محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام افراد اور علاقہ کےناموں پر مبنی پرسنلائزڈ مارکس (چوائس نمبر پلیٹس) کی نیلامی 18 مئی 2026 کو صبح 11 بجے نشتر ہال پشاور میں منعقد ہوگی۔اس حوالے سے محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق نیلامی میں مختلف خصوصی اور پسندیدہ رجسٹریشن نمبرز کا اوپن آکشن کیا جائے گا۔نیلامی کیلئے رکھے گئے نمایاں پرسنلائزڈ مارکس میں سیٹھی 1، چوہدری 1، کورمنگ 1، خان قلعہ 1، خان قلعہ 5، بوتر 1،ویرا 1، پار ہوتی 1، پار ہوتی 5، عبدل خیل1، ملک 1، بلوچ 1، ٹانک 1، چترال 1، باچہ1، پیر1، شبقدر1، چارسدہ1،عیسی خیل1، صافی1، بیٹنی1،مغل1، اتمان خیل 1، ہشتنگر 1، اچکزئی 1، احمدزئ 1، بنگش 1، طوری 1، سردار 1، شیرانی 1، چغتائی 1، لودھی 1، قلندر 1، پوپلزئی 1، سورانی 1، مندنڑ1، طورو 1،کنڈی 1،تنولی 1،خدوخیل 1 اور یاراخیل 1،شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیلامی میں شرکت کے خواہشمند افراد اپنی درخواستیں اور مقررہ سیکیورٹی فیس 16 مئی 2026 کو دوپہر 12 بجے تک ڈایریکٹر جنرل ایکسائز وٹیکسیش اور نارکوٹکس کنٹرول کے نام جمع کرا سکیں گے جبکہ کامیاب بولی دہندگان کو قواعد و ضوابط کے مطابق نمبر پلیٹس الاٹ کی جائیں گی۔محکمہ ایکسائز کے مطابق نیلامی کا عمل خیبرپختونخوا پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (KPPRA) رولز 2012 اور صوبائی موٹر وہیکل رولز کے تحت شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کا کہنا ہے کہ پرسنلائزڈ مارکس کی نیلامی شہریوں کو اپنی پسند کے منفرد رجسٹریشن نمبرز حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں محکمہ ایکسائز کے تحت جدید اور عوام دوست اصلاحات کے ذریعے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ شفاف نیلامی کی بنیاد پر نہ صرف شہریوں کو اپنے پسند کی خصوصی نمبر پلیٹس فراہم ہوں گی بلکہ حکومتی محصولات میں بھی اضافہ ہوگا۔
صوبائی وزیر نے عوام اور خواہشمند افراد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے اس منفرد اور عوام دوست منصوبے کے تحت نیلامی میں شرکت کے ذریعے اپنی پسند کے خصوصی نمبرات حاصل کر سکتے ہیں۔
محکمہ ایکسائز کے تحت پرسنلائزڈ مارکس (چوائس نمبر پلیٹس) کی نیلامی 18 مئی کو نشتر ہال پشاور میں ہوگی
خیبر پختونخوا حکومت کاکسانوں کے لیے سبسڈی پروگرام زرعی بحالی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
تحریر: فضل قیوم
محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ پشاور
حکومت خیبر پختونخوا نے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر کسانوں اور زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے ایک جامع سبسڈی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نہ صرف کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے بلکہ براہِ راست مالی معاونت کے ذریعے ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا اور صوبے میں زرعی پیداوار کو فروغ دینا بھی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں کسانوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کا عمل تیزی سے جاری ہے۔مجموعی طور پر 14 لاکھ 94 ہزار 181 کسان رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 8 لاکھ 53 ہزار 899 (57 فیصد) کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ ویریفائیڈ کسانوں میں 7 لاکھ 35 ہزار 720 گندم کے کاشتکار جبکہ 1 لاکھ 18 ہزار 179 دیگر فصلوں کے کاشتکار شامل ہیں۔ مزید 6 لاکھ 40 ہزار 282 درخواستیں تاحال زیرِ غور ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بڑے پیمانے پر کسانوں کو ڈیجیٹل نظام میں شامل کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔گندم کو صوبے کی اہم ترین فصل قرار دیتے ہوئے حکومت نے اس کے کاشتکاروں کے لیے خصوصی سبسڈی متعارف کرائی ہے۔ اس سکیم کے تحت فی ایکڑ 1500 روپے تک مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 12.5 ایکڑ مقرر کی گئی ہے۔ صوبے میں گندم کا کل کاشت شدہ رقبہ 18 لاکھ 24 ہزار 86 ایکڑ ہے، جبکہ اس مد میں 2 ارب 73 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ سرمایہ کاری زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کے مالی بوجھ میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ حکومت نے سبسڈی کی شفاف اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا ہے۔ اس مقصد کے لیے موبائل والٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کسانوں کو براہِ راست رقوم منتقل کی جا رہی ہیں۔ اب تک 72 کروڑ 32 لاکھ 90 ہزار روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1 لاکھ 67 ہزار 914 کسان اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں، جو کہ کل ویریفائیڈ کسانوں کا تقریباً 23 فیصد بنتا ہے۔