خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے جمعہ کے روزپولیس سروسز ہسپتال پشاور میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر سال 2026 کی پہلی چار روزہ انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ مہم کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں 65 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں 35 ہزار سے زائد پولیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو مہم کو مؤثر، مضبوط اور کامیاب بنانے کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 20 کیسز کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ سال 2026 میں اب تک صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور حکومت کا حتمی ہدف زیرو پولیو کیسز کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں سخت موسم، برف باری اور امن و امان کی صورتحال جیسے چیلنجز درپیش ہیں، تاہم محکمہ صحت نے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایک جامع حکمتِ عملی اور فریم ورک ترتیب دیا ہے تاکہ دور دراز اور مشکل علاقوں تک رسائی حاصل کر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کاوشیں اور جدید طریقہ کار ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کے تحفظ اور مہم کی کامیابی کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ معاشرے کے مختلف طبقات میں آگاہی مہمات شروع کی گئی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں نوجوانوں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ علماء کرام، اساتذہ اور معززینِ علاقہ کو اعتماد میں لے کر عوام میں پولیو سے متعلق مثبت پیغام عام کیا جا رہا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور منفی سماجی رویّوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی تعاون اور مسلسل کوششوں سے پاکستان اور خیبر پختونخوا کو جلد پولیو فری بنایا جائے گا اور آنے والی نسلوں کو اس عمر بھر کے مرض سے محفوظ کیا جائے گا
