Home Blog Page 72

سیلاب زدہ بونیر میں موبائل لیب کی واپسی، 10,100 ٹیسٹ مکمل : سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان

سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ بونیر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں موبائل لیبارٹری کی تعیناتی ایک بروقت اور مؤثر اقدام ثابت ہوا، جس نے مقامی صحت مراکز کو تشخیص اور علاج میں بھرپور سہولت فراہم کی۔
‎انہوں نے بتایا کہ موبائل لیب نے 62 دن تک بونیر میں خدمات انجام دیں اور اس دوران 10,100 عوامی صحت کے لیبارٹری ٹیسٹ مکمل کیے گئے۔ ان میں CBC، ملیریا، ڈینگی، خون و فضلے کے کلچرز، ہیپاٹائٹس اور دیگر آفات کے بعد عام وائرل انفیکشنز کے ٹیسٹ شامل تھے۔
‎سیکرٹری صحت کے مطابق، موبائل لیب نے ضلعی اسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس اور موبائل کلینکس کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو بروقت اور درست تشخیص کی سہولت فراہم کی، جس سے بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں نمایاں بہتری آئی۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ قدرتی آفات کے بعد عوام کو فوری طبی سہولیات میسر آ سکیں

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں عالمی یوم برائے اوسٹیپوروسس منایا گیا۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی کے ارتھوپیڈک ڈپارٹمنٹ اور ہیلئین فارما کے زیر انتظام عالمی یوم برائے اوسٹیپوروسس کی مناسبت سے آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ دن منانے کا مقصد عوام الناس کو انسانی جسم میں ہڈیوں کی کمزوری وغیرہ والی بیماریوں سے بچاو شامل ہیں۔نوشہرہ میڈیکل کالج کے ڈین/چیف ایکزیکٹیو آفیسر و ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان حقانی نے عالمی یوم دن برائے اوسٹیپوروسس کے مناسبت سے عوام الناس کو خصوصی پیغام دیا۔ آگاہی واک میں کثیر تعداد میں ہسپتال سٹاف نے شرکت کی جن میں نرسنگ ڈائریکٹر تحمینہ تاج ، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے شرکت کی۔

خیبرپختونخوا حکومت کی ہدایت پر، سینٹ لوک چرچ سوات میں تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صاحب کی خصوصی ہدایت پر، سابق مشیر، سابق ایم پی اے اور صدر انصاف منارٹی ونگ خیبر پختونخوا وزیر زادہ، بیشپ پیٹر سرفراز ہمفری اور سینئر وائس پریزیڈنٹ پردیپ کمار کے ہمراہ سوات چرچ کا دورہ کیا اور چرچ کی تعمیر و تزئینِ نو کے کام کا افتتاح کیا۔ چرچ کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے پچھتر لاکھ روپے کی رقم منظور کی جا چکی ہے، جبکہ مزید ضروری کاموں کے لیے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس منصوبے کی تفصیلی لاگت کا تخمینہ تیار کر کے اوقاف ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کرے تاکہ اضافی فنڈز کی منظوری عمل میں لائی جا سکے۔اس موقع پر وزیر زادہ نے کہا کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 51کروڑ روپے کے فنڈ سے صوبے بھر میں چرچز، مندروں، گردواروں، ٹیمپلز اور اقلیتی کالونیوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ گزشتہ سال چھ کروڑ روپے کے اسکالرشپس تقسیم کیے گئے، جبکہ رواں سال مزید آٹھ کروڑ روپے کے اسکالرشپس کے فنڈ رکھے گئے ہیں تاکہ اقلیتی طلبائ کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔وزیر زادہ نے بتایا کہ اقلیتی برادری کے شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں کی خریداری اور تعمیر کے لیے دس کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ مرجڈ اضلاع کے چرچز، مندروں اور گردواروں کے لیے بھی دس کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں مسیحی برادری کے قبرستان کی زمین خریدنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو پچاس لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔وزیر زادہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران اقلیتی برادری کے افراد کو مختلف اہم سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا، جو کہ ماضی میں پہلی بار ممکن ہوا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کی استعداد بڑھانے کے لیے 20 کروڑ روپے کا خصوصی فنڈ رکھا گیا ہے ۔

ای او سی کے زیر اہتمام پولیو کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

