چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت منگل کے روز ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے ڈیجیٹائزیشن روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، منیجنگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف محکموں کی 1192 خدمات کو سال 2030 تک ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ 377 خدمات کو پہلے سال میں ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔ اجلاس میں جنوری 2025 سے اب تک مختلف محکموں کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کے لیے ڈیجیٹل محاصل سسٹم مکمل طور پر فعال ہوچکا ہے، موٹر وہیکل رجسٹریشن دستک ایپ کے ذریعے آن لائن دستیاب ہے، جبکہ ہاؤسنگ اسکیموں کی درخواستیں بھی اب آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ای اسٹیمپنگ کا آغاز ہوچکا ہے، انتقال اور فرد فیس کے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کی خدمات بھی آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ جن خدمات کو ڈیجیٹل کیا جا چکا ہے ان کے لیے 15 اکتوبر 2025 کے بعد مینوئل نظام ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی نوعیت کی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم آر یو کیمرا بیسڈ حاضری سسٹم پر رپورٹس تیار کرے تاکہ حاضری نظام کی افادیت جانچی جاسکے اور سرکاری محکموں میں حاضری کے اعدادوشمار فیصلہ سازی کیلئے دستیاب ہوں۔ چیف سیکرٹری نے یقین دلایا کہ صوبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈیجیٹل خیبرپختونخوا منصوبہ عوامی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری لائے گا اور گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت سے صوبے کے مجموعی گورننس و خدمات سے متعلق امور کو سہل اور تیز بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے معاونِ خصوصی برائے آبپاشی ڈاکٹر محمد اسرار صافی نے چیف انجینئر نارتھ کے دفتر کا دورہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے معاونِ خصوصی برائے آبپاشی ڈاکٹر محمد اسرار صافی نے چیف انجینئر نارتھ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں محکمے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف انجینئر نارتھ انجینئر طارق علی خان نے شمالی ریجن کے آبی نظام، بنیادی ڈھانچے، موجودہ مسائل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنگ انجینئرز، فیلڈ فارمیشن افسران اور آبپاشی کلیکٹرز سمیت متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا نے محصولات کی شفاف وصولی اور جدید نظم و نسق کے لیے ای۔آبیانہ (E-Abiana) نظام متعارف کرایا ہے، جو خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام مردان ڈویژن میں بطور پائلٹ پروجیکٹ آئندہ چند ماہ میں شروع کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے محصولات کی وصولی کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا تاکہ بدعنوانی کے امکانات ختم ہوں اور کسانوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکےں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شمالی ریجن کے 18 اضلاع میں آبی وسائل کے 109 منصوبے جاری ہیں جن میں نہروں، ڈیموں، بیراجوں اور سیلابی حفاظتی ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی شامل ہے۔اس موقع پر معاونِ خصوصی ڈاکٹر اسرار صافی نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر اسرار صافی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مختلف ڈیمز اور منصوبوں کا خود موقع پر جا کر معائنہ کریں گے تاکہ کام کی رفتار اور معیار پر براہِ راست نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اورآبپاشی کے شعبے کے تحت شفافیت، گڈ گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے حقیقی تبدیلی لائیں گے
Effective Measures Underway for Livestock Development and Animal Welfare in Khyber Pakhtunkhwa: Syed Qasim Ali Shah
Khyber Pakhtunkhwa’s Minister for Social Welfare, Syed Qasim Ali Shah, has stated that the livestock sector serves as the backbone of the province’s economy, and the government is taking all necessary steps to achieve self-sufficiency in this field. He expressed these views while addressing an awareness conference on animal welfare, organized on the occasion of World Animal Day in collaboration with the Department of Livestock and private partners.
The special event was held with the support of Brooke Pakistan and other stakeholders, focusing on the welfare of horses and mules. The chief guest of the event was Syed Qasim Ali Shah, while the guest of honor was Chairman of the Chief Minister’s Complaint Cell, Samiullah Khan. The conference was attended by experts, veterinary doctors, civil society representatives, and people from various walks of life.
In his address, Syed Qasim Ali Shah said that taking care of animals is not only a moral and social responsibility but is also closely linked to public health and the economy. He stated, “Timely vaccination and proper care of animals are essential for their health and well-being, and these small precautions can lead to significantly positive outcomes.”
He further added that the government, in partnership with the private sector, is encouraging initiatives aimed at improving animal health, productivity, and overall welfare.
صوبائی وزراء ظاہر شاہ طورو اور سجاد بارکوال کی زیر صدارت ضلع مردان میں زرعی ترقی کے جاری منصوبوں پر پیش رفت بارے اجلاس، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہرشاہ طورو اور وزیر زراعت سجاد بارکوال کی زیر صدارت مردان میں محکمہ زراعت کے جاری منصوبوں اور مالی سال 2025-26 میں منظور شدہ منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی طفیل انجم، ڈیڈک چیئرمین مردان زرشاد خان، ایڈیشنل سیکرٹری ایگریکلچر عادل نواز، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن مراد خان، دیگر متعلقہ افسران سمیت ضلع مردان کے پی ٹی آئی کے رہنما الیاس طورو اور ھارون خان نے شرکت کی۔اجلاس کو مردان میں سائل کنزرویشن، ایگریکلچر ایکسٹینشن، واٹر مینجمنٹ اور ایگریکلچر انجینئرنگ کے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال میں زمینداروں کو معیاری بیج کی فراہمی، زمینوں کی لیولنگ، آبپاشی کے مؤثر نظام کی بہتری اور سائل کنزرویشن کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک ظاہرشاہ طورو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت، معیار اور بروقت عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت زمینداروں کو جدید سہولیات کی فراہمی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واٹر مینجمنٹ اور سائل کنزرویشن کے منصوبے زرعی زمینوں کی زرخیزی بڑھانے اور پانی کے ضیاع میں کمی کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ وزیر زراعت سجاد بارکوال نے کہا کہ محکمہ زراعت جدید ٹیکنالوجی، مشینی زراعت اور کسانوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ صوبے میں زرعی خود کفالت کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔صوبائی وزراء نے افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ مردان سمیت صوبے بھر کے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے اور زرعی معیشت کو مضبوط بنیادیں مل سکیں۔
ڈائریکٹر خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی نے سردریاب میں موجود فیملی پارک کو واگزار کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کو جلد از جلد لیز رقم جمع کرانے اور پارک بحال کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔
خیبرپختونخوا کے وزیرسیاحت، ثقافت، آثارقدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوافضل شکور خان کی ہدایات پر سردریاب میں موجود فیملی پارک کو واگزار کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدارکو جلد از جلد لیز رقم جمع کرانے کے احکامات جاری کردیئے جبکہ ساتھ ہی پارک میں اسی ماہ فیمیلز کیلئے فوڈ فیسٹیول کرانے کا بھی اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی عمر ارشد خان نے گزشتہ روز سردریاب میں موجود خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی کے فیملی پارک کا دورہ کیا اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔سردریاب فیملی پارک 11کنال اراضی پر محیط ہے جسے 2012 میں لیز پر دیا گیا تھا تاہم گزشتہ روز ڈائریکٹر ٹورازم اتھارٹی عمرخان نے وزیرسیاحت و ثقافت فضل شکور خان کی ہدایات پر کاروائی کرتے ہوئے فیملی پارک کو دوبارہ بحال کرنے اور یہاں فیملی کیلئے جلد از جلد صحت مند سرگرمیوں کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ فیملی پارک میں اسی ماہ فیمیلز کیلئے فوڈ فیسٹیول منعقد کیا جائے گا جس میں روایتی کھانوں کیساتھ ساتھ بچوں کیلئے پلے ایئریا اور ثقافتی رنگ انعقاد بھی کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ جانور ہماری معیشت کا ایک لازمی جزو ہیں اور ان کی فلاح و بہبود نہ صرف اخلاقی و دینی فریضہ ہے بلکہ ایک پائیدار معیشت اور صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ جانور ہماری معیشت کا ایک لازمی جزو ہیں اور ان کی فلاح و بہبود نہ صرف اخلاقی و دینی فریضہ ہے بلکہ ایک پائیدار معیشت اور صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ورلڈ اینیمل ڈے کے موقع پر سیرینا ہوٹل پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ، ایم پی اے سمیع اللہ خان، سیکرٹری لائیو سٹاک محمد طاہر اورکزئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز علی، بروکس پاکستان کے نمائندگان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے ہدایت جاری کی کہ جانوروں پر ظلم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خیبرپختونخوا میں جانوروں کی تحفظ کیلئے تاریخی بل منظور کئے گئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک زرعی صوبہ ہے جہاں لائیو سٹاک دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسانوں کے لیے گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور پولٹری صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور بقا کا سہارا ہیں۔ اسی لیے صوبائی حکومت لائیو سٹاک کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پچھلے دو برسوں میں لائیو سٹاک کے تحفظ، فلاح و بہبود اور جدید خطوط پر ترقی کے لیے اہم قانون سازی کی ہے، جن میں خیبر پختونخوا اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024 جانوروں کے ساتھ بہتر سلوک اور فلاح و بہبود کے لیے،خیبر پختونخوا اینیمل ٹرانسپورٹ ایکٹ 2024 انسانوں اور جانوروں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے، خیبر پختونخوا لائیو سٹاک بریڈنگ اینڈ سروے ایکٹ 2024 مقامی نسلوں کی بہتری اور جینیاتی وسائل کے تحفظ کے لیے۔ خیبرپختونخوا اینیمل فیڈ سٹف اینڈ کمپاؤنڈ فیڈ ایکٹ 2024 معیاری چارے کی فراہمی اور جعلی فیڈ کی روک تھام کے لیے۔ خیبر پختونخوا لائیو سٹاک اینڈ پولٹری پروڈکشن ایکٹ 2025 لائیو سٹاک و پولٹری فارمز کی رجسٹریشن اور معیاری پیداوار کے لیے۔ خیبر پختونخوا اینیمل ہیلتھ ایکٹ 2025 جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے عالمی معیار کے مطابق نظام بھی شامل ہیں۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ ان قوانین کے نفاذ سے صوبے میں لائیو سٹاک سیکٹر کو ایک مضبوط قانونی بنیاد حاصل ہوئی ہے، جو نہ صرف جانوروں کی صحت و بہبود کو بہتر بنائے گی بلکہ گوشت، دودھ اور دیگر مصنوعات کے معیار میں اضافہ کرکے برآمدات اور صوبائی معیشت کو مستحکم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک جانوروں کی بیماریوں کے انسداد، بریڈ امپرومنٹ، ویٹرنری خدمات، فیڈ کنٹرول، ویٹرنری ٹرینگ اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ صوبائی وزیر نے بروکس پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جانور صرف ذریعہ معاش نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں ان کے ساتھ رحم، انصاف اور نگہداشت کا برتاؤ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر ان کے حقوق اور فلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے شرکاء میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان کی زیر صدارت محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ کے حوالے سے اجلاس
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے کہا ہے پارٹی لیڈر عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے ہدایات کے مطابق محکمہ تعلیم میں گڈ گورننس روڈ میپ پر کامیابی سے کام جاری ہے اور اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پلان کے تحت صوبے کے تمام سکولوں میں طلباء وطالبات کو سو فیصد فرنیچر، وائٹ بورڈز اور دیگر تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع کے دو دو سکولوں کو سینٹر آف ایکسیلینس بنایا جائے گا۔ جبکہ صوبہ بھر کے سکولوں میں کلاس رومز کی کمی پوری کرنے کے لیے 10 ہزار سے زائد اضافی کلاس رومز تعمیر کئے جائیں گے۔ صوبہ بھر کے پیرنٹس ٹیچرز کونسل کو فعال کرکے دورانیہ پورا ہونے والوں کی ممبران کی دوبارہ تعیناتی، ان کی تربیت اور پی ٹی سی کے زریعے صوبے کے تمام سکولوں میں سہولیات فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نصابی سرگرمیوں کی غرض سے صوبے کے تمام اضلاع میں ٹورنامنٹس منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ یہ ٹورنامنٹس صوبہ بھر میں 20 اکتوبر سے شروع کیا جائے۔ اور کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائے۔ تاکہ یہاں سے منتخب کھلاڑیوں کو نیشنل اور انٹرنیشنل لیول کے مقابلوں میں صوبے کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہو۔ انہوں نے مزید ہدایات جاری کی کہ صوبے کے تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں کمپیوٹر لیبز کے قیام اور انٹرنیٹ کنکشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے حکام صوبے کے تمام اضلاع میں غیر فعال آئی ٹی لیبز اور آئی ٹی ٹیچرز کی کمی کی رپورٹ بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور ڈیجیٹائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری عبدالباسط اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔معاون خصوصی برائے تعلیم محمد عاصم خان نے مزید کہا کہ سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے انقلابی اقدامات کئے جائیں گے اور صوبہ بھر میں حصوصی مہمات چلائے جائیں گے۔ جس کیلئے جامع پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام بچوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تعلیم کارڈ کا اجراء کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کو سکالرشپس، مفت درسی کتابوں بشمول دیگر تمام سہولیات فراہم کی جائے گی۔ اُنہوں نے ایجوکیشن حکام کو ٹائم لائن کے مطابق کام کے رفتار میں مزید تیزی لانے اور اس کارڈ کو متعلقہ فورمز سے جلد ازجلد منظوری لینے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تقریباً ساڑھے تین ہزار مڈل سکولوں میں بھی STEM ایجوکیشن لیبز قائم کئے جائیں گے۔ جبکہ صوبے کے تمام بورڈز کو ہدایت دی کہ شروع ہونے والے امتحانات کی مکمل سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی جائے۔ اور تمام امتحانی ہالوں میں انسپکٹرز کو تعینات کیا جائے۔ میرٹ اور شفاف امتخانات کا انعقاد صوبہ بھر میں یقینی بنایا جائے۔ محمد عاصم خان نے مزید کہا کہ اساتزہ کی کمی پوری کرنے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں میرٹ پر 17 ہزار اساتذہ عنقریب ایٹا کے ذریعے بھرتی کئے جارہے ہیں۔ جبکہ یونیسیف کے ذریعے بھی اساتذہ بھرتی کرنے کیساتھ ساتھ 2500 انٹرنیز کو بھی محکمہ تعلیم میں کام کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محنت زاہد چن زیب کی زیر صدارت محنت کشوں کی فلاح کے اداروں سے متعلق تعارفی اجلاس مزدور طبقے کی سماجی و معاشی بہبود کے لیے مربوط اقدامات پر زور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ محنت زاہد چن زیب کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس محکمہ محنت کے تحت منعقد ہوا، جس میں صوبے کے محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے فعال اداروں کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیر سیاحت و ثقافت فضل شکور خان، سیکرٹری لیبر، ورکرز ویلفیئر بورڈ، ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن، ڈائریکٹوریٹ آف لیبر، اور ورکرز چلڈرن ایجوکیشن بورڈ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محنت کشوں کو فراہم کی جانے والی سماجی تحفظ، طبی سہولیات، رہائش، اور ان کے بچوں کی معیاری تعلیم سے متعلق امور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ورکرز ویلفیئر بورڈ نے محنت کشوں کے لیے رہائشی سکیموں، مالی معاونت اور تعلیمی وظائف سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات،اور بیمہ پروگراموں کی تفصیلات پیش کیں۔ڈائریکٹوریٹ آف لیبر کے حکام نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ، اور ورکنگ کنڈیشنز کی بہتری کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ ورکرز چلڈرن ایجوکیشن بورڈ نے مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم، اسکالرشپس اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔مشیر محنت زاہد چن زیب نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مزدوروں کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے جاری منصوبوں کو،عملی نتائج میں بدلنے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔وزیر سیاحت و ثقافت فضل شکور خان نے کہا کہ صوبے کی ترقی میں مزدور طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور ان کی فلاح کے لیے سرکاری اقدامات دراصل پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں۔اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں جاری منصوبوں اور آئندہ کے اہداف سے متعلق تفصیلی رپورٹس مرتب کر کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں تاکہ محنت کش طبقے کے مفاد میں مربوط پالیسی سازی ممکن بنائی جا سکے۔
وزیر قانون خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ناکارہ سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنے پر غور
خیبر پختونخوا میں ناکارہ اور ناقابلِ استعمال سرکاری گاڑیوں کی صوبائی و ضلعی سطح پر نیلامی کے لیے شفاف اور مؤثر نظام وضع کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کی۔اجلاس کا مقصد عوامی خزانے کے تحفظ، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، اور نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایک جامع میکانزم تیار کرنا تھا۔اجلاس میں محکمہ ایکسائز، محکمہ ایڈمنسٹریشن، محکمہ پولیس اور محکمہ خزانہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے نیلامی کے طریقہ کار، گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے اصول، اور شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ نیلامی کے تمام مراحل کو جدید ٹیکنالوجی اور واضح قواعد و ضوابط کے تحت انجام دیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی سطح پر ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی کو مؤثر بنانے کے لیے صوبائی سطح کی کمیٹی، ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر میکانزم تشکیل دینے کے اقدامات کرے گی۔ مزید برآں، نیلامی کے عمل میں بدعنوانی کے تدارک اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے ایک مرکزی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی جو تمام مراحل کی نگرانی کرے گی۔اجلاس میں صوبائی حکومت کے 36 اضلاع میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے ڈیٹا کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ ناکارہ اور پرانی گاڑیوں کی نشاندہی اور ان کی نیلامی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔مزید یہ بھی طے پایا کہ تکمیل شدہ منصوبوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں، جو پراجیکٹس کے اختتام کے بعد این سی پی کیٹگری میں آتی ہیں، کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اس موقع پر کہا کہ نیلامی کے عمل میں دستاویزات کی دستیابی، گاڑیوں کی دوبارہ رجسٹریشن، اور سکریپ قرار دی جانے والی گاڑیوں کے قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ کلوزڈ پراجیکٹس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ انہیں سرپلس میں شامل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر قانون نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تجاویز جلد از جلد جمع کروائیں تاکہ نیلامی کے عمل کو عملی شکل دے کر سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
Khyber Pakhtunkhwa Government launches Rs. 500 million three-year saffron cultivation project — New avenues of prosperity for farmers and women across 21 districts
Government of Khyber Pakhtunkhwa has launched a three-year project worth Rs. 500 million to promote saffron cultivation aimed at economically empowering poor and small farmers of the province. Under this initiative, starting from the fiscal year 2024–25, saffron cultivation is being introduced in 21 districts of the province, including Upper Chitral, Lower Chitral, Upper Dir, Lower Dir, Bajaur, Malakand, Upper Swat, Lower Swat, Shangla, Buner, Abbottabad, Mansehra, Battagram, Torghar, Haripur, Swabi, Hangu, and North and South Waziristan, among others.
Officers and field staff of the Agriculture Department are guiding farmers on modern techniques of saffron cultivation, including land preparation, planting of corms, and crop management practices to ensure successful production of this high-value crop.
The project is being implemented under the supervision of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Ali Amin Gandapur, Provincial Minister for Agriculture Major (R) Muhammad Sajjad Barakwal, and Secretary Agriculture Dr. Ambar Ali Khan. The provincial leadership has expressed confidence that saffron cultivation can bring a new economic revolution to the province and significantly enhance farmers’ income.
Hajira Kamal, a female farmer from Mastuj, Upper Chitral, has cultivated saffron on her land under the guidance of the Agriculture Department. She shared that she received a six-hour training session organized by the department in Booni, where she learned all the steps of saffron cultivation. According to Hajira Kamal, “This project is a new opportunity for women farmers to achieve financial independence and prosperity. I am grateful to the Agriculture Department and the Minister for Agriculture for providing us with the chance to grow this rare and valuable crop.”
Encouraging results have been observed from the model saffron plot established in Upper Chitral, and local farmers are hopeful that the initiative will boost agricultural development and create new employment opportunities in the region. The project will not only help increase farmers’ incomes but also mark the beginning of a new era of modern and profitable farming in Khyber Pakhtunkhwa.
