Home Blog Page 73

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم خصوصی وارڈ کا دورہ کیا

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم خصوصی وارڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، ممبران صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی، افتخار علی مشوانی اور ڈیڈک چیئرمین زرشاد خان بھی اُن کے ہمراہ تھے۔وزراء اور منتخب نمائندوں نے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی عیادت کی اورہسپتال میں دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور محکمہ صحت کے عملے کو ہدایت کی کہ ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں کیے جائیں۔انہوں نے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی اپیل کی تاکہ ڈینگی وائرس پر قابو پایا جا سکے

پاک صاف و شفاف خیبرپختونخوا،صوبائی حکومت کا اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد فلیگ شپ پروگرام ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ پاک صاف و شفاف خیبرپختونخواصوبائی حکومت کا ایک انقلابی اور اپنی نوعیت کا پہلا فلیگ شپ پروگرام ہے، جو 11 ارب روپے کی لاگت سے صوبے کے دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل درگئی کے 25 ویلج کونسلز میں پروگرام کے تحت بھرتی ہونے والے اہلکاروں میں عارضی تقرری نامے، لوڈر رکشے، یونیفارمز اور صفائی کٹس کی تقسیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں چیئرمین تحصیل درگئی پیر اسلام غازی، اسسٹنٹ کمشنر درگئی شہباز خان، محکمہ بلدیات کے افسران، منتخب بلدیاتی نمائندے اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے ویژن پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت عوامی مسائل کے حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ“پاک، صاف و شفاف خیبرپختونخوا”پروگرام کے تحت ہر ویلج کونسل میں صفائی کے لیے شفاف طریقہ کار اور قرعہ اندازی کے ذریعے افراد بھرتی کیے گئے ہیں۔ بھرتی کے عمل میں کسی قسم کا سیاسی اثر ورسوخ شامل نہیں، عوام کے ٹیکس کے پیسے کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے صفائی کی نگرانی کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک جدید ڈیش بورڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔پیر مصور خان نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف دیہی علاقوں میں صفائی کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہا ہے، جس سے عوامی فلاح و بہبود کے اہداف حاصل ہوں گے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ صاف، سرسبز اور صحت مند خیبرپختونخوا ہماری منزل ہے اور یہ پروگرام عوام کی شمولیت اور شفافیت کے ذریعے اسی منزل کی جانب ایک اہم قدم ہے

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری معیاری، مؤثر اور سستی ادویات کی فراہمی کے لیے تاریخی قدم

خیبر پختونخوا حکومت نے صحت عامہ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے “فارمیسی سروسز پالیسی” کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کے 39ویں اجلاس میں وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں صوبائی کابینہ نے اس پالیسی کی منظوری دی، جو “معیاری ادویات سب کیلئے” کے وژن کے تحت تیار کی گئی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ملک کی پہلے پالیسی ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے صوبے میں محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی ممکن ہو گی، جس کے نتیجے میں مریضوں کے علاج کے اخراجات میں کمی، ہسپتالوں میں قیام کا دورانیہ کم، اور شرحِ اموات میں کمی متوقع ہے۔ پالیسی کے سماجی و معاشی اثرات کے تحت صحت عامہ پر مجموعی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی اور صوبے کے ہیلتھ بجٹ پر دباؤ کم ہو گا۔پالیسی میں اینٹی بایوٹک مزاحمت (Antibiotic Resistance) کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ انٹی بائیوٹکس کی خلاف بڑھتے مزاحمت سے دنیا کی اندر لاکھوں لوگ اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس پالیسی سے ادویات کے محفوظ استعمال اور مریضوں کو ادویات کی مضر اثرات سے بچانے کیلئے فارماکو ویجیلنس سینٹرز کے قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس کیساتھ ادویات کے مضر اثرات کی بروقت رپورٹنگ ممکن ہو سکے گی اور ایک مستند ڈیٹا اکٹھا ہو سکے گا۔ ڈرگ انفارمیشن اور پوائزن کنٹرول سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا.یہ سنٹر ادویات کی بارے میں گھر بیٹھے مستند معلومات کیساتھ کیساتھ ایمرجنسی ریسپانس کی طور پر بھی کام کرے گی۔ ہسپتالوں کی اندر فارماسسٹ کی خدمات حاصل کر کے اس سے استفادہ کیا جائے گا۔ پالیسی کی تحت ڈرگ کنٹرول کو بھی منظم اور مظبوط کیا جائے گا تاکہ صوبے کی اندر جعلی اور غیر معیاری ادویات کا قلع قمع ہو سکے اور معیاری ادویات کی دستیابی ہو۔ صوبے کی اندر ڈرگ کنٹرول کو ضروری افرادی قوت اور وسائل فراہم کیے جائے گے۔ ادویات کی تجزیہ اور جانچ پڑتال کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو عالمی معیاری اصول کی مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ڈویژنل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی قیام کیساتھ ساتھ ٹیسٹنگ پروٹوکولز کو بھی اپگریڈ کیا جائے گا۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، پالیسی کے نفاذ سے مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی ممکن ہو گی، اینٹی بایوٹک مزاحمت میں کمی آئے گی، ادویات کے غلط استعمال کی روک تھام ہو گی اور صحت عامہ کے نظام میں شفافیت و اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ یہ صوبائی حکومت کامریضوں کی مفاد میں ایک اہم کارنامہ ہے۔

