Home Blog Page 76

گورنر ہاؤس پشاور میں تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد

گورنر ہاؤس پشاور میں بدھ کے روز تعلیمی شعبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی سیشن کا انعقاد کیاگیا.  گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی. سیشن میں سنیئر ٹرینر عظمی اجمل ، ماہرین تعلیم اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر آرٹیفیشل انٹلی جنس سے متعلق بنیادی ضروریات اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی، تاکہ نوجوان نسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں کردار ادا کرسکے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا. فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر عبور حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تعلیمی شعبہ سمیت تمام شعبوں میں دنیا مصنوعی ذہانت سبقت حاصل کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں بالخصوص خواتین کیلئے مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور تربیتی سیشنز احسن اقدام ہیں، عالمی دنیا کے چیلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے صوبہ کے نوجوانوں کو مصنوعی زہانت سمیت تمام جدید علوم میں مہارت حاصل کرنی ہو گی، انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے تعلیم کے بعد روزگار کا حصول سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اکثر خواتین کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق مواقع نہیں ملتے. اخر میں ٹرینرز کو ایوارڈز دیے گئے جبکہ ادارے کی جانب سے گورنر کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئ

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

تخت بھائی میں دل کے علاج کی سہولتوں میں توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، چیف پلاننگ آفیسر، ہسپتال ڈائریکٹر پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قاضی سعد اور دیگر متعلقہ عملے کے ہمراہ تخت بھائی گنج ہسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مجوزہ سٹیلائٹ سنٹر کی تعمیر سے متعلق فزیبلٹی پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ مشیر صحت کو منصوبے کی موجودہ صورتحال، مجوزہ ڈیزائن اور آئندہ کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔منصوبے کے لیے بجٹ میں فنڈز پہلے ہی مختص اور ریلیز کیے جا چکے ہیں، اور تعمیراتی کام بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔ سٹیلائٹ سنٹر کے قیام سے تخت بھائی اور گرد و نواح کے عوام کو دل کے علاج کی جدید سہولتیں مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی، جس سے بڑے شہروں کا بوجھ کم ہوگا اور مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے گا۔اس موقع پر مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں سہولتوں کی فراہمی اور توسیع کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور تخت بھائی میں کارڈیالوجی سٹیلائٹ سنٹر کا قیام اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور سہولتوں کی توسیع کی ایک اہم کڑی ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے سنجیدہ عزم کا مظہر ہے

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین محمد شہریار سلطان سے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں جاری اور آئندہ مجوزہ شاہراہوں کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین این ایچ اے نے گورنر کو این ایچ اے کے تحت جاری اہم منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں سڑکوں اور شاہراہوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ان کی بحالی کے کام سے بھی گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور انہیں جلد از جلد بحال کر کے دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔
ملاقات میں تونسہ تا ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ گورنر نے کہاکہ اس منصوبے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں نائیوالہ اور پروا کے بائی پاس کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں گورنر خیبر پختونخوا نے سی پیک موٹر وے پر پہاڑپور، پنیالہ اور شاہ عیسیٰ انٹرچینجز کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان علاقوں کے مکین بھی موٹر وے کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور تعمیرِ نو میں این ایچ اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے ایک مثالی قومی ادارہ ہے جو عوام کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا

پیسکو اورپیڈوکے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے بجلی کی فروخت کامعاہدہ

