وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع ادارے کیڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب طلبہ کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک تاریخی اور اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض چند الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے لالچ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اختیار کیا جانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان،باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار افراد کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صحت کے شعبے میں نااہلی، غفلت اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا تعلق براہِ راست انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں اعلیٰ اخلاقی معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملک بھر میں لاکھوں باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے باعث طبی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، لہٰذا جن طلبہ کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے کی خدمت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات اور مثبت نتائج پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت کے شعبے میں دیرپا اور مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی پالیسیوں پر کام کیاجاہا ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare)کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی طرزِ زندگی اور خوراک کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور بیماریوں سے بچاؤ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے محفوظ، صاف اور صحت مند مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو اپنی مقامی سطح پر خدمات سرانجام دینی چاہئیں تاکہ بنیادی صحت مراکز (BHUs) اور دیہی صحت مراکز (RHCs) کو فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنا کر ہی بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ صحت تمام خامیوں کو دور کرنے کے لیے شب و روز کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صحت کے نظام میں نمایاں اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع چارسدہ میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ آبنوشی کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع چارسدہ میں محکمہ آبپاشی اور محکمہ آبنوشی کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایکسین ایریگیشن ڈویژن چارسدہ اور ایکسین محکمہ آبنوشی چارسدہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں محکموں کے افسران نے صوبائی وزیر کو ضلع چارسدہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے الگ الگ تفصیلی بریفنگ دی۔ایکسین ایریگیشن ڈویژن چارسدہ نے ضلع میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، نہروں اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر پر جاری منصوبوں، ان پر ہونے والی پیش رفت اور اب تک مکمل ہونے والے تعمیراتی کام سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ایکسین محکمہ آبنوشی نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق جاری سکیموں، واٹر سپلائی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں عوامی مفاد سے جڑے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام جاری منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کو یقینی بناتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو براہِ راست سہولیات فراہم کرنا ہے، اس لیے منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں۔
سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو ظریف المعانی سے پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی قیادت ملاقات، درپیش مسائل سے آگاہ کیا
سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹو ظریف المعانی سے اُن کے دفتر میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد نے صدر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر خسرو کلیم، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عاقل محمد اور فنانس سیکرٹری ڈاکٹر محمد مجتبیٰ بھی شامل تھے۔ ملاقات میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی تاریخ، اغراض و مقاصد اور جاری سرگرمیوں سے سیکرٹری لائیو سٹاک، فیشریز و کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ سیکرٹری لائیو اسٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو ظریف المعانی نے پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کے حل کے لیے واضح ہدایات جاری کیں اورلائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے لیے طویل عرصے سے زیر التواء فور ٹئیر پروموشن فارمولا کی منظوری سے اتفاق کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے متعلقہ فورم تک بڑھانے کی ہدایت دی۔ سیکرٹری ظریف المعانی نے مزید کہا کہ ڈی وی ایم طلبہ کے لیے انٹرن شپ کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ جامعات سے مشاورت کے بعد انٹرن شپ کے دوران ڈی وی ایم گریجویٹس کو وظیفہ فراہم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ویٹرنری ڈاکٹروں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے ویٹرنری کلینکس، ڈیری فارمز، پولٹری فارمز اور تشخیصی لیبارٹریز کے قیام کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔سیکرٹری ظریف المعانی نے مزید کہا کہ دیانت داری اور محنت سے کام کرنے والے افسران کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کابینہ نے صوبے میں لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سیکرٹری لائیوسٹاک کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثر صوبے کو اس کے مالی حقوق سے محروم رکھنا افسوسناک ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا براہ راست سامنا کر رہا ہے،مگر اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل ٹال مٹول اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے،جو انتہائی افسوسناک اور ناانصافی پر مبنی ہے۔