Home Blog Page 89

مینا خان آفریدی کی سوئٹزرلینڈسفیر سے ملاقات، اعلیٰ تعلیم کی مد میں حوصلہ افزائ پیش رفت

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سوئٹزرلینڈ کے سفیر جارج سٹائنر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ملاقات کے موقع پر مینا خان آفریدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مردم شماری 2023 کے مطابق خیبرپختونخواہ کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 6 لاکھ ہے، جن میں سے 65 فیصد نوجوان 15 سے 30 برس کی عمر کے درمیان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان اکثریت صوبے کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جسے درست سمت میں لے جا کر ترقی، خوشحالی، اور امن کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تعاون کے کئی شعبوں کی نشاندہی کی، جن میں مشترکہ ڈگری پروگرام، مشترکہ نگرانوں کے تحت پی ایچ ڈی ریسرچ، اور نصاب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے طلبہ و اساتذہ کے لئے ایکسچینج پروگرام، یونیورسٹی انتظامیہ کی تربیت، اور خیبرپختونخواہ کے طلبہ کے لیے سوئٹزرلینڈ کی جامعات و صنعتوں میں انٹرن شپ مواقع کے بندوبست پر بھی زور دیا۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے کئی شعبوں میں مشترکہ تحقیق کی اہمیت پہ بھی زور دیا جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی، زراعت و غذائی تحفظ، صحت، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن کورسز، قلیل مدتی ڈپلومہ، سمر اسکولز، اور سوئس یونیورسٹی گورننس ماڈلسے استفادہ کر کے خیبر پختونخواہ کی جامعات میں پائیدار مالیاتی و انتظامی اصلاحات کو بھی لازمی قرار دیا۔
ملاقات کے دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر جارج سٹائنر نے خیبرپختونخواہ حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کی نوجوان اکثریت ایک قیمتی اثاثہ ہے جسے تعلیم اور تحقیق کے ذریعے بہتر مستقبل کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے میں شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے اور خیبرپختونخواہ کی جامعات کے ساتھ تعاون اس وژن کا حصہ ہو سکتا ہے۔ سفیر نے یقین دہانی کرائی کہ سوئٹزرلینڈ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر شفقت ایاز کی کراچی میں آئی ٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے کراچی میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی آئی ٹی سی این ایشیا کے دوسرے روز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے آئی ٹی ماہرین، صنعت کار، طلبہ، پالیسی ساز، اور سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے کیونکہ یہی شعبہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے علوم اور مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ قومی معیشت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا لوہا منوا سکیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ڈیجیٹل خیبر پختونخوا‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے، جس کے تحت ای-بستہ، ڈیجیٹل شناختی نظام، ای-سرکاری خدمات، آن لائن تعلیم اور جدید سافٹ ویئر پارکس جیسے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے نہ صرف صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا بلکہ سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے دروازے بھی کھلیں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر نوجوان کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ای-بستہ منصوبے کے ذریعے طلبہ کو ٹیبلیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں تعلیمی مواد اور نگرانی کا جدید نظام شامل ہے، تاکہ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور جدّت پیدا کی جا سکے۔
ڈاکٹر شفقت ایاز نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے بغیر مستقبل کی ترقی ممکن نہیں۔ اسی لیے ہم نہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ عالمی اداروں، نجی کمپنیوں اور نوجوانوں کے مابین براہِ راست روابط قائم کرنے کے اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا میں آئی ٹی زونز اور سافٹ ویئر پارکس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔تقریب کے بعد ڈاکٹر شفقت ایاز نے مختلف کمپنیوں کے اسٹالز کا دورہ کیا اور ٹیکنالوجی کے جدید منصوبوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر عالمی منڈی میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت ان کے ہر قدم پر ان کی رہنمائی اور معاونت کرے گی۔آخر میں ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں ایک مضبوط معیشت اور جدید خیبر پختونخوا کی بنیاد رکھ رہی ہے اور آئی ٹی کا فروغ اس وژن کا سب سے اہم حصہ ہے۔

