Home Blog Page 91

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ کے حوالے سے اجلاس۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع بشمول صوبے کے تمام سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ٹاٹ کلچر کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا اور تمام سکولوں میں وائٹ بورڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی طرف سے تمام بچوں کو مفت سکول بیگز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ان سب کے لیے ایک جامع پروکیورمنٹ پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ جبکہ سکول، ڈسٹرکٹ آفسز، ڈائریکٹوریٹ اور سیکرٹریٹ لیول پر بھی نئے و پرانے سامان کی انونٹری کا حساب رکھا جائے گا اور اس تمام پراسس میں کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں محکم تعلیم کے اسپیشل سیکرٹریز، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین،ڈائریکٹر ایجوکیشن ناہید انجم، ڈائریکٹر ڈی پی ڈی مطہر خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے ہدایت جاری کی کہ پروکیورمنٹ پراسس کی پوری تکمیل کے لیے سنٹرلائزڈ سسٹم اور دیگر ذرائعوں پر غور کیا جائے گا جبکہ ضم اضلاع اور خواتین کے اسکولوں کو پہلے فیز میں سپلائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے مزید ہدایت جاری کی کہ صوبے کے تمام ہائر سیکنڈری سکولوں میں آئی ٹی لیبز بنائے جائیں گے اور پالیسی کے تحت ہائی اور مڈل سکولوں میں بھی آئی ٹی لیبز بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیر تعلیم نے حکام کو مزید ہدایت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ کے لیے اگلے اجلاس میں بزنس پلان پیش کیا جائے۔ اور مختلف پروپوزلز زیر غور لائے جائیں جس سے تعلیم کی کوالٹی کی بہتری یقینی بنائی جا سکے اور تمام بچوں کو اپنے ہی علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ وزیر تعلیم نے جاری داخلہ مہم کو 15 اکتوبر تک توصیع دینے کی بھی منظوری دی انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ٹارگٹ پورا کرنے اور ہر سکول کے گرد و نواح میں بھرپور داخلہ مہم چلانے کی ہدایت کی۔ محکمہ تعلیم کے نئے پروگرام تعلیم کارڈ کے حوالے سے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ اس میں تمام پیکجز شامل کئے جائیں اور اس کو پائلٹ کے بعد صوبے کے تمام اضلاع کے تمام طلبہ تک توصیع دی جائے انہوں نے کہا کہ مفت کتابوں، سکالرشپس ماہانہ وظائف اور دیگر تمام پیکجز تعلیم کارڈ میں شامل ہوں گی۔ فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے گائیڈ کی فوری طور پر متعلقہ فورم سے منظوری لی جائے اور اس کو کیبنٹ میں جلد از جلد پیش کیا جائے جس کے بعد تمام پی ٹی سی کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ جن میں ممبران کا دورانیہ پورا ہو چکا ہے ان کا دوبارہ الیکشن بھی کرایا جائے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں محکم تعلیم کی طرف سے کھیلوں کے ٹورنامنٹس کے آغاز کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور محکمہ کھیل کے ساتھ مشاورت کی جائے جبکہ نومبر کے مہینے تک ان ٹورنامنٹس کو تکمیل تک پہنچایا جائے۔ وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہر پرائمری سکول میں چار اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ایٹا کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے یونیسیف کے تعاون سے بھی اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے جبکہ 2500 انٹرنیز کو بھی سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے سختی سے ہدایت جاری کی کہ جتنے بھی اساتذہ مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں یا پھر لمبی چھٹیاں لی ہیں ان کی مکمل تفصیلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کو واپس سکولوں میں لانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں اسکولوں میں اساتذہ کی ضرورت ہے اس لیے تمام ڈیپوٹیشن اور چھٹیاں منسوخ کر کے اساتذہ کی کمی پوری کر دی جائے۔ وزیر تعلیم نے اساتذہ اور کلیریکل سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیومیٹرک مشینیں لگانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اضلاع کی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریبات بھی منعقد کی جائے گی۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں ہسپتال نانکلینکل انچارجز کا اجلاس

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں ہسپتال نانکلینکل انچارجز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نانکلینکل انچارجز کے سربراہان نے شرکت کی۔ ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان نے ہسپتال نانکلینکل انچارجز کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں ہسپتال میں درپیش متعدد مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کی گئیں اور موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے ہدایات جاری کیں۔ ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان نے ہسپتال کے نظام کو مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ہر شعبہ میں بہترین طبی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پرمیڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل افسر، ڈائریکٹر فائنانس بشیر الرحمن،انٹرنل ایڈیٹر کاشف حامد، ڈی ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر شفیق اور ایڈمنسٹریشن سٹاف نے شرکت کی۔

Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Housing, Dr. Amjad Ali, met the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority

0

Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Housing, Dr. Amjad Ali, met the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority, Johar Ali Shah, in Peshawar on Tuesday. On the occasion, the Special Assistant welcomed the new Director and issued instructions regarding the resolution of legal complications hindering the timely completion of various housing schemes.