یہاں سے جاری بیان میں شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دیں، صوبے کو اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،اس کے ساتھ ساتھ ہر سال سیلاب، بارشوں اور دیگر قدرتی آفات کے باعث شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت ان حقائق سے آنکھیں چرا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ بن چکی ہے مگر اس کے اثرات سب سے زیادہ خیبرپختونخوا نے جھیلے ہیں۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ اسی صوبے پر پڑ رہے ہیں،جہاں ہر سال سیلاب سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ عوام کے گھروں، کاروبار اور فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ایسے حالات میں وفاق کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ خیبرپختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ترجیحی بنیادوں پر زیادہ فنڈز فراہم کرتا لیکن شریف خاندان کے لیے عملی طور پر صرف پنجاب ہی پاکستان بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی انتقام میں وفاقی حکومت صوبے کے مامی حقوق بھی ادا نہیں کررہے،شفیع جان نے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع سمیت خیبرپختونخوا کے اربوں روپے کے واجبات وفاق کے ذمے بقایا ہیں مگر جان بوجھ کر صوبے کو اس کے جائز مالی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے صوبے میں ترقیاتی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر خیبرپختونخوا کے تمام مالی بقایا جات ادا کرے تاکہ صوبے میں ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے،معاون خصوصی نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی اور دیگر شجرکاری منصوبوں کے ذریعے ریکارڈ درخت لگائے گئے جس کے نتیجے میں صوبے میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 26 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس وفاقی حکومت عوام دشمن پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ماحول دشمن اقدامات بھی کر رہی ہے، جس کی واضح مثال اسلام آباد میں 30 ہزار سے زیادہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے،درختوں کی اس بے رحمانہ کٹائی کا مطلب ماحولیاتی تباہی کو دعوت دینا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کی زد میں ہے،شفیع جان نے کہا کہ ماحول کا تحفظ حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی حکومت خود ماحول دشمن اقدامات میں مصروف ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ کے
مترادف ہے۔
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور دیگر حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو ابتک کی پیشرفت پر آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے گورننس روڈمیپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جو جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد تمام سکولوں میں طلبہ کو معیاری فرنیچر کی سہولت میسر ہوگی۔ محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ساڑھے تین ہزار نئے کمروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر لی ہے، اسی طرح امتحانی نظام میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 2026 میں ہر ڈسپلن کے کم از کم تین پیپرز ای مارکنگ کے طریقہ کار کے تحت یقینی بنائیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 20 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جو 28 فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں اساتذہ کی 90 فیصد حاضری یقینی بنانے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو سال 2025 میں مکمل کئے گئے اہداف پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے فروغ کے لیے نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا، جس سے طلبہ میں صحت مند سرگرمیوں کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔دریں اثنا محکمہ صحت سے متعلق چیف سیکرٹری کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت خیبرپختونخوا کے 250 بنیادی مراکز صحت میں بیسک ایمرجنسی ابسٹریکٹ اینڈ نیو بورن کئیر خدمات اور سہولیات کی 24 گھنٹے فراہمی ا ور دستیابی کو یقینی بنا یا گیا ہے۔ یہ سروسز اب دن رات دستیاب ہوں گی ان مراکز میں میڈیکل عملہ اور دیگر سہولیات بھی یقینی بنائی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے بائیو میٹرک حاضری متعارف کرائی جارہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کی ہیلتھ سیکٹر پالیسی کا ازسر نو جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایم ٹی آئیز کی کارکردگی جانچنے کے لیے پالیسی میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اصلاحات لائی جائیں گی۔ ایم ٹی آئیز ہسپتالوں میں موثر گورننس کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ آف گورنرز اراکین کی اہلیت کے معیار کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ حال ہی میں، محکمہ صحت نے دو کامیاب امیونائزیشن مہم چلائیں، پشاور میں خصوصی مہم میں 81فیصد کمیونٹی کوریج کے ساتھ 93فیصد ویکسینیشن کوریج حاصل کی گئی جبکہ خسرہ-روبیلا مہم میں صوبے بھر میں 99 فیصد ہدف حاصل کرتے ہوئے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ ان مہمات میں شامل عملے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازیہ دینا بھی زیر غور ہے۔امیونائزیشن روڈمیپ کے تحت معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کا دسمبر 2027 تک 90فیصد کوریج کا ہدف رکھا گیا ہے، جوکہ 2026 کے آخر تک حاصل ہونے کی امید ہے۔
پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم اور چیئر مین بورڈ آف گورنر ارشد ایوب خان کی صدارت میں جمعرات کے روز پشاور پبلک سکول اینڈ کالج میں منعقد ہوا
پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم اور چیئر مین بورڈ آف گورنر ارشد ایوب خان کی صدارت میں جمعرات کے روز پشاور پبلک سکول اینڈ کالج میں منعقد ہوا۔ اس موقع پرپرنسپل پشاور پبلک سکول اینڈ کالج اور ایلیمنٹری اینڈسیکنڈری فاؤنڈیشن ایجوکیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران پرنسپل پشاور پبلک سکول اینڈ کالج قیصر عالم نے ادارے کی نمایاں کامیابیوں، بحالی کے جامع منصوبے اور مستقبل کے واضح وژن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے تعلیمی معیار، نظم و ضبط اور ہمہ جہتی طالب علم ترقی کے لیے ادارے کے عزم کو اجاگر کیا، جس میں وسائل کے مؤثر استعمال اور شفاف مالی نظم و نسق پر خصوصی توجہ دی گئی۔اجلاس میں سکول بحالی منصوبہ اور اس پر عملدرآمد،بجٹ کی منظوری اور مالی منصوبہ بندی،سکول کی تزئین و آرائش کے لیے پی سی۔ون کی تیاری اور پیش رفت،وسائل کے بہترین اور مؤثر استعمال کا جائزہ کے ساتھ طالبات کے لیے گرلز ہاسٹل کی سہولیات کی فراہمی اور بہتری پر غور کیا گیا۔ اسی طرح ادارے کی اہم کامیابیوں اور اقدامات کے حوالے سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگرامز،ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے ورچوئل سکولنگ کا آغاز،تعلیمی اور انتظامی کمیٹیوں کا قیام،سکول میں صفائی مہم اسمارٹ سکول انفارمیشن سسٹم کا نفاذ،طلبہ سپورٹس ویک کا انعقاد،کمیٹی روم کا قیام،پرنسپل آفس کی تزئین و آرائش و فرنشنگ اور سرمائی تعطیلات میں طلبہ کی تعلیمی مصروفیات کے منصو بے سمیت دیگر امور زیر غور آئے۔اجلاس میں ادارے کے کلاس رومزکی تزین، فرنیچر کی فراہمی، طلبہ کو اے۔ آئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے، اساتذہ کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرنے کے لئے جدید تربیت کا اہتمام کرنے پر غور خوض کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم اور بورڈ آف گورنر کے چیئر مین ارشد ایوب خان نے کہا کہ آئندہ امتحانات ایس۔ ایل۔او بیسڈ ہو ں گے اور اساتذہ ایٹا کے ذریعے بھرتی کئے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کے ساتھ مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور طلبہ یونینز کی بحالی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں اسلامی جمعیت طلبہ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر طلبہ سوسائٹیز کے عہدیداران نے طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے دوران انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر مشرف آفریدی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نمائندگان اور مختلف طلبہ یونینز کے قائدین شامل ہوں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی آئندہ پندرہ روز کے اندر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پیش کرے گی، تاکہ طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ایک متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جلد از جلد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے، کیونکہ طلبہ یونینز کی بحالی سے ملکی اور صوبائی سطح پر باصلاحیت اور جمہوری قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک آمرانہ دور میں اپنی حکمرانی کو دوام دینے کے لیے طلبہ یونینز جیسی قیادت کے نرسری نظام پر کاری ضرب لگائی گئی، جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ طلبہ یونینز کی بحالی سے موروثی سیاست، جاگیردارانہ سوچ اور مخصوص طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، جبکہ نوجوانوں کو حقیقی جمہوری عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض نامعلوم قوتیں آج بھی پاکستان میں حقیقی جمہوری قیادت کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں، تاہم صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنے عزم پر قائم ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں مثبت، جمہوری اور تعمیری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مختلف جامعات میں تدریسی اور غیر تدریسی سٹاف کی بھرتی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ شانگلہ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور اور جامعہ باچا خان چارسدہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جامعہ شانگلہ میں تدریسی اور معاون عملے کی بھرتی کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جس پر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل کو مزید ریشنلائز کیا جائے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے جامعہ شانگلہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ مختلف شعبہ جات میں طلبہ کی انرولمنٹ کو طے شدہ فارمولے کے تحت مزید بڑھایا جائے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ شانگلہ میں سیکیورٹی گارڈز اور مالیاتی نوعیت کی بعض پوسٹوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کے حوالے سے اجلاس میں ادارے کی تمام مجوزہ سٹاف بھرتیوں پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ تعلیم نے ہدایت کی کہ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور جامعہ شانگلہ میں سٹاف بھرتی کا عمل فی الفور مکمل کیا جائے تاکہ تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں جامعہ باچا خان چارسدہ میں سٹاف بھرتی سے متعلق فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جامعہ کے حکام مزید ہوم ورک کے ساتھ آئندہ اجلاس میں یہ ایجنڈا دوبارہ پیش کریں تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی جامعات میں شفاف، منصفانہ اور ضرورت کے مطابق بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
Newly Posted DG KPRA, Ms. Irum Naz, Assumes Charge
The newly posted Director General of the Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA), Ms. Irum Naz, has formally assumed office. Ms. Irum Naz is an officer of the PMS Group and was previously serving as Director Admin, HR, and Coordination at KPRA. She has also served as Deputy Secretary in the Finance Department, as Secretary to the Commissioner Mardan, and in the Establishment Department of Khyber Pakhtunkhwa.