اگرچہ پروگرام کامیابی سے جاری ہے، تاہم اس کے نفاذ میں چند تکنیکی اور انتظامی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ بعض کسانوں کے شناختی کارڈ (CNIC) کے ڈیٹا میں اجرا کی تاریخ کا اندراج نہ ہونا ہے، جس کے باعث موبائل اکاؤنٹس کھلوانے میں مشکلات پیش آئیں۔ اس کے علاوہ کئی کسانوں کی جانب سے SMS لنکس کا بروقت جواب نہ دینا اور ریٹیلرز کی جانب سے اکاؤنٹس کھلوانے میں کم دلچسپی بھی ادائیگیوں کی رفتار سست ہونے کا سبب بنی۔ان مسائل کے حل کے لیے حکومت نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے متبادل حکمت عملی تیار کی ہے۔ حکام کے مطابق ایزی پیسہ کے ساتھ شراکت داری پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ادائیگیوں کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ مزید برآں، شناختی کارڈ کی بنیاد پر براہِ راست ادائیگی (جیسا کہ رمضان پیکیج 2026 میں کیا گیا) کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس کے ذریعے 24 گھنٹوں کے اندر رقوم کی منتقلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 22 اپریل 2026 تک 500 ملین روپے فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 215.02 ملین روپے کی ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس دوران 67 ہزار 520 کسانوں کو مجموعی طور پر 56.33 ملین روپے موصول ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پروگرام عملی طور پر فعال ہے، تاہم اس کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا یہ اقدام بروقت اور اہم ہے، جو نہ صرف کسانوں کو فوری مالی ریلیف فراہم کرے گا بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر زرعی شعبے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ پروگرام کی مکمل کامیابی کے لیے ڈیٹا کی درستگی، کسانوں میں ڈیجیٹل آگاہی، اور ادائیگی کے نظام کی بہتری پر مزید توجہ دینا ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر یہ سبسڈی پروگرام صوبے میں زرعی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر حکومتی ادارے درپیش چیلنجز پر قابو پا کر ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر بناتے ہیں تو یہ منصوبہ نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا بلکہ صوبے کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ بھی ممکن بنائے گا۔
بانی چیئرمین عمران خان سےفیملی اور وکلا کی ملاقات کا دن/معاون خصوصی برائےاطلاعات شفیع جان کا بیان
بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے آج اہل خانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل جائیں گے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی اراکین اسمبلی بھی عمران خان اور انکے فیملی سے اظہاریکجہتی کے لیے اڈیالہ جائینگے، شفیع جان
عمران خان سے سیاسی قیادت، اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات آئینی و قانونی حق ہے، اسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا، شفیع جان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پارٹی رہنماؤں،فیملی اور وکلاء کو کئی ماہ سے عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے، شفیع جان
پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرکے ثابت کر دیا کہ وہ جیل میں قید عمران خان سے شدید خوفزدہ ہے، شفیع جان
جعلی مینڈیٹ والی پنجاب حکومت عدالتی احکامات کے باوجود اوچھے ہتھکنڈوں سے عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں، شفیع جان
پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی ہے، شفیع جان
پنجاب حکومت نے عمران خان کو دو سو سے زائد دنوں سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے، شفیع جان
عمران خان اور بشری بی بی کو بہتر طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، شفیع جان
وفاقی اور پنجاب حکومتیں گورننس میں ناکامی چھپانے کے لیے سیاسی انتقام کی سیاست کر رہی ہیں، شفیع جان
پاکستان تحریک انصاف ایک پُرامن، جمہوری اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے، شفیع جان
فارم 47 کی وفاق اور پنجاب کے حکمرانوں نے آئین، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کو روند ڈالا ہے، شفیع جان
ملک میں آئین و قانون کی بالادستی،عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی، جمہوری اور پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی، شفیع جان
عمران خان سے ملاقات میں مسلسل رکاوٹیں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی پامالی ہیں، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ آج بانی چیئرمین عمران خان سے عدالتی احکامات کے مطابق اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات کا دن تھا تاہم ایک مرتبہ پھر کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں ڈالنا آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی پامالی ہے، جو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک عمل ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ عمران خان اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھے جہاں ملاقات کی اجازت نہ دینے پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور منتخب پارلیمنٹرینز نے بطور احتجاج دھرنا دیا ،شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پارٹی رہنماؤں، اہل خانہ اور وکلاء کو کئی ماہ سے عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان سے سیاسی قیادت، اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات آئینی و قانونی حق ہے جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔ بغیر عوامی مینڈیٹ کے قائم وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے دن پر راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرکے پنجاب حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جیل میں قید عمران خان سے خوفزدہ ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر کرفیو کا سماں تھا ، سڑکوں کو بند کردیا گیا تھا پنجاب حکومت خوف عمران خان میں بوکھلاہٹ کے شکار ہوچکا ہے،جعلی مینڈیٹ والی پنجاب حکومت عدالتی احکامات کے باوجود اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بہتر طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔شفیع جان نے مزید کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں گورننس میں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے سیاسی انتقام کی سیاست کر رہی ہیں،پاکستان تحریک انصاف ایک پُرامن، جمہوری اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے،ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی، جمہوری اور پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔
عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران سکیورٹی، صفائی، ٹریفک اور سیاحتی سہولیات کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت
عیدالاضحیٰ 2026 کے موقع پر صوبے بھر میں سکیورٹی، صفائی، ٹریفک مینجمنٹ، سیاحوں کی سہولت، ہنگامی امداد اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی بروقت تلفی کے لیے جامع انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں. چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہدایات میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پولیس، ریسکیو 1122، بلدیاتی اداروں، محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، سیاحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو عید سے قبل اور عید کے دوران خصوصی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہےتمام اضلاع میں عیدگاہوں، مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور مویشی منڈیوں میں سخت سکیورٹی اور رش کنٹرول کرنے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.صرف منظور شدہ مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانور فروخت کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ سڑکوں، پلوں اور رہائشی علاقوں میں غیرقانونی مویشی منڈیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بڑی مویشی منڈیوں میں پارکنگ، پینے کے پانی، سایہ، روشنی اور شکایات کے ازالے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔محکمہ لائیو اسٹاک قربانی کے جانوروں کے معائنے،ویکسینیشن اور بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات یقینی بنائے گا جبکہ شہریوں کو بیمار جانوروں کی نشاندہی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی بھی دی جائے گی۔ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور کم تولنے والوں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح ہوٹلوں، بیکریوں، مٹھائی کی دکانوں اور دیگر فوڈ پوائنٹس کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔بلدیاتی اداروں اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں کو عید کے دنوں میں قربانی کی آلائشوں اور جانوروں کے فضلے کی بروقت صفائی اور محفوظ تلفی کے لیے خصوصی صفائی مہم چلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نہروں، ندی نالوں اور عوامی مقامات پر آلائشیں پھینکنے پر پابندی عائد ہوگی۔پولیس کو عید سے پہلے اور عید کے دنوں میں بازاروں، سیاحتی مقامات اور عوامی اجتماعات پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، تیز رفتاری اور ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف خصوصی کارروائیاں کی جائیں گی سیاحتی اضلاع میں ٹریفک پلان، ایندھن، خوراک اور پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی جبکہ اہم سیاحتی مقامات پر ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے جائیں گے۔ دریاؤں، جھیلوں اور ڈیموں پر حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور لائف جیکٹ کے بغیر بوٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز، ایکسرے، فارمیسی، ایمبولینس اور ٹراما سہولیات چوبیس گھنٹے فعال رکھی جائیں۔ضلعی انتظامیہ کو 24/7 کنٹرول روم قائم کرنے اور ہیلپ لائن نمبرز میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔محکمہ اطلاعات کو عید انتظامات، ٹریفک ڈائیورژن، سیاحتی ہدایات، ایمرجنسی نمبرز، صفائی اور عوامی تحفظ سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر غلط اور خوف پھیلانے والی خبروں کی فوری تردید کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔اسی طرح کالعدم تنظیموں یا غیر مجاز افراد کو عیدالاضحیٰ کے دوران کھالیں یا عطیات جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈپٹی کمشنرز کو جیلوں، ہسپتالوں، یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کے دورے کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
KP Government Accords Sanction for Establishment of New Excise Police Stations in Various Districts Across the Province
In a major step towards strengthening anti-narcotics operations and improving law enforcement mechanisms, the Khyber Pakhtunkhwa Government has accorded sanction for the establishment of new Excise Police Stations in different districts of the province.
Under the vision of Pakistan Tehreek-e-Insaf founding chairman Imran Khan for transparency in governance, improved public service delivery, and a drug-free Khyber Pakhtunkhwa, the provincial government under the leadership of the Chief Minister has achieved another important milestone by approving these new police stations.
The approval was made possible through the special interest, continuous efforts, and personal commitment of Provincial Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, who played a key role in securing approval for the establishment of new Excise Police Stations in eight districts.
Following the accord of sanction of the Chief Minister, the Excise, Taxation and Narcotics Control Department has formally issued a notification in this regard.
According to the official notification, the new Excise Police Stations will be established in the districts of Buner, Swabi, Malakand, Chitral, Kohat, Nowshera, Charsadda, and Bannu.
The establishment of these Excise Police Stations will further accelerate operations against drug traffickers and narcotics-related activities while strengthening coordinated anti-drug efforts across the province.
Provincial Minister for Health Khyber Pakhtunkhwa Khaliq Ur Rehman attended the 3rd National Research Conference and International Nurses Day 2026 ceremony in Peshawar as the Chief Guest
Provincial Minister for Health Khyber Pakhtunkhwa Khaliq Ur Rehman attended the 3rd National Research Conference and International Nurses Day 2026 ceremony in Peshawar as the Chief Guest. The event was organized by the National Nurses and Midwives Research Association (NNMRA) and was attended by nursing leaders, healthcare professionals, educators, researchers, students, and stakeholders from across Pakistan.
The ceremony commenced with the recitation of the Holy Quran, Naat-e-Rasool Maqbool ﷺ, and the National Anthem. During the conference, detailed discussions were held on key issues related to nursing services, education, research, workforce development, and the vital role of nurses in strengthening the healthcare system.
Addressing the participants, Provincial Health Minister Khaliq Ur Rehman stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa is taking practical steps to strengthen the nursing sector, provide modern training opportunities to nurses, and improve healthcare delivery across the province. He said that nurses are the backbone of the healthcare system and play a critical role in patient care, emergency response, infection control, disaster management, research, and community health services.
The Minister appreciated the efforts of the National Nurses and Midwives Research Association for promoting nursing leadership, research, education, and professional development. He emphasized that such conferences are the need of the hour to address the challenges faced by the nursing profession and assured the participants that the recommendations presented during the conference would be seriously considered by the provincial government.
During the conference, Dr. Shaista Jadoon presented a comprehensive 17-point agenda highlighting the major challenges faced by the nursing sector along with practical recommendations for improvement. Special guest Miss Fouzia from Pakistan Atomic Energy Hospital announced the expansion of scholarship and internship programs for nurses and pledged an additional financial support of Rs. 3 million for this purpose.
The speakers highlighted that empowering nurses through recruitments, promotions, higher education opportunities, scholarships, and advanced professional training would significantly strengthen the healthcare system in both Khyber Pakhtunkhwa and Pakistan.
The event concluded with prayers and a renewed commitment by all participants to continue working collectively for the advancement of the nursing profession and the improvement of healthcare services across Pakistan.
Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control Syed Fakhar Jehan has said that the impartial and immediate resolution of public issues, acceleration of the development process, and elimination of deprivation in backward areas are among the top priorities of the present provincial government.
Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control Syed Fakhar Jehan has said that the impartial and immediate resolution of public issues, acceleration of the development process, and elimination of deprivation in backward areas are among the top priorities of the present provincial government.
He stated that under the leadership of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa and in line with the vision of Pakistan Tehreek-e-Insaf founder Imran Khan, the mission of public service is being carried forward effectively. He expressed these views while meeting various public delegations during a Public Day held at his hujra in constituency PK-26 Buner.
Delegations, elders, and citizens from different areas of the constituency and district Buner continued to visit the provincial minister throughout the day.
The delegations apprised him of issues being faced by their respective areas, including development schemes, basic facilities, and other public concerns.
Syed Fakhar Jehan listened to the public issues in detail and issued on-the-spot directives to the concerned authorities for their immediate resolution.
He said that the provincial government is taking practical measures to provide relief to the public, ensure timely completion of development projects, and address the deprivation of underdeveloped areas.
The minister further stated that the vision of PTI founder Imran Khan is based on transparent governance, provision of justice, and facilitation of the common man, while the provincial government under the leadership of the Chief Minister is actively working on public welfare projects in accordance with this vision.
The provincial minister added that the purpose of the Public Day is to strengthen direct contact between the public and elected representatives and to resolve people’s issues at their doorstep.
He reaffirmed his commitment that all available resources would be utilized for the development of PK-26 Buner, provision of opportunities for youth, and improvement of basic facilities in the constituency.
چیف سیکرٹری صوبہ خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے ہمراہ بنوں کا دورہ کیا
چیف سیکرٹری صوبہ خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے ہمراہ بنوں کا دورہ کیا۔اس دوران دونوں اعلیٰ حکام نے ڈی پی او آفس بنوں پہنچ کر پولیس افسران اور جوانوں سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان,ڈپٹی کمشنر بنوں محمد فہیم اور ڈی پی او یاسر آفریدی،ایس پی سی ٹی ڈی فضل واحد ودیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
چیف سیکرٹری اور آئی جی پی نے گذشتہ شب فتح خیل پولیس چوکی بنوں پر ہونے والے خوارج کے افسوسناک حملے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا واضح رہے کہ خوارج کی جانب سے بارودی مواد کے ذریعے کیے گئے اس حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں مانگ کرلواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا انہوں نے زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کی اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔دونوں حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس فورس کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات مزید مؤثر اور سخت کیے جائیں گے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی بنوں میں پولیس چوکی فتح خیل پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے بنوں میں پولیس چوکی فتح خیل پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں شفیع جان نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں، پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں پر فخر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس چوکی پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے، اسلام سمیت کوئی بھی مذہب اس طرح کی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی ایسی مذموم کارروائیاں نہ تو عوام اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کر سکتی ہیں۔شفیع جان نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت یقینی بنائی جائے گی۔معاون خصوصی شفیع جان نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کیلئے صبر و جمیل اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی۔