خیبرپختونخواحکومت نے توانائی کے شعبے میں کامیابی کا ایک اوراہم سنگ میل عبورکرتے ہوئے اپنے وسائل سے ضلع لوئردیر میں 40.8میگاواٹ کوٹوپن بجلی منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعد بجلی کی فروخت کے سلسلے میں وفاقی ادارے پیسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرلئے ہیں۔کوٹوپن بجلی منصوبے سے ایک طرف سالانہ 207گیگاواٹ سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف اس اہم منصوبے سے صوبے کو سالانہ 2ارب روپے کی آمدن ہوگی۔ اس سلسلے میں وفاقی توانائی کے ادارے پشاورالیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) اورصوبائی محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو)کے درمیان کوٹوپن بجلی منصوبے سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے لئے Power Acquisition Contractپر دستخط کے حوالے سے واپڈاہاؤس پشاورمیں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی،سابق صوبائی وزیر وچیئرمین پیسکوبورڈحمایت اللہ خان،سیکرٹری توانائی وبرقیات زبیرخان،چیف ایگزیکٹوپیسکواخترحمید،چیففانجینئرپیڈوعزیزباچا،ڈائریکٹرجنرل Miradعاطف جوادنے شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں ابتدائی کلمات بیان کرتے ہوئے معاون خصوصی توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے کوٹوپن بجلی منصوبے کی تکمیل کوصوبے کی معیشت کے استحکام کی طرف ایک تاریخی کامیابی قراردیتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے ایک طرف ماحول دوست سستی بجلی پیداہوگی تودوسری طرف نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی سے درپیش بجلی کے بحران پرقابوپانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے بجلی کی فروخت کے سلسلے میں سیکرٹری توانائی اورپیڈوکے جملہ افسران ڈائریکٹرزپیڈوفرازخان،سیدآصف رضا،جنیداقبال،مقیم الدین اورپراجیکٹ ڈائریکٹرسلطان روم کی کاوشوں کوسراہااورامیدکااظہارکیاکہ پیڈوکے دیگرمکمل ہونے والے بجلی کے منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے معاہدے کامیابی کے ساتھ طے پاجائیں گے۔ انہوں نے وفاق کے ذمہ پیہوراورمچئی پن بجلی منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے سلسلے میں پیسکوکے ذمے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنانے پر زوردیتے ہوئے مسئلے کے جلد حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کاعزم دھرایا۔تقریب کے اختتام پر پیسکو اورپیڈوحکام کی جانب سے دونوں اداروں کے افسران کو اعزازی شیلڈزدینے کابھی تبادلہ کیاگیا۔

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی ماحولیاتی تبدیلی کی فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم سے وزارت ماحولیات اسلام آباد میں ملاقات  کی، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر زبیرارشدبھی اس موقع پر موجودتھے۔
فوکَل پرسن نے گورنرکو یقین دہانی کروائی کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی سیلاب متاثرین کو فوری اور بھرپور امداد فراہم کرے گی تاکہ ان کی بحالی کے عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کریں، جو نہ صرف ہنگامی امداد فراہم کرے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے بچاؤ کو بھی یقینی بنائے۔اس موقع پر فوکل پرسن رومینہ خورشیدنے یہ تجویز بھی دی کہ گورنر ہاؤس پشاور میں ایک ”گورنر لیگیسی سینٹر” قائم کیا جائے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار (climate-resilient) انفراسٹرکچر اور صحت کے منصوبوں کا مرکز ہو۔ یہ سینٹر بین الاقوامی ڈونرز کی مدد سے چلایا جائے گا اور اس کا مقصد صوبے میں جدید، ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ صوبائی سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور گورنر خیبر پختونخوا کے دفتر کے درمیان قریبی روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ مستقبل کے تمام ماحولیاتی اور ترقیاتی اقدامات کو مؤثر اور مربوط طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ سسٹینبل سٹیزگلوبل لمیٹیڈ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے (climate-resilient) انفراسٹرکچرکی مدمیں مستقبل میں پاکستان میں انویسمنٹ پربھرپور تعاون کیاجائیگا

محکمہ توانائی کا جائزہ اجلاس، منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

محکمہ توانائی خیبرپختونخوا کا جائزہ اجلاس وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائی طارق محمود سدوزئی اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی اور سی ای او خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں صوبے کے توانائی کے مسائل، پن بجلی کے منصوبوں، بین الاقوامی ترقیاتی پارٹنرز کے تعاون سے جاری منصوبوں اور وفاقی حکومت کے ساتھ زیر غور آنے والے معاملات خصوصاً نیٹ ہائیڈل پرافٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی پہلی صوبائی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے۔ یہ 40 کلومیٹر طویل 132/220 کے وی لائن سوات میں مٹلتان سے مدین تک بچھائی جا رہی ہے، جو 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت دیگر منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے یا مقامی صنعتوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ منصوبے کے فیز ٹو میں 80 کلومیٹر اضافی لائن مدین سے چکدرہ تک بچھائی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات کوریڈور میں سیکڑوں میگاواٹ استعداد کے حامل کئی پن بجلی کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔اس موقع پر ٹرانسمیشن لائن ٹاورز کی تنصیب اور اس سلسلے میں مقامی کمیونٹی کے ساتھ روابط کے حوالے سے پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کی استعداد کا آڈٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو کی تعیناتی مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لئے ناگزیر ہے۔چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ تمام منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائنز کے لئے واضح ایکشن پلان اور ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔

Media Enclave in New Peshawar Valley Housing Scheme – Chief Secretary Reviews Progress

A high-level meeting regarding the establishment of the Media Enclave in the New Peshawar Valley Housing Scheme was held Tuesday under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah. Secretary Information and Public Relations Dr. Muhammad Bakhtiar Khan, Press Registrar Ansar Khilji, Director General Housing Imran Wazir, President Peshawar Press Club M. Riaz, and senior journalists attended the meeting.

The Chief Secretary directed the concerned departments to complete all spade work and formalities by October this year, ensuring that original allotment letters are handed over to journalists by the Chief Minister in November.

He stressed the importance of timely delivery, noting that the Media Enclave was a longstanding demand of the journalist community and a key initiative of the government.
Chief Secretary Shahab Ali Shah further announced that, on the recommendations of President Peshawar Press Club M. Riaz, housing schemes in other districts of the province would also be identified to provide similar residential facilities to journalists on the pattern of Peshawar Press Club. This, he said, would ensure that media professionals across Khyber Pakhtunkhwa have access to secure and well-planned housing.

Highlighting the government’s vision for climate-resilient development, he underlined that residents of new housing schemes would be required to plant a specified number of trees and saplings according to the size of their plots. He added that the government would not allow housing schemes to be developed in green or cultivated areas, making it clear that only barren (brown) land would be utilized to protect agriculture and the environment.