In her statement on the occasion, she said that she will make every possible effort not only to achieve the revenue targets set by the provincial government but also to surpass them with good margins.
آئی جی جیل خانہ جات کا سنٹرل جیل ہری پور کا تفصیلی دورہ، قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لیا
انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا ریحان گل خٹک نے جمعرات کے روز سنٹرل جیل ہری پور کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا،دورے کا مقصد جیل میں نظم وضبط،سیکیورٹی، شفافیت اور قیدیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق انتظامات کا جائزہ لینا تھا،دورے کے دوران آئی جی جیل خانہ جات نے بیرکس، کچن، ہسپتال،کنٹرول روم،ڈی آر سی اور فیکٹری سمیت مختلف حصوں کا دورہ کر کے فراہم سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا،انہوں نے قیدیوں کی رہائش،صفائی ستھرائی کے نظام،خوراک کے معیار اور طبی سہولیات پر مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کیا،آئی جی جیل خانہ جات کے ہمراہ ڈی آئی جی پریزن نجم عباسی اور دیگر جیل افسران بھی موجود تھے،آئی جی جیل خانہ جات نے جدید کنٹرول روم اور دیگر ضروری سہولتوں کا افتتاح کیا اور جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اصلاحی و فلاحی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ قیدی اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد ایک بہتر اور کارآمد شہری بن کر معاشرے میں واپس لوٹ سکیں،اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ہری پور محمد حامد اعظم اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مقدس خان جدون نے آئی جی جیل خانہ جات کو جیل کے مجموعی انتظامات،درپیش مسائل اور جاری اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،آئی جی نے افسران اور جیل عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ جیل خانہ جات میں بہتری لانے اور قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،دورے کے اختتام پر آئی جی جیل خانہ جات نے قیدیوں سے بھی ملاقات کی،ان کے مسائل سنے اور متعلقہ شکایات کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیلوں کو اصلاحی مراکز بنانے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ قیدی مثبت تبدیلی کے ساتھ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں صوبہ بھر میں ٹیکس ریکوری کے حوالے سے ششماہی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں صوبہ بھر میں ٹیکس ریکوری کے حوالے سے ششماہی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس،ڈائریکٹرز اور ایکسائز و ٹیکسیشن آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو مختلف صوبائی ٹیکسیشن کی مدوں میں پشاور شہر اور صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے حوالے سے ماہ دسمبر اور ششماہی محصولات کے حوالے سے تفصیلات اوراعدادوشمار پیش کیئے گئے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز نے شہر پشاور کے مختلف ایکسائز و ٹیکسیشن کے دفاتر اور اضلاعی افسران کو اعدادوشمار کے متعین اہداف سے بڑھ کر ریونیو حاصل کرنے کیلئے کوششیں کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کا دائرہ بڑھانے اور اس کے نٹ میں قانون کے مطابق نئے یونٹس کو شامل کرنے کیلئے محکمہ کے افسران اور عملہ اپنی متعین ذمہ داریاں فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ افسران اس بات میں نہ پڑیں کہ متعین ہدف پورا ہوگیا بلکہ اپنے فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں تاکہ ٹیکسیشن کو توقع کے مطابق زیادہ بڑھایا جاسکے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کسی کی جانب سے کوئی پہلو تہی قبول نہیں ہوگی۔سید فخرجہان نے کہا کہ آئندہ چھ مہینوں کے دوران محکمہ کے مختلف ایکسائز دفاتر اور اضلاع سے آنی والے اعداد و شمارانکی توقع کے مطابق مزید بڑھانی ہوگی تاکہ قومی خزانے کو اس سال اپنے متعین اہداف سے زائد آمدنی فراہم کی جاسکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں کارکردگی کا ماہانہ اجلاس سیکریٹری ایکسائز کی صدارت میں منعقد ہوگا جبکہ اپریل میں صوبائی وزیر ایکسائز دوبارہ ٹیکس کولیکشن کا جائزہ لیں گے۔
