Home Blog Page 89

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Public Health Engineering Department(PHED) Fazal Shakoor Khan on Thursday chaired a review meeting regarding various water supply schemes of districts Mardan and Swabi.

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Public Health Engineering Department(PHED) Fazal Shakoor Khan on Thursday chaired a review meeting regarding various water supply schemes of districts Mardan and Swabi.

The meeting held at office of the provincial minister in Peshawar which was attended by XEN of Mardan and Swabi.

The Provincial Minister was given a detailed briefing on the ongoing, near-completion, and proposed water supply schemes in Mardan and Swabi. He was also informed about the current progress of the projects, availability of funds, technical challenges, water supply systems, and measures being taken to provide better clean drinking water facilities to the public.

Speaking on the occasion, Provincial Minister Fazal Shakoor Khan said that the provision of clean drinking water to the people is among the top priorities of the KP government, and all available resources are being utilized to achieve this objective.

He directed the concerned authorities to further accelerate work on all ongoing projects so that they could be completed within the stipulated timeframe and provide relief to the public.

He emphasized that quality, transparency, and effective monitoring in development projects must be ensured at all costs, adding that any negligence or delay in this regard would not be tolerated. The Provincial Minister further said that emergency measures should be taken in areas facing severe water shortages so that public grievances could be addressed on a priority basis.

Mr Fazal Shakoor Khan also directed the concerned officers to ensure their presence in the field, regularly monitor the projects, and adopt an effective strategy for the timely resolution of public complaints. He added that PHED must perform its responsibilities more effectively with a spirit of public service in order to ensure the provision of clean drinking water on equal basis in both urban and rural areas.

He maintained that the current KP government is taking serious measures to provide basic facilities to the people, and all available resources are being utilized to improve the standard of living of the public through the timely completion of water supply schemes.

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و تعمیرات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و تعمیرات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم،ممبران قائمہ کمیٹی اور اراکین اسمبلی محمد یامین خان، زبیر خان، محترمہ عارفہ بی بی، محترمہ اسماء عالم، محترمہ فرح خان اور محترمہ شاہدہ وحید کے علاوہ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بمع متعلقہ عملہ، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 21 دسمبر 2024 کو منعقدہ گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے شدید اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو اہم معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر نا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ گزرنے کے باوجود اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مذکورہ منصوبے کے تحت ضلع جنوبی وزیرستان، سابقہ فاٹا اور اپر دیر میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و بحالی شامل تھی۔
سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے سے متعلق اب تک تین انکوائریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں بعض اعلیٰ افسران کی دو، دو درجات تنزلی کی گئی، جبکہ مختلف کنٹریکٹرز سے 82 ملین روپے کی ریکوری بھی تجویز کی گئی ہے۔ تاہم پانچ کنٹریکٹرز نے اس ریکوری کے خلاف ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر رکھا ہے، جو اگست 2023 سے برقرار ہے۔ سیکرٹری نے مزید بتایا کہ محکمہ کے پاس مؤثر قانونی پیروی کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں۔ اس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ ہائی کورٹ میں مؤثر پیروی اور حکمِ امتناع کے خاتمے کے لیے اعلیٰ قانونی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے فوری طور پر سمری ارسال کی جائے تاکہ ریکوری اور تحقیقی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی محمد یامین خان نے ضلع اپر دیر میں سڑکوں اور پلوں کی خستہ حالی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال قبل سیلاب سے تباہ ہونے والے متعدد پل اور سڑکیں تاحال تعمیر یا مرمت نہیں کی گئیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی، جو ضلع اپر دیر کا دورہ کرکے جاری اور مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔
کمیٹی کے اراکین نے ضلع مردان میں مختلف اہم شاہراہوں کی ابتر صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خصوصاً بخشالی روڈ، پلوڈھری روڈ اور کاٹلنگ روڈ کی خستہ حالی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مذکورہ سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے

محکمہ ایکسائز کے زیر اہتمام ٹیکس نظام میں شفافیت اور سہولیات کے فروغ کیلئے پشاور اورمردان میں تاجروں سے مشاورتی اجلاس اور فیلڈ سرگرمیاں

