تیسری عالمی لائیو سٹاک، پولٹری و فشریز ایکسپو 2025 کے کامیاب انعقاد پر سیکرٹری لائیو سٹاک خیبرپختونخوا محمد طاہر اورکزئی نے لائیو سٹاک و پولٹری ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن کی جانب سے ایکسپو کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر سیکرٹری لائیو سٹاک کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔لائیو سٹاک و پولٹری ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے نمائندگان نے کہا کہ صوبائی وزیر لائیو سٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی اور سیکرٹری لائیو سٹاک محمد طاہر اورکزئی کی انتھک کاوشوں سے صوبے میں لائیو سٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی صوبائی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور ہر ڈویژن میں ایکسپوز منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔اس حوالے سے سیکرٹری آفس پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیکرٹری لائیو سٹاک محمد طاہر اورکزئی نے کی۔ اجلاس میں صوبائی صدر لائیو سٹاک فارمرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آصف اعوان، صوبائی صدر پولٹری کواپریٹو سوسائٹی راج ولی، ڈپٹی سیکرٹری ساجد نواز، پروجیکٹ ڈائریکٹر سجاد وزیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء نے کامیاب ایکسپو کے انعقاد پر ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہا جبکہ ایسوسی ایشن کے سربراہان نے سیکرٹری لائیو سٹاک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اعزازی شیلڈ پیش کی۔
ڈی ڈی ڈبلیو پی نے خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 348.864 ملین روپے کے تین منصوبوں کی منظوری دے دی
محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا کی ڈپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) کا دوسرا اجلاس سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا سعادت حسن کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی ڈی ڈبلیو پی نے مجموعی طور پر 348.864 ملین روپے کے تین اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی۔ان منصوبوں میں تحصیل سطح پر پلے گراؤنڈ اسکیم برائے ضلع بونیر، چترال لوئر کے علاقے سفید ارکاری میں موجود فٹبال گراؤنڈ کی مرمت و بحالی، اور ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کے فروغ و استحکام کے لیے اقدامات شامل ہیں۔یہ منصوبے خصوصاً پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے جن سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور کمیونٹی کی سطح پر ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان سعادت حسن نے کہا کہ محکمہ نوجوانوں کے لیے جامع اور پائیدار کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔انھوں نے کہا کہ نوجوان طبقے پر سرمایہ کاری اور انکی فلاح و بہبود صوبے کی دیرپا ترقی کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر،ڈائریکٹر سپورٹس ضم اضلاع رضی اللہ بیٹنی،محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے دیگر سینئر افسران،منصوبہ بندی سے وابستہ عملے اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا کے زیر انتظام چلنے والے ورکنگ فولکس گرائمر سکولوں میں ریشنلائزیشن کے عمل پر تیزی سے کام جاری
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا کے زیر انتظام چلنے والے ورکنگ فولکس گرائمر سکولوں میں ریشنلائزیشن کے عمل پر تیزی سے کام جاری ہیجسے 10 روز کے اندر مکمل کرلیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ ریشنلائزیشن کے بعد جن سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہوگی وہاں فوری طور پر اس کمی کو پورا کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کسی صورت متاثر نہ ہو صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اپنے دفتر میں ورکنگ فولکس گرائمر سکولوں کے پرنسپلز پر مشتمل نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر ڈائریکٹر ایجوکیشن ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے وفد نے صوبائی وزیر کو سکولوں میں اساتذہ کی کمی سمیت مختلف انتظامی اور دیگر مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیاصوبائی وزیر نے وفد کے مسائل کو بغور سننے کے بعد وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ریشنلائزیشن کا عمل جاری ہے اور بہت جلد تمام سکولوں میں درکار عملہ کی کمی کو پورا کیاجائے گا انہوں نے پرنسپلز کو ہدایت کی کہ امتحانی نتائج بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور تدریسی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی، نظم و ضبط اور طلبہ کی بہتر رہنمائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ طلبہ کو رٹا لگانے کے بجائے طلبہ کی تخلیقی اور سمعی و بصری صلاحیتوں کو اجاگرکریں تاکہ معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے مذید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور ورکنگ فولکس گرائمر سکول اس ضمن میں خصوصی ترجیح رکھتے ہیں۔ فضل شکور خان نے پرنسپلز کو تاکید کی کہ وہ اپنے اساتذہ کو طلبہ کے ساتھ بھرپور محنت کی ترغیب دیں اور تدریسی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی حکمت عملی اپنائیں۔
عمران خان سے خیبر پختونخوا کی قیادت کو ملاقات سے روکنا نہ صرف لاقانونیت بلکہ بغض کی انتہا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے عمران خان سے خیبر پختونخوا کی قیادت کو ملاقات سے روکنا نہ صرف لاقانونیت بلکہ بغض کی انتہا ہے ،خیبر پختونخوا کی حکومت نے عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کو چلانا ہے۔ جعلی حکومت نہیں چاہتی کہ خیبر پختونخوا عمران خان کے وژن کے مطابق آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے، صوبائی معاملات میں ان سے مشاورت ضروری ہے۔جعلی وفاقی اور پنجاب حکومتیں حسد اور بغض کی آگ سے باہر نکلیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان کے خلاف بغض میں جعلی حکومت انصاف کا جنازہ نکال رہی ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں برتائوانسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دونوں کو بنیادی انسانی حقوق اور دیگر سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے فیملی پلاننگ کے حوالے سے خصوصی اقدامات
صوبائی حکومت فیملی پلاننگ پر مؤثر عملدرآمد اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام میں شعور و آگہی مہم جاری ہے۔سیکر ٹری اطلاعات و تعلقات عامہ
سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم اس مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے، کیونکہ جتنا زیادہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے فیملی پلاننگ کے حوالے سے خصوصی اقدامات۔صوبائی حکومت فیملی پلاننگ پر مؤثر عملدرآمد اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام میں شعور و آگہی مہم جاری ہے۔سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم اس مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے، کیونکہ جتنا زیادہ معاشرے میں تعلیم ہوگی، اتنا ہی زیادہ شعور و آگہی بڑھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے دفتر میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فیملی پلاننگ اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈی جی پاپولیشن ریحان گل خٹک، ڈائریکٹر ایڈمن سید عمران شاہ، ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر دانش بابر، ڈپٹی ڈائریکٹر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا عائشہ تسکین اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پاپولیشن ریحان گل خٹک نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے کنٹرول اور عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے محکمہ اطلاعات کے ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہم انکے ساتھ قریبی رابطہ میں رہیں گے۔اس موقع پر ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر دانش بابر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا عائشہ تسکین نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے محکمہ اطلاعات کے مختلف چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کو بروئے کار لایا جائے گا۔
سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیملی پلاننگ کے حوالے سے علمائ کرام کی مشاورت اور تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ عوام تک بہتر اور مؤثر انداز میں آگہی پہنچائی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس اہم مہم کو مزید مؤثر بنائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کے روک تھام اور انکے تدارک کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔معاشرے میں تعلیم ہوگی، اتنی ہی زیادہ شعور و آگہی بڑھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے دفتر میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فیملی پلاننگ اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب
سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈی جی پاپولیشن ریحان گل خٹک، ڈائریکٹر ایڈمن سید عمران شاہ، ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر دانش بابر، ڈپٹی ڈائریکٹر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا عائشہ تسکین اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پاپولیشن ریحان گل خٹک نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے کنٹرول اور عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے محکمہ اطلاعات کے ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہم انکے ساتھ قریبی رابطہ میں رہیں گے۔اس موقع پر ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر دانش بابر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا عائشہ تسکین نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے محکمہ اطلاعات کے مختلف چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کو بروئے کار لایا جائے گا۔سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیملی پلاننگ کے حوالے سے علمائ کرام کی مشاورت اور تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ عوام تک بہتر اور مؤثر انداز میں آگہی پہنچائی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس اہم مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔
باجوڑ میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد رفیق گنڈاپور کے ہمراہ باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفس کے تعاون سے “نوے سحر اسپورٹس ایونٹس” کے تحت مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے۔ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر راہد گل کی نگرانی میں کھیلے گئے ہاکی میچ میں باجوڑ ہاکی ٹیم نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے جبکہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے اسپورٹس کمپلیکس کے کرکٹ گراؤنڈ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحصیل ماموند کے متاثرہ گراؤنڈ کی فوری مرمت، صفائی اور رنگ و روغن کا کام مکمل کیا جائے تاکہ نوجوان بہتر انداز میں کھیلوں کی سرگرمیوں سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ان شائ اللہ بہت جلد باجوڑ کے گراؤنڈز دوبارہ آباد ہوں گے اور نوجوانوں کو کھیلوں کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام ورلڈ فارماسسٹ ڈے 2025 کے موقع پر ایک شاندار اور تاریخی تقریب کا جمعہ کے روزپشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں انعقاد
ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام ورلڈ فارماسسٹ ڈے 2025 کے موقع پر ایک شاندار اور تاریخی تقریب کا جمعہ کے روزپشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں انعقاد کیا گیا۔ اس سال کے عالمی دن کا موضوع تھا: “صحت کے بارے میں سوچیں، فارماسسٹ کے بارے میں سوچیں”۔ اس عظیم تقریب میں خیبر پختونخوا کے مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات اور فارمیسی کے گریجویٹس نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف تھے، جنہوں نے فارماسسٹ کے صحت کے شعبے میں اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی کی موجودگی میں کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کیک کاٹ کر فارماسسٹ کے دن کی خوشی پر شرکائ کو مبارکباد دی۔اس موقع پر صوبائی اسمبلی کے رکن عبید الرحمٰن، جمعیت علمائے اسلام کے امیر، مولانا عبد الحق ثانی، اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری منصور ارشد نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نوجوان فارماسسٹوں کی کاوشوں کو سراہا۔مزید برآں، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری ڈرگ، ابراہیم، نصیر اور ڈرگ کنٹرول کے نمائندگان، حامد خٹک اور ذاکر شاہ نے بھی تقریب میں اپنی موجودگی سے شرکائ کی حوصلہ افزائی کی۔تقریب میں مختلف دلچسپ اور علمی مقابلے بھی منعقد ہوئے، جن میں یونیورسٹی آف پشاور نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئز مقابلہ اور ماڈل مقابلہ دونوں جیت کر سب کی توجہ حاصل کی۔اس کامیاب تقریب کی چیف آرگنائزر محترمہ سحرش جبین تھیں جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ بہترین انتظامات کر کے اس ایونٹ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحت کے شعبے میں فارماسسٹ کے کلیدی کردار کو اُجاگر کرنے اور فارمیسی کی تعلیم و تربیت کے فروغ کے لیے آئندہ بھی ایسے مثبت اور بامقصد اقدامات جاری رکھے گی۔
مینا خان آفریدی کی سوئٹزرلینڈسفیر سے ملاقات، اعلیٰ تعلیم کی مد میں حوصلہ افزائ پیش رفت
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سوئٹزرلینڈ کے سفیر جارج سٹائنر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ملاقات کے موقع پر مینا خان آفریدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مردم شماری 2023 کے مطابق خیبرپختونخواہ کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 6 لاکھ ہے، جن میں سے 65 فیصد نوجوان 15 سے 30 برس کی عمر کے درمیان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان اکثریت صوبے کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جسے درست سمت میں لے جا کر ترقی، خوشحالی، اور امن کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تعاون کے کئی شعبوں کی نشاندہی کی، جن میں مشترکہ ڈگری پروگرام، مشترکہ نگرانوں کے تحت پی ایچ ڈی ریسرچ، اور نصاب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے طلبہ و اساتذہ کے لئے ایکسچینج پروگرام، یونیورسٹی انتظامیہ کی تربیت، اور خیبرپختونخواہ کے طلبہ کے لیے سوئٹزرلینڈ کی جامعات و صنعتوں میں انٹرن شپ مواقع کے بندوبست پر بھی زور دیا۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے کئی شعبوں میں مشترکہ تحقیق کی اہمیت پہ بھی زور دیا جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی، زراعت و غذائی تحفظ، صحت، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن کورسز، قلیل مدتی ڈپلومہ، سمر اسکولز، اور سوئس یونیورسٹی گورننس ماڈلسے استفادہ کر کے خیبر پختونخواہ کی جامعات میں پائیدار مالیاتی و انتظامی اصلاحات کو بھی لازمی قرار دیا۔
ملاقات کے دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر جارج سٹائنر نے خیبرپختونخواہ حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کی نوجوان اکثریت ایک قیمتی اثاثہ ہے جسے تعلیم اور تحقیق کے ذریعے بہتر مستقبل کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے میں شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے اور خیبرپختونخواہ کی جامعات کے ساتھ تعاون اس وژن کا حصہ ہو سکتا ہے۔ سفیر نے یقین دہانی کرائی کہ سوئٹزرلینڈ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر شفقت ایاز کی کراچی میں آئی ٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے کراچی میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی آئی ٹی سی این ایشیا کے دوسرے روز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے آئی ٹی ماہرین، صنعت کار، طلبہ، پالیسی ساز، اور سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے کیونکہ یہی شعبہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے علوم اور مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ قومی معیشت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا لوہا منوا سکیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ڈیجیٹل خیبر پختونخوا‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے، جس کے تحت ای-بستہ، ڈیجیٹل شناختی نظام، ای-سرکاری خدمات، آن لائن تعلیم اور جدید سافٹ ویئر پارکس جیسے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے نہ صرف صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا بلکہ سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے دروازے بھی کھلیں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر نوجوان کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ای-بستہ منصوبے کے ذریعے طلبہ کو ٹیبلیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں تعلیمی مواد اور نگرانی کا جدید نظام شامل ہے، تاکہ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور جدّت پیدا کی جا سکے۔
ڈاکٹر شفقت ایاز نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے بغیر مستقبل کی ترقی ممکن نہیں۔ اسی لیے ہم نہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ عالمی اداروں، نجی کمپنیوں اور نوجوانوں کے مابین براہِ راست روابط قائم کرنے کے اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا میں آئی ٹی زونز اور سافٹ ویئر پارکس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔تقریب کے بعد ڈاکٹر شفقت ایاز نے مختلف کمپنیوں کے اسٹالز کا دورہ کیا اور ٹیکنالوجی کے جدید منصوبوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر عالمی منڈی میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت ان کے ہر قدم پر ان کی رہنمائی اور معاونت کرے گی۔آخر میں ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں ایک مضبوط معیشت اور جدید خیبر پختونخوا کی بنیاد رکھ رہی ہے اور آئی ٹی کا فروغ اس وژن کا سب سے اہم حصہ ہے۔
سیکرٹری کھیل وامور نوجوانان سعادت حسن کا ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کے ہمراہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کا دورہ
سیکر ٹری محکمہ کھیل و امور نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کھیلوں کی دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کمپلیکس میں کرکٹ گراؤنڈ ،سویمنگ پول،ٹینس کورٹ،فٹنس جم اور کھیلوں کے دیگر مقامات کا معائنہ کیا ۔اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر حیات آباد سپورٹس کمپلیکس عابد آفریدی نے سیکریٹری سپورٹس اور ڈی جی کو کمپلیکس میں دستیاب سپورٹس کورٹس اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ بھی دی۔انھوں نے بتایاکہ کمپلیکس میں فیمیل فٹنس جم قائم کیا گیا ہے جو افتتاح کیلئے تیار ہے۔سیکریٹری سپورٹس نے اس موقع پرہدایت کی کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں رننگ ٹریک اور بیڈ منٹن میٹس کیلئے پی سی ون جلد از جلد تیار کیا جائے۔انھوں نے یقین دلایا کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس شہر پشاور میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ شہر بھر کے لوگوں اور کھلاڑیوں کے لئے یہ تفریح اور سپورٹس کے حوالے سے ایک معیاری کمپلیکس ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کمپلیکس کو مزید سہولیات سے بھی لیس کیا جائے گا تاکہ یہاں پر شہر کے باسیوں کو سیر وتفریح اور کھیلوں کی تمام ضروری ضرورتیںمیسر ہوں