Chief Secretary Reviews Good Governance Roadmap for Education

A review meeting on the Good Governance Roadmap reforms in the Elementary and Secondary Education Department was held under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah. The meeting was attended by Secretary Elementary and Secondary Education and other concerned officials.

The forum was informed that sports competitions will be organized for school students to provide them with constructive extracurricular opportunities alongside education. Competitions will be held from inter-school to tehsil, district, divisional, and provincial levels. Available school lands have been identified, while plans for constructing playgrounds and providing indoor games facilities are also underway. Provincial-level competitions in debates, story writing, and spelling bees will also be arranged.

The meeting was briefed that under the governance roadmap, furniture supply has already been initiated in most schools across the province, and the remaining demand will be met accordingly. Work is also in progress for the provision of other basic facilities in schools.

To ensure 90 percent teacher attendance, a digital attendance system will first be introduced in all higher secondary schools. The Chief Secretary directed that a report on action against absentee teachers be submitted by October 10. It was also informed that the provincial cabinet has approved the outsourcing of underperforming schools, with 500 schools, including those in merged districts, to be outsourced in the first phase. The outsourcing process will not affect the service of teachers, while education will remain free of cost, with all expenses to be borne by the provincial government.

The Chief Secretary was further apprised that a CCTV surveillance project in high-risk examination centers is on track, while a two-year transfer policy is being introduced in education boards. Recruitment through ETEA is also underway to ensure a minimum of four teachers in each primary school, while classroom shortages are being addressed through various means, including assistance from international development partners.

The Chief Secretary directed the Education Department to devise a plan for overcoming classroom shortages in all primary schools, specifying the resources to be used so that the government may take informed decisions and complete the process within a set timeframe. He further instructed the Finance and Planning & Development departments to monitor the governance roadmap initiatives separately to ensure their timely completion.

It was also informed that reforms in the examination system are in progress, and the next board examinations will be conducted under the Student Learning Outcomes (SLO) and cluster-based method. Under this system, students will appear in nearby cluster examination centers instead of their own schools.

معاون خصوصی محمد عاصم خان نے وزارت تعلیم کا چارج سنبھال لیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے وزارت تعلیم کا چارج سنبھال لیا اس موقع پر مختلف وفود نے ان کو وزارت کا قلمدان ملنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی محمد عاصم خان نے وفود سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قائد عمران خان اور وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ان پر جو اعتماد کیا ہے ان پر پورا اترنے کی وہ بھرپور کوشش کریں گے اور محکمہ تعلیم میں پارٹی لیڈر عمران خان کے وژن اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے گڈ گورننس روڈ میپ کے مطابق اصلاحات متعارف کروانے بشمول صوبے کے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے اور سکولوں میں موجود طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور حکومت خیبر پختونخوا تعلیم کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔اس ضمن میں انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ محمد عاصم خان نے کہا کہ اساتذہ کے مسائل حل کرنا بھی ان کی اولین ترجیح ہے اور اساتذہ کی کمی پوری کرنے بشمول ان کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔میرٹ و شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اور اساتذہ کی بھرتیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں بشمول تمام نظام میرٹ بیسڈ ہوگا۔ اور محکمہ تعلیم و ذیلی اداروں میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل متعارف کروایا جائے گا۔ صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں طلباء و طالبات کو سہولیات کی فراہمی کے لئے اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی اور ایس ایل او بیسڈ امتحانات کے انعقاد کو صوبے کے تمام بورڈز تک توصیع دینے کے ساتھ ساتھ میرٹ پر امتحانی عملے کی تعیناتی بذریعہ ڈرا کی جائے گی۔

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعہ کے روز لیڈی ریڈنگ ھسپتال پشاور کا دور کیا اورگھڑی قمر دین پشاور بم دھماکہ کے زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعہ کے روز لیڈی ریڈنگ ھسپتال پشاور کا دور کیا اورگھڑی قمر دین پشاور بم دھماکہ کے زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی،گورنر خیبر پختونخوا ہسپتال میں زیر علاج پولیس زخمیوں سے فرداً فرداً ملے اور انکی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،،انہوں نے اس موقع پرہسپتال انتظامیہ سے زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجہ سہولیات سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں،گورنر خیبر پختونخوا نے بم دھماکے میں شہید پولیس اہلکار کوبھی خراج عقیدت پیش کیا اورشہید پولیس اہلکار کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت،پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور قیام امن کے لئے پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی، خیبر پختونخوا پولیس بہاردری سے دہشتگردوں کامقابلہ کر رہی ہے