سیکرٹری کھیل وامور نوجوانان سعادت حسن کا ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کے ہمراہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کا دورہ

سیکر ٹری محکمہ کھیل و امور نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کھیلوں کی دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کمپلیکس میں کرکٹ گراؤنڈ ،سویمنگ پول،ٹینس کورٹ،فٹنس جم اور کھیلوں کے دیگر مقامات کا معائنہ کیا ۔اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر حیات آباد سپورٹس کمپلیکس عابد آفریدی نے سیکریٹری سپورٹس اور ڈی جی کو کمپلیکس میں دستیاب سپورٹس کورٹس اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ بھی دی۔انھوں نے بتایاکہ کمپلیکس میں فیمیل فٹنس جم قائم کیا گیا ہے جو افتتاح کیلئے تیار ہے۔سیکریٹری سپورٹس نے اس موقع پرہدایت کی کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں رننگ ٹریک اور بیڈ منٹن میٹس کیلئے پی سی ون جلد از جلد تیار کیا جائے۔انھوں نے یقین دلایا کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس شہر پشاور میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ شہر بھر کے لوگوں اور کھلاڑیوں کے لئے یہ تفریح اور سپورٹس کے حوالے سے ایک معیاری کمپلیکس ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کمپلیکس کو مزید سہولیات سے بھی لیس کیا جائے گا تاکہ یہاں پر شہر کے باسیوں کو سیر وتفریح اور کھیلوں کی تمام ضروری ضرورتیںمیسر ہوں

ضلع مردان کے 241 متاثرہ خاندانوں کے لیے 5 کروڑ روپے کی امداد جاری: ظاہر شاہ طورو

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت مردان میں محکمہ ریلیف، آبادکاری و بحالی سے متعلق منصوبوں پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اور پی ڈی ایم اے کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر شاہ طورو نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ضلع مردان کے لیے ریلیف و آبادکاری کی مد میں 5 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔ یہ رقم حالیہ مختلف حادثات اور آفات میں جاں بحق افراد کے ورثا اور دیگر متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کے طور پر دی جائے گی۔ مجموعی طور پر 241 خاندان اس امدادی رقم سے مستفید ہوں گے۔
وزیر خوراک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امدادی رقم کی تقسیم کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور اس حوالے سے تمام ضابطہ جاتی کارروائی جلد از جلد مکمل کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے جامع اور دور رس اقدامات کر رہی ہے تاکہ ان کی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لایا جا سکے۔

حرمین شریفین و مسجد اقصیٰ کے تحفظ پر اتفاق، پاک سعودی دفاعی معاہدے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ متحدہ علماء بورڈ خیبرپختونخوا

تمام مکاتب فکر پر مشتمل مسلمان اکابرین کی معتبر فورم متحدہ علماء بورڈ خیبرپختونخوا نے تاریخی پاک سعودی دفاعی معاہدے کو سراہا ہے۔ اس سلسلے متحدہ علماء بورڈ خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام تحفظِ حرمین شریفین اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اہم علماء سیمینار پشاور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے صوبہ بھر سے شرکت کی۔چئیرمین متحدہ علماء بورڈ شیخ الحدیث احسان الحق کی زیر صدارت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے تاریخی پاک سعودی دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ صرف دفاعی تعاون نہیں بلکہ دو اسلامی ممالک کے درمیان روحانی اور ایمانی رشتے کا مظہر ہے۔ علماء کرام نے حرمین شریفین کے تحفظ کو امت مسلمہ کا مشترکہ فریضہ قرار دیا۔آخر میں متحدہ علماء بورڈ کے اراکین نے فلسطین اور خصوصاً غزہ میں جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی اور امت اسلامیہ کے اتحاد و نصرت کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

Eliminating Militants’ Support System, Community-Driven Development, and Youth Empowerment are Key to Lasting Peace: Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a review meeting on Provincial Action Plan (PAP). The meeting was attended by Additional Chief Secretary (Home), Abid Majeed, Senior Member Board of Revenue, Muhammad Javed Marwat, Administrative Secretaries, senior officials of the Home Department, Police, representatives of Law Enforcement Agencies (LEAs), Anti-Narcotics Force, and other provincial and federal institutions. Commissioners, Regional Police Officers, Deputy Commissioners, and District Police Officers also joined via video link.