خیبرپختونخوا حکومت کے احکامات کے مطابق ٹیکس نظام میں شفافیت، عوامی سہولیات اور محصولات میں اضافے کے پیش نظر سیکریٹری ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس کی ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ ایکسائز کے تحت مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔سیکریٹری ایکسائز خالد الیاس نے محکمہ کے افسران کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ دفتر سے باہر فیلڈ میں گزارے، تاجروں اور کاروباری حضرات سے براہِ راست ملاقاتیں کرے اور ٹیکسیشن سے متعلق تاجروں کو درپیش مسائل اور شکایات کے فوری حل کیلئے عملی اقدامات یقینی بنائے۔اسی سلسلے میں پشاور اور مردان میں تاجروں اور کاروباری برادری کے نمائندگان کے ساتھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران کی جانب سے مختلف اجلاسوں، مشاورتی نشستوں اور فیلڈ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا تاکہ ٹیکس نظام کو مزید سہل، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔پشاور میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (ای ٹی او ٹو) پراپرٹی ٹیکس توصیف خان نے پراپرٹی ٹیکس سے متعلق شہر کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران مختلف انجمنِ تاجران کے عہدیداران اور دکانداروں سے ملاقاتیں کی گئیں جن میں تاجروں نے پراپرٹی ٹیکس سے متعلق اپنے مسائل، تجاویز اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ای ٹی او توصیف خان نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت تاجروں کے جائز مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں مزید آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بروقت ٹیکس ادائیگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن عوامی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور شہری خدمات کی بہتری پر خرچ کی جاتی ہے۔پشاور میں ڈاکٹر زاہد اقبال خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (ETO-3)، اور سرحد چیمبر آف کامرس کے نمائندگان کے مابین بھی ایک اہم اجلاس بمنعقد ہوا۔اجلاس میں جنید خان صدر سرحد چیمبر آف کامرس، ایوب زکوڑی صدر انجمنِ انڈسٹریز سمیت مختلف تاجران تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف انجمنِ تاجران کو درپیش مسائل، تحفظات اور تجاویز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مردان میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد خالد خان اور مردان چیمبر آف کامرس کے تاجران کے مابین ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تاجروں کو درپیش مسائل اور تجاویز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے دوران تاجروں کی سہولت اور فوری رہنمائی کیلئے مردان چیمبر آف کامرس میں “ٹیکس فیسلیٹیشن اینڈ شکایات ڈیسک” کا افتتاح بھی کیا گیا۔ تاجران اپنے مسائل اور شکایات تحریری درخواست کی صورت میں مذکورہ ڈیسک پر جمع کرا سکیں گے تاکہ ان کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے

ہزارہ ڈویژن میں عیدالاضحیٰ پر بہترین انتظامات، ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور سیاحوں کو بھرپور سہولیات فراہم کی جائیں، کمشنر ہزارہ

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیر صدارت عیدالاضحیٰ کے انتظامات، صفائی، سکیورٹی، ایندھن کی فراہمی اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہزارہ ریجن کے تمام ڈپٹی کمشنرز ، ڈی پی اوز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف اداروں کی جانب سے عید انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ ناصر محمود ستی بھی اجلاس میں موجود تھے۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام مویشی منڈیوں میں بہترین سہولیات اور مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں جبکہ غیر قانونی مویشی منڈیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر این او سی قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آلائشوں اور ویسٹ ڈسپوزل کے لیے باقاعدہ زونز قائم کیے جائیں اور صفائی کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ کمشنر ہزارہ نے تمام امیوزمنٹ پارکس کو عید سے قبل اپنی فٹنس اور حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں سیاحوں کی سہولت اور تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ کمشنر ہزارہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیاحوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور انہیں غیر ضروری طور پر تنگ نہ کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ پولیس، ایکسائز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سیاحوں کی گاڑیوں کے بے جا چالان سے گریز کیا جائے، تاہم سکیورٹی کے پیش نظر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے جا سکتے ہیں۔کمشنر ہزارہ نے تمام اضلاع میں عید کے دوران ریکوری گاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عید کے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت سے بچنے کے لیے تمام پٹرول پمپس پر ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں اور سیاحوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمشنر ہزارہ نے کہا کہ تمام محکمے سرکار کے ادارے ہیں اور ان کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے، اس لیے تمام افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریاں مکمل احساس اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے عیدالاضحیٰ کے دوران مؤثر رابطے اور بروقت کارروائی کے لیے اپنے اپنے کنٹرول رومز فعال کریں تاکہ شہریوں اور سیاحوں کو فوری سہولیات اور معاونت فراہم کی جا سکے۔کمشنر ہزارہ نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن امن و امان کے حوالے سے مکمل طور پر محفوظ ہے اور سیاحتی مقامات پر کسی بھی قسم کی ہڑل بازی یا بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں ہوٹل مالکان کو بھی ہدایت جاری کی گئی کہ وہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کریں اور خوش اخلاقی کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت ایم سی سی کے کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت ایم سی سی کے کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت سے متعلق مختلف امور اور واجبات کی ادائیگی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کامیاب بولی دہندگان نے صوبائی وزیر صحت کو آگاہ کیا کہ محکمہ صحت کی جانب ان کے تقریباً دو ارب روپے کے واجبات تاحال زیر التواء ہیں، جس کے باعث متعلقہ منصوبوں اور طبی سہولیات کی فراہمی کے عمل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تمام واجبات کی ادائیگی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کا عمل متاثر نہ ہو۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام زیر التواء واجبات ایک ہفتے کے اندر کلیئر کیے جائیں اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر کے اسباب کا جائزہ لیا جائے اور ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جو تمام قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے مکمل ہونے کے باوجود ادائیگیوں میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔وزیر صحت نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں شفافیت، بروقت ادائیگیوں اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے منصوبوں میں تاخیر یا رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون اور اعتماد کی فضا کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور طبی سہولیات کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

حکومت کا صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.7 ٹریلین روپے جمع کرنے کا امکان ہے رواں سال حکومت کے 5.6 ٹریلین روپے نان ٹیکس ریونیو حاصل کرنے کی توقع ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پیٹرولیم لیوی، نان ٹیکس ریونیو اور ملکی قرضہ جات سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.7 ٹریلین روپے جمع کرنے کا امکان ہے یہ رقم قابلِ تقسیم پول (Divisible Pool) کا حصہ نہیں ہوتی اسی طرح رواں سال حکومت کے 5.6 ٹریلین روپے نان ٹیکس ریونیو حاصل کرنے کی توقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈز دوبارہ وفاقی حکومت ہی اپنے پاس رکھتی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ صوبوں کو بڑا حصہ ملتا ہے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے ایک سال دوران حکومت کے قرض میں 6,800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے حکومت نے ایک مہینے میں 566 ارب اور دن کا 18.66 ارب قرض لیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اپریل 2022 رجیم چینج کے بعد چار سال میں حکومت کے قرض میں 37,000 ارب کا اضافہ ہوا اور حکومت نے فی مہینہ 770 ارب روپے کی رفتار سے قرض لیا اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر 25.3 ارب روپے قرض لیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 3.5 سالہ دور میں 18,500 ارب روپے قرض میں اضافہ ہوا جو اوسطاً ایک مہینہ میں شہباز شریف کے 770 ارب روپے کے مقابلے میں 440 ارب روپے ہے اور روزانہ بانی پی ٹی آئی عمران خان حکومت کے قرض میں 14.48 ارب کی رفتار سے اضافہ ہوا جبکہ شھباز شریف حکومت کے دور میں 25.3 ارب کی رفتار سے اضافہ دیکھا گیا پس ملکی قرض جات کی رفتار سے دونوں کی کارکردگی صاف ظاہر ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ بشمول ضم اضلاع میں زرعی شعبے سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت ضلع کوہاٹ بشمول ضم اضلاع میں زرعی شعبے سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اہم اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سوائل اینڈ واٹر کنزرویشن، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر انجینئرنگ، پراجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈی ڈی پی کوہاٹ سمیت متعلقہ حکام اور افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کوہاٹ اور ضم شدہ علاقوں میں جاری زرعی ترقیاتی منصوبوں، بارانی علاقوں میں زراعت کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، فارم میکنائزیشن، سولرائزیشن، باغبانی، زیتون کی کاشت، آف سیزن فارمنگ اور کسانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں میں سوائل کنزرویشن کے بیش بہا مواقع موجود ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی زرعی شعبے میں ترقی کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں زرعی شعبے میں سولرائزیشن کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ محکمہ زراعت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زرعی ٹیوب ویلز اور آبپاشی نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے مختلف اقدامات جاری ہیں تاکہ کسانوں کو مہنگے ایندھن اور بجلی کے اخراجات سے نجات دلائی جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ سولرائزیشن کے ذریعے نہ صرف زرعی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ دور دراز اور بجلی سے محروم علاقوں میں بھی آبپاشی کا نظام مؤثر بنایا جا سکے گا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ موجودہ توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی زرعی لاگت کے تناظر میں سولرائزیشن وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلز، واٹر پمپس اور جدید آبپاشی نظام کسانوں کیلئے انقلابی سہولت ثابت ہوں گے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور پانی کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سولرائزیشن منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور معیاری آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسان برادری حکومتی اقدامات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سولرائزیشن خصوصاً بارانی اور پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔محکمہ زراعت کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ورٹیکل نیٹ فارمنگ، آف سیزن فارمنگ، بانس فروٹس پروڈکشن، بالخصوص آمرود کی پیداوار کے فروغ، زرعی مشینری کی تنصیب اور زرعی کیمیکلز کی فراہمی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیر قانون نے مذکورہ ان پٹس کی تقسیم کے طریقہ کار میں شفافیت کو لازم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سہولیات میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر کسانوں تک پہنچائی جائیں۔اجلاس میں حکام نے ٹیلی فارمنگ اور کسانوں تک معلومات کی بروقت فراہمی کے نظام پر بھی بریفنگ دی جبکہ بینیفیشریز لسٹ اور متعلقہ ریکارڈ کے حوالے سے تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔آفتاب عالم نے کہا کہ فارم میکنائزیشن کے سلسلے میں مختص کی گئی قیمتی زرعی مشینری کو خستہ حال ہونے سے بچانے کیلئے جامع اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ حکومتی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ زراعت کے حکام نے اجلاس کو مزید بتایا کہ زیتون کی کاشت کے فروغ کیلئے وائلڈ اولیو فارمنگ کے تحت 12 ہزار پودوں کی کاشت مکمل کی جا چکی ہے اور فی پودہ 21 کلو تک پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ فارسٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے منصوبوں میں کامیابی کی شرح 80 فیصد جبکہ محکمہ زراعت کی جانب سے کامیابی کی شرح 30 فیصد ہے، جس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے منصوبوں کی مؤثر تکمیل اور شفاف عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ کے نظام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ان منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے مختلف علاقوں کے دورے کریں گے۔

