Home Blog Page 77

مشیر زراعت میاں محمد عمر سے آسٹریلوی ماہرِ زراعت کی ملاقات، ترشاوہ پھلوں کے پروگرام بارے کارکردگی کو سراہا

حکومت آسٹریلیا کے تعاون سے جاری منصوبے کے اثرات کے جائزے کے سلسلے میں آسٹریلیا کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز اینڈ ریجنل ڈیولپمنٹ  کے پرنسپل ریسرچ سائنٹسٹ ڈاکٹر طاہر خورشید نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ڈاکٹر طاہر خورشید نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب میں ترشاوہ پھلوں  کے پروگرام بارے شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترناب فارم کے سائنسدانوں نے منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی ترشاوہ پھلوں کی اقسام پر نہایت مؤثر اور کامیاب انداز میں کام کیا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کے سائنسدانوں نے مالٹے کی متعدد اقسام کی منظوری حاصل کرکے ان کی کاشت کے فروغ کے لیے کسانوں میں تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر خورشید نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت حاصل کیے گئے کو بھی پراونشل سیڈ کونسل سے منظور کروا کر رجسٹرڈ نرسریوں تک ان کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کے سائنسدان اب تک ترشاوہ پھلوں کی 13 اقسام کی منظوری حاصل کر چکے ہیں اور یہ اقسام کاشتکاروں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے صوبے میں ترشاوہ پھلوں کی پیداوار اور معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
اس موقع پر ڈاکٹر طاہر خورشید نے مشیر زراعت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں ترشاوہ پھلوں کے  اور جاپانی پھل کی جدید اقسام بھی فراہم کریں گے تاکہ صوبے میں باغبانی کے شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ مشیر زراعت اور محکمہ زراعت کے حکام نے اس تعاون پر ڈاکٹر طاہر خورشید اور آسٹریلوی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں ڈاکٹر طاہر خورشید نے منصوبے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر زرعی تحقیقی ادارہ ترناب ڈاکٹر عبدالباری اور پرنسپل ریسرچ آفیسر نثار نعیم بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہر خورشید نے ادارے کے مختلف تحقیقی منصوبوں اور خصوصاً ترشاوہ پھلوں کے پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا۔

شندور پولو فیسٹیول کا رنگا رنگ آغاز

شندور پولو فیسٹیول کے افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں سیاحت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر میں اور مشیر سیاحت ملک عدیل شندور فیسٹیول میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شندور فیسٹیول کے انعقاد کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کر دی ہیں کیونکہ شندور فیسٹیول پاکستان کا مثبت اور پُرامن تشخص دنیا بھر میں اجاگر کر رہا ہے، ہر سال شندور فیسٹیول میں بہتری آ رہی ہے اور اگلے سال اسے مزید شاندار بنایا جائے گا اور قائد عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں سیاحت کے شعبے کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ شندور روڈ کا مسئلہ این ایچ اے کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی۔ اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے شندور پولو فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر پیراگلائڈرز نے پیرا گلائڈنگ کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ اور شائقین کو لطف اندوز کیا۔ گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان پیرا گلائیڈر کیساتھ بھی ملے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

Chief Secretary Inaugurates Expanded Daycare and Learning Centre at Civil Secretariat Peshawar

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, on Thursday inaugurated Phase-II of the Daycare and Learning Centre at the Civil Secretariat Peshawar, significantly expanding its facilities to accommodate a growing number of children of government employees.

The Chief Secretary was accompanied by Additional Chief Secretary (General) Abid Majeed, Secretary Administration Shahid Sohail Khan, and other senior officers. During the visit, he toured various sections of the upgraded facility and reviewed the newly added services and infrastructure.

Deputy Secretary Dr. Iza Arshad briefed the Chief Secretary on the expansion project, highlighting the need for enhanced childcare services within the Civil Secretariat. She informed participants that the existing daycare facility, established in 2018, had the capacity to accommodate only 12 children despite a demand from more than 164 children of employees.

According to the briefing, a comprehensive needs assessment revealed that the Civil Secretariat has 224 female employees with an estimated 164 children between the ages of 0 and 5 years, underscoring the need for a larger and more professionally managed childcare facility.

The newly expanded centre has increased capacity to accommodate more than 30 children across different age groups and features improved infrastructure designed to provide a safe, nurturing, and educational environment. The facility includes Montessori-based learning activities aimed at promoting cognitive and social development, while child safety measures such as EVA foam flooring, safety-proof furniture, and hazard-free rooms have been introduced.

To ensure quality care, the centre has been equipped with enhanced staffing, including a qualified Montessori teacher, a nurse, and trained childcare assistants. Additional measures include daily health screenings, regular sanitization of surfaces, and dedicated feeding and rest areas to promote children’s health and well-being.
Speaking on the occasion, the Chief Secretary appreciated the initiative and said that providing quality childcare facilities is essential for enabling working parents, particularly women, to perform their professional responsibilities effectively.

صوبائی وزیر ریونیو خیبرپختونخوا طارق محمود آریانی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی کمشنر مردان کے ہمراہ تحصیلدار آفس، سروس ڈیلیوری سنٹر (SDC) مردان اور ریونیو سیکرٹریٹ مردان کا اچانک دورہ

صوبائی وزیر ریونیو خیبرپختونخوا طارق محمود آریانی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاهر شاہ خان اور ڈپٹی کمشنر مردان کے ہمراہ تحصیلدار آفس، سروس ڈیلیوری سنٹر مردان اور ریونیو سیکرٹریٹ مردان کا اچانک دورہ کیا۔
دورے کے دوران وزیر ریونیو نے عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات، ریونیو ریکارڈ اور سائلین کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف دفاتر میں موجود شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی شکایات و تجاویز براہ راست سنیں۔اس موقع پر وزیر ریونیو طارق محمود آریانی کا کہنا تھا کہ “اگر عوامی نمائندے عوام میں رہیں گے تو عوامی مسائل سے آگاہی حاصل ہوگی، اور انہی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں گے۔” انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سرکاری دفاتر میں بدعنوانی، تاخیر اور عوامی شکایات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دورے کے دوران شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کی روشنی میں تحصیلدار ایس ڈی سی مردان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الزامات اور شکایات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کریں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکیں۔وزیر ریونیو نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے فوری حل، شفافیت کے فروغ اور ریونیو خدمات کی بہتری کے لئے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔

وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیرصدارت سانام ڈیم دیر لوئر سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، منصوبے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیرصدارت سانام ڈیم ضلع دیر لوئر سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جمعرات کے روز محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشیر برائے صنعت و تجارت محمد ہمایون خان، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو سانام ڈیم منصوبے کی موجودہ صورتحال، تکنیکی پہلوؤں، انتظامی پیشرفت اور آئندہ مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ سانام ڈیم منصوبہ پی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے لیے ایجنڈے میں شامل کیا جا چکا ہے اور منظوری کے بعد منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا
صوبائی وزیر ریاض خان نے منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے سے متعلق تمم تکنیکی اور انتظامی مراحل جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کا بروقت آغاز یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ریاض خان نے کہا کہ سانام ڈیم منصوبہ دیر لوئر سمیت ملحقہ علاقوں کی زرعی ترقی، آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تکمیل سے زرعی پیداوار میں اضافہ، پانی کے بہتر ذخیرے اور آبی وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ ملے گا، جس سے علاقے کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت آبی وسائل کے تحفظ، بہتر انتظام اور مؤثر استعمال کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صوبے میں پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نئے آبی منصوبوں کی تکمیل حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سانام ڈیم منصوبے کے تمام مراحل پر خصوصtی توجہ دی جائے اور تعمیراتی عمل کے لیے ضروری اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ منصوبہ مقررہ اہداف اور معیار کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن سے گیٹس فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے ملاقات

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن سے ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں گیٹس فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر مسٹر مائیکل گیلوے نے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ملاقات میں ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI)،پولیو کے خاتمے کی ترجیحات اور خیبر پختونخوا میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبے میں جاری پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (PEI) کی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملیوں پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پشاور سمیت دیگر حساس اضلاع میں پولیو کے خلاف جاری اقدامات، نگرانی کے نظام، ٹرانزٹ ویکسی نیشن پوائنٹس، انکاری والدین تک رسائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ کے اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور ترقیاتی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے پولیو کے خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت پولیو مہمات کے معیار کو بہتر بنانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے، دشوار گزار اور حساس علاقوں تک رسائی بڑھانے اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔مسٹر مائیکل گیلوے نے خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ صحت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پولیو کے خاتمے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے فروغ کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پولیو کے مکمل خاتمے، بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے اور صحت عامہ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹاک، فشریز و کواپریٹو سوسائٹیز خورشید خان خٹک نے متھرا شیر آباد میں فشریز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹاک، فشریز و کواپریٹو سوسائٹیز خورشید خان خٹک نے متھرا شیر آباد میں فشریز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل فشریز زبیر علی خان نے صوبہ بھر میں محکمہ فشریز کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں محکمہ فشریز کی ہیچریز، آمدنی، لائسنسوں کے اجرا، دستیاب وسائل، ٹراوٹ فش ڈیموں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سمیت سیلاب سے متاثرہ ہیچریز کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ڈی جی لائیو سٹاک آصل خان، ایڈیشنل سیکرٹری لائیو سٹاک نیاز محمد خان، ڈائریکٹر جنوبی اضلاع محمد الیاس خٹک، ڈائریکٹر فشریز ضم اضلاع عامر حمزہ، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر پشاور فواد علی خلیل اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔معاون خصوصی خورشید خان خٹک نے حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی خدمت اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز صوبے کی آمدنی میں ہر سال نمایاں اضافہ کر رہا ہے اور رواں سال مزید فش ہیچریز قائم کرکے اس آمدنی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ فش ہیچریز کو دوبارہ فعال بنایا جائے گا اور محکمہ کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع میں بھی نئی فش ہیچریز کے قیام کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ماہی پروری کے شعبے کو مزید فروغ مل سکے۔
خورشید خان خٹک نے کہا کہ محکمہ فشریز صوبائی معیشت اور آمدنی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کی استعداد کار بڑھانے اور آمدنی میں مزید اضافے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ کی قیادت میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