Speaking on the occasion, President Peshawar Press Club M. Riaz praised the efforts of the Chief Secretary, stating that the Media Enclave project once seemed impossible had been made possible due to the Chief Secretary’s personal commitment and support to the media fraternity.
Earlier, DG Housing Imran Wazir made a detailed presentation highlighting the facilities, connectivity, access points, green belts, and progress achieved so far in the New Peshawar Valley Housing Scheme. Senior journalists Shamim Shahid, Ismail Khan, Arshad Aziz Malik, Kashifuddin, and Faridullah Khan were also present at the meeting.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور تاریخی و مذہبی مقامات سے مالا مال ہے اور یہی وہ وسائل ہیں جو خیبر پختونخوا کو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک پرکشش مقام بناتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں سیاحت کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت نے “ٹیررازم سے ٹورازم” کے وژن کے تحت پالیسی مرتب کی ہے جو بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی نے صوبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، تاہم آج حکومت کے موثر اقدامات اور عوامی تعاون کی بدولت خیبر پختونخوا سیاحت کے لئے ایک محفوظ اور پرامن خطہ بن رہا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گندھارا تہذیب کے تاریخی مقامات، بدھ مت کے آثار قدیمہ اور دیگر مذہبی ورثہ عالمی سیاحوں کے لئے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں۔ اسی طرح، وادی کالام، کمراٹ، گلیات، ناران اور دیگر خطے ایڈونچر اور قدرتی حسن کے اعتبار سے عالمی معیار کی سیاحت کے مراکز ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نئے ٹورازم زونز کے قیام، سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے سیاحتی شعبے کو معاشی ترقی کا بنیادی انجن بنانے کا تہیہ کیا ہے۔ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔مشیر اطلاعات نے طلباء اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صوبے کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے لئے سفیر کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے دنیا کو خیبر پختونخوا کا اصل اور خوبصورت چہرہ دکھا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس وژن پر عمل پیرا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے بجائے سیاحت اور امن کا گہوارہ بنایا جائے۔تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خود کو عالمی وزیراعظم کہنے والے شہباز شریف پاکستان میں فارم 47 کی بنیاد پر وزیراعظم بنے ہیں اور ان کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے اور یہ اعتماد آئندہ بھی قائم رہے گا۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حالیہ ملاقات کے بارے میں کہا کہ یہ ملاقات خوشگوار رہی۔ اس دوران عمران خان نے وزیراعلیٰ کو صوبائی محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ ملاقات میں وزراء کی کارکردگی اور حکومتی امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے لئے افغانستان کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے لئے ٹی او آرز وفاق کو بھیج دیے ہیں لیکن وفاقی حکومت ان کی منظوری نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں امن قائم رکھنے کے لئے افغانستان کے ساتھ مذاکرات نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک طرف مریم نواز کو بیرون ممالک کے دوروں پر کوئی قدغن نہیں، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو افغانستان کے ساتھ ضروری اور اہم بات چیت کے لئے اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان سے مذاکرات خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کے لئے ناگزیر ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا 11واں اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا 11واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وپارلیمانی لیڈر ممبر صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد، ممبر صوبائی اسمبلی احسان اللہ خان، ممبر صوبائی اسمبلی شفیع اللہ جان، ممبر صوبائی اسمبلی زاہد اللہ خان، ممبر صوبائی اسمبلی حامد الرحمن، سیکرٹری بلدیات ثاقب رضا اسلم، مینیجنگ ڈائریکٹر یو اے ڈی اے مختیار احمد سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام یو اے ڈی ایز بشمول ایبٹ آباد، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور، کرک، کوہاٹ، مانسہرہ، مردان، صوابی اور سوات کے بجٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایم ڈی نے اسٹاف کی کمی اور دیگر انتظامی مسائل پر بھی بریفنگ دی۔ اجلاس میں یو اے ڈی ایز کے آڈٹ، مالیاتی و سروس ریگولیشنز، ملازمین کے پلاٹ کوٹہ، گریجویٹی پیکیج، ایم ڈی آفس کے بجٹ، وژن و مشن سمیت مختلف اہم نکات زیر بحث آئے۔ سیکشن 27 کے مطابق یو اے ڈی ایز کے اکاؤنٹس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے تحت ہونا چاہیے تاہم تاحال یہ عمل مکمل نہیں ہوا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اے جی پی کو باضابطہ طور پر خط لکھا جائے گا تاکہ ہر یو اے ڈی اے کے اکاؤنٹس کا آڈٹ ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تمام اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ کرپشن سے مکمل اجتناب کریں اور آئندہ سب کمیٹی اجلاس میں جامع بزنس پلان پیش کریں۔

