Home Blog Page 77

وومن ایمپاورمنٹ 2026تا2030پالیسی کا فائنل ڈرافٹ تیار

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن نے چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی 2026تا2030 کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے، جسے سمری کے ذریعے کابینہ سے منظوری کے بعد 12 فروری کو قومی یومِ خواتین کے موقع پر باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن کے تحت ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-30 کے لیے قائم ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز کمیشن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کی۔اجلاس میں ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین عائشہ بانو، لوکل گورنمنٹ کمیٹی ممبر،اکرام اللہ خان بورڈ م ممبرکے پی سی ایس ڈبلیو،شازیہ عطا،سیکرٹری وومن کمیشن،سیدہ ندرت سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ،زینب خان یو این وومن ہیڈ کے پی،اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی2026-30کی مسودہ رپورٹ پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی، جس کے بعد اراکین کی آراء اور تجاویز لی گئیں۔ اجلاس میں پالیسی کے مختلف پہلوؤں، اہداف، نفاذ کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی کردار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا تاکہ صوبے میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شمولیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی صوبائی سطح پر نافذ دیگر پالیسیوں اور آئینِ پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پالیسی کے نفاذ سے ہر عمر کی خواتین کے خلاف صنفی امتیاز میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ خواتین کو انصاف کے حصول میں سہولت اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بھی ممکن ہو سکے گی۔اجلاس میں مجوزہ پالیسی کے تحت مروجہ قوانین کی روشنی میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور ضمانت کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ صوبائی کابینہ سیٹ اپ، لوکل گورنمنٹ باڈیز، سالانہ بجٹ، کنسلٹیٹو فورمز، قائمہ کمیٹیوں اور منصوبہ بندی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو پالیسی کا حصہ بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔مزید بتایا گیا کہ مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری خدمات تک خواتین کی مؤثر رسائی، خواتین کے حقوق اور معاشی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ اس کے شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم ثمرات مرتب ہوں گے، جو صوبے میں خواتین کی مجموعی فلاح و بہبود اور بااختیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجوزہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری کے بعد متعلقہ محکموں سے توثیق حاصل کی جائے گی اور بعد ازاں اسے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پالیسی کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر باضابطہ طور پر لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔صوبائی حکومت کے ویمن ایمپاورمنٹ وژن کے مطابق اور چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی قیادت میں، خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نے قلیل مدت، یعنی صرف تین ماہ کے دورانیہ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔ جس کے مثبت نتائج صوبے میں خواتین کے حقوق کے فروغ کی صورت میں سامنے آئینگے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کی۔اجلاس میں ممبران کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی نیلوفر بابر اور صوبیہ شاہد سمیت محکمہ زکوٰۃ و عشر، سوشل ویلفیئر، للسائل و المحروم فاؤنڈیشن، کے پی کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن، زمونگ کور، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئرخیبر پختونخوا، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر ضم اضلاع، چائلڈ ویلفیئر کمیشن، محکمہ زراعت، محکمہ خزانہ، کے پی آئی ٹی بورڈ، بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام اور شیخ زید اسلامک سنٹر یونیورسٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران 31 دسمبر 2025 کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی میں درج پیرا نمبر 17، جو عشر سے متعلق ہے، کے تناظر میں کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے عشر کے تصور پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فتح مکہ کے بعد عشر کا نظام عالمِ اسلام میں باقاعدہ طور پر نافذ ہوا، جو فصلوں، باغات، چارہ، شہد وغیرہ پر لاگو ہوتا رہا اور ریاست کے لیے ریونیو کے حصول کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اجلاس میں عشر سے جڑے جدید تصورات، خصوصاً صنعت میں اس کے اطلاق کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ سلجوقی دور میں مصالح المرسلۃ کے تحت ٹیکس کے نفاذ کا تصور رائج رہا۔کمیٹی کی رکن نیلوفر بابر نے اس موقع پر کہا کہ 1970 تک چترال کا مالی نظم و ضبط عشر کے نظام کے تحت چلایا جاتا رہا۔ کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کہا کہ ایوانوں میں رہتے ہوئے ایسی پالیسیاں وضع کرنا مقصود ہوتا ہے جن کے ذریعے متعلقہ محکموں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ عشر کے ذریعے حاصل ہونے والے محاصل کو متعلقہ اداروں کو بااختیار بنانے اور مالی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے عشر کے تصور کو صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے حوالے سے محکمہ زراعت سے فصلوں کی پیداوار سے متعلق ٹھوس اور مستند معلومات فراہم کرنے پر زور دیا۔ باغات کو عشر کے طریقہ کار میں شامل کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں عشر کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے اور صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے لیے کے پی آئی ٹی بورڈ کی جانب سے ضروری اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا، جبکہ اس تصور کے فروغ کے لیے مؤثر ابلاغِ عامہ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس ضمن میں دیگر صوبوں کے ماڈلز کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران کم آمدنی والے مستحق طبقات کی معاونت اور ان کی داد رسی کے لیے زکوٰۃ و عشر کے تحت مؤثر اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ مزید برآں محکموں کی منصوبہ بندی کے لیے درست اور جامع ڈیٹا کی دستیابی کو ضروری قرار دیا گیا، جس پر کے پی آئی ٹی بورڈ نے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام نے سوشل ویلفیئر کے اسٹیچیوٹری اداروں بشمول پروونشل کونسل فار ریہیبلیٹیشن آف ڈسیبل پرسنز، پروونشل کونسل آف سوشل ویلفیئر، سینئر سٹیزن کونسل، زمونگ کور (انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹ چلڈرن)، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن، پروونشل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور للسائل و المحروم فاؤنڈیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

محکمہ تعلیم میں ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ افتتاح

خیبر پختونخوا کہ وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے بدھ کے روز پشاور میں ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ افتتاط کیا۔اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری ابتدائی اور ثانوی تعلیم مسعود احمد، چیف پلاننگ ایجوکیشن آفیسرزین اللہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ افتتا ح کے بعد صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے صوبے میں کامیاب ای ٹرانسفر پالیسی کا عمل وجود میں لایا ہے جس کے تحت اساتذہ کی خواہشات اور میرٹ پالیسی کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے دو دفعہ ای ٹرانسفر پالیسی کا عمل شروع کیا گیا تھا تاہم اس میں خامیاں تھیں، لیکن اب ای ٹرانسفر پالیسی کے عمل میں تمام خامیاں دور کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ای ٹرانسفر کامیابی سے جاری رہے گی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں اسے مزید بہتر بنائیں گے تاکہ بہتر انداز میں شعبہ تعلیم کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں ٹینور بیسڈ اور باہمی (میوچل) تبادلے ہونگے۔

نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی فلاح کے لئے بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی فلاح کے لئے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے، بانی چیرمین عمران خان کے وژن کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اس ملک کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاو رمیں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسیکرٹری کھیل محمد آصف، ڈائریکٹر امور نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد، بینک آف خیبر کے حکام جواد تاجک اورمحمد عمران سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں بینک آف خیبر اور محکمہ کھیل اور امور نوجوانان کے حکام نے مشیر کھیل کو یوتھ لون پروگرام،احساس نوجوان پروگرام،انصاف روزگار پروگرام اسکے طریقہ کار،مسائل،سہولیات اور درپیش چیلنجز سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔حکام نے اس پروگرام کے تحت خواتین کیلئے گارمنٹس،ہینڈی کرافٹس اور دیگر روزگار کے مختلف مواقع کی سہولیات پر بریفنگ دی۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے متعلقہ حکام کو نوجوانوں کیلئے قرضہ (یوتھ لون سکیم)کے حوالے سے آگاہی مہم کو تیز کرنے اور انکی شکایات کے ازالہ کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کو انکی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان اور بینک آف خیبر مشترکہ طور پر نوجوانوں کو اس پرواگرام کے افادیت اور طریقہ کار کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی مہم کی ضرورت ہے تاکہ عوام اس پراجیکٹ کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سہولیات اور آسانی کیلئے گریوینس کمیٹی کو فعال بنایا جائے تاکہ عوام تکنیکی مسائل سے دوچار نہ ہوں۔تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کرکے اس پراجیکٹ کے فنڈز اور دورانیہ کو مزید بڑھانے کی سفارش کریں گے۔

35ویں نیشنل گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے براونز میڈل حاصل کرنے والی خیبر پختونخوا ویمن کبڈی ٹیم کے اعزاز میں گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج گلبہار میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

35ویں نیشنل گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے براونز میڈل حاصل کرنے والی خیبر پختونخوا ویمن کبڈی ٹیم کے اعزاز میں گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج گلبہار میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا مقصد قومی سطح پر صوبے کا نام روشن کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور طالبات میں کھیلوں کے فروغ کے جذبے کو اجاگر کرنا تھا۔تقریب کی مہمانِ خصوصی گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل پروفیسر رابعہ سکندر تھیں۔ تقریب میں صوبائی کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر ارباب نصیر احمد خان، سیکرٹری سید سلطان بری، صوبائی تھرو بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ارشد حسین، ڈائریکٹر سپورٹس نجمہ ناز قاضی اور کالج کی بڑی تعداد میں طالبات نے شرکت کی۔تقریب کے دوران 35ویں نیشنل گیمز کی میڈلسٹ خیبر پختونخوا ویمن کبڈی ٹیم کی کھلاڑیوں کو خصوصی طور پر تیار کردہ شیلڈز اور میڈلز پہنائے گئے اور ان کی قومی سطح پر خدمات اور شاندار کارکردگی کو سراہا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر رابعہ سکندر نے کہا کہ نیشنل گیمز میں خیبر پختونخوا کی خواتین کبڈی کھلاڑیوں نے جرات، مہارت اور اعلیٰ کھیل کا مظاہرہ کر کے صوبے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ڈیپارٹمنٹل اور صوبائی ٹیموں کے خلاف کامیاب مقابلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کی خواتین کھلاڑی کسی سے کم نہیں۔ اگر انہیں بہتر سہولیات، مسلسل کوچنگ اور سرپرستی فراہم کی جائے تو یہ کھلاڑی مستقبل میں گولڈ میڈلز بھی حاصل کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے تعلیم کے ساتھ ساتھ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور کھیل طالبات میں اعتماد، نظم و ضبط اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج گلبہار طالبات کو کھیلوں کے میدان میں آگے لانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ڈائریکٹر سپورٹس نجمہ ناز قاضی نے کہا کہ یہ کالج کے لیے فخر کا مقام ہے کہ خیبر پختونخوا ویمن کبڈی ٹیم کی اکثریتی کھلاڑیوں کا تعلق سٹی گرلز ڈگری کالج سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات میں کھیلوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کالج انتظامیہ کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔تقریب سے صوبائی کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر، جنرل سیکرٹری، اور صوبائی تھرو بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے۔بھی خطاب کیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبنوشی فضل شکورخان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبنوشی فضل شکورخان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف انجینئر ساؤتھ اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ کے افسران اور دیگر سٹاف کی پوسٹنگ و ٹرانسفر کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور قواعد و ضوابط کے مطابق بنانے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری پر غور کیا گیا صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی ناگزیر ہے، تاکہ میرٹ اور انتظامی ضروریات کو یکساں طور پر مدنظر رکھا جا سکے۔صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ کی ضروریات، فیلڈ کی عملی صورتحال اور دستیاب افرادی قوت کو سامنے رکھتے ہوئے جلد از جلد ایک جامع پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی کا مسودہ تیار کریں، جس میں شفافیت، مساوی مواقع اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے اجلاس میں صوبائی وزیر نے محکمہ کی پلیسمنٹ کمیٹی کے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پلیسمنٹ کمیٹی کے کوارٹرلی بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں، تاکہ پوسٹنگ و ٹرانسفر سے متعلق فیصلے بروقت، مشاورت کے ساتھ اور قواعد کے مطابق کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ اجلاسوں کے انعقاد سے نہ صرف انتظامی امور میں بہتری آئے گی بلکہ افسران اور عملے کے تحفظات کا بروقت ازالہ بھی ممکن ہو سکے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں گڈ گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، اور پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی کی حتمی منظوری کے بعد اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

خدمات تک رسائی کمیشن خیبر پختونخوا کے تحت نامزد خدمات سے متعلق آگاہی کے سلسلے میں آج پختونخوا ریڈیو پشاور سے ایک خصوصی پروگرام نشر کیا گیا

خدمات تک رسائی کمیشن خیبر پختونخوا کے تحت نامزد خدمات سے متعلق آگاہی کے سلسلے میں آج پختونخوا ریڈیو پشاور سے ایک خصوصی پروگرام نشر کیا گیا۔اس خصوصی کرنٹ افیئرز پروگرام کی میزبانی معروف سینئر صحافی اشرف ڈار نے کی، جبکہ پروگرام میں سینئر صحافی لحاظ علی اور تاشفین اسرار، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر، خدمات تک رسائی کمیشن نے بطور مہمان شرکت کی۔پروگرام کے دوران خیبر پختونخوا خدمات تک رسائی ایکٹ 2014 کے تحت نامزد سرکاری خدمات، ان کی مقررہ مدت، عوامی شکایات کے اندراج کا طریقہ کار اور خدمات تک رسائی کمیشن خیبر پختونخوا کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نامزد خدمات عوام کا قانونی حق ہیں اور مقررہ مدت میں خدمات کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں شہری کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔اس موقع پر تاشفین اسرار نے خدمات تک رسائی کمیشن کی کارکردگی، ضلعی سطح پر مانیٹرنگ میکنزم اور عوامی سہولت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جبکہ لحاظ علی نے عوامی آگاہی اور میڈیا کے مؤثر کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پروگرام کا مقصد عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا اور سرکاری اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور بہتر سروس ڈیلیوری کو فروغ دینا تھا۔

پشاور میں فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں، ملاوٹی مصالحہ جات اور جعلی کیچپ بنانے والے یونٹس بے نقاب، 400 کلو ملاوٹی مصالحے اور 1200 لیٹر جعلی و مضر صحت کیچپ ضبط، یونٹس سیل