نیشنل جونیئر چیمپئن شپ اختتام پذیر، خیبرپختونخوا کی شاندار کارکردگی

نیشنل جونیئر چیمپئن شپ 2026 پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ چار روزہ چیمپئن شپ میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے سکواش، ایتھلیٹکس، والی بال، بیڈمنٹن، کراٹے اور ٹیبل ٹینس کے مقابلوں میں حصہ لیا۔
خیبرپختونخوا نے بوائز کیٹیگری میں ایتھلیٹکس، والی بال، بیڈمنٹن اور سکواش میں گولڈ جبکہ کراٹے میں سلور میڈل حاصل کیا۔ گرلز کیٹیگری میں سکواش میں گولڈ اور سلور جبکہ ایتھلیٹکس اور ٹیبل ٹینس میں سلور میڈلز اپنے نام کیے۔
اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان خیبرپختونخوا تاج محمد خان ترند تھے، جنہوں نے فاتح کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور میڈلز تقسیم کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر آپریشن جمشید بلوچ، نازیہ ذکی، شاہ فیصل، یوسف آفریدی اور مختلف سپورٹس فیڈریشنز و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔
تاج محمد خان ترند نے کہا کہ چیمپئن شپ کا کامیاب انعقاد نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے اور کھیلوں کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو بہترین کھیلوں کی سہولیات اور ہر ممکن سرپرستی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں

مشیر زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت جاری اور مجوزہ نئی سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور منعقد ہوا۔ ؟اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت اور نئے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور جدید زرعی خدمات فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔مشیر زراعت میاں محمد عمر نے ہدایت کی کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ماضی کی کامیاب اور مفید اسکیموں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ ان کو موجودہ ضروریات کے مطابق دوبارہ متعارف کرایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ کاشتکار ان سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے صوبے میں موجود بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے حصول کے لیے غیر آباد زمینوں کو زرعی مقاصد کے لیے بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔میاں محمد عمر نے محکمہ زراعت کی کمرشل اراضی کو بہتر اور مؤثر انداز میں استعمال میں لانے پر بھی زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی دستیاب وسائل اور اراضی کے بہتر استعمال سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اضافی وسائل بھی حاصل ہوں گے۔اجلاس میں محکمہ زراعت کی ترقیاتی ترجیحات، کسان دوست پالیسیوں اور زرعی شعبے کی مزید بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

KP minister for Public Health Engineering Fazal Shakoor Khan presides over PHE development schemes of district Malakand

The Khyber Pakhtunkhwa minister for Public Health Engineering Fazal Shakoor Khan on Thursday presided over an important meeting regarding different projects of the PHE department of district Malakand.

The Executive Engineer (XEN) PHE Malakand gave a detailed briefing to the Provincial Minister on various development schemes in the district, including water supply projects, sanitation initiatives, and efforts aimed at providing basic public services to the people. The briefing also covered the current progress of projects, utilization of funds, challenges being faced, and the future course of action.

Speaking on the occasion, Provincial Fazal Shakoor Khan said that the provision of safe drinking water and improved sanitation facilities to the public remains one of the top priorities of the KP government. He said that concrete measures are being taken across all districts of the province to ensure the timely completion of PHE projects so that people can benefit from these essential services.

He directed the concerned officials to pay special attention to quality, transparency, and timely execution of all development schemes. He emphasized that maintaining high standards in project implementation is essential to achieving sustainable development goals.

He further emphasized that water supply and sanitation projects are of vital importance for public welfare and improving the quality of life of citizens, therefore, every effort should be made to ensure the highest standards in the planning, execution, and monitoring of these schemes.