ایمرجنسی آپریشنزسنٹر خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام انسداد پولیو کے سلسلے میں مختلف چیلنجز سےنمٹنے کیلئے انتھک محنت، لگن اور مسلسل جدوجہد سے کام کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی حوصلہ افزائی اور ان کی بیش بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر کے پی اسمبلی کے جرگہ حال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کے دوران مقررین نے مختلف قسم کی سماجی رکا وٹوں، خراب موسمی حالات ، بادو باراں اور برف باری سمیت دشوار گزار راستوں اور سنگلاخ پہاڑڑوں سے گزرتے ہوئے بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسین پہنچانے اور انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے سرگرم عمل فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان پولیو ورکرز کی ان خدمات کی بدولت ہم بہت جلد پولیو کے موذی مرض سے چھٹکارا پ حاصل کر سکیں گے۔
اس تقریب میں سابق صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ اور کمشنر پشاور ریاض محسود نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ صوبائی اسمبلی کے اراکین بشمول داؤد خان، محترمہ اشبر جان جدون اور مہر سلطانہ، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان، ڈپٹی کوآرڈینیٹر ای او سی لطیف الرحمان، ٹیکنیکل فوکل پرسن پی ای آئی ڈاکٹر علی حیدر، یونیسف، ڈبلیو ایچ او، روٹری انٹرنیشنل، این سٹاپ کے نمائندوں ، محکمہ صحت کے حکام سمیت فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ پولیو کا عالمی دن دنیا بھر میں بچوں کو پولیو سے بچانے کیلئے ویکسی نیشن کی ضرورت و اہمیت بارے شعور اجاگرکرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔ اور یہ دن ہمارے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اورجدوجہد کو سراہنے اور جلد از جلد اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے تجدید عہد کا دن ہے۔ انسداد پولیو کیلئے معاشرے کے مختلف طبقات کے کردارکو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا،طبی ماہرین،مذہبی رہنما،درس و تدریس سے منسلک ماہرین اور سول سوسائٹی بھی پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔ انسداد پولیو کیلئے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سید قاسم علی شاہ نے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے مسلسل محنت، لگن اور جذبے سے خدمات انجام دینے پر ہم فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرزکے بے حد مشکورو ممنون ہیں، انہوں نے انسداد پولیو کیلئے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے والے بین الاقوامی امدادی اداروں کے کردار کو بھی سراہا۔
تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کمشنر پشاور ریاض محسود نے کہا کہ صوبائی سطح پر ساری حکومتی مشینری بشمول انتظامی افسران،محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر انسداد پولیو کیلئے کام کر رہے ہیں اور ہم صوبے سے پولیو کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں اور موذی مرض کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے ۔ انہوں کہا کہ پولیو مہمات میں ہمارے پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی اور پولیو ورکرز کی انتھک کوششوں، لگن اور محنت کو سراہا۔ کمشنر پشاور نے اس مہلک بیماری کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی شراکت داروں کے اہم کردار اور تعاون کاو بھی سراہا۔
تقریب سے اپنےخطاب میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان نے کہا کہ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر خیبر پختونخوا اس وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہا ہے اور انسداد پولیوکیلئے مہمات تسلسل کیساتھ چلا رہے ہیں تاکہ کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔ پولیووائرس کی گردش پر قابو پانے میں ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے صوبے میں پولیو مہمات کے معیار کو بہتر بنانے اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ اسی طرح ویکسینیشن کی کوریج میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کے باوجود جگہ جگہ ماحولیاتی نمونوں کے مثبت آنے ور پولیو کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کی وجہ سے ہمیں چوکنا رہنا پڑے گا تاکہ اس وائرس کی گردش کو مکمل کنٹرول میں لایا جا سکے۔انہوں نے پولیو کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی خوب سراہا۔
تقریب سے اراکین صوبائی اسمبلی داؤد خان اور محترمہ اشبر جان جدون نے بھی خطاب کیا اور صوبے سے پولیو کے خاتمے کیلئےاجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھی انسداد پولیو کے ضمن میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت اور لگن کو خوب سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے کہا کہ تمام اسلامی مکتبہ فکر کے علماء نے پولیو کے قطروں کے حق میں فتوے جای کئے ہیں لہٰذا عوام کو بچوں کی صحت مند مستبل کی خاطر ان قطروں کے پلانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے صوبے سے پولیو کا خاتمہ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تقریب کے اختتام پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز میں ان کی غیر معمولی خدمات، لگن اور پولیو کے خاتمے کیلئے جذبے سے کام کرنے کے اعتراف میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔
بعد ازاں ایک پولیو واک کا بھی انعقاد کیا گیا تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ پولیو واک میں صوبائی اراکین اسمبلی، محکمہ صحت کے افسران، پارٹنرز کے نمائندوں، ای او سی حکام کے ساتھ ساتھ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے بھی شرکت کی۔

