خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، درپیش مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے, جس کے لیے تمام صوبائی محکموں کی بھرپور ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے پشاور میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے اگلے پانچ سالوں کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ، ایری گیشن اور محکمہ جنگلات کے نمائندوں کے بشمول اکیڈیمیا اور دیگر افسران و اسٹیک ہولڈرز بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریلیف کو پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی مجوزہ پانچ سالا منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی، اور انہیں مذکورہ منصوبہ بندی کے اغراض و مقاصد سمیت اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010، نیشنل ڈیزاسٹر، رسک ریڈکشن ایکٹ، سنڈائی فریم ورک چار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن 2015-2030، ایمرجنسی رسپانس میکنزم، رسک پروفائلنگ، اور امپلیمنٹیشن کمیٹی سے متعلق غور و خوض کیا گیا۔ بریفینگ میں بتایا گیا کہ صوبائی ڈیزاسٹر ریڈکشن پالیسی کو بھی مذکورہ پلان کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور خیبر پختونخوا پورے ملک میں واحد صوبہ جو اس قسم کے منصوبے کو عملی شکل دے رہا ہے۔ ۔ صوبائی وزیر ریلیف نے پی ڈی ایم اے پر زور دیا کہ وہ نہ صرف صوبائی سطح پر بلکہ ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی ارلی وارننگ سسٹم کو تیز تر کردیں تاکہ کسی افت کی صورت میں عوام کو محفوظ مقام تک پہنچانے کیلئے کافی وقت مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قدرتی افات سے نمٹنے کیلئے عملی اقادامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو افات کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کو بروقت پیغام رسانی ، افات کے دوران عوام کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور افات کے بعد دوبارہ آبادکاری جیسے دیگر امور میں غفلت ناقابل برداشت ہوگا، اور اس صورت میں ضرور ایکشن بھی لیا جائے گا۔
