Home Blog Page 71

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے ترقیاتی اقدامات تیز، KIMS کا پانی مسئلہ حل، آبپاشی و شہری منصوبوں پر پیشرفت

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کوہاٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (KIMS) میں پانی کی قلت کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات تیز کرتے ہوئے ٹیوب ویل منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کرا دیا ہے جبکہ آبپاشی اور شہری ترقی کے متعدد منصوبوں پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ حکام کے مطابق KIMS میں کافی عرصے سے پانی کی شدید کمی کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ طلبہ کے مطالبے پر وزیر اطلاعات شفیع جان نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد ٹیوب ویل کی تنصیب اور متعلقہ کام کا آغاز کر دیا گیا۔ توقع ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے طلبہ کو مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ ادھر وزیر اطلاعات شفیع جان اور رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی کے فنڈز سے جھنڈی اسٹیشن کے سول چینل کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق یہ منصوبہ علاقے کا ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ تھا جس سے زرعی شعبے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ سول چینل کی تعمیر سے پانی کے ضیاع میں نمایاں کمی آئے گی، آبپاشی کا نظام بہتر ہوگا اور زرعی زمینوں کو بروقت پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ اس منصوبے سے پانی کے وسائل کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں اضافے اور مقامی معیشت کے استحکام کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وزیر اطلاعات شفیع جان اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شہریار خان آفریدی کے فنڈز سے اربن فور ملنگ آباد جنگل خیل میں گلیوں اور نالیوں کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ مقامی رہائشیوں نے ان ترقیاتی منصوبوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صحت، آبپاشی اور شہری سہولیات سے متعلق ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف عوامی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کو بھی فروغ ملے گا

پیڈوآفیسرز ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری،صوبائی وزیر توانائی وبرقیات کا خطاب

خیبرپختونخواکے وزیر توانائی وبرقیات نذیراحمدعباسی نے کہا ہے کہ توانائی کاشعبے ملکی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتاہے کیونکہ زراعت،صنعت،ٹرانسپورٹ،آبپاشی،بلدیات سمیت تمام شعبہ جات کی ترقی وخوشحالی، اس اہم شعبے سے وابستہ ہیں۔خیبرپختونخوامیں پائے جانے والے سستی پن بجلی کی پیداوارکے قدرتی آبی وسائل سمیت تیل وگیس کے ذخائراس صوبے کاقیمتی سرمایہ ہیں جن کوبروئے کارلاکرمعیشت کومستحکم کرکے انقلاب برپاکیا جاسکتاہے۔پیڈو صوبے میں سستی پن بجلی پیداکرنے والاایک اہم سرکاری ادارہ ہے جوصوبے کوسالانہ اربوں روپے کی آمدن دے رہاہے۔پیڈو کوترقی دے کر صوبے کاسب سے زیادہ آمدن والاادارہ بنایاجائے گا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے محکمہ توانائی وبرقیات خیبرپختونخواکے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو)کے افسران پر مشتمل پیڈوآفیسرزایسوسی ایشن (رجسٹرڈ)کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیرمحکمہ توانائی وبرقیات نذیراحمدعباسی نے نومنتخب کابینہ کے چیئرمین سیدآصف رضا،صدرانجینئرمقیم الدین،جنرل سیکرٹری محمدابرار،سینئرنائب صدرسلمان آفریدی،نائب صدروقاص گنڈہ پور،جائنٹ سیکرٹری صفت اللہ، فنانس سیکرٹری عمران خان،انفارمیشن سیکرٹری اشفاق خان اورآفس سیکرٹری شہزادخان سے انکے عہدوں کاحلف لیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرانوارالحق نے کہا کہ پیڈو صوبے کاایک منافع بخش ادارہ ہے۔جس سے صوبے کو سالانہ 6ارب روپے سے زائد کی آمدن ہورہی ہے۔ متعددتوانائی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کوتقریباً 10ارب روپے سے زائداضافی آمدن متوقع ہے۔ ادارے کے ملازمین کے جملہ مسائل کے حل اوراصلاحات کیلئے بھرپوراقدامات کئے ہیں اورآئندہ بھی ادارے کی فلاح وبہبودکے لئے کام کرتے رہیں گے۔تقریب میں نومنتخب صدرانجینئرمقیم الدین نے چارٹرڈ آف ڈیمانڈپیش کیاجس میں ہیلتھ انشورنس سہولت، ملازمین کے لئے واپڈاطرزپررہائشی کالونی وآسان اقساط پرسولرسسٹم کی فراہمی،ملازمین کی ترقی کے لئے ٹائم سکیل پروموشن کااجراء،پیڈوکے تمام اعلیٰ سے ادنیٰ افسران کے لئے یکساں بنیادوں پرٹرانسپورٹ سہولیات سمیت پیڈوکے مکمل شدہ بجلی گھروں کوازخود سرکاری سطح پرO&Mچلانے کی پالیسی سمیت ملازمین کے الاؤنسز وغیرہ کوایسوسی ایشن نے آئندہ ایجنڈے میں شامل کیا۔صوبائی وزیر توانائی نذیرعباسی نے پیڈوملازمین کے جائزمطالبات سے اتفاق کرتے ہوئے زوردیاکہ تمام ملازمین ادارے کے بہترین مفاد اورترقی کے لئے میرٹ اورشفافیت سے امورانجام دیں گے۔

