Home Blog Page 75

راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا شاندار اور مؤثر انعقاد

کینٹ پبلک سکول اینڈ کالج نوشہرہ میں راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا تین روزہ انعقاد نہایت منظم اور شاندار انداز میں ہوا تین روزہ کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ہنر مند خواتین نے بھرپور شرکت کی جن میں نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، جہانگیرہ، اکوڑہ اور گردونواح کے علاقے شامل تھے کانفرنس میں ہینڈ ایمبرائڈری، قریشیا ورک، اسٹچنگ، ڈریس ڈیزائننگ، کینڈل میکنگ، بیوٹیشن اور مہندی کے مقابلے منعقد کیے گئے جن میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی فنی مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نوشہرہ کینٹونمنٹ بورڈ راجہ حیدر شجاع، اے آئی جی جینڈر انیلا ناز، سماجی رہنما سیدہ ناہید اختر اور چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری شامل تھیں جنہوں نے مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے تین روزہ کانفرنس میں شرکاء اور طلبہ کے لیے متعدد تکنیکی اور آگاہی سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ فارن افیئرز کے حوالے سے خصوصی لیکچر میں بیرون ملک غیر قانونی سفر کے نقصانات اور قانونی سزاؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی طرح ACCA ایویڈنس سیشن اور انٹرپرینیورشپ ورکشاپ میں خواتین کو اپنے ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرنے، بزنس پلان سازی اور کاروباری رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اختتامی تقریب کے موقع پر مقررین نے تین روزہ کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر سہرا چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری اور لیڈ آرگنائزر سید احتشام حسین شاہ بخاری کے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آرگنائزرز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس ایونٹ کو بہترین انداز میں منظم کیا۔ اختتامی تقریب میں کور کمیٹی ممبران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ٹوکن آف اپریسی ایشن بھی پیش کیے گئے راہِ کامیابی کانفرنس 2025 نہ صرف خواتین کی ہنر مندی کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ انہیں معاشی خود مختاری اور کاروباری مواقع سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی، جو آئندہ کے لیے ایک مثبت اور پائیدار مثال ہے۔

خیبر پختونخوا میں فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر کے قیام اور فش فارمنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے آغاز سے صوبے میں ماہی پروری کے شعبے میں نمایاں ترقی کی راہ ہموار ہوگی

خیبر پختونخوا میں فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر کے قیام اور فش فارمنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے آغاز سے صوبے میں ماہی پروری کے شعبے میں نمایاں ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ بات صوبائی وزیر لائیوسٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی نے فش فارمنگ سے متعلق پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ زبیر علی، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر فواد خلیل سمیت متعلقہ حکام شریک تھے۔اس موقع پرصوبائی وزیر نے واضح ہدایات جاری کیں کہ فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر پشاور کے قیام میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں اور اس کا افتتاح جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فشریز سیکٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کے باعث ترقی کی رفتار سست ہے، جبکہ دنیا بھر میں ماہی پروری کی جدید بنیادیں تحقیق ہی سے مستحکم ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیکٹر تحقیق کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔صوبائی وزیر نے اس مقصد کیلئے آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ منصوبے پر عملی کام جلد شروع ہوسکے اور ادارے کا قیام بروقت ممکن بنایا جائے۔صوبائی وزیر نے صوبے کی سب سے بڑی شیر آباد فش ہیچری کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیچری کی بہتری سے زمینداروں کے ساتھ ساتھ دریاؤں اور ڈیموں کیلئے بھی بچہ مچھلی وافر مقدار میں دستیاب ہوسکے گی۔ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شیر آباد ہیچری کی اپ گریڈیشن کیلئے ایک منصوبہ تجویز کے طور پر جمع کروا دیا گیا ہے، اور منظوری کے بعد اس پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ماہی پروری کی ترقی کیلئے عملی اقدامات میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تحقیق پر مبنی منصوبہ بندی سے صوبے میں فشریز سیکٹر کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی روزانہ کی ں بنیاد پر سخت نگرانی کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی روزانہ کی ں بنیاد پر سخت نگرانی کا فیصلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی، سست روی، غفلت اور شفافیت برقرار نہ رکھنے کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بدعنوانی اور غیر معیاری کام کی صورت میں ٹھیکدار کو بلیک لسٹ کرکے کیس براہِ راست انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن)اور نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو (نیب) کو ارسال کیا جائے گا مقررہ مدت میں ترقیاتی منصوبے مکمل نہ کرنے کی صورت میں بھی متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اس سلسلے میں حکمت عملی طے کرنے اور ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے لئے پشاور ڈویژن کے تمام تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو دو دن کے اندر اجلاس منعقد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے مسافر اڈوں، مراکز صحت، اسکولوں، ہسپتالوں، پٹوار خانوں، سروس ڈیلوری سنٹروں اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرنے والے تمام محکموں کی بھی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا اور خدمات کی فراہمی میں سست روی، کوتاہی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے بھی پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے گئے۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی خصوصی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز فنانس اینڈ پلاننگ، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شرکت کی اجلاس میں پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی گئی جس کے تناظر میں سخت احکامات جاری کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت سے بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور تمام اضلاع کے متعلقہ افسران زمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی جلد شفافیت سے بروقت تکمیل یقینی بنائی جاسکے اس سلسلے میں انہوں نے روزانہ کی کارکردگی رپورٹ بذریعہ ڈی ایس آر طلب کرلی