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن (کے پی پی ایس سی) ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن (کے پی پی ایس سی) ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے، اور صوبائی حکومت اس کی مکمل خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتی کمیٹی برائے پبلک سروس کمیشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں چیئرمین کے پی پی ایس سی منیر اعظم، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سید ذوالفقار شاہ، سیکرٹری کے پی پی ایس سی ذکاء اللہ خٹک، اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ وزیر قانون نے کہا کہ کے پی پی ایس سی صوبائی حکومتی مشینری کے لیے اہل اور موزوں فنکشنریز کے انتخاب میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اسے حکومتی مشینری کو مزید اہل عملے کی فراہمی کے لیے با اختیار بنایا جائے گا۔اجلاس میں کے پی پی ایس سی کی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔جس کے مطابق، کمیشن نے جنوری 2025 سے 15 ستمبر 2025 تک 2075 اسامیوں کے لیے280,641 درخواستیں وصول کیں اور184.765 ملین روپے کا ریونیو حاصل کیا، جو کہ سال 2022 کے کل ریونیو 94.616ملین روپے اور 2023 کے 142.667ملین روپے (کل) کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ مجموعی طور پر گزشتہ سالوں میں کمیشن نے 25 اشتہارات کے ذریعے 6917 پوسٹوں پر 565,917درخواستیں وصول کیں اور 327.432 ملین روپے کا ریونیو اکٹھا کیا۔ مسابقتی امتحانات کے حوالے سے، جنوری 2025 سے 15 ستمبر 2025 تک 5 امتحانات منعقد کیے گئے یا شیڈول ہوئے، جن میں 1253 اسامیوں کے لیے 80,306امیدوار شامل تھے، جبکہ 16 ستمبر 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک مزید 10 امتحانات شیڈول ہیں جن میں 549 اسامیوں کے لیے 46,904 امیدواروں کی شمولیت متوقع ہے۔اجلاس میں بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے “پرپوزلز فار کرٹیلمنٹ آف ریکروٹمنٹ سائیکل” کے تحت مختلف کیٹگری وائز سائیکلز پر بھی بات کی گئی جن میں بھرتی کا دورانیہ کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، کیٹگری وائز سائیکل نمبر 1 (جنرل ریکروٹمنٹ) کا دورانیہ 16 ہفتے (4 ماہ) تجویز کیا گیا ہے، جبکہ کیٹگری وائز سائیکل نمبر 5 (سلیبس بیسڈ ریکروٹمنٹ) جس میں سکریننگ، تحریری امتحان، سائیکو اور انٹرویو شامل ہیں، اس کا دورانیہ 36 ہفتے (9 ماہ) رکھا گیا ہے۔ وزیر قانون نے لیٹیگیشن کے حوالے سے تجویز دی کہ بھرتی کے عمل کی تیزی کے پیش نظر شکایات کے ازالے کے لئے کے پی پی ایس سی کے متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ایپیلٹ ٹریبونل کے قیام کے ذریعے کیسز کو بروقت حل کرکے حائل روکاوٹوں کو دور کر سکتی ہیں جس کے باعث وقت کے ضیاع کو قابو کیا جاسکے گا۔اس کے علاوہ، کے پی پی ایس سی کے عملے کے معاوضوں میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ اسے دیگر صوبائی اور وفاقی پبلک سروس کمیشنز کے برابر لایا جا سکے۔ ایک تقابلی بیان کے مطابق، موجودہ ریٹ اور مجوزہ ریٹ کے درمیان واضح فرق موجود ہے، مثال کے طور پر، سبجیکٹیو پیپر سیٹنگ کا موجودہ ریٹ 6000 روپے ہے جسے بڑھا کر 15000 روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ MCQs پیپر سیٹنگ (50-60 سوالات) کا ریٹ 4000 روپے سے بڑھا کر 10000 روپے اور انٹرویو پینل کے سبجیکٹ ایکسپرٹ کا ریٹ 1000 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ مزید برآں، چیئرمین اور ممبران کے پی پی ایس سی کے پیکیجز میں اضافے پر بھی غور کیا گیا؛ ایک تجویز کے تحت چیئرمین کے موجودہ پیکیج (482,200/- روپے) میں 50 فیصد اضافے کے ساتھ 723,300/- روپے جبکہ ممبران کے موجودہ پیکیج (377,100/- روپے) کو بڑھا کر565,650/- روپے کرنے کی تجویز دی گئی، جس کے مجموعی مالی اثرات سالانہ 27.781 ملین روپے ہوں گے۔ کے پی پی ایس سی کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں میں کے پی پی ایس سی کو ایک خصوصی ادارہ قرار دینے پر اصولی اتفاق کیا گیا، اور اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رولز آف بزنس 1985 میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ چیئرمین کمیشن کو ایک اکاؤنٹ ہیڈ سے دوسرے میں بجٹ کو دوبارہ مختص کرنے کا اختیار حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ، سیکرٹری کے پی پی ایس سی کو بھی با اختیار بنانے کے حوالے سے وہ چیئرمین کی پیشگی منظوری سے چیف سیکرٹری کو سمری/نوٹ بھیج سکیں اور محکموں کے ساتھ براہ راست خط و کتابت کر سکیں۔ مالی خود مختاری کے تحت، ETEA سے حاصل ہونے والے خود پیدا کردہ فنڈز سے چھوٹے اخراجات کی اجازت دینے پر اصولی اتفاق کیا گیا اور محکمہ خزانہ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن کو مضبوط بنانے کے لیے 170 ملین روپے کے فنڈز کی فراہمی کی تجویز (بشمول کمپیوٹر لیب کا قیام، پرانے کمپیوٹرز کی تبدیلی، ہیوی ڈیوٹی پرنٹر کی خریداری اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب) پر اصولی اتفاق کیا گیا، تاہم اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ کو بھیجنے کے تجویز دی گئی۔