عوامی اعتماد ہی ہماری اصل قوت ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ سید فخر جہان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کا بروقت حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوام کو یکساں ترقی کے دھارے میں لانا، موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا بنیادی حصہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں پی کے 26 بونیر میں ہر شعبہ زندگی کیلئے ایسے کثیرالجہتی اور اہم ترقیاتی منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے یہاں کے لوگوں کی زندگی بدل جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے عوامی خدمت، جوابدہی اور بہتر طرز حکمرانی کے وژن کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں ایک ایسے گورننس سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے جس میں عوام کی آواز کو اولین حیثیت حاصل ہو۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار حلقہ پی کے 26 بونیر میں منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی وفود، عمائدین، نوجوانوں اور شہریوں سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔اس موقع پر وفود نے اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمات کی بہتری سے متعلق تجاویز اور مطالبات پیش کیے۔صوبائی وزیر نے وفود کی باتیں تفصیل سے سنیں اور متعلقہ محکموں کے حکام کو متعدد امور پر فوری کارروائی اور فالو اپ کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد محض ترقیاتی سکیموں کا اعلان نہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل، معیار کی یقین دہانی اور عوام کو ان کے ثمرات کی حقیقی فراہمی ہے۔سید فخر جہان نے کہا کہ پبلک ڈے کا تصور عوامی نمائندوں اور شہریوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور عوام کو اپنے مسائل براہِ راست بیان کرنے کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد کی بحالی، میرٹ، شفافیت اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ایک جوابدہ اور خدمت پر مبنی نظامِ حکمرانی کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حلقہ پی کے 26 بونیر میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے، پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کے ازالے، نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سرکاری مشینری کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے گا۔

Provincial Information Minister Shafi Jan Strongly Condemns the Bomb Blast in Bannu

Provincial Minister for Information and Public Relations, Shafi Jan, has strongly condemned the bomb blast on a vehicle in Bannu and expressed deep sorrow and grief over the martyrdom of seven people in the incident.

In a statement issued here, the Provincial Information Minister said that targeting innocent civilians by terrorists is an extremely cowardly and tragic act. He stated that such incidents cannot weaken the resolve of the nation and that terrorist elements will not succeed in their malicious designs.

Shafi Jan said that Chief Minister Sohail Afridi has taken notice of the incident and has sought a report from the police authorities.

He further stated that the provincial government is taking effective, coordinated, and comprehensive measures to eliminate the menace of terrorism, and all available resources are being utilized to ensure lasting peace.

The Provincial Information Minister said that the Government of Khyber Pakhtunkhwa stands in complete solidarity with the affected families during this difficult time.

He prayed for the forgiveness and elevated ranks of those martyred in the blast and for patience and strength for the bereaved families, while also expressing best wishes for the speedy and full recovery of the three injured persons.

KP Cannot Transfer Funds to Centre Without Imran Khan Meeting; Federal Govt Cannot Withhold Provincial Share Without Constitutional Amendment: Advisor Finance KP Muzzammil Aslam

Adviser to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, accompanied by Minister for Information and Public Relations Shafee Jan, while addressing a post-budget press conference at the Civil Secretariat Peshawar, said that the federal government has been given a clear message that Khyber Pakhtunkhwa cannot provide funds to the federation without a meeting with PTI Founder Chairman Imran Khan.

He said the Federal Board of Revenue (FBR) has set a tax collection target of Rs15,268 billion, while the federal government intends to retain more than Rs13,350 billion. However, the federal government cannot unilaterally withhold provincial funds without a constitutional amendment. Under the Constitution, divisible pool revenues are first transferred to the provinces, which may then decide to provide funds to the federation.

Muzzammil Aslam said that the Khyber Pakhtunkhwa government has never agreed to provide funds to the federal government and questioned how Rana Sanaullah could make such a claim, adding that the matter was not included in the agenda of the National Economic Council (NEC).

He said that the federal budget serves as an umbrella, while provincial governments provide the clothing beneath it, protecting ordinary citizens from the adverse impacts of the federal budget. He further announced that the provincial government is preparing to file a case in the Constitutional Court against what it describes as injustice and discrimination against Khyber Pakhtunkhwa in the National Finance Commission (NFC) Award, and that legal counsel has already been appointed.

Muzzammil Aslam stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa has estimated total revenues of Rs2,122 billion for FY 2026-27, representing an increase of 0.1 percent compared to Rs2,119 billion in FY 2025-26.

Federal transfers, including the provincial share in federal taxes, the one-percent share for the war against terrorism, straight transfers, windfall levy proceeds, and net hydel profits, are estimated at Rs1,584.9 billion, a five percent increase over Rs1,506.9 billion last year.

Revenue generated from provincial sources is projected at Rs182.4 billion, an increase of 41 percent from Rs129.0 billion last year. Provincial tax revenues are estimated at Rs115.9 billion, up 39 percent from Rs83.5 billion, while non-tax revenues are projected at Rs66.5 billion, a 46 percent increase from Rs45.5 billion.

The Finance Adviser said grants for the merged districts have been estimated at Rs199.1 billion, which is 32 percent lower than the Rs292.3 billion allocated previously.

Addressing the post-budget press conference, Muzzammil Aslam said that total expenditures for FY 2026-27 have been estimated at Rs2,170 billion, an 11 percent increase over the Rs1,962 billion budgeted for FY 2025-26.

Current expenditures have been estimated at Rs1,645.7 billion, which is 16 percent higher than Rs1,415.0 billion last year. The current budget for settled districts stands at Rs1,465.7 billion, a 17 percent increase over Rs1,255.0 billion, while the current budget for merged districts is Rs180.0 billion, up 13 percent from Rs160.0 billion.

The total development budget has been set at Rs524.3 billion, which is four percent lower than the previous allocation of Rs547.0 billion. The Annual Development Programme (ADP) for settled districts has been increased to Rs235.0 billion from Rs195.0 billion, reflecting a 21 percent rise.

He said the ADP for merged districts has been set at Rs34.8 billion, compared to Rs40.0 billion last year, a decrease of 13 percent.

Muzzammil Aslam said the Khyber Pakhtunkhwa government has allocated Rs50.8 billion for the Sehat Card programme, including the merged districts, and has spent Rs125 billion on the programme over the last three years.

He added that the budget for Medical Teaching Institutions (MTIs) has been increased from Rs65.6 billion to Rs80 billion for FY 2026-27. An allocation of Rs14.35 billion has been made for the outsourcing of hospitals, including 72 new hospitals.Muzzammil Aslam said that the budget for public universities has been increased from PKR 10 billion to PKR 11.8 billion. An allocation of PKR 5 billion has been made for schools for out-of-school children, PKR 19.3 billion for good governance initiatives, and PKR 17 billion for temporarily displaced persons (TDPs).

Muzzammil Aslam further said that several new initiatives have been included in the FY 2026–27 budget. These include PKR 2 billion for the Ehsaas Kisan Program, PKR 12 billion for the Disaster Risk Management Fund, PKR 2 billion for interest payments under Ehsaas programs, PKR 2 billion for interest-free loans for university students, PKR 2 billion for interest-free loans for overseas workers, and PKR 2.5 billion for interest-free loans for e-bikes and e-rickshaws. Several other new programs have also been introduced, with a total allocation of PKR 36.1 billion for these new initiatives.ammil Aslam said that the budget for public universities has been increased from PKR 10 billion to PKR 11.8 billion. An allocation of PKR 5 billion has been made for schools for out-of-school children, PKR 19.3 billion for good governance initiatives, and PKR 17 billion for temporarily displaced persons (TDPs).

Muzzammil Aslam further said that several new initiatives have been included in the FY 2026–27 budget. These include PKR 2 billion for the Ehsaas Kisan Program, PKR 12 billion for the Disaster Risk Management Fund, PKR 2 billion for interest payments under Ehsaas programs, PKR 2 billion for interest-free loans for university students, PKR 2 billion for interest-free loans for overseas workers, and PKR 2.5 billion for interest-free loans for e-bikes and e-rickshaws. Several other new programs have also been introduced, with a total allocation of PKR 36.1 billion for these new initiatives.

خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 کو عوام دوست بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تمام طبقات کا خاص خیال رکھا گیا ہے

 خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 کو عوام دوست بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تمام طبقات کا خاص خیال رکھا گیا ہے جبکہ دیگر شعبوں کی طرح شعبہ تعلیم کی ترقی اور فروغ کے لیے مجموعی طور پر 468.379ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 48.64ارب روپے زیادہ ہے صوبے کے سرکاری سکولوں کے لیے فرنیچر کی فراہمی پر 7ارب روپے خرچ ہونگے 10ارب روپے کی لاگت سے 72 چیف منسٹر ماڈل اسکولز کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے لیے 1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اسی طرح سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں مفت نصابی کتب کی فراہمی کے لیے 8.5ارب روپے رکھے گئے ہیں اور خیبر پختونخوا انسٹیٹیوٹ اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کے لیے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے مجموعی طور پر 10.34ارب روپے مختص ہیں جن میں کم کارکردگی والے سکولوں کے انتظام و انصرام میں بہتری کے لیے 3.29روپے تعلیم کارڈ پروگرام کے لیے 360ملین روپے اور پرینٹ ٹیچر کونسل کی استعداد کو بڑھانے کے لیے 6.18روپے شامل ہیں ضم اضلاع میں اسکولوں کی آپ گریڈشن کے منصوبہ کے لیے 182ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ انصاف فی میل اینڈ آرفن ایجوکیشن کارڈ کے لیے 385ملین کی رقم مختص کی گئی ہے

محرم میں اتحادِ امت کا پیغام، تفرقہ پھیلانے والوں کو ناکام بنائیں گے: شفیع جان، شہریار آفریدی

