وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے آبادی کی نقل و حرکت کے تناظر میں متاثرہ خاندانوں کی سہولت کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اب تک متاثرہ خاندانوں کیلئے صرف ٹرانسپورٹ اور ان کے دورانِ سفر تیار خوراک کی فراہمی پر 31 جنوری 2026 تک 92 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ان اخراجات کا مکمل ریکارڈ ترتیب دیا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں، تاکہ کسی بھی وقت مکمل آڈٹ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ 2 ارب 40 کروڑ روپے کی رقم متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں مختص ہے۔ جو خاندانوں کی نادرا کے ذریعے مکمل رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ان کے اکاؤنٹ میں ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے دی جائیں گی۔ معاوضہ کی ادائیگی میں شفافیت اور مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ منظور شدہ طریقہ کار کے تحت آلات کی فہرست سازی، سکیننگ، ریکارڈنگ، تنصیب کے بعد تصدیق اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ ریکارڈ، وسائل اور عوامی فنڈز کا تحفظ یقینی ہو۔
اس امر کاا علان محکمہ امداد، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخواکی جانب سے آج یہاں کیاگیا۔
