تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری
وقت کے بے رحم سمندر میں جہاں مفادات کے جزیرے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، وہاں پاک چین دوستی ایک ایسے روشن مینار کی مانند ہے جس کی لو کبھی مدہم نہیں ہوئی۔ یہ رشتہ محض دو ملکوں کے نقشوں کا ملاپ نہیں، بلکہ یہ دو عظیم تہذیبوں کے درمیان وفا کا وہ میثاق ہے جو ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں پر بڑے جلی حروف میں لکھا جا چکا ہے۔ اسے دنیا “ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی” کہتی ہے، مگر درحقیقت یہ وہ رشتہ ہے جو لفظوں کی قید سے آزاد اور ضرورتوں کے ترازو سے ماورا ہے۔
جب ہم شمال کی بلند و بالا چوٹیوں کی طرف دیکھتے ہیں، تو شاہراہِ ریشم کے سنگلاخ راستے ہمیں ایک انوکھی کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی ان مزدوروں اور انجینئرز کے خون سے لکھی گئی ہے جنہوں نے دنیا کے دشوار گزار ترین پہاڑوں کو کاٹ کر شاہراہِ قراقرم بنائی۔ وہ پہاڑ جو بظاہر ناقابلِ تسخیر تھے، پاک چین دوستی کے عزم کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ آج یہ راستہ صرف سڑک نہیں، بلکہ وفا کی ایک ایسی شہ رگ ہے جو بیجنگ کے دل کو اسلام آباد کی دھڑکنوں سے جوڑتی ہے۔
پاکستان اور چین کی یہ رفاقت محض سفارتی نہیں بلکہ بے حد “مہربان” اور ایثار سے بھرپور ہے۔ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ہاتھ تھاما ہے، چاہے وہ ایٹمی پروگرام ہو، دفاعی خود انحصاری ہو یا معاشی بحران۔ دوسری طرف، پاکستان نے اس وقت چین کا ساتھ دیا جب دنیا اسے تنہا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پاکستان نے چین کے لیے عالمی دنیا کے دروازے کھولے اور ہر فورم پر چین کے موقف کی اپنی آواز سے بڑھ کر حمایت کی۔ یہ دو طرفہ مہربانی ہی ہے کہ آج دونوں ممالک ایک دوسرے کے “آہنی بھائی” کہلاتے ہیں۔
سیاسی اور معاشی میدان میں سی پیک (CPEC) محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ اس بھروسے کا نام ہے جہاں چین نے اپنے مستقبل کے خوابوں کو پاکستان کی مٹی میں بویا ہے۔ گوادر کی لہریں آج ایک نئی صبح کا پتہ دے رہی ہیں، جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہونے والا ہے۔ یہ شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ جب دو قومیں ایک دوسرے پر کامل بھروسہ کرتی ہیں، تو ترقی کے بند دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ چینی قیادت کا پاکستان پر یہ خاص کرم ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور وسائل کو پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے وقف کر رہے ہیں۔
دفاعی میدان میں جے ایف-17 تھنڈر کی گھونج ہو یا زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مدد، دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ سچی دوستی صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ لافانی دوستی اب نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ آج کا پاکستانی نوجوان چینی زبان سیکھ رہا ہے اور چینی ماہرین پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو جدید بنانے میں اپنا پسینہ بہا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سدا بہار درخت ہے جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں ہیں اور شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
آنے والا مورخ جب بھی ایثار اور ثابت قدمی کی تاریخ لکھے گا، وہ اس دوستی کا تذکرہ سنہرے حروف میں کرے گا۔ یہ دوستی اب ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جسے نہ کوئی سازش کمزور کر سکتی ہے اور نہ ہی وقت کی دھول دھندلا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے پاک چین دوستی کی یہ مشعل اب بجھنے والی نہیں، کیونکہ یہ ان جذبوں سے روشن ہے جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں اور تاریخ بن کر امر ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو کل بھی تابندہ تھا، آج بھی درخشندہ ہے اور آنے والے کل میں پوری دنیا کے لیے امن، ترقی اور بے مثال مہربانی کا استعارہ ثابت ہوگا۔
