خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے جمعرات کے روز پشاور میں یونیسیف کے واش (WASH) مینیجر اِتسورو (Itsuro) نے ملاقات کی۔ ملاقات میں یونیسیف واش سپیشلسٹ فاروق خان اور واش آفیسر رحمان اللہ جبکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف سنٹر امجد شمشیر، ڈائریکٹر ٹیکنیکل وسیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران صوبے میں صاف پانی کی فراہمی، سینیٹیشن کی سہولیات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے جاری اور مجوزہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یونیسیف کے واش مینیجر نے صوبائی وزیر کو چارسدہ، نوشہرہ اور سوات میں یونیسیف کی جانب سے جاری منصوبوں اور سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں صاف پانی اور سینیٹیشن کے شعبوں میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ماڈل ویلجز کے قیام، پائیدار واٹر سپلائی نظام، نکاسی آب کی سہولیات کی بہتری اور عوامی آگاہی مہمات کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام میں صاف پانی کے استعمال، حفظان صحت کے اصولوں اور سینیٹیشن سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی اور سینیٹیشن نظام کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یونیسیف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں عوامی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں میں تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں صاف پانی، سینیٹیشن اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں یونیسیف کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، پائیدار واٹر سپلائی منصوبوں کے فروغ، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور عوامی سہولیات میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔اس امر پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر مؤثر اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صاف پانی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری سے عوامی صحت کو درپیش متعدد مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ حکومت اور یونیسیف کے درمیان مضبوط شراکت داری صوبے میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
