Home Blog Page 82

صوبے میں جنگلات کا فروغ اور جنگلی حیات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مشیر وزیراعلیٰ پیر مصور خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات جنید خان، چیف وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق، محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹرز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر وزیراعلیٰ کو محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، سالانہ ترقیاتی پروگرام، صوبے میں جنگلات کے رقبے میں اضافے، شجرکاری مہم اور نایاب جنگلی حیات کے تحفظ و فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ پیر مصور خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات اور جنگلی حیات صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گرین کور کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے استحکام کے لیے مزید مؤثر اور دیرپا اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل شفافیت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے جائیں۔ مشیر وزیراعلیٰ نے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سختی سے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔پیر مصور خان نے محکمے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کرپشن فری وژن کے تحت محکمہ میں شفافیت، احتساب اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ہائی ویزاتھارٹی کے تحت صوبے میں جاری اور نئی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائ

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ہائی ویزاتھارٹی کے تحت صوبے میں جاری اور نئی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور ہائی ویز سڑکوں پر مقررہ حد سے زیادہ بھاری گاڑیوں کی ان روڈز پر روک تھام کے لیے قانونی اور فوری مناسب اقدامات اٹھائیں جبکہ ہائی ویز ٹول پلازہ کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ ٹول ٹیکس سے حاصل ریوینیومیں اضافہ ہو ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں خیبر پختنخوا ہائی ویز اتھارٹی سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نور الامین مینجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی سہیل خان رکن قومی اسمبلی محبوب شاہ رکن صوبائی اسمبلی اعظم خان اور دیگر متعلق افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کوخیبر پختونخواہائی ویز اتھارٹی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کی نئی سکیموں کی 80 فیصد فیزیبلٹی مکمل ہو گئی ہے اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان تعمیراتی کاموں کو سٹینڈرڈ اپریٹنگ پروسیجر کے تحت مکمل کیے جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نےبریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ صوبے کی سڑکوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ خیبر پختونخواہائی ویز کے اراضی کو بزنس کے مقاصد کے استعمال میں لانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ کمراٹ روڈ پر کام کو تیز کیا جائے تاکہ سیاحوں کو آمدورفت میں آسانی ہو صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخواہائی ویز ٹیسٹنگ لیبارٹری کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے ۔

صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا صوبائی بجٹ سے متعلق بیان

صوبائی بجٹ پر بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت اور ملاقات کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے،شفیع جان

صوبائی بجٹ میں عمران خان کے وژن اور عوامی ترجیحات کی حقیقی عکاسی کے لیے ان سے مشاورت ناگزیر ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا حکومت ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ تیار کر چکی ہے، شفیع جان

بجٹ عوامی ضروریات اور امنگوں کے مطابق ہوگی، شفیع جان

یہ بجٹ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور نئے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا، شفیع جان

بجٹ میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، شفیع جان

محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت ترقیاتی عمل اور عوامی خدمت کے ایجنڈے پر قائم ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں اور میرٹ کے فروغ کی عکاسی کرے گا، شفیع جان

وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں وسائل کو عوام کی فلاح اور صوبے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا، شفیع جان

یہ بجٹ خیبرپختونخوا کے عوام کے بہتر مستقبل کا روڈ میپ ہوگا، شفیع جان

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) کے درمیان سب انجینئرز (BPS-12) کی بھرتیوں کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا اور ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) کے مابین سب انجینئرز (BPS-12) کی بھرتیوں کے عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور مؤثر بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔جمعرات کے روز سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دفتر پشاور میں منعقد ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر سنٹر اور ایٹا کےمنیجنگ ڈائریکٹر/ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے دستخط کیے۔مفاہمتی یاداشت کے موقع پر سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، منیجنگ ڈائریکٹر/ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایٹا عادل سعید صافی، ایڈیشنل سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جہانگیر اعظم وزیر، چیف سنٹر ریجن امجد شمشیر، چیف ساؤتھ ریجن ولایت اللہ اور ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن) محمد نزاکت قریشی سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں عوام کو پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ میں تکنیکی افرادی قوت کی دستیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب انجینئرز کی بھرتی کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد کو مذید مضبوط بنایاجائیگا تاکہ بہترین اور قابل امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے۔منیجنگ ڈائریکٹر ایٹا نے یقین دہانی کرائی کہ ایجنسی جدید ٹیسٹنگ نظام، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتی کے تمام مراحل کو بروقت اور غیر جانبدار انداز میں مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایٹا کی اولین ترجیح میرٹ کے فروغ اور نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
دونوں اداروں کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت سب انجینئرز (BPS-12) کی بھرتی کے لیے ٹیسٹنگ، اسکریننگ اور دیگر ضروری مراحل باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔ اس موقع پر دونوں سرکاری اداروں نے بھرتی کے پورے عمل کو ہموار، بروقت، شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے باہمی تعاون اور مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

قانون ساز کمیٹی کا اجلاس سروس ٹربیونل بل 2026 اور موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں ترامیم پر غور