صوبائی کابینہ کا 39 واں اجلاس

خیبر پختونخوا کابینہ کا 39 واں اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت جمعرارت کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اورایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے، اس فیصلے کی روشنی میں تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے،ان عارضی اساتذہ کی بھرتی پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسی طرح صوبائی کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کو بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے موزوں قرار دینے کی منظوری دی جس کی رو سے ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز بھی بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے اہل تصور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کالج اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے غیر منقولہ جائیداد کے انتقال پر عائد فیڈرل ٹیکس کو عدالت میں چیلنج کرنے کی منظوری دی ہے،غیر منقولہ جائداد کے انتقال پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔ اجلاس میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں سیاحتی مقامات میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تزین و آراش اور صفائی کے لئے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر اتھارٹیز کو ایک ارب روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں انرولمنٹ کی شرح کو بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے بعض سکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آوٹ سورس کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ایسے سکولوں اور کالجوں کو آوٹ سورس کیا جائے گا جن میں انرولمنٹ انتہائی کم ہو۔انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ سے ان تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور آوٹ سورسنگ کے بعد بھی ان سکولوں میں تعلیم بالکل مفت فراہم کی جائے گی اور تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ کابینہ نے جائیداد میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ویمن پراپرٹی رائیٹس رولز 2025 کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ویمن کمیشن کی نئی چئیرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے ضلع پہاڑ پور اور ضلع اپر سوات کے ناموں سے دو نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح کابینہ نے خیبر پختونخوا ماؤنٹین ایگریکلچر پالیسی کی منظوری دی،جس سے خیبر پختونخوا ماونٹین ایگریکلچر پالیسی متعارف کروانے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا۔ اجلاس میں فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی گئی،فارمیسی سروسز پالیسی ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی پالیسی ہے، کابینہ نے شہری علاقوں میں شجرکاری کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے 10 کروڑ روپے جبکہ دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لئے پانج، پانچ کروڑ روپے کی منظوری دی۔ کابینہ نے باجوڑ، تیراہ، کرم، وانا و دیگر اضلاع میں واقعات کے دوران شہداء کے لواحقین کے لئے خصوصی معاوضوں کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں کینسر اور بون میرو کے دو مریضوں کے علاج معالجے کے لئے 45 لاکھ روپے کی منظوری دیدی گئی۔ مشیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے لئے بھی گرانٹس ان ایڈ کی منظوری دی۔ اجلاس میں صحت اور خصوصی بچوں کی تعلیم کے شعبوں میں کام کرنے والے تین غیر سرکاری تنظیموں کے لئے بھی چار کروڑ روپے گرانٹس ان ایڈ اور ڈبلیو ایس ایس سی ہری پور کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔اسی طرح رائیٹ آف وے پالیسی 2022 کے تحت رائیٹ آف وے چارجز ختم کرنے کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پشاور بنوں کو ہاٹ ڈی آئی خان میں ایف جی تعلیمی اداروں بی ایس بلاکس بنانے کے لئے نان ا ے ڈی پی سکیم کی بھی منظوری دی گئی۔مشیر اطلاعات نے بتایاکہ کابینہ نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغانستان کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف فنڈ سے رقم استعمال کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔

کابینہ میں ردوبدل عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کابینہ میں ردوبدل عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، سیاسی رنگ دے کر مخالفت کرنے والے دراصل عمران خان کے وژن کے مخالف ہیں، ملاقات میں عمران خان نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو حکومتی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی تھی، عمران خان نے وزیر اعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار اور کابینہ میں ردوبدل کا اختیار دیا تھا، کابینہ میں تبدیلی حکومتی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ کابینہ میں تبدیلی وزیر اعلیٰ کا صوابدیدی اختیار ہے، وہ کسی بھی وقت ردوبدل کر سکتے ہیں، موجودہ حالات میں بہترین ٹیم تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے،عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اورکابینہ میں ردوبدل ایک مثبت اور جمہوری عمل ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی واٹر ٹیسٹنگ مہم مکمل، 40 فیصد بوٹلڈ واٹر غیر معیاری و مضر صحت قرار

