پولیو کے خاتمے سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمٰن اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی مشترکہ صدارت میں جمعرات کے روز چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے اراکین، محکمہ صحت، قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اور عالمی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنرز، آر پی اوز، ڈی پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں دو سے پانچ فروری 2026 تک صوبے کے تمام اضلاع میں ہونے والی قومی پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے صوبے بھر میں 35 ہزار 500 پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فروری 2026 کی مہم کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں ٹیموں کی تربیت، مائیکرو پلاننگ اور آپریشنل تیاری شامل ہے۔ سات برف باری سے متاثرہ اضلاع میں 38 مکمل اور 25 جزوی یونین کونسلز کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں موسم بہتر ہوتے ہی مکمل کوریج یقینی بنائی جائے گی۔صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں مہم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان علاقوں تک بھی رسائی ممکن ہوئی جہاں پہلے مشکلات تھیں، جس کے نتیجے میں پولیو سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیو فری خیبرپختونخوا کے لئے پرعزم ہے اور مربوط فیلڈ آپریشنز اور عوامی تعاون اس حکمت عملی کا بنیادی حصہ رہیں گے۔ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے زور دیا کہ معمولی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر مائیکرو پلاننگ اور فرنٹ لائن ورکرز کے لئے مستحکم اقدامات ضروری ہیں اور اس ضمن میں حکام اقدامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 27 جنوری 2026 تک 71 فیصد آبادی میں عمومی ویکسینیشن مکمل کی جا چکی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت ان علاقوں میں روٹین امیونائزیشن کی توسیع کو ظاہر کرتی ہے جہاں پہلے خدمات محدود تھیں۔ اس کے علاوہ بی سی جی، پینٹا، ایم آر اور او پی وی ویکسین کی کوریج میں بہتری سے واضح ہے کہ پولیو مہم مجموعی صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، آزادانہ بعد از مہم جائزہ اور سخت ڈیٹا تصدیقی طریقہ کار کے استعمال سے ویکسینیشن کوریج میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے بہتر نتائج آنا شروع ہوئے ہیں۔