He stated that development work on on various housing schemes under the supervision of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority is progressing rapidly, and it is the desire of the Chief Minister that all housing projects be completed on time in line with public aspirations and needs so that the people of the province may benefit from their outcomes.

The Special Assistant further added that New Peshawar Valley is the largest residential project of the province, and the Chief Minister has, in light of the cabinet decision, transferred this housing project from PDA’s supervision back to the Khyber Pakhtunkhwa Housing Department so that work on it can be expedited like other departmental schemes.

Dr. Amjad Ali expressed hope that the newly appointed Director Legal would take effective measures to resolve the legal complexities and issues in the completion of housing projects.

On this occasion, the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority also assured that he would make every possible effort to implement the directives issued by the Special Assistant in letter and spirit. He affirmed that he would utilize his skills and experience to resolve the pending issues of housing projects in the best possible legal manner and would employ all his energies to swiftly remove the legal obstacles hindering these projects.

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, presiding over a meeting of the Secretaries’ Committee

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, presided over a meeting of the Secretaries’ Committee, attended by the Senior Member Board of Revenue, Additional Chief Secretary (Home), and secretaries of various provincial departments. The forum reviewed progress on governance roadmap reforms and departmental performance, with officials reporting that 138 reforms under good governance roadmap across 16 departments are on track against timelines, 14 have been completed, and 97 require accelerated implementation.

The Chief Secretary emphasized that the benefits of these reforms must directly reach the public and stressed the need for close coordination between the Planning & Development and Finance departments with all other departments to achieve good governance objectives. Updates were presented on public complaints via the Ikhtyaar Awaam Ka app, the Litigation Management System, the Khyber Pakhtunkhwa Digital Workspace, and district-level delivery initiatives.

CS Shahab Ali Shah instructed administrative secretaries to personally review critical cases and legal matters in their departments on the litigation management system. He directed that merit and performance should be the sole criteria for key managerial appointments, with departmental placement committees established to ensure transparency. He also emphasized strict adherence to the rotation policy for postings and transfers.

Highlighting the need for institutional reforms, the Chief Secretary noted that finalizing the Khyber Pakhtunkhwa Rules of Business 2025 and updating the Secretariat Manual 2008 would improve government functioning and digitize official correspondence. He directed that promotions under the Provincial Selection Board be linked to key performance indicators (KPIs) and that all departments regularly convene Departmental Selection Committee meetings.

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،گورننس امور، تجاوزات کے خاتمے اور سیلاب سے بچاؤ کے لئے اقدامات کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاوزات کے خاتمے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، ترقیاتی اہداف اور سیلاب سے بچاؤ جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی و آبادکاری کے اقدامات جاری ہیں۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اگلے سال موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے ابھی سے کام کرنا ہوگا جس میں آبی گذرگاہوں اور اربن سینٹرز کی کلیرنس پر کام کیا جائے اور اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اس ضمن میں قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں کالام ویلی سمیت سوات کے دیگر علاقوں میں آبی گذرگاہوں پر قائم ناجائز تجاوزات کیخلاف آپریشن پر ڈپٹی کمشنر سوات نے اجلاس کو بتایا کہ سوات میں 97 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی تھی جس میں سے 31 ہٹا دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر بونیر نے اجلاس کو بتایا کہ بونیر میں 282 غیر قانونی تعمیرات پر قانونی نوٹسز دئے جاچکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے بڈھنی نالہ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ ایریگیشن کے تعاون سے بڈھنی نالہ کے اطراف ناجائز تجاوزات کی نشاندہی کرکے ان کو ہٹایا جارہا ہے۔اسکے علاوہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو قانونی نوٹسز بھی دئے جارہے ہیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ بڈھنی نالہ پر جمعے تک تمام ناجائز تجاوزات کی نشاندہی مکمل کرلی جائے۔ ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع میں اس ہفتے 22 تجاوزات ہٹائے گئے ہیں۔ نئی عمارتوں پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر پابندی عائد رہے گی۔
سیکرٹری محکمہ خوراک نے اجلاس کو گندم اور آٹے کی سپلائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ صوبے میں اس ہفتے آٹے اور چکن کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا تھا کہ ناردرن سیکشن رنگ روڈ مسنگ لنک اور نئے جنرل بس سٹینڈ پر شیڈول کیمطابق کام جاری ہے۔صوبائی دارالحکومت کی اپ لفٹ کیلئے ترقیاتی منصوبہ بندی پر کام جاری ہے جس کے تحت پشاور کی خوبصورتی اور تزئین و آرائش کیلئے منصوبہ بندی آخری مراحل میں ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو ریگی ماڈل ٹاؤن کے چند زونز جہاں پر مسائل ہیں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ حکومت سنجیدگی سے ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بتایا کہ ہری پور، کوہاٹ اور بنوں کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی۔ اتھارٹی کے لئے بجٹ بھی منظور کرلیا گیا ہے۔اتھارٹی بلڈنگ پلان اپروول سے متعلق معاملات دیکھے گی۔ ہائی رائز بلڈنگز اور اونچی عمارتوں کی این او سی جاری کرنے سے پہلے سائل ٹیسٹ انوسٹگیشن رپورٹ لازمی ہوگی جبکہ دیگر تعمیرات کی این او سی سے پہلے بھی جیو ٹیکنیکل جائزہ لیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں واٹر ریسورسز کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونگے، صوبائی وزیر لائیو سٹاک و فشریز