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے خفیہ اطلاع پر پشاور کے مختلف علاقوں میں مضرِ صحت اور غیر معیاری مصالحہ جات اور جعلی ٹماٹر کیچپ تیار کرنے والے یونٹس کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے بھاری مقدار میں ملاوٹی اشیاء ضبط کر کے موقع پر تلف کر دیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز پشاور کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائی کے دوران ایک مصالحہ جات تیار کرنے والی یونٹ سے 400 کلوگرام ملاوٹی مصالحہ جات، چوکر اور استعمال شدہ ناقابلِ استعمال تیل برآمد کر کے ضبط کر لیا۔ یونٹ میں صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری خام مال کا استعمال بھی پایا گیا۔اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیموں نے دو جعلی ٹماٹر کیچپ تیار کرنے والے یونٹس کے خلاف بھی کارروائی کی، جہاں سے 1200 لیٹر مضرِ صحت جعلی و مضر صحت ٹماٹر کیچپ برآمد کر کے موقع پر تلف کر دیا گیا جبکہ دونوں یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر متعلقہ مالکان پر بھاری جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں جبکہ مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور فوڈ سیفٹی قوانین پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کابینہ کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم اور کمیٹی کے چیئر مین ارشد ایوب خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کابینہ کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم اور کمیٹی کے چیئر مین ارشد ایوب خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا،جس میں وزیرریلیف و آبادکاری عاقب اللہ خان،سیکر ٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد،کمیٹی کے ممبران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے لئے قائم کردہ سب کمیٹی کی سفارشات پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پشاور پبلک سکول اینڈکالج کے منفردمعیار کی بحالی کے لئے موثر اور سود مند اقدامات اٹھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ اسی طرح اجلاس میں پشاور پبلک سکول اینڈکالج میں اعلیٰ تعلیمی معیار اورادارے میں پڑھنے والے بچوں کی صحیح تربیت کے لئے دیگر امور کے ساتھ ساتھ نہم تا بارھویں جماعت تک تمام مضامین ماہر اساتذہ سے پڑھائے جانے کی بھی سفارشات پیش کی گئیں۔اجلاس میں ادارے کے ذہین اور قابل بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے فری تعلیمی سہولیات دینے کی بھی تجویز دی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئر مین اورصوبا ئی وزیر تعلیم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پشاور پبلک سکول اینڈ کالج میں سہولیات کی کمی کو پورا کرنے اور طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور پشاور پبلک سکول اینڈ کالج جیسے تعلیمی ادارے کو فروغ تعلیم کے سلسلے میں تمام تر ممکنہ سہولیات کی فرا ہمی میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی تاکہ یہ ادارہ اپنا سابقہ معیار قائم رکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو ایک ماڈل کے طور پر ترقی دی جائے تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ بچے داخلہ لے سکیں۔

احیاء پشاور کے حوالے سے وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی کی زیر صدارت جائزہ اجلاس ہوا

اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، ایریگیشن، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام شریک ہوئے
نادرن بائی پاس کے نامکمل حصے کی تعمیر، رنگ روڈ پر ٹریفک رش کے مقامات پر انڈرپاسسز سمیت دیگر ترقیاتی امور پر بریفنگ دی گئی
پیسکو سپلائی لائن کو پیر زکوڑی فلائی اور سے سوری پل، امن چوک اور کارخانو تک انڈر گراونڈ کرنے کی عمل کا بھی جائزہ لیا گیا
750 ملین روپے کی لاگت سے پشاور میں بچوں کے ہائی ٹیک پارک قائم کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ
بچوں کے لیے ہائی ٹیک پارک قائم کرنے کے لیے تمام فیزیبلٹی و دیگر لوازمات مکمل کرنے کا عمل مزید تیز کی جائے۔ وزیر بلدیات مینا خان افریدی
جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پر پیر زکوڑی کلوور لیف انٹرچینج کی تعمیر پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی
پانی چینل ہونے کی وجہ سے رنگ روڈ ہزارخوانی مقام پر میں فلائی اوور بنے گا۔ بریفنگ
یونیورسٹی روڈ، رامداس چونگی، لاہوری چوک کے مختلف مقامات پر ٹریفک ہاٹ سپاٹ کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ مینا خان افریدی کی ہدایت
پشاور میں تمام لوکل بس سٹینڈز ختم کیے جا رہے ہیں۔ مینا خان افریدی
جنوبی اضلاع کے لیے کوہاٹ روڈ پر قائم بس اڈے کو بھی کسی دوسری جگہ منتقل کرنے پر کام جاری ہے۔ مینا خان افریدی
جنوبی اضلاع کے لیے بھی سٹیٹ اف دی ارٹ بس سٹینڈ کے لیے مقام کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ بریفنگ
یونیورسٹی روڈ سے رنگ روڈ نادرن بائی پاس تک لنک روڈز تعمیر کرنے کے لیے کنسلٹنٹ رواں مہینے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ
آئندہ جائزہ اجلاس میں احیاء پشاور کے حوالے سے تمام سکیمز کی فیزیبلٹی امور ہر لحاظ سے مکمل ہوں۔ مینا خان افریدی کی ہدایت