The Chief Secretary conducted a detailed review of the progress on PAP implementation by provincial departments, divisional and district administrations, LEAs, and federal institutions. A comprehensive progress briefing was presented by ACS (Home), followed by in-depth discussions on challenges, gaps, and practical suggestions for improving execution.
Addressing the participants, Chief Secretary Shahab Ali Shah stressed the need for a whole-of-system approach for effective implementation of the PAP. He said that militancy cannot be addressed by law enforcement agencies alone, adding that civil society and institutions must also support the national cause, particularly in eliminating the militants’ support structures. He directed all departments and field formations to identify and neutralize any such support structures without delay.

Highlighting the crucial role of public support in countering militancy, the Chief Secretary noted that communities have shown a strong support for peace endeavors, as demonstrated by Aman Jirgas and active cooperation with law enforcement agencies in areas such as Bajaur and Dir. He stated that the situation in these districts was brought under control through strong community backing, thereby avoiding collateral damage. However, he pointed out that there are challenges in few southern and Merged Districts that must be addressed through stronger administrative and public trust-building measures.

The Chief Secretary reiterated that strengthening of the Khyber Pakhtunkhwa Police and establishment of effective security mechanisms over the past year have significantly enhanced the province’s ability to respond to security threats. “With the effective implementation of PAP, we are confident that peace and stability will be restored across the province,” he remarked.

He further emphasized that law and order remains the top priority of the provincial government. To this end, significant resources and public funds have been allocated to strengthen the police, enhance Safe City initiatives, and improve security infrastructure.

The Chief Secretary also directed all relevant institutions to expedite the execution of development projects in vulnerable areas, stressing that community-driven development is vital for sustaining peace. He highlighted the urgent need to improve road infrastructure to ensure functional trade routes and called for greater investment in youth skill development and employment generation.

Concluding the meeting, Chief Secretary Shahab Ali Shah urged all departments and administration to intensify their efforts, maintain strict monitoring of progress, and ensure firm, coordinated implementation of the PAP.