خیبرپختونخوا میں فوڈ اتھارٹی کی جانب سیواٹر ٹیسٹنگ مہم مکمل ہونے اور نتائج آنے پر 40 فیصد بوٹلڈ واٹر (bottled water)غیر معیاری و مضر صحت قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر سے مختلف انڈسٹریز کے 19 لیٹر،1.5 لیٹر، 500 اور300 ملی لیٹر کے بوٹلڈ واٹر سے156 نمونے حکومت خیبر پختونخوا کی نئی قائم شدہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 59.61 فیصد تسلی بخش جبکہ 40.39 فیصد غیر معیاری و مضر صحت ثابت ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے گزشتہ روز اس حوالے سے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کو تفصیلی بریفنگ دی۔ مہم کے دوران 56 واٹر سورسز کے نمونے بھی چیک کیے گئے جن میں 27 تسلی بخش اور 29 نمونے غیر معیاری ومضر پائے گئے۔ بریفنگ میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ رپورٹ کے مطابق 61 بوٹلڈ واٹر نمونوں میں خطرناک جراثیم جیسے کولی فام، فیکل کولی فام، ای کولائی اور پیسوڈوموناس اریجنو سا کی موجودگی جبکہ 2 نمونوں میں خطرناک کیمیائی اجزاء پائے گئے جو انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں فعال 143 واٹر انڈسٹریز روزانہ 419096 لیٹر پانی تیار کر رہی ہیں جن میں سے 117543لیٹر پانی غیر معیاری ثابت ہوا۔ واٹر ٹیسٹنگ مہم 23 اگست سے 19 ستمبر تک جاری رہی۔ صوبائی وزیر کو یہ بھی بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے میں صوبہ بھر کے رہائشی علاقوں میں سرکاری و نجی واٹر فلٹریش پلانٹس اور واٹر سورسز کی ٹیسٹنگ ہوگی۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ غیر معیاری پانی تیار کرنے والی انڈسٹریز پر بھاری جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں اور انہیں مارکیٹ سے اسٹاک واپس اٹھانے کی سختی سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ فیل شدہ واٹر انڈسٹریز کے پراسیسنگ سسٹم کی درستگی تک ان کی مصنوعات پر مارکیٹ میں پابندی عائد رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پہلی بار نئی قائم شدہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ کے ذریعے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ مہمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مختلف فوڈ پروڈکٹس کی کوالٹی چیک کرنے کے لئے مہمات جاری ہیں اور اس کا مقصد انڈسٹریز کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔وزیر خوراک نے واضح کیا کہ ہر صورت صوبے سے غیر معیاری و مضر صحت اشیاء اور ملاوٹ مافیا کا خاتمہ کریں گے، معیاری خوراک یقینی بنا کر اسپتال ویران کریں گے۔

راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا شاندار اور مؤثر انعقاد

کینٹ پبلک سکول اینڈ کالج نوشہرہ میں راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا تین روزہ انعقاد نہایت منظم اور شاندار انداز میں ہوا تین روزہ کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ہنر مند خواتین نے بھرپور شرکت کی جن میں نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، جہانگیرہ، اکوڑہ اور گردونواح کے علاقے شامل تھے کانفرنس میں ہینڈ ایمبرائڈری، قریشیا ورک، اسٹچنگ، ڈریس ڈیزائننگ، کینڈل میکنگ، بیوٹیشن اور مہندی کے مقابلے منعقد کیے گئے جن میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی فنی مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نوشہرہ کینٹونمنٹ بورڈ راجہ حیدر شجاع، اے آئی جی جینڈر انیلا ناز، سماجی رہنما سیدہ ناہید اختر اور چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری شامل تھیں جنہوں نے مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے تین روزہ کانفرنس میں شرکاء اور طلبہ کے لیے متعدد تکنیکی اور آگاہی سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ فارن افیئرز کے حوالے سے خصوصی لیکچر میں بیرون ملک غیر قانونی سفر کے نقصانات اور قانونی سزاؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی طرح ACCA ایویڈنس سیشن اور انٹرپرینیورشپ ورکشاپ میں خواتین کو اپنے ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرنے، بزنس پلان سازی اور کاروباری رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اختتامی تقریب کے موقع پر مقررین نے تین روزہ کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر سہرا چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری اور لیڈ آرگنائزر سید احتشام حسین شاہ بخاری کے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آرگنائزرز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس ایونٹ کو بہترین انداز میں منظم کیا۔ اختتامی تقریب میں کور کمیٹی ممبران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ٹوکن آف اپریسی ایشن بھی پیش کیے گئے راہِ کامیابی کانفرنس 2025 نہ صرف خواتین کی ہنر مندی کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ انہیں معاشی خود مختاری اور کاروباری مواقع سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی، جو آئندہ کے لیے ایک مثبت اور پائیدار مثال ہے۔