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa conducts a visit to GT Road Peshawar to inspect the ongoing beautification and restoration work

Upon the directions of the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Mr. Sohail Afridi, the Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, along with the Director General of the Peshawar Development Authority and relevant officials, conducted a visit to GT Road Peshawar to inspect the ongoing beautification and restoration work. During the visit, the Chief Secretary inspected the restoration work of roundabouts, landscaping, and other activities and appreciated the efforts of the PDA team. The Chief Secretary was briefed on the project’s progress and directed that the work on GT Road from Chamkani to Karkhano Market be expedited in line with the Chief Minister’s vision.
The KP Government has embarked on a mission to make Peshawar a model city, and work in this regard has already commenced. The Chief Secretary’s visit underscores the government’s commitment to transforming Peshawar into a modern and vibrant city. The beautification and restoration work on GT Road is part of a broader initiative to enhance the city’s infrastructure and improve the quality of life for its citizens.

Dera Ismail Khan Wildlife Division Foils Attempt to Smuggle 32 Cranes birds

The Khyber Pakhtunkhwa Wildlife Department continues to take robust measures to protect wildlife and prevent the illegal trafficking of animals and birds. Acting on the special directives of Conservator Wildlife South, Mr. Niaz Muhammad, a successful operation was carried out by the Wildlife Team under the supervision of DFO Wildlife khan malook khan.
Based on credible intelligence, the team intercepted a passenger bus traveling from Karachi to Bannu on the Indus Highway within the jurisdiction of Police Station Gomal University. During the operation, 32 Eurasian cranes were recovered, 26 alive and 6 dead.
A case has been registered against the accused under the Wildlife and Biodiversity Act, 2015, and a fine of Rs. 140,000 has been imposed. The recovered birds have been shifted to the Wildlife Park Dera Ismail Khan for proper care.
Chief Conservator of Wildlife, Dr. Mohsin Farooq, commended the performance of the D.I. Khan Wildlife Team and stated that, in line with the provincial government’s vision, the department remains committed to protecting wildlife, preventing smuggling, and promoting public awareness regarding wildlife conservation.

Former Special Assistant Dr. Shafqat Ayaz attends “Digital Payment Challenge 2025” Cashless Program as Chief Guest

The Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board (KPITB) organized an important event titled “Digital Payment Challenge 2025” at Durshal, Peshawar, aimed at promoting a cashless economy and expanding access to digital financial services across the province.

The event’s Chief Guest was Dr. Shafqat Ayaz, Former Special Assistant to the Chief Minister for Science and Information Technology, while Secretary Science & IT Amjad Ali Khan, KPITB officials, IT professionals, startup representatives, and media personnel attended the ceremony.

In his address, Dr. Shafqat Ayaz said that “The Digital Payment Challenge reflects the creative thinking of Khyber Pakhtunkhwa’s youth, their enthusiasm for technology, and their contribution toward modern financial systems. Our goal is to make Khyber Pakhtunkhwa a cashless province—providing citizens with transparent, fast, and secure financial solutions.”

He added that this program is a practical manifestation of the vision of PTI founder Imran Khan and Chief Minister Suhail Afridi, who are steering the province toward a digital, transparent, and self-reliant economy.
Dr. Ayaz remarked, “Imran Khan has always inspired the youth to embrace modern technology, and Chief Minister Suhail Afridi is transforming that vision into action at the provincial level.”

He further said that KPITB is creating opportunities for youth employment, training, and access to the digital market. “The digital economy is the future, and Khyber Pakhtunkhwa is already moving decisively in that direction.”

In his remarks, Secretary Science & IT Amjad Ali Khan stated that “The Digital Payment Challenge 2025 is a practical example of the Government of Khyber Pakhtunkhwa’s vision of ‘Digital Transformation of Governance.’ The program provides young IT professionals with an opportunity to present innovative financial solutions.”

He added that the government’s top priority is to make all public payments and citizen services transparent, easy, and accessible through digital payment models.

During the Digital Payment Challenge 2025, KPITB invited proposals from professionals, students, and startups on innovative online payment systems.
A total of fifty-two (52) IT experts and agencies submitted their ideas, out of which the top five were shortlisted to present their concepts before a panel of judges.

The judges evaluated each presentation, asked questions, and appreciated the innovation and practicality of the ideas. The best presenters were awarded certificates and prizes for their outstanding contributions.

Dr. Shafqat Ayaz and Secretary Amjad Ali Khan expressed their commitment to expand this program to other divisions of the province next year, enabling more youth to participate.
They emphasized that this initiative reflects the vision of Imran Khan and Chief Minister Suhail Afridi to make Khyber Pakhtunkhwa Pakistan’s first fully digital governance model province

خیبر پختونخوا میں جرمن حکومت کے تعاون سے سماجی تحفظ کی پہلی سٹریٹیجی کا باضابطہ اجرا

خیبر پختونخوا حکومت نے جرمن حکومت کے تعاون سے صوبے میں سماجی تحفظ کی پہلی سٹریٹیجی کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ اس اقدام کو صوبے میں عوامی وقار، مساوی شمولیت اور سماجی استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخواکے تحت قائم پبلک پالیسی و سماجی تحفظ اصلاحات یونٹ کے زیرِ اہتمام پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں بدھ کے روز ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں سپیشل سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومت خیبر پختونخوا محمد نادر خان رانا نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ صوبائی، وفاقی اور دیگر صوبوں کے اعلیٰ حکام، ترقیاتی اداروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیشل سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات محمد نادر خان رانا نے کہا کہ سماجی تحفظ نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ انسانی ترقی اور سماجی ہم آہنگی میں ایک بنیادی سرمایہ کاری بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی غیر یقینی، موسمی خطرات اور سماجی تبدیلیوں کے اس دور میں سماج کی مضبوطی اسی میں ہے کہ لوگ خطرات کے باوجود خود کو سنبھالنے کے قابل ہوں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے سٹریٹیجی کے نفاذ، اس کے دیرپا اثرات اور بین الصوبائی تعاون کے پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ یہ سٹریٹیجی ایک مربوط اور عوام دوست نظام کے قیام کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ مختلف فلاحی پروگرام ایک ہی فریم ورک کے تحت باہمی ربط کے ساتھ انجام دئے جا سکیں، یہ دستاویز صوبے کی سماجی تحفظ پالیسی 2022ء کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس کا مقصد غربت کے خاتمے، صنفی مساوات، روزگار کے مواقع اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ جرمن ڈیویلپمنٹ کوآپریشن کے تحت جی آئی زی اور ایف سی ڈی اوکے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔اس موقع پرجی آئی زی کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سماجی تحفظ حکمتِ عملی ایک جامع اور مضبوط معاشرے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ حکمتِ عملی ایک بھرپور مشاورت کے عمل کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جو مضبوط سیاسی عزم اور مشترکہ وژن کی عکاس ہے تاکہ سماجی تحفظ کو مؤثر، ڈیٹا پر مبنی اور ماحولیاتی و معاشی چیلنجز کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جی آئی زی کو اس وژن کے حقیقت میں بدلنے کے لیے صوبے کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے پر فخر ہے۔ایڈیشنل سیکریٹری محمد توفیق نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی مختلف فلاحی منصوبوں کو ایک جگہ لا کر ایک مضبوط اور منظم نظام قائم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ اتھارٹی، مشترکہ ڈیٹا نظام اور بہتر مالی انتظام کے ذریعے ہم ایک ایسا شفاف اور پائیدار نظام بنا رہے ہیں جو امداد کو خیرات کی بجائے ریاستی ذمہ داری کے طور پر یقینی بنائے گا۔ڈائریکٹر جنرل پائیدار ترقیاتی یونٹ محمد خالد زمان نے کہا کہ یہ کامیابی مؤثر شراکت داری اور مشترکہ وژن کی مظہر ہے۔ صوبائی قیادت کے عزم، ٹیموں کی محنت اور جرمن ادارے کے تکنیکی تعاون نے اسے ممکن بنایا ہے اور اب اصل مرحلہ عمل درآمد کا ہے تاکہ اس وژن کو غریب اور کمزور گھرانوں کے لیے حقیقی فائدے میں بدلا جا سکے۔پبلک پالیسی و سماجی تحفظ اصلاحات یونٹ کے سربراہ کامران خان نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی جدید ٹیکنالوجی اور درست اعداد و شمار پر مبنی نظام متعارف کراتی ہے۔ صوبائی سماجی و معاشی رجسٹری اور مشترکہ ادائیگی کا نظام شفافیت بڑھائے گا، ڈوپلیکیشن ختم کرے گا اور امداد کو بہتر انداز میں مستحقین تک پہنچائے گا۔جرمن ترقیاتی ادارے کی منصوبہ سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی پہلی سماجی تحفظ کی سٹریٹیجی تیار کر کے دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عزت، شمولیت اور لچک کے اصولوں پر مبنی یہ منصوبہ دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال ہے۔ جرمن حکومت اس سفر میں اپنے تعاون کو جاری رکھنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر تمام اداروں اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس حکمتِ عملی کی تیاری میں کردار ادا کیا۔ سماجی تحفظ اتھارٹی کے قیام کے بعد، خیبر پختونخوا اس حکمتِ عملی کو عملی اقدامات اور عوامی خدمت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، عابد مجید کی زیر صدارت ایم ڈی کیٹ 2025 کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، عابد مجید کی زیر صدارت ایم ڈی کیٹ 2025 کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی جی ہیلتھ، پولیس، ایف آئی اے، آئی بی اور سپیشل برانچ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے شفاف، پُرامن اور مثالی انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امتحانی ہالوں کے اطراف دفعہ 144 نافذ کی جائے گی اور فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا۔ امیدواران کی تصدیق نادرا کے بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے کی جائے گی جبکہ ان کی تین مراحل میں جدید آلات سے مکمل باڈی سرچ کی جائے گی۔ امتحانی ہالوں میں خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔امتحانی مواد کی ترسیل اور واپسی پولیس کے خصوصی سکواڈ اور سول انتظامیہ کی نگرانی میں انجام دی جائے گی۔ امتحانی عملے کی کلیئرنس خفیہ اداروں سے کرائی جائے گی تاکہ امتحانی عمل مکمل طور پر محفوظ اور غیر جانبدار رہے۔ امتحانی مراکز پر واک تھرو گیٹس، اسکینرز، موبائل جیمرز اور پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی یا سیکیورٹی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔امیدواران کے لیے امتحانی مراکز میں واش روم، فرسٹ ایڈ، ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور 1122 ایمبولینس سروس کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاڑیاں سڑکوں پر پارک کرنے کے بجائے بچوں کو صرف پک اینڈ ڈراپ کریں تاکہ امتحانی مراکز کے اطراف ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم ڈی کیٹ 2025 کو مکمل شفافیت، سیکیورٹی اور سہولت کے ساتھ منعقد کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو ایک محفوظ، منصفانہ اور مثالی امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

