پشاور میں خیبر پختونخوا کی کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ درپیش ادائیگیوں کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کی۔ اجلاس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان،وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان آفریدی، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک،ڈی جی پی ڈی اے شاہ فہد، محکمہ قانون، محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرازٹ، محکمہ خزانہ، محکمہ بلدیات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی کی مسلسل آپریشنل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے واجبات، مالی ذمہ داریوں اور باہمی معاہدوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادائیگیوں سے متعلق مسائل کو باہمی مشاورت اور قانونی و انتظامی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ عوامی مفاد سے جڑے اس اہم منصوبے کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس سے متعلق تمام مالی اور انتظامی امور کو شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں اور ادائیگیوں کے معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ مسئلے کا پائیدار اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔