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان، سابق وفاقی وزیر داخلہ و رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی اور اراکین صوبائی اسمبلی داؤد شاہ آفریدی اور اورنگزیب اورکزئی نے کہا ہے کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ملک دشمن عناصر فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم، علماء اور عوام کے باہمی تعاون سے ایسی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے حوالے سے منعقدہ ڈویژنل جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں کوہاٹ، اورکزئی، ہنگو اور کرم کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے سے کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ریجنل پولیس آفیسر عرفان طارق، جسٹس (ر) ابن علی، اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء و مشران نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے محرم الحرام کو صبر، برداشت، ایثار اور استقامت کا مہینہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے تمام طبقات کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ شرکاء نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو محرم الحرام کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ذریعے ہی امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کیلئے رواں مالی سال میں 131 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں 43 ہزار پولیس اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے تاکہ مجالس اور جلوسوں کے شرکا کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں قائم 614 امام بارگاہوں میں سے 127 کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ 907 جلوسوں میں سے 286 جلوس حساس کیٹیگری میں شامل ہیں جن کیلئے اضافی سیکیورٹی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں نگرانی کے جدید نظام، اضافی نفری کی تعیناتی اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کے درمیان مربوط رابطہ شامل ہے۔ شہریار آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام بالخصوص کوہاٹ ڈویژن کے لوگ امن، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ میں ہمیشہ مثالی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی جا سکتی ہے۔ جرگے کے اختتام پر مقررین نے امید ظاہر کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، علماء کرام، مشران اور عوام کے تعاون سے محرم الحرام پرامن ماحول میں گزرے گا اور فریقین ماضی کی طرح طے شدہ ضابطہ اخلاق اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔

وزیر ایکسائز سید فخرجہان نے پی کے 26 بونیر میں 28 ملین روپے کی لاگت سے ندیوں اور ابی گزرگاہوں کی صفائی و بحالی منصوبے کا افتتاح کردیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے ہفتے کے روزحلقہ پی کے-26 بونیر میں محکمہ آبپاشی کے تحت 28 ملین روپے کی لاگت سے ندیوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی و بحالی منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
منصوبے کا آغاز ریگا خوڑ سے کیا گیا، جہاں ندیوں اور آبی گزرگاہوں سے جمع شدہ گاد، مٹی اور ریت کی نکاسی (ڈریجنگ و ڈی سلٹنگ) کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔محکمہ ایریگیشن کے افسران،پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما،ورکرز اور علاقے کے عوام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس موقع پر سید فخر جہان نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں عوام کو سیلابی خطرات سے محفوظ بنانے، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ندیوں، نالوں اور خوڑوں کی بروقت صفائی سے نہ صرف پانی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی بلکہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران شہری آبادیوں، گھروں، زرعی زمینوں اور سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان سے بچانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ بونیر ماضی میں بھی شدید سیلابی ریلوں اور طغیانی سے متاثر رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور گھروں، املاک، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ ان تلخ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات کا تدارک کیا جا سکے۔

Budget 2026-27

حکومتِ خیبر پختونخوا نے عوام کے پیسے کو عوام کی ترقی پر لگانے کا عزم پورا کر دکھایا۔ بجٹ 2026-27 میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 524 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص، جس میں صوبائی اور ضلعی پروگراموں کے ساتھ ساتھ ہمارے ضم شدہ اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی اربوں روپے کے بڑے پیکیجز شامل ہیں۔

ہم بدل رہے ہیں خیبر پختونخوا، نچلی سطح تک ہر شہری کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے

#عوامی_فلاحی_بجٹ #خیبرپختونخوا #ترقی_کا_سفر #ضم_شدہ_اضلاع #عوام_کا_پیسہ_عوام_پر #KPBudget2026_27 #KPDevelopment #KPGovernment #ProsperousPakistan #PublicMoneyForPublicProgress

معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید خان کا محرم الحرام مرکزی کنٹرول روم کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید خان نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں محرم الحرام کے سلسلے میں قائم مرکزی کنٹرول روم کا دورہ کیا اور صوبہ بھر میں سکیورٹی، مانیٹرنگ اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے معاون خصوصی کو محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے کیے گئے اقدامات، جلوسوں اور مجالس کی نگرانی، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ کنٹرول روم فعال طور پر کام کر رہا ہے اور صوبے کے تمام اضلاع سے موصول ہونے والی معلومات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔طارق سعید خان نے دورے کے موقع پر کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض سرانجام دیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔طارق سعید خان نے کنٹرول روم کے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت امن و استحکام کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