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے دفتر میں پولیس شہداء کو پلاٹ الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی تقریب

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں پولیس شہداء کے لواحقین کو پلاٹ الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پانچ پولیس شہداء کے لواحقین کو الاٹمنٹ لیٹرز حوالے کیے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی فنانس سید فدا حسین شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ توصیف خالد و دیگر حکام کے علاؤہ شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایات پر نئے شہید پیکج 2025 کے مطابق الاٹمنٹ لیٹرز حوالے کیے گئے پلاٹ اور پیکج شہداء کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہداء پیکج کے کیش فنڈز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ شہداء کے لواحقین کو گریڈ وائز کے حساب مختلف سائز کے پلاٹ بھی شہید پیکج 2025 کا حصہ ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہداء پیکج 2025 کے تحت کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے لواحقین کو 11 ملین روپے دیئے جائیں گے اسی طرح کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے لواحقین کو 5 مرلہ پلاٹ جبکہ اے ایس آئی، ایس آئی و انسپکٹر کو 7 مرلہ پلاٹس دئیے جائیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پولیس شہداء پیکج 2017 میں صرف دس ملین روپے تھے جس میں پلاٹ کی قیمت بھی شامل تھی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس پیکج 2025 میں ڈی ایس پی، اے ایس پی کے لواحقین کو 16 ملین روپے اور 10 مرلہ پلاٹ الگ دیا جائے گا۔ اسی طرح ایس پی، ایس ایس پی اور اے آئی جی کو 21 ملین روپے اور ایک کنال کا پلاٹ دیا جائے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈی آئی جی، اے آئی جی پی اور آئی جی کے لواحقین کو 21 ملین روپے اور کنال پلاٹ دیا جائے گا۔

کے ایم یو ہسپتال میں شوگر،بلڈ پریشر اور دیگر امراض کے فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح

کے ایم یو ہسپتال میں فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور معروف ماہر امراض قلب و سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدحفیظ اللہ نے کیا۔ اس موقع پر ڈین کلینیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ گل،کے ایم یو ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ خان،میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد علی اور رجسٹرار انعام اللہ وزیر سمیت مختلف ماہرین طب اور افسران بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ یہ فری میڈیکل کیمپ تین اکتوبر تک کے ایم یو ہسپتال، نزد پی آئی سی فیز 5 حیات آباد پشاور میں جاری رہے گا، جس میں مریضوں کو مفت طبی معائنہ، تشخیص اور ضروری ٹیسٹوں کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کیمپ کے دوران مریضوں کا تفصیلی معائنہ اور تشخیص کی جائے گی، جبکہ شوگر کے مریضوں کو پاؤں کی دیکھ بھال، زخموں سے بچاؤ کی تدابیر اور آنکھوں کا مکمل معائنہ بھی بالکل مفت کیاجارہاہے۔تفصیلات کے مطابق کیمپ کے پہلے روز422 مریضوں کا معائنہ کیا گیا جن میں ہر عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔ مریضوں کو شوگر، بلڈ پریشر، آنکھوں، دانتوں اور موٹاپے سے متعلق رہنمائی و علاج معالجے کے ساتھ ساتھ غذائی مشاورت بھی فراہم کی گئی۔ علاوہ ازیں مریضوں کے HbA1C، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ، ایل ڈی ایل، ای سی جی اور ایکو ٹیسٹ بھی مفت کرائے گئے۔کیمپ میں پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اللہ، پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ گل، پروفیسر ڈاکٹر وزیر محمد، پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل خان، پروفیسر ڈاکٹر صوبیہ صابر علی، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم گنڈاپور اور دیگر ماہرین طب نے مریضوں کو علاج اور مشاورت فراہم کی۔ کیمپ کے شرکاء نے علاج معالجے،تشخیص اور مشاورت وراہنمائی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کے ایم یو کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔اس موقع پر وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ کے ایم یو ہسپتال صوبے میں صحت کے شعبے میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جو نہ صرف بہترین علاج معالجہ فراہم کرے گا بلکہ تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ا نہوں نے کہا کہ کے ایم یو ہسپتال کو اس خطے کا ایک بہترین اور مثالی ہسپتال اور ریسرچ سنٹر بنانا ہمارا مشن ہے جس کے لیئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ شوگر اور بلڈ پریشر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھنے والی بیماریاں ہیں جنہیں بجا طور پر ”خاموش قاتل“ کہا جاتا ہے۔ ان امراض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف مریضوں کی جان بچا سکتے ہیں بلکہ انہیں مزید پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے نیو پشاور ویلی پروجیکٹ سے متعلق اورینٹیشن سیشن کا انعقاد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ صوبہ میں 7 لاکھ گھروں کی شارٹ فال پورا کرنے کے لیے محکمہ ہاؤسنگ موثر اقدامات اٹھا رہا ہے، نیو پشاور ویلی صوبے کا سب سے بڑا رہائشی منصوبہ ہے، خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کا نیو پشاور ویلی پروجیکٹ سے متعلق قلیل عرصے میں خاطر خواہ پیش رفت قابل ستائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیو پشاور ویلی پروجیکٹ کے مرکزی دفتر تحصیل پبی ضلع نوشہرہ میں منعقدہ اورینٹیشن سیشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اورینٹیشن سیشن میں سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ محمود اسلم وزیر، ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی، مختلف محکموں کے سربراہان و نمائندے، اراضی مالکان، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اسٹیک ہولڈرز شریک تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ اور ڈی جی کے پی ایچ اے نے شرکاء کو نیو پشاور ویلی پروجیکٹ پر پیش رفت، اس کی اہمیت اور ضرورت سمیت محکمانہ اصلاحات جبکہ دیگر جاری رہائشی منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1 لاکھ 6 ہزار کنال پر مشتمل نیو پشاور ویلی مختلف پلاٹس سائز اور 7 فیزوں پر مشتمل ایک رہائشی منصوبہ ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے ایکسپریس وے، لنکس روڈز اور اس کی فیز ون پر کام شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ نیو پشاور ویلی پراجیکٹ میں تمام جدید سہولیات و لوازمات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ نیو پشاور ویلی سے متعلق کمپنسیشن کمیٹی کا قیام قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیو پشاور ویلی پراجیکٹ کا مقصد ضلع پشاور میں ایک نیے شہر کا قیام ہے۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ نے بدعنوانی و اقرباء پروی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی خواہش ہے کہ محکمہ ہاؤسنگ کی زیر انتظام تمام رہائشی منصوبوں کو عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق بروقت مکمل کیے جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہوسکیں۔