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور مودی کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور مودی کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔وہ نشتر ہال پشاور میں آپریشن بنیان المرصوص وکٹری سیلیبریشن کے سلسلے میں منعقدہ آل خیبر پختونخوا ملی نغمہ و ٹیبلوز مقابلے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ ففتھ جنریشن وار کی شکل میں ہر محاذ پر لڑی جا رہی ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر پاکستانی قوم اور ہماری سیکیورٹی فورسز ان سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں پاکستان کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنے شہداء کے لہو کی قدر کرے اور اپنے محسنوں کو یاد رکھے، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خواتین کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہماری بہادر خواتین نے تعلیم، طب، سائنس، ابلاغیات کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور ایئر فورس میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت اور قربانیاں ہمارے قومی اتحاد اور ترقی کی ضامن ہیں۔تقریب میں بچوں کے درمیان ملی نغموں اور ٹیبلوز کے رنگارنگ مقابلے ہوئے جن میں بچوں نے اپنے جذبے اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا۔ مشیر اطلاعات نے کامیاب طلبہ کو شیلڈز اور انعامات سے نوازا اور ان کے حوصلے بلند کئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ننھے پھول پاکستان کا روشن مستقبل ہیں جو دشمن کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔شرکاء نے ملی نغموں اور ٹیبلوز کو زبردست انداز میں سراہا اور قومی جذبے سے لبریز ماحول میں تقریب اختتام پذیر ہوئی۔اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا اتحاد، ایمان اور قربانی کا جذبہ ہے۔ پوری قوم اگر ایک ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام عمران خان اور وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس جمعرات کے روز کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی داؤد شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد، اراکین اسمبلی رشاد خان، نعیم خان، ارباب زرک خان، فرح خان، مہر سلطانہ، طارق سعید اور ریحانہ اسمعیل نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری توانائی زبیر خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو حبیب اللہ شاہ، پیسکو، ایس این جی پی ایل، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں شانگلہ کے کروڑہ پن بجلی منصوبے سے متعلق مقامی آبادی کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد، دیر اپر میں چھوٹے پن بجلی منصوبوں، مساجد و عبادت گاہوں کی سولرائزیشن، بجلی و گیس لوڈشیڈنگ، اووربلنگ اور کم وولٹیج کے مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی،اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے اجلاس میں شانگلہ میں مقامی لوگوں کے ساتھ کروڑہ پن بجلی منصوبے کے معاہدے کے مطابق روزگار، پانی سپلائی اسکیموں اور دیگر مسائل کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تحفظات کمیٹی کے سامنے رکھے، جس پر سی ای او پیڈو نے کمیٹی کو بتایا کہ شانگلہ میں 25 چھوٹے چھوٹے پن بجلی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کروڑہ منصوبے کو مکمل کرکے نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے سالانہ تقریباً 720 ملین روپے کی آمدن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں سے کیے گئے معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا گیا ہے تاہم زمین کے حصول، سیکیورٹی اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوئی تھی۔چیئرمین کمیٹی داؤد شاہ نے کمیٹی کو کروڑہ منصوبے کے سائٹ وزٹ کی تجویز بھی دی۔سی ای او پیڈو نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت نیپرا کی طرز پر “کیپرا” کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھاررہی ہے، انہوں نے کہا کہ شانگلہ میں کروڑہ منصوبے کے علاقے کے لیے 114 ملین روپے کی پانی سپلائی سکیمیں زیر تعمیر ہیں جس سے ہر گھر تک صاف پانی کی فراہمی یقینی ہوگی، جبکہ وہاں سولر سسٹمز بھی نصب کیے گئے ہیں۔سیکرٹری توانائی زبیر خان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت نے اپنی ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی قائم کی ہے اور مٹلتان تا بحرین 40 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے جسے فیز ٹو میں چکدرہ تک بڑھایا جائے گا، جو مستقبل میں ایک انڈسٹریل حب بنے گا۔اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سولرائزیشن اسفندیار خان نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں اب تک 7 سولر منی گرڈ مکمل کیے جا چکے ہیں اور مساجد و عبادت گاہوں کی سولرائزیشن تیزی سے جاری ہے۔اجلاس میں کوہاٹ سمیت دیگر اضلاع میں بجلی و گیس لوڈشیڈنگ کے مسائل پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے پیسکو و سوئی گیس حکام کو ہدایت کی کہ وولٹیج بہتر بنانے اور لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کو خود کفیل بنانے کے لیے پن بجلی منصوبوں کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کے دوران ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کی شق شامل کی جائے، پن بجلی کے بڑے منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور مقامی ماہرین کی خدمات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے تاکہ پن بجلی کے جاری منصوبے بروقت مکمل ہوں

