج ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مجوزہ سٹیلائٹ سنٹر کی تعمیر سے متعلق فزیبلٹی پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ مشیر صحت کو منصوبے کی موجودہ صورتحال، مجوزہ ڈیزائن اور آئندہ کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔منصوبے کے لیے بجٹ میں فنڈز پہلے ہی مختص اور ریلیز کیے جا چکے ہیں، اور تعمیراتی کام بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔ سٹیلائٹ سنٹر کے قیام سے تخت بھائی اور گرد و نواح کے عوام کو دل کے علاج کی جدید سہولتیں مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی، جس سے بڑے شہروں کا بوجھ کم ہوگا اور مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا۔اس موقع پر مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں سہولتوں کی فراہمی اور توسیع کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور تخت بھائی میں کارڈیالوجی سٹیلائٹ سنٹر کا قیام اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور سہولتوں کی توسیع کی ایک اہم کڑی ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے سنجیدہ عزم کا مظہر ہے

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں جاری اور آئندہ مجوزہ شاہراہوں کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین این ایچ اے نے گورنر کو این ایچ اے کے تحت جاری اہم منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں سڑکوں اور شاہراہوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ان کی بحالی کے کام سے بھی گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور انہیں جلد از جلد بحال کر کے دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔
ملاقات میں تونسہ تا ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ گورنر نے کہاکہ اس منصوبے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں نائیوالہ اور پروا کے بائی پاس کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں گورنر خیبر پختونخوا نے سی پیک موٹر وے پر پہاڑپور، پنیالہ اور شاہ عیسیٰ انٹرچینجز کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان علاقوں کے مکین بھی موٹر وے کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور تعمیرِ نو میں این ایچ اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے ایک مثالی قومی ادارہ ہے جو عوام کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

پیسکو اورپیڈوکے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے بجلی کی فروخت کامعاہدہ

خیبرپختونخواحکومت نے توانائی کے شعبے میں کامیابی کا ایک اوراہم سنگ میل عبورکرتے ہوئے اپنے وسائل سے ضلع لوئردیر میں 40.8میگاواٹ کوٹوپن بجلی منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعد بجلی کی فروخت کے سلسلے میں وفاقی ادارے پیسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرلئے ہیں۔کوٹوپن بجلی منصوبے سے ایک طرف سالانہ 207گیگاواٹ سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف اس اہم منصوبے سے صوبے کو سالانہ 2ارب روپے کی آمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں وفاقی توانائی کے ادارے پشاورالیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) اورصوبائی محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو)کے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے لئے Power Acquisition Contractپر دستخط کے حوالے سے واپڈاہاؤس پشاورمیں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی،سابق صوبائی وزیر وچیئرمین پیسکوبورڈحمایت اللہ خان،سیکرٹری توانائی وبرقیات زبیرخان،چیف ایگزیکٹوپیسکواخترحمید،چیففانجینئرپیڈوعزیزباچا،ڈائریکٹرجنرل Miradعاطف جوادنے شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں ابتدائی کلمات بیان کرتے ہوئے معاون خصوصی توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے کوٹوپن بجلی منصوبے کی تکمیل کوصوبے کی معیشت کے استحکام کی طرف ایک تاریخی کامیابی قراردیتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے ایک طرف ماحول دوست سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی سے درپیش بجلی کے بحران پرقابوپانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے بجلی کی فروخت کے سلسلے میں سیکرٹری توانائی اورپیڈوکے جملہ افسران ڈائریکٹرزپیڈوفرازخان،سیدآصف رضا،جنیداقبال،مقیم الدین اورپراجیکٹ ڈائریکٹرسلطان روم کی کاوشوں کوسراہااورامیدکااظہارکیاکہ پیڈوکے دیگرمکمل ہونے والے بجلی کے منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے معاہدے کامیابی کے ساتھ طے پاجائیں گے۔ انہوں نے وفاق کے ذمہ پیہوراورمچئی پن بجلی منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے سلسلے میں پیسکوکے ذمے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنانے پر زوردیتے ہوئے مسئلے کے جلد حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کاعزم دھرایا۔تقریب کے اختتام پر پیسکو اورپیڈوحکام کی جانب سے دونوں اداروں کے افسران کو اعزازی شیلڈزدینے کابھی تبادلہ کیاگیا۔

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر زبیرارشدبھی اس موقع پر موجودتھے۔
فوکَل پرسن نے گورنرکو یقین دہانی کروائی کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی سیلاب متاثرین کو فوری اور بھرپور امداد فراہم کرے گی تاکہ ان کی بحالی کے عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کریں، جو نہ صرف ہنگامی امداد فراہم کرے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے بچاؤ کو بھی یقینی بنائے۔اس موقع پر فوکل پرسن رومینہ خورشیدنے یہ تجویز بھی دی کہ گورنر ہاؤس پشاور میں ایک ”گورنر لیگیسی سینٹر” قائم کیا جائے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار (climate-resilient) انفراسٹرکچر اور صحت کے منصوبوں کا مرکز ہو۔ یہ سینٹر بین الاقوامی ڈونرز کی مدد سے چلایا جائے گا اور اس کا مقصد صوبے میں جدید، ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ صوبائی سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور گورنر خیبر پختونخوا کے دفتر کے درمیان قریبی روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ مستقبل کے تمام ماحولیاتی اور ترقیاتی اقدامات کو مؤثر اور مربوط طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ سسٹینبل سٹیزگلوبل لمیٹیڈ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے (climate-resilient) انفراسٹرکچرکی مدمیں مستقبل میں پاکستان میں انویسمنٹ پربھرپور تعاون کیاجائیگا

محکمہ توانائی کا جائزہ اجلاس، منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

محکمہ توانائی خیبرپختونخوا کا جائزہ اجلاس وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائی طارق محمود سدوزئی اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی اور سی ای او خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں صوبے کے توانائی کے مسائل، پن بجلی کے منصوبوں، بین الاقوامی ترقیاتی پارٹنرز کے تعاون سے جاری منصوبوں اور وفاقی حکومت کے ساتھ زیر غور آنے والے معاملات خصوصاً نیٹ ہائیڈل پرافٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی پہلی صوبائی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے۔ یہ 40 کلومیٹر طویل 132/220 کے وی لائن سوات میں مٹلتان سے مدین تک بچھائی جا رہی ہے، جو 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت دیگر منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے یا مقامی صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ منصوبے کے فیز ٹو میں 80 کلومیٹر اضافی لائن مدین سے چکدرہ تک بچھائی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات کوریڈور میں سیکڑوں میگاواٹ استعداد کے حامل کئی پن بجلی کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔اس موقع پر ٹرانسمیشن لائن ٹاورز کی تنصیب اور اس سلسلے میں مقامی کمیونٹی کے ساتھ روابط کے حوالے سے پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کی استعداد کا آڈٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو کی تعیناتی مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لئے ناگزیر ہے۔چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ تمام منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائنز کے لئے واضح ایکشن پلان اور ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