وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان کی رات کے وقت پمز ہسپتال منتقلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو اطلاع دیے بغیر رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا جو انتہائی افسوس ناک ہے،انہوں نے کہا کہ شام کے بعد کسی بھی قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنا جیل مینوئل کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق معلومات شفاف انداز میں عوام اور اہل خانہ کے سامنے کیوں نہیں لا رہی؟انہوں نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور گزشتہ سات ماہ سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان سے فیملی کی ملاقات ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے اور اب اس حق سے مزید انکار قابل قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ریلیف دیا گیا جبکہ مریم صفدر کو نواز شریف کی تیمارداری کے لیے ضمانت دی گئی تھی، لیکن وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار فارم 47 کے حکمران معمولی بیماری کی صورت میں بھی بیرون ملک علاج کرواتے ہیں جبکہ عمران خان کو پارٹی اور اہل خانہ کے مطالبے کے باوجود آنکھ کے مکمل علاج کے لیے الشفائ آئی ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ریٹینا کا اسپیشلسٹ موجود نہیں۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ امتیازی سلوک آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ کے مطالبے کے مطابق فوری طور پر الشفائ آئی ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی صحت اور علاج سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر عوام کے سامنے لائے جائیں۔
عوام کی خدمت اور فلاح اولین ترجیح ہے، کسی کو عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کرنے دینگے وزیر ریونیو اینڈسٹیٹ طارق محمود آریانی
خیبر پختونخوا کے وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ طارق محمود آریانی کا پشاور سروس ڈیلوری سنٹر کا اچانک دورہ، عوام سے ان کے مسائل سنے، زمینوں کے انتقلات اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی ارباب شیر علی، پاکستان تحریک انصاف پشاور کے جنرل سیکرٹری خورشید عالم، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ خان، ڈی سی پشاور اور دیگر حکام موجود تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر طارق محمود آریانی نے کہا کہ انشائ اللہ عنقریب ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں آئی ٹی منصوبے لا رہے ہیں جن سے زیادہ تر پراسس کمپیوٹرائز کرایا جائے گا۔ سب پر واضح کرتا ہوں اگر کسی نے عوام کے ساتھ زیادتی کی تو سخت ترین کارروائی کرینگے۔ اور محکمے میں شفافیت اور میرٹ ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے ان کے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اضلاع جہاں پر لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائز یشن کا عمل باقی ہے اس کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں گے۔
Health Department Accelerates Finalization of Healthcare Service Providers Protection Rules
Provincial Minister for Health Khaliq-ur-Rehman and Secretary Health Shahid Ullah Khan have reaffirmed the Government of Khyber Pakhtunkhwa’s commitment to ensuring a safe, secure, and violence-free working environment for healthcare professionals and health facilities across the province.
In this regard, an important consultative process is underway for the finalization of the Khyber Pakhtunkhwa Healthcare Service Providers and Facilities (Prevention of Violence and Damage to Property) Rules, 2026. Following a detailed review meeting chaired by Secretary Health Shahid Ullah Khan, all stakeholders, professional bodies, healthcare experts, and relevant institutions were invited to provide their valuable feedback and recommendations on the draft rules.
The Health Department highly appreciates the constructive suggestions and observations received from participants. In light of these recommendations, the draft rules have been revised and updated to ensure comprehensive protection for healthcare workers, patients, attendants, and public health infrastructure.
Provincial Health Minister Khaliq-ur-Rehman stated that the government remains fully committed to protecting doctors, nurses, paramedics, and all healthcare personnel from violence, harassment, and damage to public property. He emphasized that a secure healthcare environment is essential for improving service delivery and strengthening public confidence in the health system.
Secretary Health Shahid Ullah Khan directed all concerned stakeholders to thoroughly review the revised draft and submit any final comments with specific references to the relevant sections within the stipulated timeframe. He stressed that the process must be completed on priority basis so that the draft may be submitted to the Law Department for formal vetting and subsequent approval.
The Health Department aims to complete the consultative exercise within the prescribed timeline and finalize a robust legal framework that safeguards healthcare providers and health facilities while ensuring uninterrupted healthcare services for the people of Khyber Pakhtunkhwa.
