پشاور جو خیبر پختونخوا کا تاریخی اور انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے روایتی گشت، ناکہ بندیوں اور دستی نگرانی پر انحصار کیا جاتا تھا وہیں اب جدید ٹیکنالوجی نے اس خلا کو پُر کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے متعارف کرایا گیا سیف سٹی منصوبہ دراصل اسی سوچ کی عملی تعبیر ہے کہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سیکیورٹی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
یہ منصوبہ محض چند کیمروں کی تنصیب تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس تنصیبات اور عوامی مقامات پر جدید نگرانی آلات نصب کیے گئے ہیں جو ہر لمحہ کی سرگرمی کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ ان تمام کیمروں کو ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیا گیا ہے جہاں تربیت یافتہ عملہ چوبیس گھنٹے صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ اس ہمہ وقت نگرانی کے باعث جرائم کی روک تھام اور فوری رسپانس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سیف سٹی نظام کی خاص بات اس میں شامل مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چہروں کی شناخت، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے اور مشکوک نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کسی واردات میں ملوث گاڑی یا مطلوب شخص کسی کیمرے کی زد میں آ جائے تو نظام فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس خودکار عمل سے نہ صرف تفتیش کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ شواہد کی دستیابی بھی آسان ہو گئی ہے۔ روایتی انداز میں جہاں گواہوں اور اندازوں پر انحصار کیا جاتا تھا اب وہاں ڈیجیٹل ثبوت مقدمات کو مضبوط بناتے ہیں۔
ٹریفک کے نظام میں بھی اس اقدام نے واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ ماضی میں ٹریفک خلاف ورزی پر اہلکار کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی تھی مگر اب خودکار ای چالان سسٹم نے یہ مرحلہ سہل بنا دیا ہے۔ رفتار کی حد عبور کرنے یا سگنل توڑنے والے افراد کو براہ راست جرمانے کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف شفافیت آئی ہے بلکہ رشوت ستانی اور غیر ضروری بحث و تکرار کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ شہریوں میں قانون کی پابندی کا رجحان فروغ پا رہا ہے کیونکہ اب نگرانی ہر وقت موجود ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کے لیے خطیر مالی وسائل مختص کیے ہیں جن کے ذریعے جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا گیا اور جدید سافٹ ویئرز نصب کیے گئے۔ یہ سرمایہ کاری دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ صوبائی دارالحکومت کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنایا جائے۔ ایک محفوظ شہر نہ صرف رہائشیوں کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب شہری خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں تو معاشی پہیہ زیادہ روانی سے چلتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر اہم شہروں تک وسعت دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مردان، ایبٹ آباد اور سوات جیسے اضلاع میں بھی اسی طرز کا نظام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پورے صوبے میں نگرانی کا مربوط جال قائم ہو سکے۔ اگر یہ توسیعی مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو جرائم کی بیخ کنی اور دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم جدید نگرانی کے اس نظام کے ساتھ چند اہم سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ڈیٹا کے تحفظ اور شہریوں کی نجی زندگی کے احترام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگرچہ کیمرے سیکیورٹی کے لیے نصب کیے گئے ہیں، مگر ان کے استعمال میں شفاف پالیسی اور واضح قانونی فریم ورک ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کا خدشہ باقی نہ رہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ ان کی معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور صرف قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
سیف سٹی کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب شہری بھی اس عمل کا حصہ بنیں۔ قانون کی پاسداری، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع اور ذمہ دارانہ رویہ اس نظام کو مؤثر بناتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، مگر انسانی تعاون کے بغیر اس کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔ پولیس اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد اس منصوبے کی روح ہے۔
پشاور ماضی میں دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز سے گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل نگرانی کا یہ جامع نظام ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف سیکیورٹی کی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری نظم و ضبط، قانون کی عملداری اور جدید طرزِ حکمرانی کی علامت بھی ہے۔ اگر اس نظام کو تسلسل، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف نگرانی کے ساتھ چلایا گیا تو یہ نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی لائے گا بلکہ ایک پرامن اور منظم معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا۔
آخرکار محفوظ شہر ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ سیف سٹی منصوبہ پشاور کو اسی سمت لے جانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر قیادت اور عوامی تعاون کا یہ امتزاج اگر برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں یہ اقدام خیبر پختونخوا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے اور واقعی ایک محفوظ مستقبل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا