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی سے ان کے دفتر پشاور میں ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت نے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر (فاٹا) خالد الیاس بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے صوبے میں موجود تمام واٹر ریسورسز کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام آبی ذخائر کو آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب کیا جائے تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار آسانی سے ان میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ صوبائی وزیر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں FAO نے ایک خصوصی پراجیکٹ کا آغاز بھی کردیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس سے صوبے کے تمام دریا، ڈیمز اور دیگر آبی ذخائر کی جدید مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی۔ پراجیکٹ کے تحت ان آبی ذخائر میں موجود پانی کی مقدار، مچھلیوں کی اقسام و تعداد اور دیگر ماحولیاتی عوامل کی نگرانی کی جائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرے گا بلکہ فشریز کے شعبے میں شفافیت اور ترقی کو بھی فروغ دے گا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے FAO کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون خیبرپختونخوا میں آبی وسائل کے بہتر انتظام اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں زراعت کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، ضم شدہ اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے، وزیر زراعت

خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی زیر صدارت خیبرپختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ڈائریکٹوریٹ جنرل آف زراعت توسیع پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع سے ممبران اسمبلی محبوبِ شیر، انجنیئر اجمل خان، عجب گل وزیر، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع خیبرپختونخوا مراد علی خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر نذیر عباس، ڈائریکٹر سیڈ سید عقیل شاہ اور منتخب نمائندگان کے فوکل پرسنز نے شرکت کی۔وزیر زراعت نے قبائلی اضلاع کے نمائندگان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع میں زراعت کی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جنہیں صحیح سمت میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ نے اجلاس کو پراجیکٹ کے تحت جاری سرگرمیوں، سہولیات اور محکمہ زراعت کے کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل

سپورٹ پراجیکٹ کے تحت ضم اضلاع میں کاشتکاروں کو باہمی اشتراک پر زرعی مشینری فراہم کی جائے گی۔ جس سے کاشتکاروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ ناہموار اراضی کو قابل کاشت بنانے کے لیے بحالی اور اراضی سطح ہموار کی جائے گی۔ سائل کنزرویشن کے مد میں مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ جدید فارمنگ ٹیکنالوجی، ورٹیکل، ٹنل فارمنگ متعارف کروائی جائے گی۔ چکن گارڈننگ کو فروع دیا جائے گا۔ ضم اضلاع میں شہد کی مکھیوں کیلئے ضروری سامان اور اس کے حوالے سے تربیت دی جائے گی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی 80 فیصد آبادی کا براہ راست انحصار زراعت پر ہے، اس لیے یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ترقی پسند اور پوٹینشل رکھنے والے کاشتکاروں کی نشاندہی کی جائے۔ انہوں نے منتخب ممبران صوبائی اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایسے کسانوں کی نشاندہی کریں جو جدید عملی کاشتکاری کو اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ انہیں ترقی کے سفر میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کی بھرپور کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ کے تحت سہولیات سے محروم کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، تربیت اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکے۔ وزیر زراعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قبائلی اضلاع کے کسانوں کو بااختیار بنا کر نہ صرف ان کی معاشی حالت میں مثبت تبدیلی لائی جائے گی بلکہ خیبرپختونخوا کی مجموعی زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائیگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان کی زیر صدارت ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر پالیسی اور ریشنلائزیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان کی زیر صدارت ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر پالیسی اور ریشنلائزیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس پیر کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ، ڈائریکٹر ایجوکیشن، بورڈ کے اراکین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں بورڈ کے تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر پالیسی اور ریشنلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ اس ضمن میں مختلف تجاویز بھی زیر غور لائی گئیں صوبائی وزیر محنت فضل شکور خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ٹرانسفر پالیسی اور ریشنلائزیشن کا مقصد ورکرز ویلفئیر بورڈ کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کوبہتر اور مؤثر بنانا ہے پالیسی میں شفافیت، میرٹ اور مساوات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی ادارے میں تدریسی عمل متاثر نہ ہو انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی بدولت نہ صرف اساتذہ کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ طلبہ کو بھی ایک متوازن اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم ہوگا انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت تعلیم کے میدان میں تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

سوات میں 330میگاواٹ کے 3فلیگ شپ منصوبوں پر کام تیزی سے جاری

خیبرپختونخواکے ضلع سوات میں پن بجلی کے وسائل صوبے کا قیمتی خزانہ ہیں۔ضلع سوات میں توانائی کے 3فلیگ شپ منصوبوں پربھی کام تیزی سے جاری ہے جن سے 330میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ2سالوں میں شروع ہوجائے گی۔سوات کوریڈورپر40کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پربھی کام تیز کردیا گیا ہے جوآئندہ سال مکمل کرلیا جائے گاجن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی وبرقیات محمد زبیر خان نے ضلع سوات میں پن بجلی کے جاری منصوبوں 84میگاواٹ مٹلتان،88میگاواٹ گبرال کالام،40کلومیٹرطویل 132/220کلوواٹ ٹرانسمیشن لائن کی پراجیکٹ سائیٹس اورحالیہ سیلاب سے متاثرہ 36.6میگاواٹ درال خوڑ پن بجلی گھربحرین کے دورے کے دوران کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان اورچیف ایگزیکٹو پیڈوحبیب اللہ بھی تھے۔دورے کے دوران منصوبوں پر جاری تعمیراتی کام ہونے پر ہونیوالی پیش رفت کا معائنہ کیاگیا۔اسکے علاوہ عوام کی جانب سے پانی کی فراہمی سے متعلق شکایات پر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے پانی کی سپلائی کے لئے انتظامات کی ہدایات دیں۔گورکین مٹلتان منصوبے کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کامسئلہ بھی اٹھایا جس پر حکام کو فوری بقایاجات کی ادائیگی کے احکامات جاری کئے۔بعدازاں سیکرٹری توانائی نے گبرال کالام پاورپراجیکٹ کی زیرتعمیر سٹاف کالونی کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے کام کو مزید تیز کرتے ہوئے منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں،دورے کے موقع پر سیکرٹری زبیر خان نے گورکین مٹلتان ٹرانسمیشن لائن سائیس کا بھی معائنہ کیااورساتھ ہی بحرین میں سیلاب سے متاثرہ درال خوڑ بجلی گھر کا دورہ کیا۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنربحرین کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کا فوری حل نکالاجائے تاکہ منصوبے میں درپیش رکاوٹوں کو فوری دورکرتے ہوئے تعمیراتی کام بروقت مکمل کیا جائے۔

سولرائزیشن سے پختونخوا ریڈیو کرم کی نشریات بحال، ریڈیو سٹیشن کو کوہاٹ اور پشاور سٹیشن سے بھی منسلک کرنے پر کام کا آغاز کردیا گیا

سولرائزیشن مکمل ہونے پر پختونخوا ریڈیو کرم کی نشریات بحال ہو گئی ہیں۔ ضلع کرم کے پہاڑوں، وادیوں اور دیہات میں ایک بار پھر عوام کی آواز ریڈیو کی لہروں کے ذریعے سنائی دینے لگی ہے۔ سال 2020 میں نشریات کا آغاز کرنے کے بعد پختونخوا ریڈیو کرم اس قبائلی سرحدی علاقے میں خبروں، معلومات اور رہنمائی کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ مقامی لہجے میں خبریں، تعلیم، کھیل، زراعت، صحت اور ثقافت پر مبنی پروگراموں نے کرم کے ہرعلاقے میں پذیرائی حاصل کی۔تا ہم چند ناگزیر فنی مسائل کے باعث نشریات معطل ہوئیں، مگر سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان کی خصوصی توجہ اور محکمہ اطلاعات کے اقدامات سے ریڈیو کی فنی خرابی دور کی گئی اور سولر سسٹم نصب کر کے نشریات کا آغاز کیا جاچکاہے۔ضلع کرم کے پہاڑی علاقے اکثر موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے محروم رہتے ہیں اور بجلی کے مسائل بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ ایسے میں ایف ایم ریڈیو واحد ذریعہ ہے جو بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچاتا ہے۔ بارشوں، برفباری یا راستوں کی بندش میں ریڈیو ہی وہ سہارا ہے جو لوگوں کو باخبر رکھتا ہے۔ خرلاچی بارڈر پر تجارت یا ہنگامی حالات پر ریڈیو کرم کی خصوصی نشریات عوام کے لئے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگرچہ غیر ملکی ریڈیو سٹیشن بھی ان سرحدی علاقوں تک اپنی نشریات پہنچاتے ہیں مگر ایف ایم ریڈیو کی مقبولیت کی اپنی وجوہات ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ مقامی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ان کاپائیدارحل تلاش کرنا اور مقامی زبانوں میں قبائلی رسم و رواج کے مطابق نشریات کا نشر کرنا ہے جو صرف ایک مقامی ٹیم اور مقامی ریڈیو سٹیشن ہی بہتر سر انجام دے سکتا ہے۔کرم ایک زرعی ضلع ہے جہاں لوبیا، چاول اور مونگ پھلی جیسی اجناس ملک بھر میں پہنچائی جاتی ہیں۔ ریڈیو کرم نے مقامی کسانوں کو جدید کھیتی باڑی، موسمی کاشتکاری اور نئی فصلوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اسی رہنمائی کے نتیجے میں زعفران کی کاشت اور ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش جیسے منصوبے شروع ہوئے جو کسانوں اور زمینداروں کے لئے آمدنی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ریڈیو سیاحت کے فروغ پر بھی خصوصی پروگرام نشر کرے گا تاکہ اس حسین وادی کی پہچان دور دور تک پہنچ سکے۔ریڈیو کرم صرف خبریں ہی نشرنہیں کرتا بلکہ مقامی موسیقی، لوک گیت اور کہانیوں کے ذریعے ثقافت کو محفوظ بھی کرتا ہے۔ اقلیتی برادریوں کے تہواروں پر خصوصی نشریات اس کی شمولیت اور ہم آہنگی کی روشن مثال ہیں۔ پختونخوا ریڈیو کرم خواتین کے مسائل، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں پر پروگرام ترتیب دیتا ہے جبکہ نوجوانوں کے لئے سپورٹس اور کیریئر گائیڈنس پروگرام مثبت رجحانات کو فروغ دے رہے ہیں۔پاک افغان سرحد کے قریب واقع ضلع کرم میں ریڈیو کرم عوام اور اداروں کے درمیان ایک پل ہے۔ امن، بھائی چارے اور قبائلی روایات کی ترویج اس کی نشریات کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک ریڈیو سٹیشن نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ایسے وقت میں جب میڈیا کمرشل مفادات کے زیرِ اثر ہے، کمیونٹی اور سرکاری فنڈڈ ریڈیو سٹیشنز عوام کو غیرجانبدار، شفاف اور معتبر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ریڈیو کرم اس بات کی روشن مثال ہے کہ عوامی فنڈڈ نشریات کس طرح آزاد آوازوں کو جگہ دیتی ہیں اور کمرشل دباؤ سے بالاتر رہ کر مقامی ضرورتوں کے مطابق مواد نشر کرتی ہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ڈاکٹر محمد بختیار خان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے دور میں بھی ریڈیو اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے، بلکہ یہ اب ایک ملٹی میڈیا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں کرم اور دیگر ضم اضلاع میں قائم ان ریڈیو سٹیشنز کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ان کی نشریات کو مزید وسعت دی جائے گی اور معیاری نشریاتی مواد و پروگرام کے لئے ان سٹیشنز کو دیگر اضلاع اور صوبائی دارالحکومت میں واقع پشاور سٹیشنز سے منسلک کرتے ہوئے صوبائی نشریاتی نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ جلد ہی ان سٹیشنز کو پوڈکاسٹنگ سروس بھی فراہم کی جائے گی تاکہ بیرون ملک و دیگر شہروں میں مقیم قبائلی عوام اپنے مقامی حالات و واقعات سے با خبر رہیں اور وہ بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں۔