خیبر پختونخواکےوزیرِ صحت خلیق الرحمان نے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ پشاور میں جدید آنکالوجی وارڈ اور مریضوں کی نگہداشت کی نئی سہولیات کا افتتاح کیا

خیبر پختونخواکےوزیرِ صحت خلیق الرحمان نے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ پشاور میں جدید آنکالوجی وارڈ اور مریضوں کی نگہداشت کی نئی سہولیات کا افتتاح کیا۔ وزیرِ صحت نے نئی آنکالوجی وارڈ کا باقاعدہ افتتاح فیتہ کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر آر ایم آئی شفیق الرحمان، چیف آپریٹنگ آفیسر کرنل (ر) طارق، شعبۂ آنکالوجی کے سربراہ ڈاکٹر فواد القمر اور ادارے کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔افتتاح کے بعد صوبائی وزیرِ صحت نے نئے آنکالوجی وارڈ اور آنکالوجی فارمیسی کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہیں مریضوں کو فراہم کی جانے والی جدید طبی سہولیات، علاج معالجے، ادویات اور مریضوں کی نگہداشت کے نظام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ صحت نے ادارے میں فراہم کی جانے والی جدید کینسر کیئر سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے میں کینسر کے مریضوں کو معیاری اور بروقت علاج کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی تاکہ کینسر کے مریضوں کو جدید اور معیاری علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحت کارڈ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور صحت کارڈ کی مالی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا سکے۔تقریب کے دوران کینسر کو شکست دینے والی ایک مریضہ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے آر ایم آئی میں فراہم کردہ علاج، نگہداشت اور سہولیات کو سراہا اور کہا کہ مؤثر علاج کی بدولت وہ اب صحت مند اور معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔اس موقع پر آر ایم آئی انتظامیہ نے بتایا کہ نئے آنکالوجی وارڈ کا قیام جامع کینسر کیئر سسٹم کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور مستقبل میں آنکالوجی خدمات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مریضوں کو ایک ہی جگہ پر مکمل اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور دیگر شرکاء میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی لکی مروت بم دھماکہ کی شدید مذمت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے سرائے نورنگ، ضلع لکی مروت میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور گھناؤنا فعل قرار دیا،انہوں نے بم دھماکے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شفیع جان نے کہا کہ شہداء قوم کا فخر ہیں اور امن کے قیام کے لیے ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔معاون خصوصی نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیام امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے شہداء کے بلند درجات، لواحقین کے لیے صبر و جمیل اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا کی جانب سے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ میں کھلی کچہری کا انعقاد

محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا کی جانب سے گزشتہ روز جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ میں کھلی کچہری کا اہتمام کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ جمشید خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ افسران کے علاؤہ جلوزئی اراضی مالکان اور نیپڈا ہائی رائز فلیٹس کے الاٹیز شریک تھے۔ کھلی کچہری میں آۓ ہوۓ لوگوں نے اپنے تحفظات حکام کے سامنے رکھے جبکہ انہیں اپنے تجاویز و آراء سے بھی آگاہ کیا۔ عوام نے محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے کھلی کچہری منعقد کرانے کو سراہا جبکہ درپیش مسائل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے وہاں ہر ماہ کھلی کچہری منعقد کرانے پر بھی زور دیا۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے جمشید خان نے تمام مسائل متعلقہ فورمز کے ذریعے حل کرانے کی یقین دیہانی کرائی۔ انہوں نے آئینی و عدالتی مسائل کے حل کے لیے لیگل ٹیم کو بروقت اقدامات اٹھانے سے متعلق ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضی مالکان کو رقوم کی ادائیگی سے متعلق محکمہ امور استوار کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے سیشل گرانٹ منظور کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ کا مزید کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوامی شکایات و تجاویز سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے حل کیلئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