معاون خصوصی برائے ہاو سنگ ڈاکٹر امجدعلی کا نو شہرہ میگا سٹی منصوبے کا دورہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کے معاون خصوصی برائے ہاو سنگ ڈاکٹر امجدعلی نے جمعرات کے روز نو شہرہ میگا سٹی ہاؤسنگ منصوبے کا دورہ کیا اور وہاں پر جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر اور محکمہ کے دیگر افسران بھی ہمراہ تھے۔ ڈائریکٹر جنرل نے معاون خصوصی کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہاؤسنگ منصوبہ 2ہزار کنال پر محیط ہے جبکہ بعد میں اس منصوبے کو 6ہزار کنال تک توسیع دی جائے گی۔
جو موٹر وے سے صرف 4 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسکی رابطہ سڑک پر بھی 30فیصدکام مکمل ہوا ہے، جبکہ باؤنڈری والا کے نظر ثانی شدہ پلان پر 50فیصد کام مکمل ہونے کے ساتھ اس کے مین گیٹ کی تنصیب بھی ہوچکی ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خوڑ نہرکے پشتوں کا کام پائیدار اور مضبوط ہونا چاہئے تا کہ سیلابی صورتحال کے دوران آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ اس منصوبے کے فیز ون میں دوہزارکنال اراضی کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ باقی ماندہ رقبے پربتدریج کام جاری رہے گا۔ معاون خصوصی نے نیسپاک کمپنی کے حکام سے بھی کہا کہ وہ منصوبے کے نظر ثانی شدہ پلان کی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر مکمل کریں تاکہ منصوبے پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جاسکے انہوں نے مذکورہ سڑک کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ یہ ہاؤسنگ منصوبہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پورے کے وژن کے مطابق بروقت پا یا تکمیل تک پہنچ سکے۔

ای او سی کے زیر اہتمام ماہرین امراض اطفال کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر خیبرپختونخوا نے انسداد پولیو میں حائل مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے تعاون سے پاکستان پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن(پی پی اے) خیبرپختونخوا سے وابستہ ماہرین امراضِ اطفال کیلئے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا تاکہ صوبے میں پولیو کے خاتمے میں موجود چیلنجز پر قابو پانے کے لیے پی پی اے کے ساتھ ملکر ایک جامع حکمت عملی بنائی جا سکے۔ سیشن کے اختتام پر پی پی اے ممبران نے ایک باضابطہ اعلامیہ پر دستخط کرکے صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔ ورکشاپ میں پی پی اے خیبر پختونخوا کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ساتھ پشاور، مردان، بنوں اور ڈی آئی خان ڈویژن کے سمیت ضلع سوات، باجوڑ، کوہاٹ اور ایبٹ آباد کے تقریباً 30معروف ماہرین امراض اطفال نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ کی صدارت ایڈیشنل سیکرٹری صحت اورایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے صوبائی کوارڈنیٹر شفیع اللہ خان نے کی،جبکہ ڈپٹی کوارڈنیٹر ای او سی، ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے پولیو یونیسف اور ڈبلیو ایچ اوکے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اس سیشن میں شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ای او سی کوآرڈینیٹر شفیع للہ خان نے کہا کہ انسداد پولیو ایک قومی ایمرجنسی ہے اور اس مقصد کی حصول کیلئے معاشرے کے تمام طبقات سے تعاون اور حمایت درکار ہے۔شفیع اللہ خان نے کہاکہ پولیو کے خاتمے کے چیلنج سے نمٹنے اور پروگرام میں موجود خلاء کو پُر کرنے کے لییپروگرام میں مختلف قسم کی نت نئی حکمت عملیاں متعارف کی گئی ہیں جن کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔تاہم پولیو ویکسین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ سے ہر مہم میں تمام بچوں کو ویکسین کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکتی۔ملک کے بچوں کو اس موذی مرض سے بچانے اور پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ماہرینِ اطفال کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے شفیع اللہ خان نے کہا کہ ڈاکٹر حضرات معاشرے کا ایک بہت ہی اہم اور قابل احترام طبقہ ہیں اور ہر طبقے کے لوگ ڈاکٹر حضرات کی بات کو بہت سنجیدگی سے سنتے ہیں اور ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں۔ لہذا وہ پولیو ویکسین کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے اور خاص طور پر عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہم سینئر ڈاکٹروں، ماہرین اطفال اور دیگر ہیلتھ پریکٹیشنرز کے ساتھ تعاون و اشتراک پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ معاشرے کے اس قابل اعتماد طبقہ کے ذریعے ضروری حفاظتی ٹیکہ جات اور پولیو ویکسینیشن کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں ہمیں مدد فراہم کرا سکیں۔ورکشاپ میں اپنے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے پی پی اے خیبرپختونخوا کے صدر سید باور شاہ نے کہا کہ دنیا کے دیگر تمام ممالک سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے لیکن بد قسمتی سے یہ وائرس صرف پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے۔انہوں کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے نطام کو مزید بہتر اور مربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر باورشاہ نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے ہمیں کم از کم 90 فیصد بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے کے حدف کو حاصل کرنا ہو گا۔ انہوں اس موقع پر انسداد پولیو میں درپیش مسائل کے حل کیلئے پی پی اے کی طرف سے ہر ممکن حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔ڈاکٹر انووا یاؤ یونیسیف کے پی کے سربراہ نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں پی پی اے کے تعاون اور شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے اپنے مختلف پارٹنرز بشمول ماہرین امراض، میڈیا کے نمائندوں اور مذہبی اسکالرز کو پولیو ویکسین کے بارے میں لوگوں کو صحیح معلومات کی فراہمی اور ان کی شکوک و شبہات دور کرنے کیلئے ایک ہی پلیٹ فارم پر مدعو کریں گے اور پی پی اے کے ممبران اس منصوبے میں ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے پولیو ڈاکٹر علی حیدر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورلوگوں کے ذہنوں سے ویکسین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اورشکوک و شبہات کودور کرنے اور منفی پروپیگنڈا دور کرنے میں ماہرین امراض اطفال کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی پی اے کے نمائندے پولیو کے خاتمے اورحفاظتی ٹیکوں کی ضرورت واہمیت سے متعلق ہماری میڈیا سے متعلق سرگرمیوں میں اپنی ماہرانہ رائے دینے کیلئے ہمہ وقت اپنی خدمات پیش کریں گے۔انسداد پولیو پروگرام کے ٹیکنیکل ماہرین بشمول عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر سردار قیصر اور یونیسف کی میڈیا آفیسر شاداب یونس نے ورکشاپ کے شرکاء کو پولیو پروگرام کے آپریشنل اور کمیونیکیشن حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئیاہداف کی حصول میں درپیش چیلنجوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا اور ان چیلنجوں کو حل کرنے کیلئے شرکاء کی جانب سے درکار تجاویز اور حمایت پر روشنی ڈالی۔ سینئر صحافی اور ٹرینر سعید منہاس نے شرکاء کی مدد سیگروپ سرگرمیوں کے ذریعے ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات، کمیونٹی کی سطح پر ویکسین کے بارے میں پائی جانی والی غلط فہمیوں اورسرویلنس کے نظام میں ماہرین اطفال کے کردار کو اجاگر کیا۔ مخلف گروپس نے اپنے اپنے پریزنٹیشنز میں ویکسن کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کو روکنے، ویکسین کی اہمیت، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور سرویلنس کے نیٹ ورک کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اورقیمتی تجاویز پیش کیں۔ورکشاپ کے دوران ماہرین امراض اطفال نے انسداد پولیو کے سلسلے میں آپریشنز، کمیونیکیشن اور سرویلنس کے ضمن میں موجود حائل رکاوٹوں اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ٹھوس سفارشات اور تجاویزپیش کیں۔ اس موقع پر پی پی اے کے نمائندوں نے باضابطہ طور پر ایک اعلامیہ پر دستخط بھی کیے جس کے تحت انہوں ویکسین کے ذریعے ہر بچے کی حفاظت اور پولیو وائرس کے خاتمے کے مشن کی حمایت کے ضمن میں اپنے مضبوط اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس اعلامیے کے تحت، ماہرین اطفال نے تمام بچوں کو بروقت اور مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے اور پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے حکومت اور شراکت دار تنظیموں کی کوششوں کی حمایت کرنے، ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ محسوس کرنے والے والدین اور دیگر سرپرستوں کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ شدید و اچانک فالج (اے ایف پی) کیسز کی نگرانی اور بروقت رپورٹنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے سلسلے میں اپنے عہد کو دہرایا۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں سرٖٹیفکیٹس اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