خواتین کو جائیداد میں ان کا جائز حصہ دلانے اور کام کے مقامات پر ہراساں کیے جانے سے بچانے کے حوالے سے آگاہی، رہنمائی اور فوری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منگل کے روز صوبائی خاتون محتسب خیبر پختونخوا رباب مہدی اور کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مسائل پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران صوبائی خاتون محتسب اور کمشنر ہزارہ ڈویژن نے شہریوں کی شکایات اور مسائل کو بغور سنا اور ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر صوبائی خاتون محتسب محترمہ رباب مہدی نے اپنے ادارے کی کارکردگی، خواتین کے وراثتی حقوق کی بحالی اور ہراسانی کے مقدمات کے بروقت حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی خاتون محتسب کا ادارہ خواتین کو مفت، تیز اور باوقار انصاف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس کے نتیجے میں عوام بالخصوص خواتین کا ادارے پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی خواتین کے جائیداد اور کام کی جگہ پر حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نے اپنے خطاب میں صوبائی خاتون محتسب کے دفتر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی بدولت خواتین کو انصاف کی فوری اور آسان رسائی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اسلام، آئین اور شریعت میں خواتین کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔کمشنر ہزارہ نے مزید کہا کہ خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دینا اور کام کے مقامات پر انہیں سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تحریری لین دین اور مناسب دستاویزات کے استعمال پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں، نیکی کے راستے پر چلیں اور سفارش و رشوت سے اجتناب کریں تاکہ ایک مثبت اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
