ایک موذی وائرس اور زندگی بچانے والی ویکسین

تحریر:ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

اکثر ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پولیو کیا چیز ہے، یہ کہاں سے آئی ہے؟ یہ بیماری کا وائرس زیادہ تر صرف پاکستان اور افغانستان میں کیوں موجود ہے؟ یہ غیر فعال شدہ قطرے اور زبانی قطرے کیا چیز ہے؟ یہ ویکسین کہاں تیار کی جاتی ہیں، اس میں ہے کیا، اس کا فارمولا کیا ہے، اور یہ ویکسین کہاں سے آتی ہے؟ آج اس آرٹیکل کو پڑھ کر بہت سے دوستوں کو ان کے سوالات کا جواب مل جائے گا۔

پولیو مائیلائٹس جسے عام زبان میں صرف پولیو کہہ کر پکارا جاتا ہے، ایک ایسا نام ہے ایک ایسی بیماری ہےجو گزشتہ دہائیوں تک والدین کے دلوں میں فالج اور دائمی معذوری کا خوف بن کر رقص کرتا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی متعدی وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو سیدھے انسانی اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے زیادہ تر افراد میں ہلکی علامات پیدا ہوتی ہیں، لیکن چند فیصد کیسز میں اس کا نتیجہ مستقل معذوری یا یہاں تک کہ موت کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ تاہم، بیسویں صدی کی نصف سے، سائنس اور عزم نے اس خوف کو کچلنے کا ایک طاقتور اور حتمی ہتھیار فراہم کیا ہے جیسے پولیو کی ویکسین کہتےہیں۔

پولیو وائرس بنیادی طور پر ایک انسان سے دوسرے انسان میں فضلہ کے ذریعے آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر آنتوں میں اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ زیادہ تر انفیکشن تو آنتوں میں رک جاتے ہیں، لیکن کچھ بدقسمت صورتوں میں، وائرس ریڑھ کی ہڈی اور دماغ کے حصوں تک پہنچ کر حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیوں (حرکتی عصبے) کو تباہ کر دیتا ہے۔ ان اعصابی خلیوں کی تباہی پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے جو چند گھنٹوں سے چند دنوں میں مکمل فالج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ فالج زیادہ تر ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔

پولیو پر قابو پانے کے لیے دو سائنسی شاہکار تیار کیے گئے جن کے فارمولے مختلف ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے دونوں کا کام قوت مدافعت پیدا کرنا ہے۔

 پہلی ویکسین زبانی پولیو ویکسین ہے، جو کمزور کیے گئے لیکن زندہ وائرس پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسے منہ کے ذریعے قطروں کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ یہ جسم میں جا کر ایک قدرتی انفیکشن کی نقل کرتی ہے، جس سے نہ صرف خون میں بلکہ آنتوں میں بھی وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ آنتوں کی مدافعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائرس کو جسم سے خارج ہونے اور پھیلنے سے روکتی ہے۔

دوسری ویکسین غیر فعال شدہ پولیو ویکسین ہے، جس میں مارے گئے وائرس کے ذرات شامل ہوتے ہیں۔ یہ خون میں طاقتور دفاعی ذرات (اینٹی باڈیز) پیدا کرتی ہے جو فالج کو روکنے میں انتہائی مؤثر ہیں۔

یہ دونوں ویکسینز دنیا بھر میں سانوفی پاسچر، اور گلیکسو سمتھ کلائن جیسی بڑی دواساز (فارما) کمپنیوں کے انتہائی جدید تحقیقی اور مینوفیکچرنگ مراکز میں تیار ہوتی ہیں، جہاں عالمی ادارہ صحت کے سخت معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ ویکسینز پھر عالمی اداروں جیسے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے ذریعے ضرورت مند ممالک کو فراہم کی جاتی ہیں۔

پولیو ویکسین کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1988ء میں عالمی پولیو کے خاتمے کا اقدام شروع ہونے کے بعد سے، دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک پولیو سے پاک قرار دیے جا چکے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، جغرافیائی رکاوٹوں، سکیورٹی مسائل، اور غلط معلومات و افواہوں کی وجہ سے چند ممالک (جیسے پاکستان اور افغانستان) میں وائرس اب بھی موجود ہے۔ ان علاقوں میں فرنٹ لائن ورکرز (پولیو کارکنوں) کی خدمات قابل تعریف ہیں جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پولیو وائرس کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی حقائق کے بجائے افواہیں اور غلط فہمیاں ہیں۔ والدین اور کمیونٹی کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سائنسی شواہد پر بھروسہ کریں جو ثابت کرتے ہیں کہ پولیو ویکسین محفوظ اور زندگی بچانے والی ہے۔

پولیو سے پاک دنیا کا حصول اب صرف چند قدم دور ہے۔ ہر بچہ جو قطرے پیتا ہے یا انجکشن لیتا ہے، وہ اس عالمی جدوجہد میں ایک اور مضبوط قدم ہے۔ پولیو بیماری کا دنیا سے مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ یہ معجزہ صرف ویکسینز کی تیاری پر ہی منحصر نہیں، بلکہ ہر والدین کی بیداری، حکومت کے عزم، اور فرنٹ لائن کارکنوں کی بے لوث محنت پر منحصر ہے۔ آئیے، آئندہ نسلوں کو فالج کے خوف سے آزاد ایک صحت مند دنیا کا تحفہ دیں۔

مزید پڑھیں