The Khyber Pakhtunkhwa Human Capital Investment Project (KPHCIP), in collaboration with the Health Department, Government of Khyber Pakhtunkhwa, observed World Environment Day 2026
The Khyber Pakhtunkhwa Human Capital Investment Project (KPHCIP), in collaboration with the Health Department, Government of Khyber Pakhtunkhwa, observed World Environment Day 2026 in Peshawar. The event highlighted the growing impact of climate change on public health and reaffirmed the collective commitment to building climate-resilient healthcare systems across the province.
Addressing the event, Secretary Health Khyber Pakhtunkhwa, Mr. Shahid Ullah Khan, appreciated the efforts of the Khyber Pakhtunkhwa Human Capital Investment Project in supporting the Government’s vision of a stronger, more resilient, and sustainable healthcare system. He emphasized that climate change has emerged as one of the most significant public health challenges of our time, requiring proactive planning and coordinated action.
The Secretary Health stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa remains committed to strengthening healthcare services, improving health infrastructure, and enhancing the capacity of health facilities to effectively respond to climate-related emergencies and environmental health challenges.
Mr. Shahid Ullah Khan acknowledged the valuable contribution of KPHCIP in upgrading primary healthcare facilities, modernizing health infrastructure, and improving preparedness and resilience across the province. He noted that such initiatives are playing a crucial role in ensuring better healthcare outcomes and safeguarding communities against the adverse effects of climate change.
He further stressed the importance of collaboration among government institutions, development partners, and stakeholders to build a healthcare system capable of addressing emerging environmental and public health threats. He reaffirmed the Health Department’s commitment to promoting sustainable and climate-resilient healthcare services for the people of Khyber Pakhtunkhwa.
The event concluded with a renewed pledge to work collectively towards protecting the environment, strengthening public health systems, and ensuring a healthier and more sustainable future for the people of the province.
مشیر زراعت میاں محمد عمر نے زرعی تحقیقاتی ادارہ ترناب میں شہد کوالٹی ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح کیا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نئی فصلی و باغبانی اقسام کی تیاری کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے تحقیق اور جدت ناگزیر ہیں جبکہ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور کے دورے کے موقع پر زراعت ریسرچ اور ادارے کی کارکردگی، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر مشیر زراعت نے ادارے کے مختلف جدید لیبارٹریوں کا تفصیلی معائنہ بھی کیا، جہاں ماہرین نے انہیں لیبارٹریوں کے افعال، تحقیقی سرگرمیوں اور زرعی شعبے کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بعد ازاں میاں محمد عمر نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب میں قائم شہد کوالٹی ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح بھی کیا، جس کا مقصد شہد کے معیار کی جانچ، تصدیق اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق معیاری شہد کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف، سینئر ڈائریکٹر زرعی تحقیقاتی ادارہ ترناب ڈاکٹر عبد الباری، ڈائریکٹر زراعت ریسرچ ضم اضلاع ڈاکٹر محمد یونس و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب خیبرپختونخوا کا سب سے قدیم زرعی تحقیقی ادارہ ہے۔ صوبے بھر میں سولہ تحقیقی ادارے اور اسٹیشنز مختلف فصلوں، پھلوں، سبزیوں اور زرعی شعبے کے دیگر اہم شعبوں میں تحقیق کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے پاس مجموعی طور پر 1459 ایکڑ سے زائد اراضی موجود ہے۔ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب نے آڑو، آلوچہ، خوبانی، انگور، بادام، انار، پیکان نٹ، انجیر، مالٹا، گریپ فروٹ، امرود اور لیچی سمیت مختلف پھلوں کی متعدد اقسام متعارف کرائی ہیں۔ اسی طرح گندم کی بائیوفورٹیفائیڈ اقسام بھی تیار کی گئی ہیں جن سے زرعی پیداوار اور غذائی معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔مشیر زراعت میاں محمد عمر نے بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کے تناظر میں زرعی تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں کی بین الاقوامی تربیت، جدید تحقیقی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، جدید جراثیمی و جینیاتی مواد کے حصول اور تحقیقی نتائج کی مؤثر انداز میں کسانوں تک منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ مشیر زراعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا زرعی تحقیق، زیتون کی کاشت، شہد کی پیداوار، جدید باغبانی، ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور تحقیقی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاکہ صوبے کے زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور زرعی برآمدات میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچانے کے لیے توسیعی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کا حصول اور کسانوں کی آمدن میں بہتری ممکن بنائی جا سکے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زرعی تحقیق کے شعبے کی نمایاں کامیابیوں میں وائرس سے پاک آلو کے بیج کی تیاری، پھلدار پودوں کی سرٹیفیکیشن کا نظام، جدید آبپاشی اور پانی بچانے والی ٹیکنالوجیز، بائیو فرٹیلائزرز کی تیاری، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن، فوڈ پروسیسنگ، شہد کی پیداوار میں اضافہ اور زیتون کی تجارتی بنیادوں پر کاشت شامل ہیں۔ صوبے میں شہد کی مکھیوں کی افزائش کے فروغ کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ چھتے قائم کیے گئے ہیں جبکہ 15 ہزار ٹن معیاری شہد کی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے 12 ہزار ایکڑ رقبے پر جدید اقسام لگائی گئی ہیں اور زیتون کے تیل کے 10 ایکسٹریکشن یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے مطابق ترناب میں قائم صوبے کی واحد پیسٹی سائیڈ ریزیڈیو لیبارٹری زرعی ادویات کے معیار اور باقیات کی جانچ کی خدمات فراہم کر رہی ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق فرٹیلائزر لیبارٹری کی ایکریڈیٹیشن بھی حاصل کی جا چکی ہے۔ ادارے نے بائیو فرٹیلائزرز کی رجسٹریشن اور ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
بٹگرام میں تاریخ کا سب سے بڑا یوتھ سمٹ، 3 ہزار سے زائد طلبہ کی شرکت
ضلع بٹگرام میں پیر کے روز نوجوانوں کا اب تک کا سب سے بڑا اجتماع منعقد ہوا، جس میں بٹگرام اور ملحقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 3 ہزار سے زائد طلبہ نے میٹرکس پاکستان یوتھ سمٹ (آٹھویں ایڈیشن) میں شرکت کی۔ یہ شاندار تقریب ہزارہ یونیورسٹی بٹگرام کیمپس میں منعقد ہوئی۔یہ یوتھ سمٹ ڈسٹرکٹ یوتھ آفس بٹگرام، میٹرکس پاکستان، سی سوٹ نیکسس گلوبل اور ہزارہ یونیورسٹی بٹگرام کیمپس کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جبکہ اس کے انعقاد میں خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ امور نوجوانان (ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز) نے تعاون فراہم کیا۔تقریب میں طلبہ، اساتذہ، کاروباری شخصیات، پالیسی سازوں، صنعت سے وابستہ افراد اور نوجوان پروفیشنلز نے شرکت کی، جہاں جدت، ٹیکنالوجی، کاروبار، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے روزگار کے مواقع سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اسے صرف تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ “انٹرنیٹ نے نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ اگر نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا دانشمندانہ استعمال کریں تو وہ نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں، کاروبار شروع کر سکتے ہیں، عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع کے ذریعے بااختیار بنانا ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔تقریب سے ڈپٹی کمشنر بٹگرام محمد شعیب، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بٹگرام قمر حیات خان اور وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔ڈپٹی کمشنر محمد شعیب نے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نوجوانوں کو روایتی تعلیم سے آگے بڑھ کر نئے مواقع، صنعت کے ماہرین، پروفیشنلز اور کاروباری شخصیات سے رابطے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بٹگرام کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور اس نوعیت کے پروگرام ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈی پی او قمر حیات خان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دار ڈیجیٹل شہری بنیں، ٹیکنالوجی کو مثبت سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کریں اور آن لائن منفی سرگرمیوں سے گریز کریں۔وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے کہا کہ جامعات کو روایتی تدریسی نظام سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے پلیٹ فارمز قائم کرنے چاہئیں جہاں طلبہ ماہرین، جدت کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے۔سمٹ میں پاکستان کی نمایاں کاروباری شخصیات اور ماہرین نے خصوصی سیشنز سے خطاب کیا، جن میں آفتاب احمد، بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر آسورٹ ٹیک؛ قیصر اکاش خان، سی ای او ڈیلیجنٹ سسٹمز اور سی سوٹ نیکسس گلوبل؛ عماد علی، بانی و سی ای او رینکنگ گرو؛ رجب علی آزاد، سی ای او آزاد میڈیا پروڈکشن؛ ہاجرہ انور، اسسٹنٹ پروفیسر ہزارہ یونیورسٹی؛ زونیرہ رحمان، بانی و سی ای او ڈیجیٹل ایسپائر؛ نور خالد، ڈائریکٹر رینکنگ گرو؛ اور سلمان خان، سینئر بزنس ڈویلپمنٹ منیجر بٹ گیٹ والٹ شامل تھے۔تقریب کے دوران نوجوانوں کے لیے کئی اہم مواقع کا اعلان بھی کیا گیا۔عماد علی نے بٹگرام کے نوجوانوں کے لیے مفت تربیتی مواقع اور 10 ملازمتوں کا اعلان کیا۔آفتاب احمد نے علاقے میں نوجوانوں کی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مسلسل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔قیصر اکاش خان نے ہزارہ یونیورسٹی بٹگرام میں آرٹ سے متعلق ایک سٹارٹ اپ کے لیے 50 ہزار روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری (Seed Funding) کا اعلان کیا تاکہ طلبہ اپنے تخلیقی خیالات کو عملی اور پائیدار کاروباری منصوبوں میں تبدیل کر سکیں۔سمٹ کا ایک اہم حصہ “پرائیڈ آف خیبر پختونخوا ایوارڈز” کی تقریب تھی۔ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید حمد شیرازی کو مصنوعی ذہانت، صحت کے شعبے میں جدت، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف خیبر پختونخوا ایوارڈ دیا گیا۔جبکہ بٹگرام میں خواتین کی تعلیم اور تعلیمی قیادت کے شعبے میں نمایاں خدمات پر ہما ظہور کو ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔میٹرکس پاکستان کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سمٹ کا مقصد نوجوانوں، تعلیمی اداروں، صنعت اور پالیسی سازوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ “ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ باصلاحیت نوجوان، چاہے ان کا تعلق کسی بھی علاقے سے ہو، انہیں مواقع، رہنمائی اور ایسے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہو جو ان کے مستقبل کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔”ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر بٹگرام عالم زیب خان نے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت بٹگرام کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ صرف ایک روزہ تقریب نہیں بلکہ نوجوانوں کو تعلیم، جدت، روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑنے کے لیے ایک طویل المدتی کوشش کا آغاز ہے۔تقریب کا اختتام نیٹ ورکنگ سیشنز، پینل ڈسکشنز، شرکاء کی سرگرمیوں اور خیبر پختونخوا بھر میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے مشترکہ عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔
صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری محکمہ تعلیم محمد خالد خان کا ہریپور کا تفصیلی دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان اور منیجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) قیصر عالم کے ہمراہ ضلع ہریپور کا تفصیلی دورہ کیا، جس کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا گیا اور ضلع میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔دورے کے دوران وفد نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول خانپور کا دورہ کیا، جہاں جاری تعلیمی سرگرمیوں، تدریسی ماحول، بنیادی سہولیات اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سکول انتظامیہ نے ادارے کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم نے تعلیمی معیار میں مزید بہتری اور طلبہ کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بعد ازاں میرپور ماڈل سکول ہریپور کا بھی دورہ کیا توقع ہے کہ یہ ادارہ عنقریب کیڈٹ کالج میں تبدیل ہوگا، انہوں نے ماڈل سکول کے مختلف شعبہ جات، تعلیمی و رہائشی سہولیات اور طلبہ کے لیے دستیاب انتظامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ادارے کی انتظامیہ نے وفد کو تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔دورے کے م وقع پر ریجنل پروفیشنل ڈویلپمنٹ سنٹر (RPDC) ہریپور میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں مجوزہ ”سکول آف ایکسیلینس” کے قیام سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان اور ایم ڈی ESEF قیصر عالم نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر شرکاء کو جامع بریفنگ دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سکول آف ایکسیلینس میں ضلع ہریپور کے ذہین، باصلاحیت اور نمایاں کارکردگی کے حامل طلبہ کو مکمل میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے گا۔ ادارے میں جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیمی ماحول، معیاری رہائشی ہاسٹل، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریز، معیاری خوراک اور ہم نصابی سرگرمیوں کی وسیع سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔شرکاء اجلاس نے اس منصوبے کو ضلع ہریپور اور صوبے کے تعلیمی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ مستقبل میں معیاری تعلیم، بہترین تربیت اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اجلاس میں سابق قائد حزبِ اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان، سابق صوبائی وزیر یوسف ایوب خان، صوبائی پارلیمانی لیڈر و چیئرمین ڈیڈک اکبر ایوب خان اور محکمہ تعلیم کے افسران سمیت دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی اور ضلع ہریپور میں تعلیمی ترقی کے لیے اپنے بھرپور تعاون اور عزم کا اظہار کیا۔
ولج کونسل قمبر تا بلوگرام اور ولج کونسل مانیار کشالہ میں خواڑ کی صفائی اور گہرائی بڑھانے کے اہم منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا گیا
خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی خان اور ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمان کی خصوصی ہدایات پر ولج کونسل قمبر تا بلوگرام اور ولج کونسل مانیار کشالہ میں خواڑ کی صفائی اور گہرائی بڑھانے کے اہم منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق یہ منصوبہ علاقے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی تکمیل سے مستقبل میں آنے والے سیلابی ریلوں اور شدید بارشوں کے دوران ممکنہ نقصانات سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواڑ کی صفائی اور گہرائی میں اضافے سے پانی کی روانی بہتر ہوگی، جس کے نتیجے میں آبادی اور زرعی اراضی کو درپیش خطرات میں نمایاں کمی آئے گی۔عوام نے اس اہم فلاحی منصوبے پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی اور ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ عوام نے انہیں خدمت کے لیے منتخب کیا ہے اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر امجد علی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت کوشاں ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کی زندگی میں بہتری لانا حکومت کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
CHAMPIONS OF SHANDUR 2026! 👑
A massive congratulations to Gilgit-Baltistan for an epic 6–5 victory over traditional rivals Chitral. History made at the world’s highest polo ground! #ShandurPoloFestival2026 #ShandurPolo2026 #PoloFinal2026 #GilgitBaltistanVsChitral #ShandurFinal #GBvsChitral #ChampionsOfShandur #PoloChampions #GilgitBaltistan #GBTeam #CongratulationsGB #ShandurTop #RoofOfTheWorld #Chitral #KhyberPakhtunkhwa #Hindukush #NorthernAreasPakistan #Polo #FreestylePolo #KingOfGames #GameOfKings #PoloLover #PoloLife #TraditionalPolo #MountainPolo #ExtremeSports #PakistanTourism #BeautifulPakistan #TravelPakistan #ExplorePakistan #ShandurPass #PoloVideo #Trending2026 #SportsReels #ViralSports
عوامی مسائل کا فوری حل، ترقیاتی عمل میں تیزی اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، سید فخر جہان
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے عمل کو تیز کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر میں پبلک ڈے کے موقع پر اپنے حجرے میں مختلف عوامی وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔
صوبائی وزیر کے حجرے میں حلقہ پی کے 26 بونیر اور ضلع بونیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے وفود، مشران اور شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ وفود نے صوبائی وزیر کو اپنے علاقوں میں درپیش مسائل، جاری و مجوزہ ترقیاتی سکیموں، بنیادی سہولیات اور دیگر عوامی مشکلات سے آگاہ کیا۔
سید فخر جہان نے عوامی مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کے حکام کو موقع پر ضروری ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن شفاف حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور عام آدمی کو سہولت دینا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی حکومت اسی وژن کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پبلک ڈے کا مقصد عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حلقہ پی کے 26 بونیر کی ہمہ جہت ترقی، نوجوانوں کے لیے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