حکومتی اقدامات کی تشہیر و عوامی آگہی کے لئے انفارمیشن افسران کی کارکردگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، افسران تخلیقی انداز میں کام کریں، سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار خان

سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ محکمہ اطلاعات حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ گڈ گورننس سے عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات کی مؤثر تشہیر کے لیے محکمہ کے افسران کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں انفارمیشن افسران کیساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمن ابنِ امین،سٹیشن ڈائریکٹر پختونخوا ریڈیو پشاور ہارون داودزئی، ڈپٹی ڈائریکٹرز نثار خان اور حبیب اللہ محسود سمیت پبلک ریلیشن آفیسرز نے شرکت کی۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ محکمہ میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت میڈیا پبلسٹی کی تمام اقسام کی مؤثر مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ انہوں نے پرنٹ میڈیا مانیٹرنگ کے حوالے سے کمیونکیشن سیکشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مختلف پہلوؤں سے اخباری کوریج کے اعدادوشمار صحیح انداز میں حاصل ہو سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ نئی اشتہاری پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ حکومتی تشہیر کے عمل میں نئے میڈیا پلیٹ فارمز کو مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔ڈاکٹر بختیار خان نے پبلک ریلیشن آفیسرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں تخلیقی اور نتیجہ خیز کام پر خصوصی توجہ دیں تاکہ حکومتی پیغام زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔اجلاس کے دوران انفارمیشن افسران نے اپنے مسائل سے بھی سیکرٹری اطلاعات کو آگاہ کیا، جس پر انہوں نے ہر ممکن تعاون اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔سیکرٹری اطلاعات نے نئی حکومتی کابینہ کے قیام کے بعد افسران کو اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات صوبائی حکومت کی ترجیحات کو اجاگر کرنے اور عوامی اعتماد کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا۔