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت دو اہم ایجنڈوں پر مشتمل قانون ساز کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول، ایڈووکیٹ جنرل آفس، محکمہ قانون، محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل بل 2026 کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے مجوزہ بل کی قانونی، انتظامی اور آئینی جہات پر غور کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی آراء اور سفارشات سنیں تاکہ سرکاری ملازمین کو مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک وضع کیا جا سکے۔اجلاس کے دوسرے ایجنڈے میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر ٹریفک نظم و نسق، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکسیشن اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی اصلاحات کے مختلف پہلو زیر بحث آئے۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی سہولت اور مؤثر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ترامیمی تجاویز کو مزید بہتر بنایا جائے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے قانونی اور انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سازی کے عمل میں تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی مفاد اور گڈ گورننس کے اصولوں کے مطابق مؤثر قوانین متعارف کرائے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر دونوں مسودات پر موصول ہونے والی آراء اور سفارشات کی روشنی میں ضروری ترامیم شامل کرنے اور آئندہ اجلاس میں حتمی مسودات پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ کی حلف برداری تقریب منعقد

خیبر پختونخوا لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن KPLOWA کی نئی کابینہ کی حلف برداری تقریب محکمہ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی۔ صوبائی وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے نومنتخب کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔نئی کابینہ میں ڈسٹرکٹ اٹارنی ارشد عالم صدر، صمد خان سینئر وائس پریزیڈنٹ، نور علی وائس پریزیڈنٹ، عباس خان جنرل سیکرٹری، طارق خان فنانس سیکرٹری، اسداللہ انفارمیشن سیکرٹری اور ماجد خان جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے جنہوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
تقریب میں سیکرٹری محکمہ قانون ، ڈی جی لاء اینڈ ہیومن رائٹس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ، اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر پختونخوا لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن ارشد عالم نے ایسوسی ایشن کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے تمام سابق صدور نے لاء آفیسرز اور ڈسٹرکٹ اٹارنیز کو درپیش مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے قابل قدر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبے بھر میں 75 ڈسٹرکٹ اٹارنیز مختلف سول مقدمات میں حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کی کامیابی کا تناسب تقریباً 80 فیصد ہے جو ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ارشد عالم نے کہا کہ وزیر قانون آفتاب عالم کی خصوصی کاوشوں اور دلچسپی کے باعث گزشتہ سال ڈسٹرکٹ اٹارنیز کو اسپیشل الاؤنس کی منظوری ملی جس سے لاء آفیسرز کے حوصلے بلند ہوئے اور ان کی فلاح و بہبود میں بہتری آئی۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ قانون نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لاء آفیسرز کے تمام جائز مطالبات کے حل کے لیے محکمہ قانون اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ اٹارنیز بھی اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مزید محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ڈسٹرکٹ اٹارنیز صوبے میں قانون کی حکمرانی، حکومتی مفادات کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈسٹرکٹ اٹارنیز کے متعدد جائز مطالبات کو بڑی حد تک پورا کیا ہے جبکہ دیگر جائز مطالبات کے حل کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔آفتاب عالم نے کہا کہ لاء آفیسرز ایکٹ میں ضروری ترامیم بھی زیر غور ہیں تاکہ ادارے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سروس ڈیلیوری کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی اور تمام لاء آفیسرز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے جوابدہ ہیں۔وزیر قانون نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی کابینہ لاء آفیسرز کے حقوق کے تحفظ، ان کی فلاح و بہبود اور ادارے کی بہتری کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ قانون اور حکومت خیبر پختونخوا لاء آفیسرز کو درپیش پیشہ ورانہ اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔تقریب کے اختتام پر وزیر قانون آفتاب عالم نے اپنی خدمات مکمل کرکے ریٹائر ہونے والے لاء آفیسرز نورزمان، زبیر خان اور مصطفیٰ کمال کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں توصیفی شیلڈز پیش کیں۔ شرکاء نے ریٹائر ہونے والے افسران کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مشیر زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کا جائزہ اجلاس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ (KP-FSSP) کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ فضل قادر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں منصوبے کے تحت حاصل کیے گئے اہداف، جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے مشیر زراعت کو منصوبے کے مختلف اجزاء اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت زرعی شعبے کی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے زرعی پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاشتکاروں کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی، جس سے صوبے کا زرعی شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔بریفننگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ 88 ملین امریکی ڈالر لاگت کے خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ منصوبے کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں کاشتکاروں کی بحالی، زرعی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید زرعی نظام کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اب تک 9 لاکھ 23 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فارمر ڈیٹا بیس قائم ہوا ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای سبسڈی سسٹم اور برانچ لیس بینکنگ ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جبکہ کسانوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر گریوینس ریڈریسل میکنزم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ کراپ رپورٹنگ سروسز (CRS) کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ فیلڈ سرگرمیوں کے لیے 500 موٹر سائیکلیں، 6 ٹریکٹرز اور 6 منی ٹرک فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد زرعی دفاتر اور لیبارٹریوں کی سولرائزیشن اور بحالی کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو گندم، دھان اور کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، 42 ہزار سبزی کاشتکاروں کی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ 28 ہزار خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں 25 ہزار خواتین میں سیڈ کلیننگ اور محفوظ زرعی استعمال کی کٹس بھی تقسیم کی جا چکی ہیں۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری سرگرمیوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچ سکیں۔

ڈائریکٹرایکسائز پشاور ریجن کی زیرِ صدارت ای ٹی او افس اور انجمن صرافہ بازار پشاور کے عہدیداران کا اہم اجلاس منعقد

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے ڈائریکٹر پشاور ریجن سید الآمین کے زیرِ صدارت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس (ای ٹی او-II) پشاور کے افسران، انجمن صرافہ بازار پشاور کے عہدیداران کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد صرافہ بازار سے متعلق پراپرٹی ٹیکس کے معاملات، تاجروں کے تحفظات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرنا تھا۔اجلاس کے دوران صرافہ بازار کے نمائندگان نے پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے درپیش مسائل، ٹیکس کے تعین، ادائیگی کے طریقۂ کار اور دیگر متعلقہ امور پر اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔ ڈائریکٹر پشاور ریجن سید الآمین نے تمام شرکاء کے مؤقف کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن عوامی سہولت، شفافیت اور قانون کے مطابق مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیتا ہے۔اس موقع پر محکمہ ایکسائز کے افسران نے پراپرٹی ٹیکس کے قوانین، طریقۂ کار اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی اور تاجروں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کے جائز تحفظات کے ازالے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ محکمہ ایکسائز اور تاجر برادری کے درمیان مسلسل رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے ٹیکس سے متعلق امور کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ حکومتی محصولات کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے۔انجمن صرافہ بازار پشاور کے صدر اور نمائندگان نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے مثبت رویے کو سراہتے ہوئے محکمہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور ٹیکس نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کا محکمہ خوراک کے گندم گودام کا دورہ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار نے کوہاٹ روڈ پشاور میں محکمہ خوراک کے گندم گودام کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے گودام میں موجود گندم کے ذخائر، سٹاک رجسٹر، ریکارڈ اور ذخیرہ کرنے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ڈاکٹر محمد اسرار نے گودام میں گندم کے معیار، صفائی ستھرائی، اور ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گندم کے ذخائر کو موسمی اثرات، نمی، کیڑوں اور دیگر ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
انہوں نے گودام کے ریکارڈ اور سٹاک رجسٹر کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے شفافیت اور درست اندراجات کی اہمیت پر زور دیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ گندم کے ذخائر کی مسلسل نگرانی اور باقاعدہ آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد اسرار نے کہا کہ عوام کو معیاری آٹے کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے گندم کے سرکاری ذخائر کی حفاظت، مؤثر انتظام اور بروقت دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
دورے کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر فوڈ محسن اقبال اور دیگر افسران بھی موجود تھے جنہوں نے گندم کے ذخائر اور انتظامی امور کے حوالے سے مشیرِ خوراک کو تفصیلی بریفنگ دی۔

معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت محکمہ بہبود آبادی کا اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت محکمہ بہبود آبادی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری بہبود آبادی انیلہ محفوظ درانی ، ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی، محکمہ کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معاون خصوصی کو محکمہ بہبود آبادی کے پروگرامز، جاری سرگرمیوں، سروس ڈلیوری میکانزم، اہداف اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے بتایا کہ محکمہ بہبود آبادی صوبے بھر میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور آبادی کو پائیدار سطح پر لانے کے قومی اہداف کے حصول میں پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کے درمیان صحت مند وقفے کو فروغ دینے کے لیے مانع حمل سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں تاکہ زچہ و بچہ کی صحت بہتر ہو اور خاندانوں کی سماجی و معاشی حالت میں بہتری آئے۔حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ محکمہ بہبود آبادی اس وقت عوام کو مفت مانع حمل ادویات، عمومی ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق دیگر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان خدمات کا مقصد غیر منصوبہ بند حمل، زچگی سے متعلق پیچیدگیوں اور ماں و بچے کی صحت کو درپیش خطرات میں کمی لانا ہے۔بریفنگ میں محکمہ کے آئندہ اہداف سے متعلق بتایا گیا کہ سال 2030 تک مانع حمل استعمال کی شرح کو 30 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی شرح پیدائش کو 4.1 سے کم کر کے 2.8 تک لانے اور آبادی میں اضافے کی شرح کو 2.8 فیصد سے کم کر کے 1.4 فیصد تک لانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دینے اور خدمات کی رسائی کو نچلی سطح تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے محکمہ بہبود آبادی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔طفیل انجم نے ہدایت کی کہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہی کو مزید مؤثر بنایا جائے، دیہی اور دور افتادہ علاقوں تک خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو جدید سہولیات سے مستفید کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ صوبے میں صحت مند اور متوازن معاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔انھوں نے گھوسٹ ملازمین کی نشاندھی، محکمہ بہبود آبادی سے دیگر محکموں کو ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران اور عملے کو واپس لانے ، محکمہ کے اندر افسران اور ملازمین کے تبادلوں پر پابندی لگانے کی بھی ہدایات جاری کیں