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول ڈیفنس کی ری آرگنائزیشن اور ری سٹرکچرنگ سے ادارے کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول ڈیفنس کی ری آرگنائزیشن اور ری سٹرکچرنگ سے ادارے کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا اور عوام کو درپیش قدرتی و انسانی آفات میں بروقت اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق سول ڈیفنس کا ڈھانچہ مضبوط بنانے سے نہ صرف بین الصوبائی و قومی سطح پر ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ رضاکاروں کی صلاحیتوں کو بھی زیادہ منظم اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال، وزیر ریلیف، بحالی و آباد کاری نیک محمد داوڑ، وزیر سماجی بہبود، وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن سید قاسم علی شاہ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تعمیرات و مواصلات محمد سہیل آفریدی، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ زبیر احمد، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ (سیکیورٹی) محمد قیصر، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ داخلہ (ڈیفنس پلاننگ سیل) قلات خان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ کابینہ کمیٹی کے قیام کا مقصد سول ڈیفنس کو محکمہ داخلہ کے زیر انتظام لانے کے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سول ڈیفنس تنظیم 1952ء میں قائم ہوئی جبکہ 1971ء میں صوبائی ڈائریکٹوریٹ کے طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام شروع کیا۔ 2013ء میں اسے محکمہ ریلیف کے تحت منتقل کیا گیا تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے ریلیف ڈپارٹمنٹ اور سول ڈیفنس مل کر کام کر سکیں۔ سول ڈیفنس کے رضاکار مختلف مواقع پر جنگلاتی آگ بجھانے، پانی میں ریسکیو، کورونا پابندیوں کے نفاذ اور عوامی آگاہی جیسے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔محکمہ ریلیف نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اس محکمے کا بنیادی فریم ورک ہی قدرتی و انسانی آفات سے نمٹنا ہے، اس لیے سول ڈیفنس کا محکمہ ریلیف کے تحت رہنا زیادہ موزوں ہے تاکہ تربیت یافتہ رضاکاروں کی خدمات کو براہِ راست استعمال کیا جا سکے۔ محکمہ ہوم نے اپنی تجاویز میں کہا کہ دیگر صوبوں میں سول ڈیفنس ہوم ڈیپارٹمنٹس کے ماتحت کام کرتا ہے اور وفاقی سطح پر بھی سول ڈیفنس کو ہوم ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ منسلک کرنے کی بارہا سفارش کی گئی ہے۔ محکمہ قانون نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت کو قواعدِ کاروبار میں ترمیم کے ذریعے کسی محکمے کا دائرہ اختیار تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، جو وزیر اعلیٰ اور گورنر کی مشاورت سے ممکن ہو سکتا ہے۔ محکمہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو صوبائی کابینہ کے سامنے رکھنے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں طے پایا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی تمام محکموں کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات صوبائی کابینہ کو پیش کرے گی تاکہ آئندہ کے لیے حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ سال 2013 میں سول ڈیفنس کو محکمہ داخلہ سے الگ کرکے محکمہ ریلیف کے زیر انتظام کام کرنے کے فیصلے کی وجوہات کو آئندہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا کہ سول ڈیفنس کو کسی بھی محکمہ کے تحت کام کرنے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا تفصیلی تقابلی جائزہ تیار کرکے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ وزیر سماجی بہبود وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن نے کہا کہ سول ڈیفنس کے 30 ہزار رضاکاروں کی نمائندگی کو مجوزہ فیصلے کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے اور آئندہ اجلاس میں ان کی نمائندگی کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ محکمہ داخلہ کے زیر انتظام اس وقت کئی محکمے زیر اثر ہیں تاہم سول ڈیفنس اور اس سے جڑے 30 ہزار رضاکاروں کی خدمات کو کسی بھی محکمہ کے زیر اثر لانے سے اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور کمیٹی کو اس امر کو مرکزی نکتہ قرار دینا چاہیے۔ وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے سول ڈیفنس ایسوسی ایشن یا ضلعی سطح پر مجوزہ فیصلے کے بارے میں سینئر نمائندوں کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے محتسب خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ پشاور کا دورہ کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے محتسب خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ پشاور کا دورہ کیا اور روباب مہدی کو بطور محتسب خیبر پختونخوا ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی صوبائی وزیر نے روباب مہدی کی انصاف پسندی، انسانی حقوق کے فروغ، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اُن کی خدمات کوسراہتے ہوئے کہا کہ وہ خصوصاً خواتین اور معاشرتی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ روباب مہدی کی قیادت میں محتسب دفتر مزید مؤثر، فعال اور عوام دوست کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے دوران محنت کش خواتین کو درپیش مسائل، اُن کے پیشہ ورانہ و قانونی حقوق کے تحفظ، اور محفوظ و مساوی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تمام مزدوروں، خصوصاً خواتین کے لیے منصفانہ، محفوظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے روباب مہدی نے صوبائی وزیر فضل شکورخان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی مزدور دوست پالیسیوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کوششوں کو سراہا انہوں نے اداروں کے درمیان تعاون اور باہمی اشتراک کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انصاف کی فراہمی، صنفی مساوات، اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کا دفتر ہر شہری، خاص طور پر کام کرنے والی خواتین، کو انصاف، تحفظ اور عزتِ نفس کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے صوبا وزیر محنت فضل شکور خان نے کہا کہ روباب مہدی کا وسیع تجربہ اور اصولی قیادت صوبے میں انصاف اور جواب دہی کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی فلیگ شپ منصوبہ ہے، طارق سدوزئی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی صوبائی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گاتاکہ عوام اس کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نیضلع کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے موقع پر مختلف مساجد اورعبادتگاہوں میں محکمہ پیڈوکی جانب سے شمسی توانائی پرمنتقلی کے جاری منصوبوں کاجائزہ لیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سولرائزیشن اسفندیار خان، پیڈو کی ریجنل منیجر (جنوب) انجینئر ثنا وحید سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی انجینئر طارق سدوزئی نے ضلع کوہاٹ میں شمسی توانائی پرمنتقل کی گئی مساجد میں نصب شمسی توانائی کے آلات اورکام کابغورجائزہ لیا اوراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پراجیکٹ حکام کو باقی ماندہ کام ایک ماہ کے اندرہرصورت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے پیڈو حکام کوشمسی توانائی کے منصوبوں کی مانیٹرنگ تیزکرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ اس دوران وہ مقامی افراد سے ملے اور ان سے منصوبے کے ثمرات کے حوالے سے ان کی آراء حاصل کیں۔ اس موقع پر متعلقہ افسران نے انہیں سولرائزیشن منصوبے کے تحت مذکورہ اضلاع میں منصوبے پر جاری پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل اور معیاری آلات کی تنصیب کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ صوبائی حکومت کے اس اہم فلیگ شپ منصوبے سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔طارق سدوزئی نے مزید بتایا کہ پیڈو کے تحت اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے عملی اقدامات جاری ہیں۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

صوبائی وزیر لائیوسٹاک، فیشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو میں گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ کی کارکردگی اور گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹو طاہر خان اورکزئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان اور ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم شدہ اضلاع ڈاکٹر وحید اللہ وزیر نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ لائیوسٹاک کی سروس ڈلیوری، ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے دورے اور چیف سیکرٹری آفس کی ٹیم کے فیلڈ وزٹس سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر لائیوسٹاک فضل حکیم خان یوسفزئی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ تمام ضلعی ڈائریکٹرز لائیوسٹاک کا اجلاس بلایا جائے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں گڈ گورننس روڈ میپ اور سروس ڈلیوری کے حوالے سے جامع اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور محکمے کی کارکردگی میں مزید شفافیت اور بہتری لانا ہے۔ وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گڈ گورننس کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ عوام تک خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