ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا کے تحت پشاور سپورٹس کمپلیکس میں جمعرات کے روز سیکرٹری محکمہ کھیل و آمور نوجوانان خیبرپختونخوا سعادت حسن کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنر ل سپورٹس خیبر پختونخوا تاشفین حیدر کے علاؤہ ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس کے دیگر ڈائریکٹرز و ماتحت افسران،ریجنل سپورٹس آفیسرز اور ڈسٹرک سپورٹس آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری سپورٹس اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس نے تمام ریجنل آفیسرز کو نومبر میں ہونے والے خیبر پختونخوا گیمز کو کامیاب بنانے کیلئے تمام اضلاع کے سکولز،کالجز اور مدارس سے نئے ٹینلٹ کو شامل کرنے کیلئے تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا گیمز کیلئے وہ کیمپ کا انعقاد کریں۔ خیبر پختونخوا گیمز میں صوبے بھر کے کھلاڑیوں کیلئے 26 میل گیمز جبکہ 17 فیمیل گیمز شامل ہیں۔یہ گیمز انٹر ریجنل اور اور انٹر ڈسٹرک لیول پر کھیلے جائیں گے۔ سیکرٹری سپورٹس نے تمام ریجنل آفیسرز کو فلڈ ریلیف میچ کو کامیاب بنانے پر انکی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس نے جس طرح سیلاب سے متاثرہ افراد کے امداد کیلئے کوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔
سیکرٹری سپورٹس اور ڈائریکٹرجنرل سپورٹس نے فلڈ ریلیف میچ میں بہترین کارکردگی پر ڈسٹرک سپورٹس آفیسر چارسدہ گل رخ یاسر اور ڈسٹرک سپورٹس آفیسر مہمند فیصل جاوید کو تعریفی اسناد سے بھی نوازا۔سیکرٹری سپورٹس نے تمام ریجنل آفیسرز کو ہدایت کی کہ وہ تمام اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں کا باقاعدہ وزٹ کریں تاکہ محکمہ کھیل کے تمام اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جاسکے اور ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے پراگرس رپورٹ ماہانہ بنیاد پر ڈائریکٹریٹ کو ارسال کریں۔سیکرٹری سپورٹس اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس نے کہا کہ تمام ریجنل آفیسرز کو گیمز کے حوالے سے سالانہ کلینڈر اور ماہانہ رپورٹ بھی ڈائریکٹریٹ کے پاس باقاعدگی کے ساتھ جمع کریں۔
سیکرٹری سپورٹس نے کہا کہ تمام ریجنل سپورٹس آفیسرز اور ڈسٹرک سپورٹس آفیسرز اضلاع میں سپورٹس ایسوسی ایشنز کے ساتھ رابطہ رکھے تاکہ کھیلوں کے فروغ کیلئے میرٹ کی بنیاد پر نیا ٹینلٹ سامنے آسکے۔
خیبر پختونخوا گیمز کا انعقاد نومبر میں ہوگا۔
محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو اور یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی موجودگی میں یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ انیمل سائنسز سوات اور لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ ایکسٹنشن، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ ریسرچ اور فشریز کے مابین باہمی تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں یونیورسٹی آف وٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کے اعلی حکام اور لائیو سٹاک توسیع، لائیو سٹاک ریسرچ اور فیشریز کے حکام نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت یونیورسٹی کے طلباء وٹرنری سائنس کے مختلف مضامین میں پریکٹیکل اور جانوروں کی افزائش، نگہداشت، خوراک، پیداواری و تولیدی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی تشخیص و روک تھام اور دیگر شعبہ جات میں محکمے کی دستیاب سہولیات سے مستفید ھو سکیں گے- اسی طرح محکمے کے افسران یونیورسٹی کے تحت مختلف تربیتی ورکشاپ و سیمینار و دیگر استعداد کار میں اضافے کے پروگرام میں شریک ہو سکیں گے۔ یہ مفاہمتی یاد داشت پانچ سال کیلئے نافذ العمل ھوگا اور فریقین کی باہمی رضا مندی سے مزید توسیع یا تنسیخ ھو سکے گی۔
وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں آئے روز جنازے اٹھ رہے ہیں. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معصوم شہری، بچے اور خواتین نشانہ بن رہے ہیں. دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر وفاقی حکومت کی سردمہری افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان سے بات چیت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ و فاق نہ خود افغانستان سے بات چیت کر رہا ہے اور نہ خیبر پختونخوا حکومت کو کرنے دے رہا ہے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں قبائلی جرگوں کا انعقاد کیا گیا ہے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ امن و امان کے قیام میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ساتھ دے۔وفاق کی نااہل حکومت اس اہم مسئلے پر بھی سیاست کر رہی ہے وفاقی حکومت وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی مخلصانہ کوششوں کو سیاست کی نذر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان وفد بھجنے کے حوالے سے ٹی او ارز پر بھی چپ سادھ لی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وفاق کی سنجیدگی انتہائی ضروری ہے بصورت دیگر انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ اسی طرح جاری رہیگا
ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے مارخور، آئی بیکس اور گرے گورل پرمٹس ریکارڈ 19,13,842 امریکی ڈالر (542.7 ملین روپے) میں نیلام
محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے سال 2025-26 کے ٹرافی ہنٹنگ سیزن میں تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مارخور، آئی بیکس اور گرے گورل کے 39 پرمٹس 1913842 امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 542.7 ملین روپے میں نیلام کئے اس سلسلے میں گزشتہ روز نیلامی کا عمل مکمل ہوا، تفصیلات کے مطابق ایکسپورٹ ایبل مارخور کے چار پرمٹس 946,000امریکی ڈالرز، نان ایکسپورٹ ایبل مارخور کے 9 پرمٹس553,300 امریکی ڈالر، نان ایکسپورٹ ایبل آئی بیکس کے 20 پرمٹس16,042 امریکی ڈالر جبکہ نان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کے 6 پرمٹس398,500 امریکی ڈالر میں فروخت ہوئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال پہلی بار نان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کا پرمٹ متعارف کرایا گیا جس سے آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلی حیات پیر مصور خان نے کہا کہ رواں سال کا ٹرافی ہنٹنگ پروگرام آمدن کے لحاظ سے ریکارڈ ساز ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار گرے گورل کے پرمٹس کا اجراء صوبائی حکومت کے جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدن جنگلی حیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور مقامی آبادی کی سماجی و معاشی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔ پیر مصور خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ”ری وائلڈنگ پروگرام“ کے تحت صوبے میں بلیک بک، چنکارہ اور اوڑیال جیسی نایاب انواع کی دوبارہ بحالی کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں ”گرین ہنٹ پروگرام“ تحقیق کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔انھوں نے نیلامی کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے اور ریکارڈ آمدن یقینی بنانے پرچیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلی حیات شاہد زمان نے کہا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بیک وقت قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنا رہا ہے جبکہ جنگلی حیات کے فروغ کے لیے مزید اقدامات بھی جاری ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر کی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سے ملاقات
پاکستان کے لئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ایف سی ڈی او کے تعاون سے جاری منصوبوں، حال ہی میں مکمل ہونے والے پروگراموں اور مستقبل میں ممکنہ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے موجودہ شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے خیبرپختونخوا میں جامع ترقی اور اداروں کے استعداد کار کو بڑھانے کے لئے برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔
سییڈ پروگرام کے ذریعے معاونت پر برطانوی تعاون کو سراہتے ہیں، پروگرام نے پانچ سالوں میں صوبائی محکموں کو اہم تکنیکی معاونت فراہم کی، صوبائی وزیر ارشد ایوب
برطانیہ کے تعاون سے چلنے والے ”سسٹینیبل انرجی اینڈ اکنامک ڈویلپمنٹ“ (سییڈ) پروگرام کے کامیاب اختتام پر ایک تقریب بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی ارشَد ایوب خان تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، سرکاری حکام، جامعات، سول سوسائٹی اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی تقریب میں موجود تھیں۔صوبائی وزیر ارشَد ایوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں صوبے کو مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جن میں تباہ کن سیلاب اور کرونا وبا شامل ہیں، لیکن ہمت اور مستقل اصلاحات کے ذریعے خود کو منظم رکھنے میں صوبہ کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سییڈ پروگرام نے گورننس اور سرمایہ کاری کے شعبے میں صوبائی اداراجاتی امور کو منظم اور مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ عوامی و نجی اشتراک پر مبنی اصلاحات کے ذریعے سیاحت، توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل، ہائیڈرو پاور، زراعت، جنگلات اور سیاحت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے بھی اقدامات ہو رہے ہیں۔ سییڈ پروگرام کی مدد سے صوبہ جنگلات کے کاربن کریڈٹ سکیم میں شامل ہو رہا ہے جبکہ بجلی گھروں کو عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے سرٹیفکیٹ کے لیے رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف اضافی آمدنی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی مددگار ہوں گے۔برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے حکومتِ خیبرپختونخوا کی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سییڈ پروگرام اور صوبائی حکومت کی شراکت داری کے ذریعے دیرپا ترقی کے اہم سنگِ میل طے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ، خیبرپختونخوا کے ساتھ تجارت، ماحول دوست سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لئے تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ “گرین گروتھ سے لے کر بہتر منصوبہ بندی تک، سییڈ پروگرام نے صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں اہم حصہ ڈالا ہے۔خیبرپختونخوا نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے اور اس پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط شراکت داری سے پائیدار حل نکالے جا سکتے ہیں۔”واضح رہے کہ سییڈ پروگرام سال 2020 میں شروع ہوا تھا اور پانچ برس تک جاری رہا۔ اس دوران سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری نظام کو بہتر بنانے اور ترقیاتی اخراجات کو مؤثر بنانے کے لیے نمایاں اصلاحات کی گئیں، جو اب مستقل طور پر حکومتی نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی. ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیاگیا. برطانوی ہائی کمشنر نے گورنر خیبرپختونخوا سے حالیہ سیلاب سے صوبہ میں ہونیوالے جانی و مالی نقصانات پر افسوس و دلی ہمدردی کا اظہار کیا. ملاقات میں این ایف سی ایوارڈ، پاک افغان صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور گڈگورننس سے متعلق بھی گفتگو کی گئی. گورنر نے ملک بھر میں سیلابی نقصانات پر برطانوی حکومت کیجانب سے امداد فراہمی پر برطانوی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا.
گورنر نے برطانوی ہائی کمشنر کو صوبہ کے قدرتی وسائل پر سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کیا. گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا بیش بہا قدرتی وسائل کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش حیثیت کا حامل ہے، برطانیہ سمیت تمام دوست ممالک کو دوطرفہ تجارتی تعاون و سرمایہ کاری کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں، صوبہ میں صنعتی و تجارتی ترقی، سرمایہ کاری کو فروغ دیکر حقیقی ترقی و خوشحالی کے منازل طے کر سکتے ہیں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ میں باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے، تعلیم و کھیل کے میدان میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیلئے پرعزم ہوں، انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کا خیبرپختونخوا بالخصوص ضم اضلاع کے باصلاحیت و ہنرمند نوجوانوں کیلئے مزید تعاون درکار ہے، امن ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے، صوبہ میں پائیدار امن کیلئے وفاق و سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں، گورنر نے کہا کہ فاٹا انضمام کیبعد خیبرپختونخوا کی مجموعی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات اور دوطرفہ مسائل کا حل ملکی خارجہ پالیسی کے معاملات ہیں، پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے عوام اور افغان عوام کی ثقافت و اقدار مشترک ہیں.
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ قیام امن کیلئے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ سے مختلف وفود کی ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ سے منگل کے روزمختلف وفود نے ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل و تجاویز سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل کو غور سے سنا اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے پی ڈی ایم اے کی جانب سے شمالی وزیرستان کی خدی مارکیٹ کمپلیکس کے متاثرین کو 3 کروڑ 21 لاکھ 50 ہزار روپے کا چیک بھی دیا۔ یاد رہے کہ خدی مارکیٹ کمپلیکس ایک بم دھماکے میں تباہ ہو ئی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں دکاندار اور کاروباری افراد شدید متاثر ہوئے تھے۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت متاثرہ خاندانوں اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوششیں جاری رہیں گی
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیااور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے ملاقات کی۔ملاقات میں عوامی دلچسپی کے امور سمیت خیبرپختونخوا میں ٹیکس کے متلف معاملات اور ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل پر گفتگو کی گئی-گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبہ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹیکس دہندگان کے مسائل بروقت حل کرنے اور اُن کے لئے ساز گار ماحول مہیا فراہم کرنیکی ضرورت پر زور دیا- اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے گورنر خیبرپختونخوا کو جاری ٹیکس اصلاحات بشمول ایف بی آر سسٹمز کی ڈیجیٹا ئزیشن اور آٹومیشن کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں ٹیکس نظام کو جدید اور بہتر بنانے کے لئے ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا
