خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا افتتاح کیا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو بروقت، شفاف اور مؤثر مالی امداد کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کامیابی سے متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ضلعی انتظامیہ بغیر کسی تاخیر کے آفات سے متاثرہ افراد کے معاوضہ کیسز کا اندراج کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ دستک ایپ کے ذریعے اپنا کیس خود رجسٹر کر سکیں۔ کیس کے اندراج کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد مستحق افراد کے کیسز کو ڈیجیٹل سسٹم پر معاوضے کے لیے منظور کیا جائے گا۔ نظام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے عملے کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تربیت کے دوران ڈیٹا اکٹھا کرنے، تصدیق کے عمل اور مطلوبہ دستاویزات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنے کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی، تاکہ کیسز کی بروقت اور درست تکمیل ممکن ہو سکے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جیسے ہی کسی کیس کی منظوری دی جاتی ہے، معاوضے کی رقم براہِ راست متاثرہ فرد کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے، جس سے دستی کارروائی اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر برائے ریلیف و بحالی جناب عاقب اللہ خان نے سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری سہیل خان کے ہمراہ کیا۔تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر عاقب اللہ خان نے نظام کے مؤثر استعمال پر زور دیا اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کریں۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر سیکرٹری ریلیف جناب سہیل خان نے صوبائی وزیر کو ڈیجیٹل نظام کے مجموعی ڈھانچے اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس جدید، شفاف اور عوام دوست نظام کو گڈ گورننس اور بروقت ریلیف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

مزید پڑھیں